اس دنیا کی لگ بھگ نصف آبادی بناتِ حوا پر مشتمل ہے۔ انسانی معاشرے میں بنات حوا کی اہمیت کسی بھی طرح مردوں سے کم نہیں۔ اسلام نے عورت کو بہت سارے حقوق عطا فرمائے ہیں۔ اسلام سے قبل عورت کی کوئی حیثیت تھی نہ مقام۔ وہ پیدا ہوتی تو اسے باعث عار سمجھا جاتا بلکہ بعض بد بخت تو اسے زمین میں زندہ گاڑ دیتے۔ مگر اسلام نے اسے ایک ماں، بیٹی، بہن اور بیوی کی صورت میں نہایت مکرم اور معزز مقام عطا فرمایا۔ اسے حق وراثت اور حق ملکیت عطا فرمایا۔مصنف نے جب تاریخ کا مطالعہ کیا تو بعض واقعات اور کہانیاں جو بلکل سچی تھیں، اس قدر مؤثر اور سبق آموز تھیں کہ اُنکا جی چاہا کہ انکو اپنی بہنوں اور بیٹیوں تک پہنچا دیں۔ ان واقعات کو پڑھنے کے بعد خواتین میں ایک نیا شعور پیدا ہوگا، انھیں اپنی حیثیت اور ذمہ داریوں سے آگاہی حاصل ہوگی اور وہ مجرمانہ ذہنیت کے حامل چال باز لوگوں کی چکنی چپڑی باتوں میں آنے سے محفوظ رہیں گی۔
-
No doubt that Sayida Khadija and her daughters (May Allah be pleased with them all) are the best examples to live a prosperous life for Muslim women. This book by Abdul Malik Mujahid is a lovely collection of authentic events that highlights her intelligence, commitment to religion, sincere belief in God and determination under the most difficult circumstances. The book’s tone is very delicate that literally takes the reader back in time to the very beginning of Islam, providing deep insights into her life and early Islamic era. If you want to gift your girls and daughters something, nothing could be better than this as it will help them learn how to be a faithful Muslim lady, a dedicated wife, and an ideal mother. However, this does not mean this is ‘female only’ book; instead, male can also learn lots of lessons from her life. -
دعائیں کیا ہیں؟ دراصل التجائیں ہیں جو انسان اپنے رب کے حضور پیش کرتا ہے۔مشکل ترین اوقات میںبے اختیار اس کی زبان سے ’’یا اللہ‘‘ نکلتا ہے۔ اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کوحکم دیا ہے کہ اس کو پکاریں، وہ ان کی دعائوں کو قبول کے گا۔اگر آپ نبی کریمﷺ کے صبح و شام کے معمولات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر مرحلے پر آپ نے اپنے رب سے دعا مانگی۔ ان دعائوں میں یا تو آپ نے اپنے رب سے دنیا و آخرت کی بھلائیاں طلب کیں، یا نقصان دہ امور سے اس کی پناہ مانگی، یا اس کی تسبیح و تعریف کی اور اس کا شکر ادا کیا اور پھراپنے صحابہ کرام کو بھی اپنے رب سے تعلق پیدا کرنے کا حکم دیا اور انہیں کثرت سے دعائیں مانگنے کی تلقین فرمائی۔ اس کتاب میں روز مرہ کی صرف اہم دعائیں ذکر کی گئی ہیں جن سے عام آدمی کو واسطہ پڑتا ہے۔ اس کتاب سے مدد لیں اور اپنے رب سے مانگیں خوب مانگیں، ہر روز مانگیں، ہر وقت مانگیں۔ آپ خشوع وخضوع سے،گڑگڑا کر،دل کی توجہ سے دعا کریں گے تو آپ زندگی میں بہت بڑی تبدیلی آئے گی۔ -
کتاب وسنت کی اشاعت کے عالمی ادارے `مکتبہ دار السلام`کے ڈائریکٹر مولانا عبد المالک مجاہدصاحب طباعتی میدان کی ایک معروف عالمی شخصیت ہیں۔جنہیں اپنے ادارے کے فروغ کے لئے متعدد مشکلات اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا،اور وہ اللہ کی توفیق اور مدد سے ان تمام مشکلات وچیلنجزسے سرخرو ہو کر نکلے ہیں۔زیر تبصرہ کتاب` نوجوان نسل کی رہنمائی کے لئے سنہری یادیں` میں انہوں نے بذات خود اپنی سوانح حیات قلم بند کی ہے اور اپنی زندگی کے تجربات کو نوجوانان امت کے شیئر کئے ہیں۔اس کتاب میں انہوں نے اپنی پیدائش سے لیکر اس کتاب کی تصنیف تک اپنے حالات زندگی کو تحریر فرمایا ہے۔اس میں انہوں نے اپنا بچپن،اپنا گاؤں،والدہ محترمہ،اساتذہ کرام،سعودی عرب آمد،وزارۃ الدفاع میں ملازمت،شیخ محمد بن عبد اللہ المعتاز سے شناسائی،دار السلام کے قیام ،فروغ اور وسعت،سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ نائف بن عبد العزیز سے ملاقات،مسجد نبوی کی لائبریری میں دار السلام کی کتب ،امام کعبہ فضیلۃ الشیخ عبد الرحمن السدیس سے ملاقات،پیغام ٹی وی کی سالانہ میٹنگ میں حاضری،دار السلام ریسرچ سنٹر،دار السلام پرنٹنگ کمپلیکس لاہور،اور اپنی زندگی میں پیش آنے والی اس جیسی متعدد چیزیں بیان کی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ’’دارالسلام‘‘ میرا خواب تھا۔ ریاض میں اس کی تعبیر سامنے آئی۔ کتاب و سنت کی ترویج و اشاعت کے لیے دنیا کی سب سے بہترین طباعت و اشاعت کا ادارہ ، اللہ رب العزت نے اسباب ہی فراہم نہیں کیے عمدہ اور اعلیٰ درجے کی ٹیم بھی فراہم کر دی۔ آج دارالسلام عالم اسلام کا سب سے نمایاں ادارہ قرار دیا جا رہا ہے، ہم 1400 سے زائد ٹائٹل چھاپ چکے ہیں۔550 انگلش میں اور 330اُردو میں۔ باقی عربی میں۔30 ممالک میں ہماری فرنچائز کام کر رہی ہیں۔ 100 نئی کتابیں آنے والی ہیں۔ ہماری ہر کتاب کا ایڈیشن تین ہزار کا ہوتا ہے۔ یہ بھی ایک نئی روایت ہے کہ ہر کتاب کے کئی کئی ایڈیشن آ چکے ہیں۔بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ اللہ تعالی انہیں صحت اور نیکی والی لمبی زندگی سے نوازےاور ان کے لگائے گئے اس پودے کو ،جو اب ایک تناور درخت کی صورت اختیار کر چکا ہے،دن دگنی اور رات چگنی ترقی عطا فرمائے اور ان کی ان محنتوں اور کاوشوں کو شرف قبولیت سے نوازے۔ -
This book is a compilation of various memorable tours and trips of my life that includes Kingdom of Saudi Arabia, Urdan, Nigeria, Africa, China, Italy, Spain, France and many others. I have used very simple and imaginary language so that you may imagine yourself wandering around in these countries. If you ora ny of your loved ones is planning to visit these coiuntries then this book is going to help you alot. -
The victory of Qadisiyyah heralded the downfall of the Sasanian Dynasty, paved the way for the conquest of Iraq and quickened Islamic expansion into Persia (Iran) and beyond. The Iranians had 240,000 troops, but the Muslims with about 30,000 soldiers still drove the Iranian Empire, one of the superpowers of the day, into the ground. At Al-Qadisiyyah, the Muslims were able to break the Persian might, dealing them a blow from which they would never recover. The Battle of Al-Qadisiyyah is therefore one of the most decisive battles in the history of humanity. -
صحابہ کرام رضی اللہ عنہُم میں بعض ایسی بھی شخصیات تھیں جو زمانہ کفر میں بھی بڑا نمایاں مقام رکھتی تھیں اور جب اسلام قبول کیا تو ان کی صلاحیتوں کو مزید جلا ملی اور انھوں نے کفر کی حالت میں اسلام کو جو نقصان پہنچایا تھا اس کی بھر پور تلافی کرنے کی کوشش کی-ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سیدنا سہیل بن عمر رضی اللہ عنہ کا نام بڑا نمایاں ہے- سید نا سہیل بن عمر رضی اللہ عنہ زمانہ کفر میں بھی بڑے دانا ،سمجھدار ،مدبر،خطیب،شاعراور کامیاب سفارت کار تھے- وہ گفتگو کرنے کا سلیقہ اور طریقہ خوب جانتے تھے –حدیبیہ کے مقام پر قریش کی طرف سے سفیر بن کر آتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صلح حدیبیہ کی شرائط پر قریش مکہ کی طرف سے دستخط کرتے ہیں – پھر ایک دن آیا ،ان کی قسمت نے پلٹا کھایااوروہ فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کر لیتے ہیں -
عیدالاضحیٰ اسلامی شعائر میں عید الفطر کی طرح ایک عظیم تہوار ہے، جو سنت ابراہیمی کےعظیم الشان اور فقید المثال واقعے کی یاد دلاتا ہے۔ فضیلۃ الشیخ حافظ صلاح الدین یوسف نے سنت ابراہیمی کے اس روح پرور واقعے کو اپنے محققانہ قلم سے زیب قرطاس کیا ہے۔ فاضل مصنف نے ان تاریخی وقائع کے ضمن میں عشرہ ذوالحجہ کی فضیلت، عرفے کے روزے کا اجر، تکبیرات کی اہمیت، مسائلقربانی اور عیدالاضحیٰ کی ادائیگی جیسے امور کے مسنون طریق کامحققانہ ذکر کیا ہے۔ اپنے انھی اوصاف کے باعث یہ تحریر مختصر ہونے کے باوجود جامعیت کی حامل ہے۔ عید الاضحیٰ کی مناسبت سے درپیش تمام مسائل کا بخوبی احاطہ کیا گیا ہے جس کے مطالعے سے قارئین اپنے اس عمل کو بارگاہ الٰہی میں مقبول کرانے کا شعور حاصل کریں گے -
سورۂ فاتحہ قرآن مجید کی پہلی اور مضامین کے اعتبار سے جامع ترین سورۃ ہے جو پورے قرآن مجید کا مقدمہ ،تمہید اور خلاصہ ہے ۔ اس سورت کی عربی اور اردو میں کئی ایک تفسیریں الگ سے شائع ہوچکی ہیں۔ زیر تبصرہ تفسیر سورۂ فاتحہ مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف﷾ کی اس سورت کی تفصیلی تفسیر ہے ۔ حافظ صاحب کی مرقوم جامع اور مختصر تفسیر ’’احسن البیان‘‘ کے قبول عام پر حافظ صاحب کے مقربین نے محسوس کیا کہ انہیں قرآن مجید کی ایک تفصیلی تفسیر بھی لکھنی چاہیے تو حافظ صاحب نے سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ بقرہ کی تفسیر شروع کی ہی تھی کہ یہ کام دیگر علمی مصروفیات کے باعث رک گیا۔اللہ تعالیٰ حافظ صاحب کواسے پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی توفیق واسباب عنایت کردے ۔(آمین)حافظ صاحب نے سورۃ الفاتحہ کے تفسیر ی نکات صحیح احادیث کی روشنی میں شرح وبسط کےساتھ بیان کیے ہیں۔ ان کا استدلال بہت دلنشیں ہے ۔یہ تفسیر اس تفسیر سورۃ الفاتحہ سے الگ ایک نئی تفسیر ہے جو تفسیر’’ احسن البیان ‘‘ میں شامل ہے یہ تفسیرخاص وعام بالخصوص طلبہ ،علماء اور واعظین کےلیے بے حد مفید ہے -
