• جیساکہ عقیدہ ابنیت،عقیدہ تثلیث، عقیدہ کفارہ اور اس کے ساتھ ساتھ عیسی علیہ السلام کی پیش کردہ تعلیمات کی روشنی میں مذہب عیسائیت کی اصلاح کی کو شش کی گئی ہے اور یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کہ کوئی بھی انصاف پسند عیسائی اس کے مطالعے کے بعد اپنی اصلاح کیے بغیر نہیں رک سکتا-اسی طرح سے عیسائیت کو تقویت کس طرح دی گئی اور جدید عیسائیت کا بانی کون ہے ؟اور اسی طرح سے دنیا میں رائج مختلف اناجیل وغیرہ کی تاریخ اور تحقیقی حیثیت کیا ہے؟ایسے موضوعات پر مدلل اور مصلحانہ انداز سے روشنی ڈالی گئی ہے
  • Sale!

    Seerat Ali Al Murtaza (RA)

    Original price was: ₨ 1,080.Current price is: ₨ 999.

    سیدنا علی المرتضی کے حالات زندگی ،طرز حکومت اور کارناموں پر مشتمل سیرت علی المرتضی قارہین کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے، جسے مصنف ابو نعمان سیف الللہ خالد نےمرتب کیا ہے۔

  • Sale!

    Seerat Abu Bakar Siddique

    Original price was: ₨ 1,080.Current price is: ₨ 999.
    نبی کریم ﷺ کے بعد امتِ مسلمہ کے سب سےبڑے قائد اور اسلامی معاشرے کا سب سے عظیم نمونہ اور نمائند ہ شخصیت ابو بکر صدیق ؒ ہی تھے۔ خلافتِ راشدہ کی ابتدائی فتوحات، کامیابیاں اور خوبیاں عہد صدیقی ہی کی رہینِ منت تھیں۔ سیدنا ابو بکر صدیق ؒ ایمان و یقین، اطاعت و غلامی، محبت و وارفتگی اور ہمت و حوصلہ جیسے بے مثل خوبیوں سے مالا مال تھے۔ آیئے، ہم بھی اُنکی سیرت کی مطالعہ کر کے اپنے اعمال کو نکھارنے کا سامان کریں
  • زیرِنظر کتاب` تفہیم التوحید`انتہائی مختصرمگر جامع کتاب ہے۔جس کا بنیادی موضوع عقیدہّ توحید ہے،عقیدہّ توحید دینِ اسلام کی اساس اور بنیاد ہے،چناچہ اس کو سمجھنااور صیحح عقیدہّ توحید پر عمل پیراہونالازم اور ضروری ہے،اس میں توحید اور اس کے لوازمات احسان،عبادات اور اس کی اقسام وغیرہ کو بیان کیا ہے

  • کتاب وسنت سے دوری کی وجہ سے آج امتِ مسلمہ میں بے شمار فتنے جنم کے چکے ہیں،ان میں تصویر کا فتنہ بھی ہے،یہ کتاب اگرچہ مختصر ہے لیکن دینی فوائدوثمرات کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔حرمتِ تصویر کے موضوع پر یہ ایک مدلل کتاب ہے

  • زیرِ نظر کتاب میں موت کے بعد کے احوال کا کتاب وسنت کی روشنی میں تذکرہ کیا ہے،نیکوکار لوگوں کے احوال کیا ہوں گے اور بدکار لوگوں کا انجام کیا ہے گا۔حشر، میزان، جنت اور جہنم کے متعلق کتاب وسنت سے عمدہ راہنمائی پیش کی ہے۔`فکرِآخرت` جس فرد کے دل میں اجاگر ہوجائے وہ اللہ کی نافرمانی کے بہت سے معاملات سے بچ جاتا ہے۔

  • زیرِ نظر کتاب صیحح احادیث پر مشتمل`سیرت کے سچے موتی` پیشِ خدمت ہے۔دراصل قرآنِ حکیم اور رسولِ اکرم ﷺ کی صیحح احادیث ہی سیرت کا بیان ہیں۔کتاب کا اندازِ تحریر آسان اور عام فہم ہے۔تمام حوالہ جات کتاب وسنت کی روشنی میں بیان کیے گئے ہیں

  • مسنون شادی کی مختلف رکاوٹوں کو کتاب وسنت کے دلائل سے توڑا ہے اور شرعی احکام سے خاوند اور بیوی کے حقوق و فرائض کا تعین کیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اگر والدین بروقت شادی کا اہتمام کریں اور میاں بیوی ایک دوسرے کے حقوق کا لحاظ رکھتے ہوئے شریعت کے مطابق زندگی گزاریں تو ایک صالح معاشرہ دنیا میں قائم ہوسکتا ہے

  • Book is very interested written by Hafiz Imran Ayub
  • زیر غور کتاب گستاخِ رسول کی سزا کے حوالے سے مضامین تحریر ہیں۔اس تحریر میں حدیث و سنت کو قرآن مجید سے ثابت کیا ہے،پھر حدیث وسنت کی روشنی میں گستاخانِرسول کی سزا موت پر دلائل پیش کیے ہیں

  • اس مختصر رسالے میں ایک کامیاب اور خوشحال زندگی کے حصول اورپریشانیوں و آزمائشوں سے نجات حاصل کرنے کے چند اصول ذکر کیے گئے ہیں

  • Khawateen Kay Deeni Masail

     399
    زیرِ نظر کتاب میں شریعتِ اسلامی کا اہم موضوع خواتین اور معاشرے میں ان کا کردار ہے،قرآن حکیم نے سیدہ مریم صدیقہ،فرعون کی بیوی سیدہ آسیا،امالمومنین سیدہ عائشہ صدیقہ اور کئی مومن خواتین کے مثالی کردار کو خواتین کے لیے بطور نمونہ ذکر کیا ہے،اسلام ہی وہ دین ہے جس نے عورت کو عزت وعظمت کی معراج تک پہنچایااور زندگی کے ہر پہلو میں اسے مکمل اور جامع رہنمائی مہیا کی ہے۔
  • یہ مختصرنامہ بھی اس سلسلے کی کڑی ہے،جسے ہمارے ادارہ دارالاندلس نے بڑی محنت سے الفاظ کو تحریری پیرائے میں پیش کیا ہے،مطالعہ کا شوق رکھنے والوں کو اس تقریر میں چاشنی بھی ملے گی اور جدید معلومات سے آگاہی بھی ہو گی

  • متعلقہ کتاب آداب و اخلاق سےمتعلق احادیث پر مشتمل کتاب ہے۔کتاب میں احادیث کی وضاحت بھی کتاب اللہ اور احادیث سے کی گئی ہے،اس طرح یہ کتاب احادیث کا قابلِ ذکر ذخیرہ جمع کیے ہوئے ہے

  • Sale!

    Seerat Ibrahim (a.s)

    Original price was: ₨ 800.Current price is: ₨ 750.

    سیدنا ابراہیم عليه السلام اللہ کے جلیل القدر پیغمبر تھے۔ آپ عليه السلام کا ذکر کثرت سے قرآن کریم میں آیا ہے۔ یہ کتاب سیدنا ابراہیم عليه السلام کی مستند سیرت پر مشتمل ایک منفرد کاوش ہے۔

  • Sale!

    Tafseer Al Quran (Para 29 30)

    Original price was: ₨ 900.Current price is: ₨ 550.

    محترم حافظ صاحب نے تفسیر القرآن الکریم کو اپنے سینتیس سال سے زاہد عرصہ پر محیط تدریسی تجربے اور گہرے مطالعہ کی روشنی میں قلمبند کیا ہے،قدیم الفاظ، محاورات اوراصطلاحات کے استعمال سے گریز کیا ہے اور ترجمہ کرتے وقت ہر لفظ کے ترجمے کا اہتمام کیا ہے۔

  • Sale!

    Sunan An Nasai 7 Volumes Set

    Original price was: ₨ 27,000.Current price is: ₨ 25,750.
    This Sunan is one of the six is al-Mujtaba or as-Sunan as-Sughara, which is a synopsis of a large collection of Ahadiths which he considered to be fairly reliable. In the smaller collection, only those Ahadiths which he considered to be reliable have been included. It was compiled by the great scholar of Ahadith’s, Abu Abdur-Rahman Ahmad bin Shu`aib bin An-Nasai.  Imam An-Nasai, like other great scholars of Ahadith’s traveled to Baghdad, Ash-Sham, Egypt, Makkah, and many other cities to seek knowledge. He received the praises of many scholars including Ad-Daraqutni who said about him: `He is given preference over all others who are mentioned with this knowledge from the people of his time`. Some scholars consider his compilation to have the least number of defective or weak narrations among the four Sunans. This great book of his contains 5761 Ahadiths, making it as an invaluable addition to anyone`s library.
  • Sale!