Written by the celebrated Hafiz Salahuddin Yousuf, Haqooq Allah is an interesting book on the rights of Allah on all Human beings. This book is a part of a comprehensive Haqooq Series and speaks on prominent topics such as Tawhid (Unity and Oneness of Allah), Obligatory five prayers, Zakat (Charity in the way of Allah),Fasting in the Month of Ramadan and Hajj (Pilgrimage to the House of Allah). This book outlines the importance of each of the five pillars of Islam and the benefits one can achieve from correctly observing them. It sheds light on the current situation of our lives, the difficulties and uneasiness that we experience every day and offers solutions to all such matters in a concise way. Comprising of only 44 pages in total, the book answers pressing questions such as the true meaning or worshipping Allah, how associating partners with Allah is against the nature of human beings and what are its different forms, what are the fundamental perquisites of the acceptance of prayers, and many others. The answers of all these questions are supported by authentic references from Quran and Sunnah. The book is written in Urdu in an easy to understand format so that even a ten year old child can easily read and understand it. The preface of this book has been written by Darussalam founder Abdul Malik Mujahod. . اللہ نے ہمیں پیدا کیا ،بے شمار نعمتیں دیں ہمیں زندگی گزارنے کاسلیقہ سکھایا،احکام دیے تاکہ ہم زندگی کو صراط مستقیم پر چلاسکیں ان احکام پر عمل کرنا ہم پر اللہ کا حق ہے اورانہیں ہی حقوق اللہ کہا جاتا ہے۔ اللہ کے ان حکام کوصحیح طریقے سے اور بھرپور انداز میں ماننے کانام ہی بندگی ہے ۔ بندگی کاسلیقہ ہمیں تب ہی آسکتا ہےجب ہم یہ جانیں کے حقوق اللہ کیا ہیں اور ان کو کیسے پورا کیاجاسکتا ہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ’’حقوق اللہ ‘‘ مفسر قرآن جناب حافظ صلاح الدین یوسف کی مرتب شدہ ہے۔ ا س میں انہوں نے حقوق اللہ کو عام فہم آسان انداز میں مختصر پیش کیاہے۔ حقوق اللہ کی معرفت اور اس کے تقاضوں کوسمجھنے کے لیے اس کتاب میں مکمل رہنمائی موجود ہے -
آج کے دور میں کوئی ایسا بھی ہے جسے کسی دوسرے سے گلہ نہ ہو، کوئی رنجش یا شکایت نہ ہو۔ ان شکووں سے رشتوں کی مضبوط دیواروں میں دراڑیں پڑ رہی ہیں۔باہمی تعلق کے گلستان اجڑ رہے ہیں، بندھن کمزور ہو رہے ہیں۔ رویوں میں سرد مہری کی برف جمتی جارہی ہے۔ پیشانیاں شکنوں سے بھرتی جارہی ہیں۔آپ نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ آخر ان ساری کیفیات کا سبب کیا ہے؟ محبت کی مٹھاس کی جگہ تلخی کا زہر کیوں رگوں میں اتر رہا ہے؟ خوشیاں بانٹنے والے اب دکھ کا باعث کیوں بن رہے ہیں؟اگر معاشرے پر غور کریں تو ایسے تمام معاملات کی ایک ہی بڑی وجہ سامنے آتی ہے۔اور وہ ہے کہ کسی کے حق کی ادئیگی نہ کرنا یا کسی کا حق چھین لینا۔کیونکہ آج کے دور میں یہ فلسفہ ہر کسی کےذہن میں جگہ بنا چکا ہے کہ دوسروں کا حق دینا نہیں اور اپنا حق چھوڑنا نہیں۔یہی فساد کی بنیادی جڑ ہے۔ تاہم باہمی حقوق و فرائض کا شعوری فقدان بھی اس طرح کے مسائل کو جنم دیتا ہے۔زیرنظر کتاب میں حقوق و فرائض کا تعارف اور تعین کیا گیا ہے۔تاکہ شعور و آگاہی کی راہ ہموار ہوسکے -
حقوق العباد میں سے سب سے مقدم حق والدین کا ہے ۔ اور یہ اتنا اہم حق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حق ِعبادت کے جس حق ذکر کیا ہے وہ والدین کا حق ہے ۔والدین کا حق یہ کہ ان کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے ان کا مکمل ادب واحترم کیا جائے ،نیکی اور بھلائی کے کاموں میں ان کی اطاعت وفرنبرداری کی جائے اور ہمیشہ ان کے سامنے سرتسلیم خم کیا جائے ۔ قرآں وحدیث سے یہ بات بہت واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ والدین سے حسنِ سلوک سے رزق میں فراوانی اور عمر میں زیادتی ہوتی ہے ۔ جب کہ والدین کی نافرمانی کرنے والا او ران کے ساتھ حسن سلوک سے پیش نہ آنے والا اللہ کی رحمت سے دور ہوجاتا ہے اور بالآخر جہنم کا ایندھن بن جاتاہے ۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت واطاعت کے ساتھ ،والدین سے حسن سلوک نہ کرنے والے سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے اور یہ ناراضگی اس کی دنیا اور آخرت دونوں برباد کردیتی ہے ۔ اس لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ اہم والدین کے حقوق کا پورا پورا خیال رکھیں ۔اس معاملے میں قرآن وسنت سے ہمیں جو رہنمائی ملتی ہے اس کی روشنی میں اپنے رویوں کودرست اور کردار کی تعمیر کریں۔ زیر نظر کتابچہ ’’حقوق الوالدین‘‘ مفسر قرآن مولانا حافظ صلاح یوسف ﷾ کی اسی موضوع پر ایک رہنما تحریر ہے۔ جس میں انہوں نے بڑے احسن انداز میں والدین کے حقوق کو پیش کیا ہے ۔ موضوع کی اہمیت کے پیش نظر دارالسلام سٹوڈیو نے اس کتاب کو آڈیو کیسٹ اور سی ڈی کی صورت میں بھی پیش کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے ۔ اور ہمیں اپنے والدین کی عزت واحترم کرنے اور ان کے حقوق ادا کرنے والابنائے -
اسلام نے فرد اور معاشرے کی اصلاح ، استحکام، فلاح وبہبود اورامن وسکون کےلیے ہر شخص کے حقوق وفرائض مقرر کردیے ہیں۔اسلام کے بیان کردہ حقوق وفرائض میں سے ایک مسئلہ حقوق الزوجین کا ہے ۔ اسلام کی رو سے شادی چونکہ ایک ذمہ داری کانام ہےاس لیے شادی کےبعد خاوند پر بیوی اور بیوی پر خاوند کے کچھ حقوق عائد ہوتے ہیں جنہیں پورا کرنا دونوں پر فرض ہے ۔ میاں بیوی ایک دوسرے کالباس ہیں ایک دوسرے کی عزت ہیں ایک کی عزت میں کمی دونوں کےلیے نقصان کا باعث ہے ہمارا دین ہمیں یہی سکھاتا ہے۔زوجین اگر دینی تعلیمات کے مطابق ایک دوسرے کےحقوق خوش دلی سے پور ے کرنے لگیں تونہ صرف بہت سےمفسدات اور خرابیوں کا خاتمہ ہوجائے گا بلکہ ہمارا معاشرہ سکون وطمانیت کی پیاسی مادہ پرست دنیا کے لیےبھی امید اورآرام کی سبق آموز بشارت بن جائے ۔حقوق الزوجین کےسلسلے میں قرآن وسنت میں واضح احکام موجود ہیں اور اس موضوع پر کئی اہل علم نے مستقل کتب بھی تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’حقوق الزوجین‘‘ دینی کتب کے طباعت کے عالمی ادارے دارالسلام کی طرف سے شائع شدہ حقوق سیریز میں ایک ہے جسے مفسر قرآن جناب مولانا حافظ صلاح الدین یوسف نے بڑے احسن انداز سے مرتب کیا ۔ایک شوہر ہونے کےناطے بیوی پر اس کے کیا حقوق ہیں ؟ ایک بیوی کی صورت میں شوہر پر اس کے کیا حقوق ہیں؟ اللہ اوراس کے رسولﷺً نےانہیں کیاحقوق دیے ہیں۔ان تمام سوالوں کے جواب قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کتاب میں موجود ہیں ۔ -
A concise part of the comprehensive Haqooq series by the celebrated writer Hafiz Salahuddin Yousuf, Haqooq Awlad is an interesting book on the rights children have over their parents. Just like parents have rights over their children; the children also have rights over their parents in Islam. This book outlines all these right as highlighted in the various ayat of the Holy Quran and the teachings of our beloved Prophet Muhammad PBUH. It highlights the duties parents have to carry out for their children and how to properly perform them. The book touches core areas such as education, provision of basic necessities, good manners, good conduct and necessary supervision. It also sheds light on the four bad habits most children are likely to adopt in the world today and how parents can prevent them. All solutions and guidance mentioned in this book are derived from the teachings of Quran and Sunnah and this book gives detailed references on all of its claims. The book comprises 66 pages in total and is written in Urdu language. انسان چونکہ اشرف المخلوقات اور کائنات میں اللہ تعالیٰ کا نائب ہے۔ اس لیے اسے بہت سے فرائض سونپے گئے ہیں۔ ان میں اولاد کی تربیت سب سے اہم فریضہ ہے۔ اللہ رب العزت قیامت کےدن اولاد سےوالدین کے متعلق سوال کرنے سےپہلے والدین سےاولاد کےمتعلق سوال کرے گا۔ کیونکہ جس طرح والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے ایسے ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔اولاد کی اچھی تربیت میں کوتاہی کے بہت سنگین نتائج سامنے آتے ہیں ۔شیر خوارگی سےلڑکپن اور جوانی کےمراحل میں اسے مکمل رہنمائی اور تربیت درکار ہوتی ہےاس تربیت کا آغاز والدین کی اپنی ذات سے ہوتاہے۔اولادکے لیے پاک اور حلال غذا کی فراہمی والدین کے ذمے ہے ۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب وہ رزقِ حلال کمائیں۔والدین جھوٹ بولنے کےعادی ہیں تو بچہ بھی جھوٹ بولے گا۔ والدین کی خرابیاں نہ صرف ظاہری طور پر بچے کی شخصیت پر اثر انداز ہوتی ہیں بلکہ باطنی طور پر یہ خرابیاں اس کےاندر رچ بس جاتی ہیں۔ والدین کےجسم میں گردش کرنے والےخون میں اگر حرام ،جھوٹ، فریب، حسد، اور دوسری خرابیوں کےجراثیم موجود ہیں تویہ جراثیم بچے کوبھی وراثت میں ملیں گے۔بچوں کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔ کتاب وسنت کے دلائل میں اس بات کا واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا جائے ۔ ان کی امانت کوادا کیا جائے ، ان کوآزاد چھوڑنے اوران کےحقوق میں کتاہیوں سے بچا جائے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت اولاد بھی ہے ۔ اور اس بات میں کوشک نہیں کہ اگر اولاد کی صحیح تربیت کی جائے تو وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بھی ہوتی ہے۔ لیکن اگر اولاد بگڑ جائے اور اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے تو وہی اولاد آزمائش بن جاتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ حقوق الاولاد‘‘ مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف کی اولاد کی اچھی تربیت کے حوالے سے اہم تصنیف ہے۔ اس کتاب میں اولاد کے حقوق کے حوالے سے مکمل رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔والدین اس مختصر کتاب کا مطالعہ کریں ان شاء بہت مفید ثابت ہوگی -
ہمارے معاشرے کے بگاڑ کا اصل سبب یہ ہے کہ ہر شخص صرف اپنے نفع و نقصان کا ترازو تھامے بیٹھا ہے جس کے نتیجے میں دوسروں کے حقوق پامال ہو رہے ہیں او راپنے فرائض سے غفلت برتی جارہی ہے ۔جب تک یہ صورت حال نہیں بدلتی اور تمام حقداروں کے حقوق بخیر و خوبی ادا کرنے کا احساس پیدا نہیں ہوتا ،معاشرے کی حالت اعتدال پر نہیں آئے گی۔مفسر قرآن حافظ صلاح الدین صاحب یوسف نے زیر نظر کتاب میں اسی بات کو اجاگر کیا ہے ۔حافظ صاحب موصوف نے حقوق اللہ ،حقوق الوالدین،حقوق الزوجین،حقوق الاولاد اور حقوق العباد کے زیر عنوان ہر فرد کے حقوق و فرائض کو کتاب وسنت کی روشنی میں بیان کیا ہے ۔اہل اسلام کو اس کتاب کا مطالعہ لازماً کرنا چاہیے تاکہ اپنے فرائض اور دوسروں کے حقوق سے آگاہی ہو سکے اور ایک خوبصورت اور پر امن معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکے -
Sale!