    Sunan Ibn e Majah (5 Vol. Set)

    Original price was: ₨ 26,000.Current price is: ₨ 21,750.
    اس وقت آپ کے سامنے صحاح ستہ کی آخری کتاب ’سنن ابن ماجہ‘ کا سلیس اور رواں اردو ترجمہ ہے۔ صحاح ستہ میں سے بخاری و مسلم کی تمام احادیث کی صحت پر محدثین متفق ہیں لیکن بقیہ چار کتب ایسی ہیں جن میں صحیح احادیث کے ساتھ ساتھ ضعیف احادیث بھی شامل ہیں۔سنن ابن ماجہ کو پانچویں صدی ہجری کے آخر میں کتب ستہ میں شمار کیا جانے لگا۔اس کے بعد ہر دور میں یہ  کتاب اپنی حیثیت منواتی گئی ۔ صحت و قوت کے لحاظ سے صحیح ابن حبان، سنن دار قطنی اور دوسری کئی کتب سنن ابن ماجہ سے برتر تھیں لیکن ان کتب کو وہ پذیرائی اور قبول عام حاصل نہ ہوسکا جو سنن ابن ماجہ کو حاصل ہوا۔’سنن ابن ماجہ‘ کا اسلوب نہایت شاندار ہے اور تراجم ابواب کی احادیث کی مطابقت نہایت واضح ہے۔ کتاب مختصر ہونے کے باوجود احکام و مسائل میں نہایت جامع ہے۔ امام ابن ماجہ نے اپنی سنن میں 482 ایسی صحیح احادیث کا اضافہ کیا ہے جو باقی کتب خمسہ میں نہیں ہیں۔ ’سنن ابن ماجہ‘ کی اسی اہمیت کےپیش نظر مولانا عطاء اللہ ساجد نے افادہ عام کے لیے اسے اردو میں منتقل کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ مولانا نے کتاب کا عمدہ ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہر حدیث سے ثابت ہونے والے فوائد کا بھی متصل تذکرہ کیا ہے۔ حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کی نظر ثانی اور تصحیح و اضافات نے کتاب کی افادیت کو بڑھا دیا ہے۔ تخریج و تحقیق کے لیے حافظ زبیر علی زئی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں انہوں نے ہر حدیث پر اپنی تحقیق کے مطابق حکم لگایا ہے کہ وہ صحیح، حسن یا ضعیف ہے۔
  •  کفارِ مکہ رسولِ مقبول ﷺ کی ہجو کیا کرتے تھے (نعوذباللہ)۔ چنانچہ اس بے ادبی کے جواب میں صحابہ کرام اور دیگر مسلمان شاعروں نے موثر طور پر آپ ﷺ کا دفاع کیا اور آپ ﷺ کے اوصافِ حمیدہ بیان کیے۔ نعت گوئی اس لسانی جہاد کی پیداوار ہے۔ مگر حیرانی کی بات ہے کہ برصغیر ہند و پاک میں ہندو کلچر کے زیر اثر بھجنوں اور گیتوں میں استعمال ہونے والے ہندی الفاظ، تلازمات اور مناسبات ، علائم و رموز اور تشبیہات و استعمارات کا استعمال بھی نعتیہ مضامین میں ہونے لگا یہاں تک کہ ہندی راگوں کی لے اور گیتوں کے انداز پر نعتیہ شاعری ہونے لگی۔۔۔۔۔ اور رفتہ رفتہ نوبت  ایں جا رسید کہ موجودہ عوامی نعتوں کا اکثر و بیشتر ذخیرہ فلمی گانوں کے زیرِ اثر لکھا، پڑھا اور موسیقی کے آلاتِ محرمات کے ساتھ ٹی۔ وی چینلوں پر گایا جانے لگا ہے۔ نیز صوتی آہنگ کو برقرار رکھنے کے لیے اللہ۔۔۔اللہ ۔۔ کے الفاط کو غنائیت (Rhythm) کے طور پر مستعمل کر لیا گیا ہے، جو آدابِ نعت گوئی کے سرا سر خلاف ہے۔ جبکہ نعت اور اس کے آداب کا حقیقی نمونہ صحابہ کبار ، اہل بیت اطہار اور صلحائے اُمت کے عربی، فارسی اور اُردو نعتیہ کلام میں ملتا ہے، جس کا انتخاب اس کتاب میں موجود ہے۔ قارئین سے التماس مطالعہ ہے۔

  •  `شیخ البانی ؒ اہلِ سنت میں سے ہیں، سنت کے داعیوں میں سے ہیں اور حفاظتِ سنت کے راستے پر گامزن مجاہدین میں سے ہیں۔۔۔ حدیث شریف کی صحیح ، ضعیف اور موضوع روایات کے امتیاز و بیان میں ان کی کاوشیں قابل قدر ہیں۔۔۔ آپ نے جو کچھ تحریر فر مایا اللہ رب العزت کے ذریعے سے بہت سے لوگوں کی علم حق، صحیح منہج اور علم حدیث کی طرف رہبری کی ہے اور بہت زیادہ نفع پہنچایا ہے۔ زیرِ نظر کتاب اُنکی سوانح حیات ہے جو کہ خاص و عام سب کے لیے بے حد مفید ہے۔
  • اسلامی آداب واخلاقیات حسنِ معاشرت کی بنیاد ہیں،ان کے نہ پائے جانے سے انسانی زندگی اپنا حسن کھو دیتی ہے ۔ حسنِ اخلاق کی اہمیت اسی سے دوچند ہوجاتی ہے کہ ہمیں احادیث مبارکہ سے متعدد ایسے واقعات ملتے ہیں کہ جن میں عبادت وریاضت میں کمال رکھنے والوں کےاعمال کوصرف ان کی اخلاقی استواری نہ ہونے کی بنا پر رائیگاں قرار دے دیاگیا۔حسن ِاخلاق سے مراد گفتگو اور رہن سہن سے متعلقہ امور کوبہتر بنانا ہی نہیں ہے بلکہ اسلامی تہذیب کے تمام تر پہلوؤں کواپنانا اخلاق کی کامل ترین صورت ہے ۔ اور دین اسلام اللہ کا پسندیدہ دین ہے ،جسے اللہ عزوجل نے انسانوں کے لیے زندگی گزارنے کا ایک ضابطہ کے طور پر مقرر فرمایا ہے ۔اس میں دنیا وآخرت کی بھلائی اور کامیابی کے تمام اصول بیان کر دیئے گئے ہیں ۔دین اسلام کی یہ خوبی اسے دوسرے ادیان ومذاہب سے ممتاز کرتی ہے کہ اس میں دنیا وآخرت ہر دو کی رعایت رکھی گئی ہے اور زندگی کے ہر پہلو سے متعلق کامل رہنمائی دی گئی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’منہاج المسلم ‘‘ سعودی عرب کے نامور عالم دین علامہ ابوبکر جابر الجزائری کی تصنیف ہے ۔اس عظیم الشان کتاب کا اردو ترجمہ مولانا سلطان محمد جلالپور ی﷫ کے تلمیذ خاص شیخ الحدیث مولانامحمد رفیق الاثری  نے کیا ۔اس کتاب میں کتاب وسنت کی روشنی میں تمام شعبہ ہائے زندگی کے بارے میں دلوں میں اترجانے والے بیش بہا اسباق چمک رہے ہیں ۔ زبان آسان ،عام فہم اور سادہ ہے ۔ عقائد ہوں یا عبادات کا بیان ، اخلاقیات کے مختلف پہلو ہوں یا اسلامی آداب وحقوق کا تذکرہ احکام ِتجارت ہوں یا معاشرتی معاملات، وراثت کے مسائل ہوں یا عائلی قوانین، قصاص ودیت کے اصول ہوں یا قضاء کےمسائل سبھی پر سیر جاصل بحث کی گئی ہے ۔ بلاشبہ یہ کتاب دین کی تعلیمات کا ایک عظیم الشان انسائیکلوپیڈیا ہے ۔ لہذا ہر گھر میں اس کتاب کا ہونا ضروری ہے تاکہ مسلمان اپنے شب وروز اسلامی تعلیمات کے مطابق بسر کر سکیں اور دنیا وآخرت کی بھلائیوں اور کامیابیوں سے بہرہ مند ہوسکیں ۔منہاج المسلم اگرچہ پہلے بھی ویب سائٹ پر موجود تھی لیکن موجود ہ ایڈیشن تحقیق وتخریج سے مزین ہے اس لیے اس ایڈیشن کوبھی پبلش کیا گیا ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم اور ناشرین کی اس عظیم کاوش کو قبول فرمائے
  • سيرت دينی موضوعات ميں سے ايک اہم تر موضوع ہے جس ميں اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم کي ذاتی اور شرعی زندگی کامطالعہ کيا جاتا ہے۔ايک مسلمان ہونے کے ناطے ہماری يہ بنيادی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہميں اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم کي ذات، حالات، شمائل اور سيرت سے واقفيت ہونی چاہيے۔ ہر دور ميں اہل علم نے سيرت پر کتابيں لکھی ہيں۔امام محمد بن اسحاق (متوفی152ھ) کی کتاب سيرت ابن اسحاق اس موضوع پر پہلی جامع ترين کتاب شمار ہوتی ہے اگرچہ امام محمد بن اسحاق سے پہلے صحابہ وتابعين ميں سے 40 افراد کے نام ملتے ہيں جنہوں نے سيرت کے متفرق ومتنوع پہلوؤں پر جزوی بحثيں کي ہيں۔اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم کي سيرت پر مختلف اعتبارات سے کام ہوا ہے جن ميں ايک اہم پہلو سيرت کا فقہی اور حکيمانہ پہلو بھی ہے يعنی فقہی اعتبار سے سيرت کو مرتب کرنا اور اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم کے اعمال و افعال کی حکمتيں بيان کرنا۔ امام ابن القيم (متوفی 751ھ)کی کتاب ’زاد المعاد‘ سيرت کے انہی دو پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے مرتب کي گئی ہے۔بعض اہل علم نے ’زاد المعاد‘ کو فلسفہ سيرت کی کتاب بھی کہا ہے جبکہ بعض اہل علم کا کہنا يہ ہے کہ امام صاحب کي يہ کتاب ’عملی سيرت‘ کی ايک کتاب ہے۔ امام ابن القيم کی اس کتاب کا ايک خوبصورت اختصار شيخ محمد بن عبدا لوہاب رحمہ اللہ نے ’مختصر زاد المعاد‘ کے نام سے کيا ہے جسے سعيد احمد قمر الزمان ندوی نے اردو ترجمہ کی صورت دی ہے۔ امام ابن القيم رحمہ اللہ کی اس کتاب ميں بعض بہت ہی نادر اور قيمتی و علمی نکات بھی منقول ہو ئے ہيں جو ان کے روحانی مقام ومرتبہ پر شاہد ہيں خاص طور پر ص 350 پر نظر بد کے علاج کي بحث ارواح کی خصوصيات کے بارے عمدہ بحث کی گئی ہے۔ بلاشبہ امام صاحب کی يہ کتاب سيرت کے فقہی،علمی، حکيمانہ اور فلسفيانہ پہلوؤں کو محيط ہونے کے ساتھ ساتھ سيرت کا ايک مستند مصدر وماخذ بھی ہے جس کا اختصار افادہ عام کے ليے شيخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ نے کياہے
  •  دنیا کے کسی مذہب اور کسی نظریہ حیات نے عورت کو وہ عظمت نہیں بخشی جو اسلام نے عطا فرمائی ہے۔ اب تک کی معلومہ تاریخ میں کفر  و شرک کی طاقتیں اتنی گمراہ کن تہذیب اور اس قدر مہلت اسلحہ سے کبھی مسلح نہیں ہوئیں جتنی آج ہیں۔ ان حالات میں مسلمان خواتین کا کردار ہمیشہ سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ یعنی وہ خود اسلامی تعلیمات کا عملی پیکر بنیں اور اپنے بچوں میں بھی مجاہد اسلام بننے کی تڑپ پیدا کریں۔ جب تک ہماری محترم خواتین اللہ رب العزت کی سچی بندگی کا نمونہ و نمائندہ نہیں بنیں گی، ہماری بستیاں جلتی رہیں گی، مسجدِ اقصیٰ فریاد کرتی رہے گی اور ہمارے ہاں کوئی محمد بن قاسم اور کوئی صلاح الدین ایوبی پیدا نہیں ہوگا۔ کامیاب مسلمان خاتون کی صفات کیا ہیں؟ اور ہماری محترم خواتین قرونِ اولیٰ کی عالی مقام خواتین جیسی ہستیاں کس طرح بن سکتی ہیں؟ یہ باتیں اس کتاب میں تفصیل کے ساتھ بتا دی گئی ہیں۔ در حقیقت یہ کتاب اعلیٰ سیرت سازی کا جامع منشور ہے۔ ان شا اللہ ! اس کی بدولت ایمان اور حسن عمل کے چراغ دور دور تک روشن ہوتے چلاے جائیں گے۔

  •   `اسلام کی نظر میں وضع کی درستی اصلاح قلب کا لازمی جزو ہے۔ یہ تو ہو سکتا ہے کہ وضع درست ہو اور دل درست نہ ہو لیکن یہ ممکن نہیں ہے کہ دل درست ہو اور وضع پر اس کا کچھ اثر نہ پڑے۔ اصلاحِ وضع میں داڑھی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ داڑھی کا رکھنا دل کی ایمانی قوت کا اظہار ہے اور داڑھی منڈوانا دل کی کراہت و نیت کی خرابی کی علامت ہے۔ جس کا دل پاک صاف ہو، وہ تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا فرماں بردار ہوتا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ گنا ہ پر اصرار کرتے رہیں اور دل بھی صاف ہو؟ رسول اللہ ﷺ کی صورت مبارکہ یعنی داڑھی سے نفرت ہو اور روح بھی پاک ہو، یہ کیسے ممکن ہے؟ داڑھی بڑھانے اور مونچھیں کٹانے کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے سخت تاکید فرمائی ہے اور اس کا حکم دیا ہے۔ پس کوئی مسلمان رسول اللہ ﷺ کی حکم عدولی اور نا فرمانی نہیں کر سکتا۔ اگر ہمیں اپنے آقا ﷺ سے محبت ہے تو ضروری ہے کہ ہم بھی اپنا چہرہ اس جیسا بنا لیں۔
  • اس  کتاب  ميں عقيدہ،قربانی،تصويروں،مجسموںمنتراورتعويذ،وضو،غسل،طہارت،اذان،نماز،زکوٰۃ،روزے،حج اوراس   سےمتعلقہ مسائل،سود، بينکوں کےمعاملات،وصيت،ميراث،نکاح،طلاق،پردہ،اطاعت والدين،غنا،موسيقی اورمعاشرتی زندگی سےمتعلق متفرق  معاملات پر270سےزائدسوالوں کےجوابات قرآن وحديث کی ميں مفتی اعظم سعودی عرب ديئےہيں۔اُردوزبان ميں اپنی نوعيت کی پہلی اورمنفرکتاب     ہےجس ميں روزمرہ زندگی ميں پيش  آنےوالےبہت سےسوالات کاجواب موجودہے۔
  • سلام مسلمانوں سے صرف دو باتوں کا مطالبہ کرتا ہے۔ پہلی یہ کہ اس کے دل کا یقین ٹھیک ہو، یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو اپنا معبود، مسجود، مقصود، مشکل کشا اور حاجت روا نہ مانے۔ اور دوسری بات یہ کہ اس کی پوری زندگی حسن عمل کی آئینہ دار ہو، یعنی وہ ہر قسم کے شرک و بدعت سے بلکل پاک ہو، اور اُس کے ہر کام اور اقدام میں سنت رسول اللہ ﷺ کا نو چمک رہا ہو۔ امام ابن تیمیہ اسلام کی ان مایہ ناز ہستیوں میں سے ایک ہیں جو ہمارے دین ، ہمارے علوم، ہماری تہذیب اور ہماری تاریخ کا وقار اور اعتبار تھے۔ انہوں نے ایک طرف تاتا ریوں کے خلاف علم جہاد بلند کیا اور دوسری طرف اپنے علوم عالیہ سے مسلمانوں کی فکری صحت و سلامتی کا عظیم الشان کام انجام دیا اور طرح طرح کی فکری گمراہیوں اور بدعتوں کا سدِ باب کیا۔ امام موصوف کی معروف کتاب `اقتضاع الصراط المستقیم` ان کی انھی نادر خوبیوں کا مرقع ہے۔ یہ کتاب ایک طرف اللہ کی ذات عالی پر ایمان کو مضبوط بناتی ہے اور دوسری طرف مسلمانوں کو ہر قسم کی فکری لغزشوں اور عملی گمراہیوں سے خبردار کر کے ان پر قران و سنت کی راہ روشن کردیتی ہے۔ اس کتاب کی اسی اہمیت کے پیش نظر `دارالسلام` اسے اُردو کے قالب میں `فکر و عقیدہ کی گمراہیاں اور صراط مستقیم کے تقاضے` کے عنوان سے پیش کر رہا ہے۔ زندگی کو صحیح معنوں میں اسلام کے مطابق بنانے کے لیے اس کتاب کا مطالعہ ضروری ہے۔