Ramazan ul Mubarak short book from balagh.pk accordingly for Muslims all over the world. تزکیہ نفس اور تسویہ باطن تمام مذاہب و ادیان کا مقصد و مدعا رہا ہے۔اسلام نے ایک مکمل ضابطہء حیات ہونے کے باعث اس مقصد کے لیے اذکار و عبادات کا ایک مکمل اور اعلیٰ و ارفع نظام پیش کیا ہے۔یوں تو تمام اسلامی عبادات خالق و مخلوق کے درمیان ایک مستحکم اور پائیدار رابطہ قائم کرتی ہیں مگر ان میں جو مقام و فضیلت رمضان المبارک کے حوالے سے روزے کو حاصل ہے ۔وہ ایک خصوصی تذکرے کے لائق ہے۔ قرآن مجید میں روزے کو حصول تقویٰ کا ذریعہ بتایاگیا ہے۔یہ وہ عبادت ہے جو اس مقصد کے لیے سابقہ انبیاء کے زمانہ نبوت میں بھی فرض کی گئی تھی۔اور رمضان المبارک کا ماہ مقدس نزول قرآن کا مہینہ ہے۔اس کا مقصد انسان کے اندر بہیمی خصائل کو دبا کر ان کی جگہ روحانی و ربانی صفات نشو ونما دینا ہے۔ان ایام کی گئی نیکی ستر گناہ زیادہ درجہ رکھتی ہے۔حافظ صلاح الدین یوسف صاحب زمانہ حاضر کے مشہور و معروف قلمکار ہیں ۔آپ کے قلم میں اللہ تعالیٰ نے سلاست ، وانی اورشگفتگی رکھی ہے ۔ وہ جس موضوع پر بھی قلم اٹھاتے ہیں حتی الوسع اس کا حق ادا کرنے کوشش کرتے ہیں۔ایسے ہی انہوں نے رمضان المبارک کے حوالے کچھ رشحات قلم رقم فرمائے جنہیں دارالسلام نے اشاعتی مراحل سے گزارا۔اور مصنف موصوف نے بھر پور سعی فرمائی ہے کہ موضوع کے حوالے سے تمام پہلوؤں کا کماحقہ احاطہ ہو جائے۔اللہ ان کی زندگی و آخرت بہتر بنائے Undeniably to see more products visit our Facebook balagh.pk or contact by clicking 03276333210 -
قرآن کے بغیر دین اسلام کے علم کاتصور محال ہے ۔ اسی طرح شارح قرآن کے بغیر قرآن کا علم حاصل نہیں ہوسکتا۔اسی لیے صحابۂ کرام نے قرآن وحدیث میں کوئی فرق روا نہیں رکھا ۔ ان نفوس قدسیہ کے نزدیک نہ صرف دونوں واجب الاطاعت تھے بلکہ انہوں نے عملاً یہ ثابت کردیا کہ ان کے نزدیک احادیث ِاحکام قرآن ہی کا تسلسل تھیں۔رسول اللہ ﷺ نے اپنے ان فیصلوں کو جو قرآن کریم میں منصوص نہیں کتاب اللہ کے فیصلے قرار دیا ۔زیر نظر کتاب ``عظمت حدیث ``مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف کی تصنیف ہے جوکہ حدیث کے حوالے حافظ صاحب کے 6 مضامین کا مجموعہ ہے ۔ منکرین حدیث اس کتاب کے اولین مخاطب ہیں۔مزید اس کتاب میں حافظ صاحب نے حدیث کی تشریعی حیثیت کے منکرین کے علاوہ حدیث کےبارے میں اہل تقلید کے طرزِ عمل کے نقصانات کا جائزہ لیا ہے او رشاہ والی محدث دہلوی کی مسند کے ``جانشین حضرات`` کو شاہ صاحب ہی کی زبان میں تفہیم کی شاندار کاوش کی ہے مصنف کےنزدیک بعض اہل حدیث حضرات کا طرز عمل بھی غیر محدثانہ روش کا آئینہ دار ہے ۔ اس طرز عمل کا جائزہ لینے کے بعد امن وسلامتی کی راہ اپنانےکے رہنما خطوط پیش کرتے ہوئے حدیث کی عظمت اور اس کے تقاضوں کو واضح کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کوحدیث کی عظمت اور اس کے تقاضوں کو سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے -
لڑکی کے نکاح کے لیے ولی کی اجازت او ررضامندی ضروری ہے قرآن وحدیث کی نصوص سے واضح ہے کہ کسی نوجوان لڑکی کو یہ اجازت حاصل نہیں ہے کہ وہ والدین کی اجازت اور رضامندی کے بغیر گھر سے راہ ِفرار اختیار کرکے کسی عدالت میں یا کسی اور جگہ جاکر از خود کسی سے نکاح رچالے ۔ایسا نکاح باطل ہوگا نکاح کی صحت کے لیے ولی کی اجازت ،رضامندی اور موجودگی ضروری ہے ۔ لیکن موجودہ دور میں مسلمانوں کے اسلام سے عملی انحراف نے جہاں شریعت کے بہت سے مسائل کوغیر اہم بنادیا ہے ،اس مسئلے سے بھی اغماض واعراض اختیار کیا جاتاہے علاوہ ازیں ایک فقہی مکتب فکر کے غیر واضح موقف کو بھی اپنی بے راہ روی کے جواز کےلیے بنیاد بنایا جاتاہے ۔زیر نظر کتابچہ ``مفرورلڑکیوں کا نکا ح او رہمار ی عدالتیں``(از معروف عالم دین ، مفسر قرآن،محقق شہیر ،مصنف کتب کثیرہ حافظ صلاح الدین یوسف ) گھر سے فرار ہوکر نوجوان لڑکیوں کے عدالتی نکاح اور مسئلہ ولایت نکاح کے حوالے سے ایک اہم کتاب ہے جس میں حافظ صاحب نے قرآن وحدیث کی روشنی میں اس مسئلے کی صحیح نوعیت وحقیقت کوواضح کرتے ہوئے اس کاتحقیقی جائزہ پیش کیا ہے -
واقعۂ معراج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عظیم معجزہ ہے جس کا ثبوت قرآن کریم اور احادیث صحیحہ دونوں میں ہے۔ لیکن نام نہاد مسلمانوں کا ایک گروہ ایسا ہے جو اسے ایک کشفی و روحانی یا منامی (خواب کے)مشاہدے سے تعبیر کر کے اس کی معجزانہ حیثیت کا انکار کرتا ہے۔ ایک دوسرا گروہ ہے جو اس میں زیب داستاں کے طور پر بہت سی بے سروپا روایات شامل کر کے اسے کچھ کا کچھ بنا دیتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ دونوں ہی گروہ افراط و تفریط کا شکار ہیں۔ صحیح بات کیا ہے؟ یہی اس کتاب کا اصل موضوع ہے۔ اس میں قرآن و حدیث کے دلائل سےپہلے مؤقف کی بھی تغلیط و تردید کی گئی ہے اور روایات کی تحقیق کر کے دوسرے گروہ کی بے اصل باتوں کی توضیح بھی۔ اس اعتبار سے یہ اردو کی پہلی کتاب ہے جو واقعۂ معراج کو اس کے صحیح تناظر میں پیش کرتی ہے اور اس کے واقعاتی مشاہدات کو غیر مستند روایات سے ممیّز کرتی ہے۔ -
سیرت سرور کائنات وہ سدا بہار،پاکیزہ ،ہر دلعزیز موضوع ہے جسے شاعر اسلام سیدنا حسان بن ثابت سے لے کر آج تک پوری اسلامی تاریخ میں آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کے جملہ گوشوں پر مسلسل کہااور لکھا گیا ہے او رمستقبل میں لکھا جاتا رہے گااس کے باوجود یہ موضوع اتنا وسیع اور طویل ہے کہ اس پر مزید لکھنے کاتقاضا اور داعیہ موجود رہے گا۔ مطالعۂ سیرت کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے تاہم موجودہ حالات میں اس کی ضرورت ہمیشہ سے زیادہ ہے بالخصوص نوجوانانِ امت کو مطالعہ سیرت کی طرف راغب کرنا بہت ضروری ہوگیا ہے ۔لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب پیام سیرت دلچسپ پیرائے میں پیش کیا جائے گا۔ زیر نظر کتاب ``پیام سیرت`` ڈاکٹر محمد عبد الرحمن العریفی کتاب کا ترجمہ ہے جس میں انہوں نے نہایت دلنشیں او رمؤثر اسلوب نگارش کا انتخاب کیا ہے جو مطالعۂ سیرت میں دلچسپی رکھنے والے نوجوان طبقہ کی گہری دلچسپی کا باعث بن سکتا ہے ۔کتاب کے مصنف ڈاکٹر عبد الرحمن العریفی سعودی عرب کے جانے پہچانے مصنف ہیں۔ ریاض کی مقامی یونیورسٹی میں معلمی کے فرائض انجام دیتے ہیں ۔دعوتِ دین کےمیدان میں اُن کی مساعی جمیلہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اُن کا شمار علامہ ابن باز کے ممتاز شاگردوں میں ہوتا ہے ۔ دیار ِعرب میں ان کی خطابت کا بھی بہت شہرہ ہے ۔ اس سے قبل ان کی متعدد کتابیں خاصی پذیرائی حاصل کرچکی ہیں جن میں ان کی شہرۂ آفاق کتاب ``زندگی سے لطف اٹھائیے `` سرفہرست ہے ۔کتاب ہذا کے ترجمہ وتخریج کا کام ساجد الرحمن بہاولپوری نے کیا اور دار السلام نے اعلی معیار پر اسے طباعت سے آراستہ کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو گم کردہ راہ لوگوں کےلیے راہِ راست پر آنے کا سبب بنائے -
This is an exquisite collection of incidents from the life of the Prophet (Peace and Blessings of Allah be upon him), stories from our Islamic Heritage, and thought-provoking anecdotes from the life of the author. The aim of the book is to train the reader to enjoy living his life by practicing various self-development and inter-personal skills. What is so compelling and inspiring about this book is that, in order to highlight the benefit of using social skills, the author draws from the lives of the Prophet (Peace and Blessings of Allah be upon him) and his Companions (May Allah be pleased with them all). The techniques for living a happy and a leisured life are 100% applicable in every society. To meet the real goodness of life, manage and discipline ourselves well, our Prophet Muhammad (Peace and Blessings of Allah be upon him) always was and will always be our mentor. His great characters must be followed and applied to our way of living. `Zindagi Se Lutf Uthaye` is a must read book. Not only that, but it`s reader-friendly. It teaches you how to deal with people in different manners by containing most of our Prophet Muhammad (Peace and Blessings of Allah be upon him)`s lifestyle that can be benefited by Muslims and even the non-Muslim readers. The book is written by Dr. Muhammad Abdul Rahman Al Arfi (b 1970) who is a prominent scholar and orator from Saudi Arabia. Every reader mostly recommends this book to others with assurance that they`ll benefit from it much more than one expects. -