  • Qiyamat

     399

      یقیناً قیامت بہت بڑی حقیقت ہے جو ارشاد ربانی کے مطابق واقع ہو کر رہے گی۔ اس دن سب انسان دوبارہ زندہ کردیئے جائیں گے۔ پھر سب کشاں کشاں آئیں گے اور حشر کے ہجوم و ہیجان میں اپنے اپنے اعمال کا حساب دیں گے۔ زیرِ نظر کتاب اسی حقیقت عظمیٰ کی یاد دہانی اور فکر آخرت کے لیے لکھی گئی ہے اس میں قران کریم اور احادیث رسول ﷺ کی روشنی میں بتایا گیا ہے کہ قیامت کا دن کیسا ہوگا؟ اس دن کتنی زبردست وحشت، گھبراہٹ اور ہولناکی چھائی ہوئی ہوگی؟ لوگ پلِ صراط سے کس طرح گزریں گے۔ جنتی لوگ کتنے خوش و خرم ہوں گے اور کافروں ، مشرکوں اور بدکاروں کا کیا انجام ہوگا۔ اس کتاب میں قیامت کے دن رسوائی سے بچنے اور جنت میں جانے کے آسان طریقے بتائے گئے ہیں۔ ہر مسلمان بہن بھائی کو اپنی آخرت سنوارنے کے لیے اس کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔

  • Fiqhi Ihkam o Masail (2 Vol Set)

     4,250
    اللہ عزوجل نے یہ کائنات ہست و بود انسان کے لیے بنائی ہے اور انسان کو اپنی بندگی کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ہمارا عظیم خالق خوب جانتا ہے کہ یہ دنیا انسان کو کن طریقوں سے فائدہ پہنچائے گی اور کن کرتوتوں کی وجہ سے شدید نقصانات سے دوچار رکردے گی۔اللہ تعالیٰ نے یہ باتیں قرآن کریم میں اوامر نواہی کی صورت میں بتلا دی ہیں اور اپنے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے ذریعے سے سارے عالم پر ہمیشہ کے لیے روشن  کر دی ہیں۔علمائے سنت نے ان اوامر و نواہی کو جو کتا وسنت میں بیان ہوئے ہیں،آسان زبان میں ایک ترتیب کے ساتھ امت مسلمہ کے سامنے پیش کر دیے ہیں۔ زیرِ نظر کتاب میں ایک مسلمان کی زندگی میں پیش آنے والے تمام مسائل کو ایک خاص ترتیب کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ قاری باآسانی اپنے مسائل کو سنت کے مطابق حل کر سکے۔
  • کسی بھی انسان کی شخصیت ہی ہے جو کسی دوسرے انسان کو اُسکے اچھے یا بُرے ہونے کا پتا دیتی ہے۔ موجودہ دور میں شخصیت کو بطور مکمل موضوع کے پڑھا اور پڑھایا جاتا ہے۔ زیرِ نظر کتاب میں شخصیت سازی کے ان تمام سنہرے اصولوں سے قاری کو روشناس کراگیا ہے جنہیں اپنا کر وہ نہ صرف اپنی شخصیت کو خوشگوار بنائیگا بلکہ اپنی زندگی میں بھی خوبصورت تبدیلی کا تجربہ کر پائیگا۔  اس کتاب کا مطالعہ تمام عمر کے مسلمانوں اور بلخصوص نوجوان مسلماموں کے لیے بے حد مفید ہے۔
  •   `شکر` صفات حسنہ میں بہت اہمیت کا حامل ہے اور `توبہ` مغفرت کے وسائل میں ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ شکر اور توبہ کی یہ دونوں کیفیات کسی بندہ مومن کو میسر آجائیں تو یہ ایک خوش نصیبی اور سعادت کی بات ہے۔ ہمیں اور بہت سی تعلیمات کی طرح ان دوبنیادی اوامر کی طرف کتاب و سنت میں جابجا توجہ دلائی گئی ہے۔ محترم بشیر احمد لودھی ایک نووارد مصنف ہیں، مگر ان کے قلم میں ایسی پختگی ہے جس کا تقاضا کتاب و سنت میں موجود ہے۔ انھوں نے اس مختصر مگر جامع کتاب کے ہر باب میں صرف اور صرف کتاب و سنت ہی کے چشمہ صافی سے رجوع کیا ہے، جس کے باعث ان کی یہ کتاب ایک طالب ہدایت کے لیے نسخہ شفا ہے۔ دارالسلام کے شعبئہ تحقیق نے اس کتاب کے حوالوں کی تخریج کر کے اسے چار چاند لگا دیے ہیں۔ اب یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک سادہ اسلوب اور پختہ فکر کی نمائندگی کرتی ہے۔ عامتہ المسلمین انشا ءاللہ اس کے مطالعے کو اپنے لیے نافع اور مفید  محسوس کریں گے۔
  •   مذہب، ادب، سیاست، عدالت، تجارت، معاشرت اور علم و ہنر غرضیکہ ہر شعبہ زندگی میں ہمارے رہنما صرف حضرت محمد ﷺ ہیں۔ آپ کی زندگی اللہ تعالیٰ کی والہانہ محبت، اطاعت اور استقامت کی نہایت ایمان پرور اور ولولہ انگیز داستان ہے۔ آپ ﷺ نے کفر و شرک اور ظلم و جفا کی صدیوں پرانی زندگی کا طلسم توڑا۔ رنگ، نسل ، ذات پات اور دولت و ثروت کے جھوٹے امتیازات ختم کیے۔ انسان کو اللہ رب العزت کی عظمت و کبریائی کا سبق سکھا کر اجتماعی زندگی کی بنیاد توحید ، اخوت اور مساوات پر رکھی اور بنی نوع انسان کو شرافت اور امن دوستی کی اعلیٰ اقدار کا پیغام دیا۔ آج کا انسان رحمت للعالمین ﷺ کی تعلیماتِ عالیہ کا پیاسا ہے۔ آیئے ہم خوب بھی اللہ کے آخری رسول حضرت محمد ﷺ کی پیروی کریں اور اپنے بچوں کو بھی اسوہ حسنہ کے اُجالوں سے رشناس کرائیں۔ یہ کتاب اسی مقصد سے شائع کی جا رہی ہے کہ ہمارے نونہال ابھی سے سیرتِ نبوی سے روشنی حاصل کریں اور دنیا کو معصیت، حرص و ہوس اور ظلم و جور کی آلودگی سے نجات دلانے کے لیے سرگرمِ عمل ہوجائیں۔ اس غایت سے ہر بچے اور بچی کے لیے اس کتاب کا مطالعہ آج کی اولین ضرورت ہے۔
  • سیرت کے موضوع پر لکھی جانے والی ایک دلفریب کتاب۔ اس کتاب کے مطالعے سے آپ نہ صرف محبت رسول ﷺ میں اضافہ محسوس کرینگے بلکہ آپ ﷺ کی سنت کو اپنی زندگی میں جگہ بناتا بھی دیکھینگے۔ کتاب نہایت ہی آسان اسلوب اور دلکش انداز میں لکھی گئی ہے۔

  • امام بخاری ۱۳شوال ۱۹۴ھ؁، بروز جمعہ بخارا میں پیدا ہوئے۔ دس سال کی عمر ہوئی تو مکتب کا رخ کیا۔ بخارا کے کبار محدثین سے استفادہ کیا۔ جن میں امام محمد بن سلام بیکندی، امام عبداللہ بن محمد بن عبداللہ المسندی، امام محمد بن یوسف بیکندی زیادہ معروف ہیں۔ اسی دوران انہوں نے امام عبداللہ بن مبارک امام وکیع بن جراح کی کتابوں کو ازبر کیا اور فقہ اہل الرائے پر پوری دسترس حاصل کر لی۔ طلبِ حدیث کی خاطر حجاز، بصرہ،بغداد شام، مصر، خراسان، مرو بلخ،ہرات،نیشا پور کا سفر کیا ۔ ان کے حفظ و ضبط اور معرفت حدیث کا چرچا ہونے لگا۔ امام بخاری ﷫ کے استاتذہ کرام بھی امام بخاری سے کسب فیض کرتے تھے ۔ آپ کے استاتذہ اور شیوخ کی تعداد کم وبیش ایک ہزار ہے۔ جن میں خیرون القرون کےاساطین علم کےاسمائے گرامی بھی آتے ہیں۔اور آپ کےتلامذہ کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ امام بخاری﷫ سے صحیح بخاری سماعت کرنےوالوں کی تعداد 90ہزار کےلگ بھگ تھی ۔امام بخاری کے علمی کارناموں میں سب سے بڑا کارنامہ صحیح بخاری کی تالیف ہے جس کے بارے میں علمائے اسلام کا متفقہ فیصلہ ہے کہ قرآن کریم   کے بعد کتب ِحدیث میں صحیح ترین کتاب صحیح بخاری   ہے ۔ فن ِحدیث میں اس کتاب کی نظیر نہیں پائی جاتی آپ نے  سولہ سال کے طویل عرصہ میں 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔امام بخاری  کی سیر ت پر متعدد اہل علم نے   کتب تصنیف کی ہیں لیکن سب سے عمدہ کتاب   مولانا عبد السلام مبارکپوری کی تصنیف ’’سیرۃ البخاری ‘‘ ہے جو کہ کتاب وسنت ویب سائٹ پر موجود ہے۔ اس کتاب کا عربی ترجمہ ڈاکٹر عبد العلیم بستوی کےقلم سے جامعہ سلفیہ بنارس سے شائع ہوچکا ہے۔ زیر نظرکتاب ’’سیرت امام بخاری‘‘ کو تالیف کرنے کی سعادت شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمٰن چیمہ﷾نے حاصل کی بعد ازاں دارالسلام ،لاہور کے شعبہ تحقیق وتصنیف کےسکالرزنے بھی اس میں بیش قیمت اضافے کیے ہیں۔ شیخ الحدیث مولاناحافظ عبدالعزیز علوی  نے ترمیم واضافہ کے ساتھ ساتھ اس کی نظرثانی کی ہے اور اسی طرح محقق دوراں مولاناارشاد الحق اثری نےاس میں کچھ حک و اضافہ کےساتھ اس پر ایک جاندار مقدمہ تحریرکیا ہے جس سے اس کتاب اہمیت وافادیت دو چند ہوگئی ہے۔ اس کتاب میں امام بخاری  کےاساتذہ کی سیرت، اساتذہ کرام، ان کے طبقات، وسعت علمی ، عقائد ونظریات، صحیح بخاری میں احادیث کو نقل وجمع کرنے کی شرائط، دیگر تصانیف اور ان کےاسلوب اور متعلقات وشروح صحیح بخاری کےساتھ ساتھ امام بخاری کی فقیہانہ بصیرت، محدثانہ صلاحیت ،امام موصوف کے معاصرین اور تلامذہ وغیرہ کا تذکرہ   بڑے یگانہ اور جدید اسلوب میں پیش کیا گیا ہے۔
  • Sale!

    Seerat Sayedina Abu Bakr Siddique (R.A) 2 vol set

    Original price was: ₨ 4,999.Current price is: ₨ 4,750.
    نبی کریم ﷺ کے بعد امتِ مسلمہ کے سب سےبڑے قائد اور اسلامی معاشرے کا سب سے عظیم نمونہ اور نمائند ہ شخصیت ابو بکر صدیق ؒ ہی تھے۔ خلافتِ راشدہ کی ابتدائی فتوحات، کامیابیاں اور خوبیاں عہد صدیقی ہی کی رہینِ منت تھیں۔ سیدنا ابو بکر صدیق ؒ ایمان و یقین، اطاعت و غلامی، محبت و وارفتگی اور ہمت و حوصلہ جیسے بے مثل خوبیوں سے مالا مال تھے۔ آیئے، ہم بھی اُنکی سیرت کی مطالعہ کر کے اپنے اعمال کو نکھارنے کا سامان کریں۔ The life of Abu Bakr As Siddique (May Allah be pleased with him) offers a blueprint to successful life to those Muslims as well as non-muslims who are searching for the truth. This book provides detailed and insightful glimpses into the extraordinary life of the first Caliph of the Muslims Abu Bakr As-Siddeeq (May Allah be pleased with him) and his massive contribution to all of humanity. He was a truly a man for all ages. This compilation has specifically been made for the Muslim Youth, who need to learn about the sacred personalities and their success stories. Indeed, this is the best way to teach core values of an ideal Islamic life and help youth understand their religion.
  • Dunya k Ae Musafir

     350
    زندگی کیا ہے؟ کیوں ہے؟ کس لیے ہے؟ اور اس کا انجام کیا ہے؟ آج کی دلکش مادی اور مصروف زندگی میں ان سوالات پر غور کرنے کی مہلت شاذ ہی نصیب ہوتی ہے۔ محترم ام منیب نے زیرِ نظر کتاب `دنیا کے اے مسافر!` میں انھی اہم ترین سوالوں کا ہمہ جہت جائزہ لیا ہے۔ موصوفہ نے قران کریم اور احادیث نبوی کی روشنی میں زندگی کا اصل مقصد بڑی خوبی سے اُجاگر کیا ہے۔ انھوں نے دعوت دی ہے کہ اے فانی لذ توں پر مرنے والے انسان! اپنا مرتبہ پہچان۔ تجھے اللہ تعالیٰ نے صرف اپنی بندگی کے لیے بنایا ہے، تو غیر کا متوالا نہ بن ، صرف اللہ رب العزت سے پیار کر۔ اُسی کا ہو جا۔ ہر آن، ہر گھڑی نیکی کی شمعیں روشن کرتا رہ تا کہ جب موت آئے تو تیرا دامن اعمال صالحہ سے مالا مال ہوا اور رب کریم تجھ سے خوش ہو کر تجھے اپنے جوار پاک میں جگہ دے۔ یہ کتاب ہر مسلمان کو پڑھنی چاہیے۔ اس کتاب کی پاکیزہ تعلیمات پر جو بھی اخلاص سے عمل کرے گا، اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے اسے ابدی عزت و عظمت کا تاج پہنا دے گا۔
  • ہمیں اپنے روشن ماضی میں ہر لحظ نئی آن اور نئی شان کی جو جلوہ گری ملتی ہے اس کا ایک اہم ترین سبب یہ ہے کہ ہماری عظیم ماؤں کی گود میں حسن، حسین، عبداللہ بن عمر، اور عمر بن ابدالعزیز ،عقبہ بن نافع، طارق بن زیاد اور محمد بن قاسم جیسے بچے پرورش پاتے تھے۔ آج کے دور میں ہماری محترم مائیں بہنیں بھی عزت و عظمت کا وہی درجہ حاصل کر سکتی ہیں جو قرون اولیٰ کی جلیل القدر خواتین کو نصیب ہوا تھا۔ اس کا واحد طریقہ یہ ہے کہ جس طرح اُن عظیم خواتین نے اللہ اور رسول ﷺ کے ارشادات پر عمل کیا تھا اُسی طرح آج کی خواتین بھی عمل کرنے کی کوشش کریں۔ یہ رہ نمائے عمل کتاب رسول اللہ ﷺ کی ایک سو احادیث اور ان کی شاندار تشریحات پر مشتمل ہے۔ اس میں خواتین کی کامیابی کے تمام طریقے بہت آسان اور دلکش پیرائے میں بتا دیے گئے ہیں، اسے پڑھیے، اس پر عمل کیجیے، اور اپنے مستقبل کو درخشاں بنائیے۔