This is an exquisite collection of incidents from the life of the Prophet (Peace and Blessings of Allah be upon him), stories from our Islamic Heritage, and thought-provoking anecdotes from the life of the author. The aim of the book is to train the reader to enjoy living his life by practicing various self-development and inter-personal skills. What is so compelling and inspiring about this book is that, in order to highlight the benefit of using social skills, the author draws from the lives of the Prophet (Peace and Blessings of Allah be upon him) and his Companions (May Allah be pleased with them all). The techniques for living a happy and a leisured life are 100% applicable in every society. To meet the real goodness of life, manage and discipline ourselves well, our Prophet Muhammad (Peace and Blessings of Allah be upon him) always was and will always be our mentor. His great characters must be followed and applied to our way of living. `Zindagi Se Lutf Uthaye` is a must read book. Not only that, but it`s reader-friendly. It teaches you how to deal with people in different manners by containing most of our Prophet Muhammad (Peace and Blessings of Allah be upon him)`s lifestyle that can be benefited by Muslims and even the non-Muslim readers. The book is written by Dr. Muhammad Abdul Rahman Al Arfi (b 1970) who is a prominent scholar and orator from Saudi Arabia. Every reader mostly recommends this book to others with assurance that they`ll benefit from it much more than one expects. -
زںدگی کےآخری لمحوں ميں اںسان جوطرزعمل اختيارکرتاہےوہ زندگی کا حاصل ہوتاہے۔ايک مسلمان کی زندگی ميں خاتمہ بالخيرکی بڑی اہميت حاصل ہے۔زيرنظرکتاب ميں چندا چھےاوربرےافرادکےآخری لمحوں کی تصویريں پيش کی گی ہيں۔يہ تصویريں افراد کےلاشعورکی عکاس ہيں،اس کتاب کامطالعہ زندگی کےمسافرکوراہ زيست کےمتعين کرنےميں مدددےگا۔
-
شرک کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ کو اکیلا معبود مسجود خالق ومالک ،رازق نہ ماننا اور اس کی ذات وصفات میں کسی کو شریک ٹھہرانا گناہِ کبیرہ ہے۔قرآن مجید میں جابجا شرک کی سخت مذمت کی گئی اورتوحید پر زور دیا گیا ہے ۔حضرت آدم سے محمدﷺ تک جتنے انبیاء ورسل آئے،سب نے توحید ہی کی دعوت دی اور شرک کے نقصانات سے آگاہ کرتے ہوئے اس سے بچنے کی تلقین کی ۔ زیر نظر کتاب ’’سفینۂ نجات ‘‘ڈاکٹر محمد بن عبد الرحمن العریفی کی عربیتصنیف ’’ارکب معنا‘‘کااردو ترجمہ ہے جس میں شر ک کی تباہ کاریوں پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔اس سلسلے میں تاریخ اسلامی کے بصیرت افروز واقعات او رعصر حاضر کی معاشرتی مثالوں سے بھر پور مدد لی گئی۔شرک کے گرداب میں پھنسے ہوئے بدنصیبوں کےلیے اس کتاب کا مطالعہ انتہائی مفید ہے اوریہ کتاب شرک کی تباہ کاریوں کا عبرت ناک تذکرہ اور شرک میں پھنسے ہوئے لوگوں کےلیے سفینہ نجات ہے ۔ کتاب کے فاضل مصنف ڈاکٹر عبد الرحمن العریفی سعودی عرب کےدار الحکومت الریاض کے باشندے ہیں اور وہیں ایک معروف یونیورسٹی کےشعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔دعوت دین کے حلقوں میں ان کا نام جانا پہچانا ہے ۔ ۔دعوتِ دین کےمیدان میں اُن کی مساعی جمیلہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اُن کا شمار علامہ ابن باز کے ممتاز شاگردوں میں ہوتا ہے ۔ دیار ِعرب میں ان کی خطابت کا بھی بہت شہرہ ہے ۔ ان کی متعدد کتابیں خاصی پذیرائی حاصل کرچکی ہیں جن میں ان کی شہرۂ آفاق کتاب ’’زندگی سے لطف اٹھائیے ‘‘ سرفہرست ہے ۔ دار السلام کے ریسرچ سکالر حافظ اقبال صدیق مدنی نے زیر تبصرہ کتاب کے ترجمے او ر عبد الرحمن نے اس کتاب میں احادیث وروایات کی تخریج کا کام انجام دیا ہے ۔ اللہ اس کتاب کو عوام الناس کی اصلاح کا ذریعہ بنائے -
In recent times things have become very confusing and we have begun to see in book stores and on websites speculations about State of the Next World, future events, based on ayah and hadeeths which refer to these future events concerning the signs of the Hour. Sometimes you hear about the appearance of the Mahdi, sometimes you hear that the final battle between the Good and the Evil is close at hand, other time you hear some thing happening in the East or in the West. So, learn about the Final hour and State of the Next World by reading this book which is backed by proofs from Quran and Hadith. -
انسانی زندگی میں عمل ِصالح کی بڑی اہمیت ہے ۔معاشرے میں کسی فرد کانیک کردار نہ صرف خود اسے فائدہ دیتا ہے بلکہ معاشرے کے دیگر افراد بھی اس کی خوش اطواری سےمستفید ہوئے بغیر نہیں رہتے۔عمل صالح کی توفیق اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ملتی ہے ۔یو ں عمل صالح گویا ربانی ملازمت ہے جو آدمی اعمال صالحہ پر کاربند ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے خادم کی حیثیت سے زندگی بسر کرتا ہے ۔ وہ دین کی بھی خدمت کرتا ہے اور لوگوں کو بھی نفع پہنچاتا ہے ۔آدمی کو دنیا میں رہتے ہوئے عمل صالح کی توفیق مل جائے تو اس سےبڑی خوشی نصیبی اور کوئی نہیں۔زیر نظر کتاب’’کیا آپ ملازمت کی تلاش میں ہیں ؟ ‘‘ ڈاکٹر محمد بن عبد الرحمن العریفی کی عربیتصنیف’’ هل تبحث عن وظيفة‘‘ کااردو ترجمہ ہے ۔جس میں انہوں نے روزہ مرہ اور تاریخی واقعات کے پس منظر میں یہی باور کرایا ہے کہ عملِ صالح ہی انسانی فلاح وبہبود کاضامن ہے۔امید ہے کہ یہ ایمان افروز کتاب قارئین کو عمل وکردار کے سنوارنے میں مدد دے گی ۔کتاب کے فاضل مصنف ڈاکٹر عبد الرحمن العریفی سعودی عرب کے جانے پہچانے مصنف ہیں۔ ریاض کی مقامی یونیورسٹی میں معلمی کے فرائض انجام دیتے ہیں ۔دعوتِ دین کےمیدان میں اُن کی مساعی جمیلہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اُن کا شمار علامہ ابن باز کے ممتاز شاگردوں میں ہوتا ہے ۔ دیار ِعرب میں ان کی خطابت کا بھی بہت شہرہ ہے ۔ ان کی متعدد کتابیں خاصی پذیرائی حاصل کرچکی ہیں جن میں ان کی شہرۂ آفاق کتاب ’’زندگی سے لطف اٹھائیے ‘‘ سرفہرست ہے۔زیر تبصرہ کتاب کی اردور ترجمانی کے فرائض دارالسلام کے ریسرچ سکالر حافظ قمر حسن نے سرانجام دئیے ہیں ۔ اللہ تعالی مصنف ومترجم کی اس کاوش کو شرف قبولیت سے نواز ے اور اس کتاب کو اہل ایمان کی اصلاح کاذریعہ بنائے -
Why is the woman of today facing a lot of problems in the society? Why is the number of harassment cases against females increasing rapidly? Why don`t women feel secure at workplaces? The answer to the questions like these is that women who don`t wear Hijab have to face a lot of problems. They promote temptation in men. New Muslim wear Hijab happily as they know that it will be a protection from the evil prevailing in the society they were living in. No one denies that the modesty which is commanded by Islamic Law and by convention includes the decency and decorousness demanded of a woman and the kind of behavior that will ensure that she is kept far away from situations of temptation and suspicion. Furthermore, there is no doubt that the greatest act of modesty that she can perform is to wear the hijab, which covers her face. It is the best thing and with which she can adorn herself, because it protects Her and keeps her far removed from temptation. This is a unique book of its kind and it presents answers to nearly all questions pertaining to family matters like: beautification of a woman, garments for women, hair styling, and a woman`s speaking with a man, use of perfume for women, mixed education, permissible work for women, legal verdicts pertaining to marriage, children games and clothes etc. This is a must have book. Every Muslim family must keep this splendid book in their homes. -