  •  دین اسلام اصلاً کتاب و سنت کی تعلیمات و فرمودات ہی کا دوسرا نام ہے۔ دین حق کے خلاف فتنے اٹھانے والوں میں سے ایک گروہ نے حدیث کے حجت ہونے ہی کا انکار کر ڈالا۔ جبکہ علماء و ائمہ کرام کے نزدیک مسلّم ہے کہ حدیث کے دامن میں جو استناد اور اسماء الرجال کا عظیم الشان سلسلہ موجود ہے، اس کی مثال دنیا بھر کے مذہبی یا تاریخی لٹریچر میں مفقود ہے۔ حدیث وہی ہے اور اس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے اُٹھایا ہے۔ حدیث کے بغیر اکمال دین کا تصور محال ہے، لہٰذا رسول اللہ ﷺ کی سنت کو حجت تسلیم کرنا ایمان کا اولین تقاضا ہے۔ `حجیت حدیث` کا فاضل مصنف مولانا عبدالستار حماد نے انکار حدیث کا فتنہ بے نقاب کرنے میں جو عظیم الشان تحقیقی خدمت انجام دی ہے، وہ منکرین حدیث کی فتنہ انگیزی کے خلاف برہان قاطع کی حیثیت رکتھی ہے۔ اس مختصر اور انتہائی جامع تالیف کا مطالعہ دین حق کےطلبہ و اساتذہ دونوں کے لیے بے حد مفید ثابت ہوگا۔
  •   زیر نظر کتاب جو حجم کے اعتبار سے مختصر ہے لیکن افادیت کے پہلو سے بڑی بڑی کتابوں پہ بھاری ہے اس میں عربی بول چال کے حوالے سے بہت ہی احسن انداز سے رہنمائی کی گئی ہے مختلف فنون اور پیشوں کے لیے عربی الفاظ مختلف عناوین کےتحت بیان کیے گئے ہیں جوعربی بول چال کی عملی مشق کےلیے معاون ہے۔ مختلف افراد کےمکالمے بھی اس میں دیئے گئے ہیں مثلاً اگر کوئی عرب ملک میں جانے اور راستہ پوچھنے کی ضرورت ہو ،یا ہوٹل میں گفتگو کرنی پڑے ،یا پاسپورٹ آفس میں بات چیت کی ضرورت  پڑے تو کس طریقے سے گفتگو ہوگی اس کےنمونے کتاب میں موجود ہیں آخر میں ایک جامع اور مختصر جدید عربی اردو لغت بھی شامل کتاب ہے عربی بول چال کے شوقین طبقے کےلیے یہ کتاب بہت ہی مفید ہے 
  • دین اسلام میں جادو کے حوالے سے جس قدر شدید وعید آئی ہے مسلم معاشرے میں اسی قدر شدو مد کے ساتھ یہ اپنے پنجے گاڑنے میں روبہ عمل ہے۔ بہت سے صحیح العقیدہ مسلمان جادوگروں اور شعبدہ بازوں کے ہاتھوں اپنی ایمانی دولت گنوانے میں لگے ہیں۔ یہ کتاب ہمیں بتائے گی کہ دین اسلام میں تمام ٹونوں ٹوٹکوں کا حل انتہائی آسان انداز میں دستیاب ہے ۔ کتاب میں جادوگروں کا تقرب حاصل کرنے کے لیے جادوگروں کے بعض وسائل، اور جادواور جنات کے وجود کو قرآن وسنت سے ثابت کرتے ہوئے جادو کی اقسام پر روشنی ڈالی گئی ہے۔اس کے علاوہ شریعت میں جادو کا حکم اور جادو کے اثر سے بچنے کے لیے چند احتیاطی تدابیر ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ نظر بد کی تاثیر اور علاج پر سیر حاصل اور علمی گفتگو کی گئی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اس کتاب کے مطالعے کے بعد ہر فرد اپنے عقیدہ وایمان کی حفاظت کرتے ہوئے جادو، نظر بد اور ان سے پیدا شدہ امراض کا علاج قرآن کریم اور ماثور دعاؤں کے ذریعے کر سکے گا۔

  • کسی بھی معاشرے میں جب لوگ توہم پرستی اور جادو ٹونے کا شکار ہوجاتے ہیں تو وہاں طرح طرح کے عقیدے اور بد گمانیاں جنم لیتی ہیں۔ لہیذہ یہ ضروری ہے کہ ایسے میں عوام کو جادو ٹونے کی حقیقت اور اُس کے اصل علاج سے آگاہ کر کے ۔
  • جادو اور جنات  سے تعلق رکھنے والی بیماریوں کے علاج کےلیے کتاب وسنت  کے بیان کردہ طریقوں سے ہٹ کر بے شمار لوگ شیطانی  اور طلسماتی کرشموں کے ذریعے ایسے مریضوں  کاعلاج کرتے نظر آتے ہیں جن کی اکثریت تو محض وہم وخیال کے زیر اثر خود کو مریض سمجھتی ہے ۔جادوکا موضوع ان اہم موضوعات میں سے  ہے  جن کا بحث وتحقیق اور تصنیف وتالیف کے  ذریعے  تعاقب کرنا علماء کےلیے ضروری ہے  کیونکہ جادو عملی طور پر ہمارے  معاشروں میں بھر پور انداز سے موجود ہے اور جادوگرچند روپوں کے بدلے  دن رات فساد پھیلانے پر تلے  ہوئے ہیں  جنہیں وہ کمزور ایمان والے  اور ان کینہ پرور لوگوں سے  وصو ل کرتے ہیں  جو اپنے  مسلمان بھائیوں سے بغض رکھتے ہیں  او رانہیں جادو کے عذاب میں مبتلا دیکھ کر خوشی محسوس کرتےہیں  لہذا علماء کے لیے ضروری ہے کہ جادو کے خطرے او راس کے  نقصانات کے متعلق لوگوں کوخبر دارکریں  اور جادو کا شرعی  طریقے  سے علاج کریں تاکہ  لوگ اس کے  توڑ اور علاج  کے لیے  نام نہادجادوگروں عاملوں کی طرف رخ نہ کریں۔زیرنظر کتاب ’’جادو اورآسیب کا  کامیاب علاج‘‘ مصر کے  ایک  نوجوان  عالم  ابو  منذر خلیل  بن ابراہیم  امین  کی تالیف  ہے۔  جس میں  انہوں  نے  ایک  جدید  انداز  میں  جناتی  بیماریوں کے لیے  کتاب  وسنت  سے علاج کے مختلف  طریقے  نقل  کیے  ہیں ۔او ر  شیاطین جن وانس  کی فتنہ سامانیوں سے  آگاہ رہنے کے لیے  شریعت کی  روشنی میں  رہنمائی فرمائی ہے  ۔تاکہ  علمائے سو ،جاہل صوفیاء ،کاہن ،نجو می اور مال ودولت کےپجاری  پریشانیوں ومصائب میں مبتلاء  لوگوں کی  دولت اور عزت پر ڈاکہ نہ  ڈال سکیں۔او ر وہ ان تمام شیطانی کارندوں سے محفوظ رہ سکیں جنہوں نے اپنا جال اس کرۂ ارضی میں ہر طرف پھیلا رکھا ہے ۔ اللہ تعالی اس کتاب کو لوگوں کے لیے باعث نفع بنائے
  • مکہ مکرمہ کو روزہ اول سے دینی و مذہبی اعتبار سے مرکزیت حاصل رہی ہے اس لحاظ سے یہ تمام دنیا کے انسانوں  کے لیے بالعموم اور اہل اسلام کے لیے بالخصوص تاریخی کشش رکھتا ہے ۔اس لیے اس شہر مقدس کی  تاریخ حیطہ تحریر میں لانا ازحد ضروری تھا ۔کیونکہ اس میں مسلمانوں کی قلبی تسکین کا سامان تھا۔عربی زبان میں تاریخ مکہ مکرمہ اور دعوت اللہ کے تعمیری مراحل کا بیان کتب تاریخ میں تو ہے ہی البتہ اردو دان طبقہ کے لیے مکہ مکرمہ کی قدیم و جدید تاریخ لکھنا وقت کی اہم ضرورت تھی۔اس عمدہ تاریخی موضوع کو مکتبہ دارالسلام نے بروقت تاڑ کر تاریخ مکہ مکرمہ کے نام سے کتاب مرتب کی جو ظاہری  اور باطنی حسن سے آراستہ ہے ۔اس میں مکہ مکرمہ کی فضیلت و اہمیت ،مکہ کی ابتدائی آبادکاری بیت اللہ کی تعمیر ،تعمیر کعبہ کے مختلف ادوار میں تعمیری مراحل سمیت چاہ زم زم  کی کھدائی ،آب زم زم کی روح زمین کے پانیوں سے فوقیت ،حج کے احکام ،حدود حرم کا بیان اور مکہ مکرمہ کے فلاحی اداروں کا بیان عمدہ اسلوب نگارش سے مرتب کیا گیا ہے ۔کتاب میں انتہائی مفید اور معلومات افزاء ہے   جس کا مطالعہ قارئین کو ماضی و حال  سے روشناس کراتا ہے اور قلوب و اذہان میں مکہ مکرمہ اور کعبۃ اللہ کے بارے میں جو خیالات و احساسات ہیں ان کی خوب روحانی سیرابی کرتا ہے ۔
  • انسان کی خصلت ہے کہ وہ نسیان سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کے تحت وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے۔ بہترین انسان وہ ہے جسے گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے ۔ اگر اس نے توبہ نہ کی تویہ غلطی اس کے خالق ومالک کو اس سے ناراض کردے گی۔ اس سےاپنے معبود ومالک کی ناراضگی کسی صورت بھی برداشت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ کریم کے دربار میں حاضر ہوکر گڑگڑاتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے کا پکا عزم کرتےہوئے توبہ کرتا ہے کہ اے مالک الملک اس مرتبہ معاف کردے آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔گناہ کے بعد ایسے احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ جب کہ اس جہاںمیں کئی ایسے بدنصیب سیاہ کار بھی ہیں جن کوزندگی بھر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا مالک ان سے ناراض ہوچکا ہے اور وہ ہیں کہ دن رات گناہ کرتے چلےجاتےہیں اور رات کوگہری نیند سوتے ہیں یا مزید گناہوں پر مبنی اعمال میں مصروف رہ کر گزار دیتے ہیں۔جبکہ اللہ کریم اس وقت پہلے آسمان پر آکر دنیا والوں کوآواز دیتا ہے کہ: اے دنیاوالو! ہےکوئی جو مجھ سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرے ... ہے کوئی توبہ کرنے والا میں اسے ا پنی رحمت سے بخش دوں. زیر تبصرہ کتاب ’’توبہ۔۔۔ فضائل و احکام اور سچے واقعات‘‘ پاکستان کے نامور دینی سکالر مولانا محمد خالد سیف﷾ کی تصنیف ہے ۔انہوں نے اس کتاب میں   عام فہم شگفتہ اسلوب میں توبہ کے معانی ومفاہیم اجاگر کیے ہیں ۔ توبہ کی ضرورت اوراہمیت کا احساس دلایا ہے توبہ کی شرائط بتلائی ہیں۔ توبہ کے تمام احکام اور مسائل نہایت تفصیل سے بتائے ہیں۔ قرآن کریم اور احادیث نبویہ ﷺ کے حوالوں سےثابت کیا ہے کہ توبہ ہی دین کی اصل حقیقت ،انبیائے کرام کا وظیفۂ خاص اور فوز وفلاح کا ابدی سرچشمہ ہے مصنف موصوف نے حضرت آدم ،حضرت نوح، حضرت موسیٰ اور حضرت یونس ﷩ کی توبہ کے واقعات کے علاوہ صحابۂ کرام کی توبہ کےاحوال نہایت اثر انگیز پیرائے میں بیان فرمائے ہیں ۔انہوں نے ہر صاحب ایمان کو ترغیب دی ہے کہ وہ توبہ استغفار کا خاص اہتمام اورالتزام کریں۔ اللہ رب العزت نہایت کریم اور رحیم ہے جو شخص گناہوں سےباز رہنےکا پکا ارادہ کرکے سچی توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے معاف فرمادیتا ہے ۔یہ کتاب اپنے موضوع پر منفرد اہمیت کی حامل ہے ہر مسلمان مرد اور عورت کو نہایت توجہ سے پڑھنی چاہیے ان شاء اللہ اس سے توبہ کی توفیق ملےگی دل کی دنیا بدلے گی ، قدم صراطِ مستقیم پر چل پڑیں گے۔ اوران تمام مصائب ومکروہات کا خاتمہ ہوجائے گا۔ جنہوں نے آج ہمیں اپنا ہدف بنا رکھا ہے
  • Balooghat Kai Masaail

     850

    عملی زندگی میں شرعی احکام کی تعمیل ہی مسلمان کی اصلی پہچان ہے ۔ سو عقائد و نظریات ، عبادات و معاملات اور اخلاق و عادات میں شریعت اسلامیہ کی اتباع ہی ملحوظ ہونی چاہیے ۔ لہذا دیگر احکام و فرائض کی طرح شادی شدہ اسلامی جوڑے پر یہ اضافی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نیک اولاد کے حصول کا خواہش مند بھی اور طلب اولاد کا حریص بھی ۔ پھر اولاد طلبی کی شرعی حدود و قیود کی پابندی اختیار کرے اور حصول اولاد کی ناجائز صورتیں اور شرکیہ افعال سے بھی گریز کرے ۔ اور جب اللہ تعالی اس کی التجاؤں کو شرف قبولیت بخشے تو حمل ، وضع حمل کے احکام سے واقفیت حاصل کر کے ان پرعمل پیرا ہو اور گھر کے آنگن میں پھول کھلنے کی صورت میں نومولود کے نام رکھے ۔ عقیقہ کرنے ، بال مونڈنے ، ختنہ کروانے ، رضاعت کے مسائل اور تربیتی پہلوؤں سے آگاہی حاصل کر کے اپنی شرعی ذمہ داریوں سے عہدہ بر آں ہو۔ زیر تبصرہ کتاب بچوں کے احکام ومسائل، ولادت سے بلوغ تک  اسلامی زندگی کے انہی پہلوؤں پر بطریق احسن روشنی ڈالتی ہے ۔

  • اسلام عفت  و عصمت اور پاکیزگی قلب و نگاہ کا دین ہے۔ اسلام زمانہ جاہلیت کی غیر انسانی طفل کشی کی رسم کی پرزور مذمت کرتا ہے۔ اسلام ہی دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے عورتوں کو ان کے اصل مقام و مرتبے سے ہمکنار کیا۔ اس کی عزت و آبرو کے لیے جامع قوانین متعین کیے، عورت کو وراثت میں حقدار ٹھہرایا، اس کے عائلی نظام کو مضبوط کیا۔ اسلام سے پہلے دنیا نے جس قدر ترقی کی تھی، صرف ایک صنف واحد(مرد) کی اخلاقی اور دماغی قوتوں کا کرشمہ تھی۔ مصر، بابل، ایران، یونان اور ہندوستان مختلف تہذیب و تمدن کے چمن آراء تھے لیکن اس میں صنف نازک(عورت) کی آبیاری کا کچھ دخل نہ تھا۔ عورت کو دنیا میں جس نگاہ سے دیکھا جاتا ہے وہ ہر ممالک میں مختلف رہی ہے، مشرق میں عورت مرد کے دامن تقدس کا داغ ہے، اہل یونان اس کو شیطان کہتے ہیں، تورات اس کو لعنت ابدی کا مستحق قرار دیتی ہے، کلیسا اس کو باغ انسانیت کا کانٹا تصور کرتا ہے لیکن اسلام کا نقطہ نظر ان سب سے جدا گانہ ہے۔ اسلام میں عورت نسیم اخلاق کی نکہت اور چہرہ انسانیت کا غازہ سمجھی جاتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’بہنوں کے لیے تحفہ‘‘محترمہ امل بنت عبداللہ کی تصنیف کرداہے اور اس کا عربی نام ’’ھدیتی الیک ‘‘ہے اور اس کا اردو ترجمہ   نعیم احمد بلوچ نے کیا ہے جس میں انہوں نے ایک عورت  کی معاشرتی اور گھریلو ذمہ داریوں کو بیان کیا ہے۔اللہ رب العزت سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ فاضل مصنفہ اور فاضل  مترجم نعیم احمد صاحب کو اس کار خیر پر اجرے عظیم سے نوازے۔آمین