انسانی تاریخ سامانِ تفریح نہیں ،سامانِ عبرت ہے۔ہر عقل مند آدمی ماضی سے سبق سیکھتا ہے اور اپنے حال ومستقبل کی اصلاح کرتا ہے۔گزشتہ نسلوں کے تجربات سے آئندہ نسلوں کو راہِ راست متعین کرنے میں مدد ملتی ہے۔قرآن مجید نے بھی سابقہ اقوام کے تذکرے اسی لئے بیان کئے ہیں ،تاکہ ان سے سبق حاصل کیا جائے اور ان سے سرزد ہونے والی غلطیوں کو دوبارہ نہ دہرایا جائے۔ زیرنظر کتاب ``نیکی کے سفیر`` سعودی عرب کے معروف عالم دین،واعظ اور مبلغ ڈاکٹر محمد بن عبد الرحمن عریفی کی تصنیف ہے۔آپ ایک درد دل رکھنے والی شخصیت ہیں اور دعوت وتبلیغ کے میدان میں بہت بلند مقام پر فائز ہیں۔اس کتاب میں انہوں نے تاریخ کے چند سبق آموز واقعات کو جمع فرما دیا ہے اور مسلمانوں کو ان واقعات سے سبق حاصل کرنے کی بڑی درد مندانہ اپیل کی ہے۔کتاب عربی میں ہے جسے اردو زبان میں ترجمہ کرنے کی سعادت معروف مکتبہ دار السلام کے ریسرچ فیلو مولانا تنویر احمد کے حصے میں آئی ہے۔اللہ تعالی ان کی اس محنت کو قبولیت سے نوازے اور ان کے میزانِ حسنات میں اضافے کا باعث بنائے -
آج کے مغرب زدہ معاشرے میں اسلام کو ضابطہ حیات کی بجائے چند عبادات اور رسم و رواج کا دین سمجھ لیا گیا ہے اور باور بھی یہی کروایا جاتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور جدید میڈیکل سائنس سے متعلق اسلام خاموش ہے، اس کا مکمل کریڈٹ یورپ کو دیا جاتا ہے، حالانکہ یہ ظلم ہے۔ تعصب کی عینک اتار کر اگر اسلام کا مطالعہ کیا جائے تو آپ کو اس میں دین و دنیا کے ہر شعبہ سے متعلق راہنمائی ملے گی۔ مغربی معاشرے میں لا علاج مریضوں کو ایک ایسی دوا دی جاتی ہے جس میں زہر ہوتا ہے اور یہ زہر مریض کی اکھڑی ہوئی ناہموار زندگی کا خاتمہ کر دیتا ہے، جبکہ اسلام ایسی ادویات سے دور رہنے کا حکم دیتا ہے اور اسلامی تعلیمات سے یہ سبق ملتا ہے کہ بیماری تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نویدِ رحمت ہوتی ہے ۔ بیماری سے مومن کے گناہ معاف ہوتے ہیں اور مریض کی عاجزی اور تسبیح و تہلیل قبول فرما کر اللہ تعالیٰ اسے جنت عطا کرنے کا فیصلہ کر دیتا ہے۔ زیر نظر کتاب`ہسپتال میں طبیب اور مریض کے ساتھ` دکتور محمد عبد الرحمٰن العریفی کی عربی تصنیف ہے جس کو مولانا حافظ قمر حسن کے نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ اردو ترجمہ میں ڈھالا ہے۔موصوف نے کتاب ہذا میں مریض، طبیب اور علاج معالجہ سے متعلق دینی احکامات کو قلمبند کیا ہے اور مریض کے عیادت کے فضائل کے ساتھ ساتھ عیادت کے آداب وغیرہ کو بھی درج کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف و مترجم کے لیے بلندی درجات کو سبب بنائے اور اہل اسلام کو ان سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے -
جو قوم اپنی خصوصیات اور روایات کو بھلا کر غیروں کی نقالی کرتی ہے وہ صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہے۔ مسلمان دنیا کی امامت و قیادت کے لیے پیدا ہوئے تھےمگر یہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ جو قوم انسانیت کی قیادت پر مامور کی گئی تھی، وہ خود ترغیبات نفس کے جال میں پھنس کر اپنی مایہ ناز روایات بھلا بیٹھی اور مغربی تہذیب کی نقالی میں ڈوب گئی۔ نتیجہ ظاہر کہ آج مسلمان دنیا کی تگ و دو میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں اور ہر جگہ اپنے زوال کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔ زیرِ نظر کتاب ارکان اسلام و ایمان میں دین قیم کا خلاصہ آسان اسلوب میں بیان کرتی ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی سچی بندگی کی دعوت دی ہے اور کفر، شرک اور بدعت کی ہلاتکوں اور نئی تہذیب کی قباحتوں سے خبردار کردیا گیا ہے۔ اس کتاب میں دین کی تما م بنیادی تعلیمات عام فہم اسلوب میں قلم بندد کر کے مسلمان کو دعوت عمل دی گئی ہے اور واضح کیاگیا ہے کہ دین کی تفہیم ،ایمان کی مضبوطی اور حسن عمل کے بغیر ہماری کامیابی کا کوئی امکان نہیں۔ یہ کتاب خوب بھی پڑھیے اور اپنے عزیز و اقارب اور دوست احباب کو بھی پڑھنے کی دعوت دیجیے۔
-
نبی ﷺ پر درود و سلام ` اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جس کا انکار یا استخفاف کفر ہے اور اس کا اہتمام رسول اللہ ﷺ سے محبت اور والہانہ تعلق و وابستگی کا ذریعہ بھی ہے اور اس کی علامت اور دلیل بھی۔ لیکن وہ درود و سلام کون سا ہے اور اس کا طریقہ کیا ہے جس کا حکم مسلمانوں کو دیا گیا ہے اور جو محبت رسول ﷺ کا ذریعہ بھی ہے اور اس کی علامت بھی؟ زیرِ نظر کتاب اسی موضوع پر منفرد اور نہایت اہم کتاب ہے جو شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ؒ کی کتاب کا اردو ترجمہ ہے۔ اس میں صلوٰۃ و سلام کے تقریباً ہر موضوع پر تفصیلی، مدلل اور واضح گفتگو ہے۔ جیسا کہ امام ابن القیم ؒ کا اسلوب ہے جو اہلِ علم میں معروف ہے۔ -
ستغفار دل کی سلامتی اور صفائی کا ذریعہ ہے۔کیونکہ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:’’ان العبد اذا أخطا خطیئة نکتت فی قلبه نکتة سوداء ،فان هو نزع واستغفر وتاب،صقل قلبه ‘‘(رواہ الترمذی)’’جب انسان گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ نکتہ لگا دیا جاتا ہے،اگر انسان اس گناہ کو چھوڑ دے اور اس پر توبہ واستغفار کرے تو اس کے دل کودھو کر چمکا دیا جاتا ہے۔‘‘ حضرت شداد بن اوس روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص یقین کامل کے ساتھ صبح کی نماز کے بعد سید الاستغفار پڑھے گا ،اگر اسی دن شام سے پہلے پہلے مر گیا تو سیدھا جنت میں جائے گا،اسی طرح جو شخص یقین کامل کے ساتھ مغرب کی نماز کے بعد سید الاستغفار پڑھے گا ،اگر اسی رات صبح سے پہلے پہلے مر گیا تو سیدھا جنت میں جائے گا۔سید الاستغفار یہ ہے: `اللھم أنت ربی لااله الا أنت،خلقتنی وأنا عبدک ،وأنا علی عهدك ووعدک مااستطعت،أعوذبک من شر ما صنعت ، أبوء لک بنعمتک علی وأبوء بذنبی ،فاغفرلی فانہ لا یغفر الذنوب الا أنت [رواہ مسلم] ’’اے اللہ تو ہی میرا رب ہے ، تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں،تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوںجس قدرطاقت رکھتا ہوں،میں نے جو کچھ کیا اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں،اپنے آپ پر تیری نعمت کا اقرار کرتا ہوںاور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں،پس مجھے بخش دے کیونکہ تیرے علاوہ کوئی گناہوں کو نہیں بخش سکتا۔‘‘ زير تبصره كتاب ’’ استغفار وتعوذ فضائل وثمرات ‘‘ اشاعت کتب کے انٹرنیشنل ادارے ، دار السلام کے سکالر زکی مرتب شدہ ہے ۔ اس کتاب کے پہلے حصے میں میں انہوں نےاستغفار کی اہمیت وضرورت، استغفار کی قرآنی ونبوی دعائیں ، استغفار کے مستحب اوقات ومواقع ،استغفار کے فوائد وثمرات کو بیان کیا ہے اور دوسرے حصے میں تعوذ کی ضرروت واہمیت ، قرآنی تعوذ تعوذ کےمستحب اوقات کو قرآن واحادیث کی روشنی میں آسان فہم انداز میں پیش کیا ہے -
آج کل بنیادی حقوق کا بڑا چرچا ہے اور شور ہے اور یہ شور زیادہ تر مغرب کے مادر پدر آزادمعاشرے کے فرزندوں کی طرف سے مچایا جا رہا ہے جو انسان اور حیوان کے درمیان فرق کرنے کے روادار ہیں نہ انھیں مرد اور عورت کے درمیان فطری امتیازات نظر آتے ہیں۔ اسی لیے وہ حیوانوں والے حقوق انسانوں کے لیے تسلیم کرانا اور مردوں کے فرائض عورتوں کو بھی تفویض کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ یہ دونوں باتیں فطرت کے خلاف ہیں اور فطرت کے خلاف جنگ کرنے سے دنیا میں کبھی امن اور سکون نہیں ہو سکتا اور بعض لوگ وہ ہیں جو کسی کے بھی بنیادی حقوق کے قائل نہیں۔ ان کے نزدیک حقوق ہیں تو طاقت وروں کے ، کمزوروں کے کوئی حقوق نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگ اقتدار و اختیار سے بہر ہ ور ہو کر عوام پر ہر قسم کا جبر و ظلم کرنا جائز سمجھتے ہیں۔ فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین ؒ نے اس کتابچے میں افراط و تفریط سے دامن بچاتے ہوئے اسلام کی اعتدال پر مبنی تعلیمات کی روشنی میں انسانوں کے وہ بنیادی حقوق واضح کیے ہیں جو دین متین نے تسلیم اور بیان کیے ہیں جن سے مرد اور عورت کے درمیان امتیاز قائم رہتا ہے جو فطرت کے عین مطابق ہے اور انسان اور حیوان کے درمیان فرق بھی قائم رہتا ہے۔ اور یہی وہ نقطہ اعتدال ہے جو امن وسکوں کا ضامن ہے۔ -