  • صحابئہ کرامؓ کی زندگی اوران کی سوانح ميں ہمارےليےروشن مثاليں ہيں۔وہ چمکتےدمکتےستارےہيں جنہوں نےبراہ راست اللہ کےرسولﷺکےرخ انوارکی زيارت کاثرف حاصل کيا۔اںہوں ںےاللہ کےرسولﷺکی مجالست وصحبت کےمزےاٹھاۓ اور براہ راست آپ سےفيوض وبرکات حاصل کيں۔ان کا تزکيہ نفس کا ئنات کےامامﷺنے بنفس نفيس فرمايا۔ان کی زندگی ہمارےليےمشعل راہ ہے۔ہرصحابي کی زندگی بہت خوبصورباعث اقتداءاورروشن مثال ہے۔ان تاريخ سازمقدس شخصيات کی علمی اخلاقی،فقہی اورعسکری بصيرت سےآگہی کانورحاصل کرنےکےليےيہ انسائیکلوپیڈیا دارالسلام کےقارئین خدمت ميں پيش کياجارہاہے۔ہماری خواہش ہےکہ اس نورکوزندگی کی گزرگاہوں کےان تاريک  گوشوں تک پھيلادياجاۓجہاں اجالےکی اشدضرورت ہے۔
  • مصنف نے اپنی کتاب  کو ارکان خمسہ کے اعتبار سے پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے اور ہر ایک حصے میں الگ الگ ایک ایک رکن اسلام پر مدلل او رتفصیلی گفتگو کی ہے-پہلے حصے میں حقیقت توحید کو بیان کرتے ہوئے ایمان اور عمل صالح کی یکجائی کو حسن  کمال کے ساتھ بیان کیا گیا ہے-حقیقت التوحید میں خدا، کائنات اور فطرت کو موضوع بنایا گیا ہے جبکہ دوسرا حصہ حقیقت صلوۃ پر مشتمل ہے جس میں یہ واضح کیا ہے کہ اسلام کے نظام صلوۃ میں مرکزی حیثیت انسان کو حاصل ہے-حقیقت صلوۃ  میں مولانا نے مسائل صلوۃ کی بجائے نماز جس جوہر بندگی اور حقیقت عبدیت کا مظہر ہے، اس کی طرف اس انداز سے توجہ دلائی  ہے کہ مسلمان ہونے کا حقیقی مطلب لائق فہم ہوجاتا ہے-تیسرا حصہ حقیقت زکوۃ پر مشتمل ہے جس میں اسلام کے نظام زکوۃ کی افادیت پر زور دیا ہے-چوتھے حصے میں حقیقت صایم کی وضاحت کرتے ہوئے صیام کے بارے میں جو اسلامی تصور پیش کیا گیا ہے، کی مکمل وضاحت کرتے ہوئے زکوۃ کی قانونی ہیئت پر بھی عام اسلوب سے ہٹ کر مجتہدانہ انداز سے گفتگو کی ہے-پانچویں حصے میں حقیقت حج پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے جس میں حج کے موضوع پر لکھے جانے والے سارے لٹریچر سے نہ صرف یہ کہ منفرد ہے بلکہ اس میں حج کے عمل کو عظیم روحانی تناظر میں رکھ کر دیکھا گیا ہے
  • یہ مختصر سی کتاب شیخ محمد بن سلیمان رحمہ اللہ کی عربی کتاب``الأصول الثلاثۃ وأدلتہا`` کا اردو سلیس ترجمہ ہے –شیخ موصوف نے کتاب کی تین ابواب میں تقسیم کرتے ہوئے اسلام کے تمام اساسی اصولوں کی بڑی سادہ اور دلنشین تشریح کی ہے- ان اصولوں کے ذیلی عنوانات میں اللہ تعالی کی معرفت، اسلام، ایمان اور احسان کے مراتب، مراحل اور مدارج وضاحت سے بتائے گئے ہیں اور آخر میں حضرت محمد مصطفی ﷺکی صفات، جہات، حیثیات اور تعلیمات بیان کی گئی ہیں- دین اسلام کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے یہ ننھی سی کتاب بڑی بڑی ضخیم کتابوں پر بھاری ہے-

  •   جو قوم اپنی روایات اور خصوصیات کو بھلا کر غیروں کی نقالی کرتی ہے وہ صفحہ ء ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹ جاتی ہے۔ بدقسمتی سے مسلمانوں نے یہی مہلک طریقہ اختیار کرلیا، دو اڑھائی سو برس پہلے  یورپ کے صنعتی انقلاب کے بطن سے جو مادی تہذیب پیدا ہوئی، اس میں مذہب سے شدید بغاوت بھی کار فرما تھی۔ اس تہذیب نے اللہ تعالیٰ سے اہل یورپ کا رشتہ منقطع کردیا۔ یہی چمکیلی بھڑکیلی تہذیب جب انگریزوں ، فرانسیسیوں اور ولندیزیوں کی معرفت مشرقی ملکوں میں پہنچی تو مسلمانوں کے بالائی طبقات نے اسے گلے لگا لیا۔ یہ تاریکی بڑھتی اور پھیلتی چلی گئی اور ہم اپنی مایہ ناز روایات کو یکے بعد دیگرے فراموش کرتے چلے گئے۔ آج جسدِ ملت کے زخموں سے جو خون ٹپک رہا ہے وہ اسی مادر پدر آزاد مغربی تہذیب کی نقالی اور اپنی معظم روایات سے دستبرداری کا نتیجہ ہے۔ اب مسلمانوں کی بقا اور فلاح کا یک ہی طریقہ ہے کہ وہ مغربی تہذیب کی طنابیں توڑ دیں اور اسلامی تعلیمات کے دامن رحمت میں لوٹ آئیں۔ عالم اسلام کے نامور عالم دین فضیلتہ الشیخ محمد بن صالح العثیمین ؒ نے `اسلام کے بنیادی عقائد` کے زیر عنوان یہ گرانقدر کتاب لکھ کر وہ تعلیمات و مبادیات اجاگر کردیے ہیں جن پر عمل کر کے ہم اپنی گم شدہ عظمت دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کتاب کا سنجیدگی سے مطالعہ کیجیے۔ یہ کتاب قران و سنت کی تعلیمات کا عطر ہے۔

  • خانقاہی نظام سے مراد تصوف ہے۔تصوف کا لفظ اس طریقۂ کار یا اسلوب اس عمل کے لیے اختیار کیا جاتا ہے جس پر کوئی صوفی عمل پیرا ہو۔ اسلام سے قربت رکھنے والے صوفی، لفظ تصوف کی تعریف یوں کرتے ہیں کہ : تصوف کو قرآنی اصطلاح میں تزکیۂ نفس اور حدیث کی اصطلاح میں احسان کہتے ہیں۔ تصوف کی اس مذکوہ بالا تعریف بیان کرنے والے افراد تصوف کو قرآن و سنت کے عین مطابق قرار دیتے ہیں۔ اور ابتدائی ایام میں متعدد فقہی علماء کرام بھی یہی مراد مراد لیتے رہے۔ پھر بعد میں تصوف میں ایسے افکار ظاہر ہونا شروع ہوئے کہ جن پر شریعت و فقہ پر قائم علماء نے نہ صرف یہ کہ ناپسندیدگی کا اظہار کیا بلکہ ان کا رد بھی کیا۔امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم اوران کےبعد جید علمائے امت نے اپنی پوری قوت کے ساتھ غیراسلامی تصوف کےخلاف علم جہاد بلند کیا اورمسلمانوں کواس کےمفاسد سے آگاہ کر کے اپنا فرضِ منصبی انجام دیا۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نےبھی اپنے اردو فارسی کلام میں جگہ جگہ غیر اسلامی تصوف کی مذمت کی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اسلام اور خانقاہی نظام ایک تحقیقی وتاریخی جائزہ ‘‘ محترم جناب پروفیسر ڈاکٹر امان اللہ بھٹی کی تصنیف لطیف ہے اس کتاب میں انہوں نے تصوف اور خانقاہی نظام کی تعریف، تاریخ اور تصوف کےمختلف سلسلوں اور ان کےطریق کار کی مفصل اور چشم کشا دستاویز پیش کی ہیں۔نیز عہد بہ عہد صحابۂ کرام کے نام دے کر بتایا گیا ہے کہ انہوں نےکتنے کٹھن حالات میں دنیا کےدور دراز گوشوں میں پہنچ کر توحید کی اذان دی اور لوگوں تک اللہ کا دین پہنچایا۔ ان کی دعوت سیدھی سادی تھی۔ وہ غیر اللہ کی نفی کرتے تھے۔ دلوں میں اللہ کی یکتائی ،بڑائی کبریائی اور زیبائی کانقش جماتے تھے ، رسول اللہﷺ کی زندگی کے مبارک طریقے سکھاتے تھے ۔اس کتاب کے مطالعے سے یہ حقیقت بڑی نمایاں ہوجاتی ہے کہ اسلام جیسے جامع دین کے مقابلے میں تصوف اور خانقاہیت ایک ژولیدہ فلسفہ ہے ۔ فاضل مصنف نےخانقاہی نظام کا بڑا مفصل اور مدلل جائزہ پیش کیا ہے۔ انھوں نےاکابر علماء اور نامور صوفی بزرگوں ہی کےاقوال سے تصوف کی تعریف بیان کی ہے اور مختلف آراء کے اقتباسات درج کیے ہیں ۔ تصوف کے مختلف سلسلوں اور منازلِ سلوک کی بہت سی شاخوں کےتعارف کے علاوہ ان کےطریق عمل پر روشنی ڈالی ہے۔ فاضل مصنف نےحوالہ جات پیش کر کے بتایا ہے کہ تصوف کےنظریات کہاں کہاں پہنچ کر اسلامی تعلیمات سےبے آہنگ ہوگئے اورشرک کی آبیاری کاموجب بنے۔پھر اس کے نتیجے میں کیسے کیسے فاسد عقائد کے کانٹے اگتے اورپھیلتے چلے گئے

Title

Go to Top