This Atlas is new in its subject, a subject that has not been touched before. It helps whoever recites the Qur`Gn or studies it to specify the locations mentioned by the Noble Verses, and to mark those places of ancient people mentioned in the Qur`Gn. This is besides locating areas where the incidents of the prophetic Seerah occurred. Eventually the diligent reader will easily recognize those places, learn about them, and take heed of them while reciting. Eventually the diligent reader will easily recognize those places, learn about them, and take heed of them while reciting. The Atlas has also revealed obscure places we used to pass through inattentively, like the site where Nuh`s Ark settled, the site of the curved Sand-hills {Al Ahqah}, the cave of the young faithful men, the houses of median, the site of Sodom and other places determined by the Atlas depending on reliable sources. Thus the Atlas eliminates all the guessing and the fantasies we used to encounter when reciting the Noble Quran, and takes us to the specific place. -
انسانی وجود کے دو حصّے ہیں۔۔۔ ایک روحانی، دوسرا مادی۔ مادیت پسندی کے اس دور میں انسان کے اس وجود پر بہت کام ہوا ہے مگر دوسرے اور اہم تر وجود پر جو کچھ لکھا اور کہا گیا ہے اس کی وقعت نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ضمن میں انسانی عقل کی رہنما۔۔۔۔ وحی۔۔۔ سے روشنی حاصل نہیں کی گئی۔ `انسان اپنی صفات کے آئینے میں` اس غلط روش کا خوب صورت ازالہ ہے۔۔۔ مصنف نے وحی االہٰی کی روشنی میں انسان کی مثبت اور منفی، تمام صفات کا خوب صورت تجزیہ کیا ہے اور انسان کو وہ آئینہ دکھایا ہے جس میں وہ اپنی سچی اور اصل تصویر دیکھ سکتا ہے۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ ان عوامل کی نشان دہی بھی کی گئی ہے جن سے انسان اپنی تصویر کی بد نمائی کو دور کر سکتا ہے۔۔ ان پہلوؤں نے اس کتاب کی افادیت میں اس قدر اضافہ کر دیا ہے کہ اس کا مطالعہ ہر سچے انسان کی ضرورت بن گئی ہے۔
-
یہ کتاب عالمگیر سچائیوں کا سبق دیتی ہے، اس کا موضوع یہ ہے کہ انسان شعور و آگہی کی زندگی بسر کرے۔ اپنے مقدس پروردگار کو پہچانے۔ رسالت مآب حضرت محمد ﷺ کے منصب و منزلت کی معرفت حاصل کرے۔ آپ ﷺ کے فکر و عمل کی پیروی کرے۔ آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ کو ذہنی ارتقا کا ذریعہ اور عملی زندگی کا مرکز و محور بنائے۔ دن حنیف کی تعلیمات سے پوری طرح با خبر رہے۔ اور صبر و استقامت کی راہ پر گامزن رہے۔ یہ کتاب ایک دوست کی پکار، ایک داعی کی صدا اور ایک مجاہد کی آواز ہے جو زمانے اور زندگی کے ہر مرحلے پر صراطِ مستقیم دکھاتی ہے اور قران و سنت کی روشنی میں حسن عمل کی تعلیم دیتی ہے۔ عمل کا ارادہ کیجیے اور اس کتاب کا ایک ایک حرف احترام اور التزام سے پڑھیے۔ ان شا ء اللہ آپ کے عقائد و نظریات میں حقیقی نور پیدا ہوگا اور روشن روشن کرنیں جگمگا اُٹھیں گی۔ آپ حسن نیت اور اچھے کام کرنے کے خوگر بنیں گے۔ یوں آپ اس دنیا میں سر خرو اور آخرت میں سرفراز رہیں گے۔ -
پیش نظر کتاب دورہ تفسیر کے علمی نکات اور افادات پر مبنی خزینہ معلومات ہے جسے مدارس کے نصاب، فہم قران کورسز کی بنیادی ضرورت اور دورہ تفسیر کی روایت کے عین مطابق مرتب کی گیا ہے۔ یہ اپنے اسلوب کے لحاظ سے بہت اہم اور مفید علمی کاوش ہے جو طالبان قران کے لیے قرانی موضوعات اور اصول تفسیر کے لوازم کے تحت تحریر کی گئی ہے۔ اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ اس میں اصول تفسیر کے مشکل مراحل کو سوال و جواب کے اسلوب میں آسان اور زود و فہم بنا دیا گیا ہے۔ -
آج ساری دنیا جس بے قراری سے امن و سلامتی کا راستہ ڈھونڈ رہی ہے، اس سے کوئی بے خبر نہیں۔ ملاال یہ ہے کہ جو افکار و اعمال انسان کے لیے ذلت اور ہلاکت کا سبب ہیں، آج کا ترقی یافتہ انسان انھی موہوم اور مسموم افکار و اعمال میں اپنے زخموں کا مرہم ٹٹول رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ انسان کے دکھوں میں آئے دن ہولناک اور ہلاکت بار اضافہ ہو رہا ہے۔ اس عالم گیر المیے کی اصل وجہ کیا ہے؟ یہ بھید جاننے کے لیے زیرِ نظر کتاب پڑھیے۔ اس کتاب کے مصنف فضیلتہ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز ؒ عہد حاضر کے سب سے بڑے سکالر تھے، ان کی بین نگاہوں نے انسان کے آلام و مصائب کے اصل سبب کا کھوج لگایا اور صاف صاف بتا دیا کہ جب تک انسان اپنے من گھڑت افکار و عقائد کی دلدل میں پھنسا رہے گا امن و سلامتی کا راستہ کبھی نا پا سکے گا۔ امن و سلامتی اور فلاح و کامیابی کا واحد طریقہ یہ ہے کہ جس قادر مطلق نے یہ دنیا بنائی ہے ہم اُسی کی بتائی ہوئی صراط مستقیم پر چل پڑیں۔ صراطِ مستقیم کیا ہے؟ یہ کتاب اسی سوال کا بڑا مستند ، منور، مفصل اور مدلل جواب ہے۔ اسے مرکز توجہات بنائیے۔ خود بھی پڑھیے اور عزیز و اقارب کو بھی پڑھنے کی دعوت دیجیے۔ -
خانقاہی نظام سے مراد تصوف ہے۔تصوف کا لفظ اس طریقۂ کار یا اسلوب اس عمل کے لیے اختیار کیا جاتا ہے جس پر کوئی صوفی عمل پیرا ہو۔ اسلام سے قربت رکھنے والے صوفی، لفظ تصوف کی تعریف یوں کرتے ہیں کہ : تصوف کو قرآنی اصطلاح میں تزکیۂ نفس اور حدیث کی اصطلاح میں احسان کہتے ہیں۔ تصوف کی اس مذکوہ بالا تعریف بیان کرنے والے افراد تصوف کو قرآن و سنت کے عین مطابق قرار دیتے ہیں۔ اور ابتدائی ایام میں متعدد فقہی علماء کرام بھی یہی مراد مراد لیتے رہے۔ پھر بعد میں تصوف میں ایسے افکار ظاہر ہونا شروع ہوئے کہ جن پر شریعت و فقہ پر قائم علماء نے نہ صرف یہ کہ ناپسندیدگی کا اظہار کیا بلکہ ان کا رد بھی کیا۔امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم اوران کےبعد جید علمائے امت نے اپنی پوری قوت کے ساتھ غیراسلامی تصوف کےخلاف علم جہاد بلند کیا اورمسلمانوں کواس کےمفاسد سے آگاہ کر کے اپنا فرضِ منصبی انجام دیا۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نےبھی اپنے اردو فارسی کلام میں جگہ جگہ غیر اسلامی تصوف کی مذمت کی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اسلام اور خانقاہی نظام ایک تحقیقی وتاریخی جائزہ ‘‘ محترم جناب پروفیسر ڈاکٹر امان اللہ بھٹی کی تصنیف لطیف ہے اس کتاب میں انہوں نے تصوف اور خانقاہی نظام کی تعریف، تاریخ اور تصوف کےمختلف سلسلوں اور ان کےطریق کار کی مفصل اور چشم کشا دستاویز پیش کی ہیں۔نیز عہد بہ عہد صحابۂ کرام کے نام دے کر بتایا گیا ہے کہ انہوں نےکتنے کٹھن حالات میں دنیا کےدور دراز گوشوں میں پہنچ کر توحید کی اذان دی اور لوگوں تک اللہ کا دین پہنچایا۔ ان کی دعوت سیدھی سادی تھی۔ وہ غیر اللہ کی نفی کرتے تھے۔ دلوں میں اللہ کی یکتائی ،بڑائی کبریائی اور زیبائی کانقش جماتے تھے ، رسول اللہﷺ کی زندگی کے مبارک طریقے سکھاتے تھے ۔اس کتاب کے مطالعے سے یہ حقیقت بڑی نمایاں ہوجاتی ہے کہ اسلام جیسے جامع دین کے مقابلے میں تصوف اور خانقاہیت ایک ژولیدہ فلسفہ ہے ۔ فاضل مصنف نےخانقاہی نظام کا بڑا مفصل اور مدلل جائزہ پیش کیا ہے۔ انھوں نےاکابر علماء اور نامور صوفی بزرگوں ہی کےاقوال سے تصوف کی تعریف بیان کی ہے اور مختلف آراء کے اقتباسات درج کیے ہیں ۔ تصوف کے مختلف سلسلوں اور منازلِ سلوک کی بہت سی شاخوں کےتعارف کے علاوہ ان کےطریق عمل پر روشنی ڈالی ہے۔ فاضل مصنف نےحوالہ جات پیش کر کے بتایا ہے کہ تصوف کےنظریات کہاں کہاں پہنچ کر اسلامی تعلیمات سےبے آہنگ ہوگئے اورشرک کی آبیاری کاموجب بنے۔پھر اس کے نتیجے میں کیسے کیسے فاسد عقائد کے کانٹے اگتے اورپھیلتے چلے گئے -
`اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں؟` ان خوش نصیب انسانوں کے تجربات و تاثرات اور قلبی واردات کا خوبصورت مرقّع ہے جنہوں نے عیسائیت، یہودیت یا ہندو مت کے باطل عقائد و افکار کو تج کر اسلام کے باعثِ تسکینِ جاں اور بہارِ قلب و نظر کے حامل سرمدی سائے میں پناہ لی۔ ان نو مسلموں کے اپنے سابق مذاہب کے حوالے سے اعتراضات اور اسلام کے بارے میں سرور انگیز والہانہ جذبات حقیقتاً ایمان افروز اور ایقان پرور ہیں جن سے اس دین حنیف کی ازلی و ابدی سچائی روزِ روشن کی طرح نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے۔ یہ بے مثال کتاب ہر مسلمان بلکہ ہر انسان کے پڑھنے کی چیز ہے، بلخصوص وعظ و تبلیغ کے فریضے کی ادائیگی میں مصروف لوگوں کے لیے سوغات ہے۔ اسے خود پڑھ کر اسلام پر اپنا ایمان و یقین تازہ کیجیے اور دوسروں کو پڑھائیے کہ اسلام، قران اور پیغمبر اسلام ﷺ سے نومسلموں کی وابستگی کا تقابلی مطالعہ دل و نگاہ کو رفعت و صلابت اور کشادگی عطا کرتا ہے۔
-
تقسیم وراثیت سے متعلقہ اسلام کی تعلیمات نہایت عادلانہ اور منصفانہ ہیں۔ تاکہ مرحومین کے پسماندگان کی مامون و محفوظ اور پر امن دنیوی زندگی کا اہتمام ہو سکے۔ لیکن نہ معلوم کس وجہ سے بہت سے علماے کرام اور اہل علم حضرات بھی تقسیم وراثت کے حوالے سے دینی احکامات سے پوری طرح آگاہ نہیں ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’اسلامی قانون وراثت‘ جہاں علمائے کرام کے لیے استفادے کا باعث بنے گی وہیں طلبا اور عامۃ المسلمین بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ فاضل مصنف ابونعمان بشیر نے وراثت کے مبادیات، موانع، ترکہ کے متعلق امور، مستحقین اور ان کے حصص، عصبات، حجب سے لےکر تقسیم ترکہ، تخارج، خنثیٰ، حمل سمیت تمام موضوعات نہایت جامعیت کے ساتھ روشنی ڈالی ہے۔ یوں سوالاً جواباً انداز میں لکھی گئی یہ کتاب طلبہ کے لیے بالخصوص مفید ثابت ہوگی، اسے مدارس کے نصاب میں شامل کیا جائے تو یہ ابتدائی کلاسوں کے لیے آسان جدید اسلوب میں نہایت مفید اضافہ ثابت ہوگی
-
جو قوم اپنی روایات اور خصوصیات کو بھلا کر غیروں کی نقالی کرتی ہے وہ صفحہ ء ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹ جاتی ہے۔ بدقسمتی سے مسلمانوں نے یہی مہلک طریقہ اختیار کرلیا، دو اڑھائی سو برس پہلے یورپ کے صنعتی انقلاب کے بطن سے جو مادی تہذیب پیدا ہوئی، اس میں مذہب سے شدید بغاوت بھی کار فرما تھی۔ اس تہذیب نے اللہ تعالیٰ سے اہل یورپ کا رشتہ منقطع کردیا۔ یہی چمکیلی بھڑکیلی تہذیب جب انگریزوں ، فرانسیسیوں اور ولندیزیوں کی معرفت مشرقی ملکوں میں پہنچی تو مسلمانوں کے بالائی طبقات نے اسے گلے لگا لیا۔ یہ تاریکی بڑھتی اور پھیلتی چلی گئی اور ہم اپنی مایہ ناز روایات کو یکے بعد دیگرے فراموش کرتے چلے گئے۔ آج جسدِ ملت کے زخموں سے جو خون ٹپک رہا ہے وہ اسی مادر پدر آزاد مغربی تہذیب کی نقالی اور اپنی معظم روایات سے دستبرداری کا نتیجہ ہے۔ اب مسلمانوں کی بقا اور فلاح کا یک ہی طریقہ ہے کہ وہ مغربی تہذیب کی طنابیں توڑ دیں اور اسلامی تعلیمات کے دامن رحمت میں لوٹ آئیں۔ عالم اسلام کے نامور عالم دین فضیلتہ الشیخ محمد بن صالح العثیمین ؒ نے `اسلام کے بنیادی عقائد` کے زیر عنوان یہ گرانقدر کتاب لکھ کر وہ تعلیمات و مبادیات اجاگر کردیے ہیں جن پر عمل کر کے ہم اپنی گم شدہ عظمت دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کتاب کا سنجیدگی سے مطالعہ کیجیے۔ یہ کتاب قران و سنت کی تعلیمات کا عطر ہے۔
-
یہ مختصر سی کتاب شیخ محمد بن سلیمان رحمہ اللہ کی عربی کتاب``الأصول الثلاثۃ وأدلتہا`` کا اردو سلیس ترجمہ ہے –شیخ موصوف نے کتاب کی تین ابواب میں تقسیم کرتے ہوئے اسلام کے تمام اساسی اصولوں کی بڑی سادہ اور دلنشین تشریح کی ہے- ان اصولوں کے ذیلی عنوانات میں اللہ تعالی کی معرفت، اسلام، ایمان اور احسان کے مراتب، مراحل اور مدارج وضاحت سے بتائے گئے ہیں اور آخر میں حضرت محمد مصطفی ﷺکی صفات، جہات، حیثیات اور تعلیمات بیان کی گئی ہیں- دین اسلام کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے یہ ننھی سی کتاب بڑی بڑی ضخیم کتابوں پر بھاری ہے-
-
صلاح الدین علی عبدالموجود ایک نامور عرب مصنف ہیں جنھوں نے مسلمانوں کی نئی نسل کے سامنے صحابہ، محدثین اور اجل علما کی سیرتیں نئے اسلوب سے پیش کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے تاکہ وہ ان کے اوصاف کو اپنے کردار و عمل میں اجاگر کر سکیں۔ ’سیرت سفیان بن عیینہ‘ اس سلسلے کی ایک اہم کتاب ہے جس میں علم حدیث کے امام، یگانہ روز گار اور اپنے دور کی بے مثال اور منفرد شخصیت سفیان بن عیینہ کی سیرت کا تذکرہ ہے، جن کاشمار تبع تابعین میں ہوتا ہے اور انھوں نے تابعین کرام اور اتباع تبع تابعین کے درمیان رابطے کا کام دیا۔ اس کتاب میں قارئین کو بیسیوں اسے راویان حدیث کے احوال، روشن واقعات اور اقوال پڑھنے کو ملیں گے جو یا تو ابن عیینہ کے شیوخ تھے یا ان کے شاگرد اور ہم عصر تھے یا ان کے خوشہ چین تھے۔ اس میں ابن عیینہ کی علمی مجلسوں کے دلچسپ احوال اور ان سے پوچھے گئے سوالات اور ان کے حکیمانہ جوابات بھی ہیں جو علم دین کی جستجو کرنے والوں کے دل و دماغ کو روشن کرتے ہیں۔ علم اور اہل علم سے آپ کی دلچسپی، آپ کے چند علمی مواخذات، تدلیس کے بارے میں آپ کانقطہ نظر اور حکمرانوں کے بارے میں آپ کی آراء بھی پیش کی گئی ہیں جبکہ آخر میں ابن عیینہ کے تفسیری اقوال، شروح احادیث اور دیگر فرموادات ہیں جو آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ کتاب کا سلیس اور عام فہم اردو ترجمہ پروفیسر حافظ عبدالرحمٰن ناصر کی محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کوئی بھی بات حوالہ کے بغیر نقل نہیں کی گئی اور کتابت کی غلطی تو پوری کتاب میں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی حتی کہ غلط العام الفاظ استعمال کرنے سے بھی اجتناب کیا گیا ہے -
مصنف نے اپنی کتاب کو ارکان خمسہ کے اعتبار سے پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے اور ہر ایک حصے میں الگ الگ ایک ایک رکن اسلام پر مدلل او رتفصیلی گفتگو کی ہے-پہلے حصے میں حقیقت توحید کو بیان کرتے ہوئے ایمان اور عمل صالح کی یکجائی کو حسن کمال کے ساتھ بیان کیا گیا ہے-حقیقت التوحید میں خدا، کائنات اور فطرت کو موضوع بنایا گیا ہے جبکہ دوسرا حصہ حقیقت صلوۃ پر مشتمل ہے جس میں یہ واضح کیا ہے کہ اسلام کے نظام صلوۃ میں مرکزی حیثیت انسان کو حاصل ہے-حقیقت صلوۃ میں مولانا نے مسائل صلوۃ کی بجائے نماز جس جوہر بندگی اور حقیقت عبدیت کا مظہر ہے، اس کی طرف اس انداز سے توجہ دلائی ہے کہ مسلمان ہونے کا حقیقی مطلب لائق فہم ہوجاتا ہے-تیسرا حصہ حقیقت زکوۃ پر مشتمل ہے جس میں اسلام کے نظام زکوۃ کی افادیت پر زور دیا ہے-چوتھے حصے میں حقیقت صایم کی وضاحت کرتے ہوئے صیام کے بارے میں جو اسلامی تصور پیش کیا گیا ہے، کی مکمل وضاحت کرتے ہوئے زکوۃ کی قانونی ہیئت پر بھی عام اسلوب سے ہٹ کر مجتہدانہ انداز سے گفتگو کی ہے-پانچویں حصے میں حقیقت حج پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے جس میں حج کے موضوع پر لکھے جانے والے سارے لٹریچر سے نہ صرف یہ کہ منفرد ہے بلکہ اس میں حج کے عمل کو عظیم روحانی تناظر میں رکھ کر دیکھا گیا ہے -
بچوں کا ذہن سفید کاغذ کی طرح ہوتا ہے۔ اس پر جو لکھیں فوراً نقش ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بچپن میں یاد کی ہوئی باتیں بڑھاپے تک محفوظ رہتی ہیں۔ عربی کا مقولہ ہے کہ کمسنی کی یاد کی ہوئی بات پتھر پر لکیر کی مانند ہوتی ہے۔ اس لیے بچوں کی یہ عمر انتہائی قیمتی ہے۔ اس سے بھرپور فائدہ اُٹھانا چاہیے۔ اسلامی عقائد، عبادات، اخلاقیات اور آداب و معاملات سے انھیں آگاہ کریں تا کہ بچپن ہی میں یہ تعلیمات ان کے قلوب و اذہان میں راسخ ہو جائیں اور وہ بڑے ہو کر سکہ بند مسلمان بنیں جو تاریخ کا دھارا بدل دیں۔ یقیناً اس کے لیے ایسے لٹریچر کی ضرورت ہے جو بچوں کی ذہنی سطح کو ملحوظ رکھ کر عام فہم اسلوب میں تیار کیا گیا ہو۔ ارکان اسلام اس ضرورت کی تکمیل کی سعی جمیل ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ بچوں کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کرانے کے ساتھ سچا اور باکردار مسلمان بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
-
صحابئہ کرامؓ کی زندگی اوران کی سوانح ميں ہمارےليےروشن مثاليں ہيں۔وہ چمکتےدمکتےستارےہيں جنہوں نےبراہ راست اللہ کےرسولﷺکےرخ انوارکی زيارت کاثرف حاصل کيا۔اںہوں ںےاللہ کےرسولﷺکی مجالست وصحبت کےمزےاٹھاۓ اور براہ راست آپ سےفيوض وبرکات حاصل کيں۔ان کا تزکيہ نفس کا ئنات کےامامﷺنے بنفس نفيس فرمايا۔ان کی زندگی ہمارےليےمشعل راہ ہے۔ہرصحابي کی زندگی بہت خوبصورباعث اقتداءاورروشن مثال ہے۔ان تاريخ سازمقدس شخصيات کی علمی اخلاقی،فقہی اورعسکری بصيرت سےآگہی کانورحاصل کرنےکےليےيہ انسائیکلوپیڈیا دارالسلام کےقارئین خدمت ميں پيش کياجارہاہے۔ہماری خواہش ہےکہ اس نورکوزندگی کی گزرگاہوں کےان تاريک گوشوں تک پھيلادياجاۓجہاں اجالےکی اشدضرورت ہے۔ -
اسلام عفت و عصمت اور پاکیزگی قلب و نگاہ کا دین ہے۔ اسلام زمانہ جاہلیت کی غیر انسانی طفل کشی کی رسم کی پرزور مذمت کرتا ہے۔ اسلام ہی دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے عورتوں کو ان کے اصل مقام و مرتبے سے ہمکنار کیا۔ اس کی عزت و آبرو کے لیے جامع قوانین متعین کیے، عورت کو وراثت میں حقدار ٹھہرایا، اس کے عائلی نظام کو مضبوط کیا۔ اسلام سے پہلے دنیا نے جس قدر ترقی کی تھی، صرف ایک صنف واحد(مرد) کی اخلاقی اور دماغی قوتوں کا کرشمہ تھی۔ مصر، بابل، ایران، یونان اور ہندوستان مختلف تہذیب و تمدن کے چمن آراء تھے لیکن اس میں صنف نازک(عورت) کی آبیاری کا کچھ دخل نہ تھا۔ عورت کو دنیا میں جس نگاہ سے دیکھا جاتا ہے وہ ہر ممالک میں مختلف رہی ہے، مشرق میں عورت مرد کے دامن تقدس کا داغ ہے، اہل یونان اس کو شیطان کہتے ہیں، تورات اس کو لعنت ابدی کا مستحق قرار دیتی ہے، کلیسا اس کو باغ انسانیت کا کانٹا تصور کرتا ہے لیکن اسلام کا نقطہ نظر ان سب سے جدا گانہ ہے۔ اسلام میں عورت نسیم اخلاق کی نکہت اور چہرہ انسانیت کا غازہ سمجھی جاتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’بہنوں کے لیے تحفہ‘‘محترمہ امل بنت عبداللہ کی تصنیف کرداہے اور اس کا عربی نام ’’ھدیتی الیک ‘‘ہے اور اس کا اردو ترجمہ نعیم احمد بلوچ نے کیا ہے جس میں انہوں نے ایک عورت کی معاشرتی اور گھریلو ذمہ داریوں کو بیان کیا ہے۔اللہ رب العزت سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ فاضل مصنفہ اور فاضل مترجم نعیم احمد صاحب کو اس کار خیر پر اجرے عظیم سے نوازے۔آمین
-
پيغمبررحمت اللہ تعالی نےانسان کوعقل و شعور سے نوازا ہے۔عقل کو اگر شتر بے مہار کی طرح آزاد چھوڑ ديا جائے اوراسے خاص حدود وضوابط کا پابندنہ بنايا جا ئے تو وہ فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بنتی ہے۔اسی ليے نے بنی نوع انسان کی رہنمائی کے ليےانبياء ورسل کا سلسہ جاری فرمايا۔ہرعہداورہرعلاقےميں انبياٰءآتےاورفريضہ تبليغ ودعوت اداکرتےرہے تاآنکہ وحی ورسالت کا زريں سلسلہ نبی عربی محمدرسولﷺپرختم کرديا۔اب قيامت تک آنےوالےانسانوں کےليےآپ ہی اللہ کی طرف سے ہادی و رہنما ہيں۔آپ ہی کی بتلائ ہوئ تعليمات وہدايات انسانيت کی نجات اور ابدی سعادت وخوش بختی کا واحد ذريعہ ہيں۔ان سےاعراض وگريزکرتےہوۓ محض اپنی عقل پر انحصارکرکےانسانيت قعرمزلت ميں توگرسکتی ہےليکن امن وسکون،عافيت وراحت اورابدی نجات سے ہم کنارنہيں ہوسکتی
-
پُراَسرارحقائق تکلیف یادکھ سے دو چارانسان کی کبھی کبھی کوئی راستہ نہیں ملتا، کوئی علاج اس کی سمجھ میں نہیں آتا۔ مشورہ دینے والے اسے جادو، آسیب اورنظربد کا نام دیتے ہیں۔ پریشانی کے عالم میں وہ معاشرے میں ناسور کی طرح پھیلے ہوئے شعبدہ بازوں، بازی گروں اورنام نہادعاملوں کی چوکھٹ پہ اپنی مشکل کا حل ڈھونڈنے کے لیے جاپہنچتا ہے۔ جس کی جیب اجازت نہ دے، وہ بازار میں بکنے والےتعویذوں، مجربات اورپراسرارعلوم پرمبنی کتب میں اوٹ پٹانگ عملیات، مجرب نسخے اور نقیش آدمی کو سراسرگمراہی کی طرف لے جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کا ایمان بھی خطرے میں پڑجاتاہے۔ شایدہمیں یاد نہیں رہا کہ اسلام دین فطرت ہے۔ اس نے زندگی کے ہرمعاملے میں ہماری رہنمائی کی ہے۔ جنات اور جادو کے حوالے سے قرآن کریم اور احادیث مباکہ میں ہمارے لیے مکمل رہنمائی موجود ہے۔، بات صرف رجوع کرنے کی ہے۔ `پراسرارحقائق` قرآن و حدیث میں بتائے گئے طریق علاج پر مبنی ہے۔ بازاروں میں بکنے والی گمراہ کن کتب سے بچنے اور قرآن و حدیث کی روشنی میں صحیح علاج لے لیے یہ کتاب ازحدمفید ہے۔
-
`تقوتہ الایمان` کا موضوع توحید ہے، جو دین کی بنیاد ہے۔ اس موضوع پر بے شمار کتابیں اور رسالے لکھے جا چکے ہیں۔ شاہ اسمعیل شہید کا اندازِ بحث اور طرزِ استدلال سب سے نرالا اور سراسر مصلحانہ ہے۔ علمائے حق کی طرح اُنہوں نے صرف کتاب و سنت کو مدار بنایا۔ آیات و احادیث کے ذریعے وہ نہایت سادہ اور سلیس انداز میں انکی تشریح فرما دیتے ہیں اور توحید کے مخالف جتنی بھی غیر شرعی رسمیں معاشرے میں مروج تھیں، ان کی اصل حقیقت دل نشیں انداز میں آشکار کر دیتے ہیں۔ شاہ اسمعیل شہید نے عقیدہ و عمل کی اُن تمام خوفناک غلطیوں کو جو اسلام کی تعلیمِ توحید کے خلاف تھیں، مختلف عنوانات کے تحت جمع کردیا ہے، مثلاً شرک فی العلم، شرک فی التصرف، شرک فی العادت اور شرک فی العبادات۔ یوں تقویہ الایمان توحید کے موضوع پر ایک جامع اور یگانہ کتاب بن گئی۔ اگرچہ یہ کتاب نہایت اہم موضوع پر ہے لیکن شاہ اسمعیل شہید نے طریق استدلال ایسا اختیار کیا کہ معمولی پڑھا لکھا آدمی اور متجحر عالم دین بھی اس سے یکسان مستفید ہو سکتے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ -
انسان کی خصلت ہے کہ وہ نسیان سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کے تحت وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے۔ بہترین انسان وہ ہے جسے گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے ۔ اگر اس نے توبہ نہ کی تویہ غلطی اس کے خالق ومالک کو اس سے ناراض کردے گی۔ اس سےاپنے معبود ومالک کی ناراضگی کسی صورت بھی برداشت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ کریم کے دربار میں حاضر ہوکر گڑگڑاتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے کا پکا عزم کرتےہوئے توبہ کرتا ہے کہ اے مالک الملک اس مرتبہ معاف کردے آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔گناہ کے بعد ایسے احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ جب کہ اس جہاںمیں کئی ایسے بدنصیب سیاہ کار بھی ہیں جن کوزندگی بھر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا مالک ان سے ناراض ہوچکا ہے اور وہ ہیں کہ دن رات گناہ کرتے چلےجاتےہیں اور رات کوگہری نیند سوتے ہیں یا مزید گناہوں پر مبنی اعمال میں مصروف رہ کر گزار دیتے ہیں۔جبکہ اللہ کریم اس وقت پہلے آسمان پر آکر دنیا والوں کوآواز دیتا ہے کہ: اے دنیاوالو! ہےکوئی جو مجھ سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرے ... ہے کوئی توبہ کرنے والا میں اسے ا پنی رحمت سے بخش دوں. زیر تبصرہ کتاب ’’توبہ۔۔۔ فضائل و احکام اور سچے واقعات‘‘ پاکستان کے نامور دینی سکالر مولانا محمد خالد سیف﷾ کی تصنیف ہے ۔انہوں نے اس کتاب میں عام فہم شگفتہ اسلوب میں توبہ کے معانی ومفاہیم اجاگر کیے ہیں ۔ توبہ کی ضرورت اوراہمیت کا احساس دلایا ہے توبہ کی شرائط بتلائی ہیں۔ توبہ کے تمام احکام اور مسائل نہایت تفصیل سے بتائے ہیں۔ قرآن کریم اور احادیث نبویہ ﷺ کے حوالوں سےثابت کیا ہے کہ توبہ ہی دین کی اصل حقیقت ،انبیائے کرام کا وظیفۂ خاص اور فوز وفلاح کا ابدی سرچشمہ ہے مصنف موصوف نے حضرت آدم ،حضرت نوح، حضرت موسیٰ اور حضرت یونس کی توبہ کے واقعات کے علاوہ صحابۂ کرام کی توبہ کےاحوال نہایت اثر انگیز پیرائے میں بیان فرمائے ہیں ۔انہوں نے ہر صاحب ایمان کو ترغیب دی ہے کہ وہ توبہ استغفار کا خاص اہتمام اورالتزام کریں۔ اللہ رب العزت نہایت کریم اور رحیم ہے جو شخص گناہوں سےباز رہنےکا پکا ارادہ کرکے سچی توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے معاف فرمادیتا ہے ۔یہ کتاب اپنے موضوع پر منفرد اہمیت کی حامل ہے ہر مسلمان مرد اور عورت کو نہایت توجہ سے پڑھنی چاہیے ان شاء اللہ اس سے توبہ کی توفیق ملےگی دل کی دنیا بدلے گی ، قدم صراطِ مستقیم پر چل پڑیں گے۔ اوران تمام مصائب ومکروہات کا خاتمہ ہوجائے گا۔ جنہوں نے آج ہمیں اپنا ہدف بنا رکھا ہے -
ماضی قریب کے عظیم سیرت نگار مولانا صفی الرحمٰن مبارک پوری کی تصنیف لطیف ہے۔ آپ کو یہ سعادت حاصل ہے کہ آپ کی کتاب ’’الرحیق المختوم‘‘ کو رابطہ عالمِ اسلامی کے تحت منعقد ہونے والے بین الاقوامی انعامی مقابلہ سیرت نگاری میں اوّلیت کا شرف حاصل ہے۔ تجلیات نبوت، درأصل دینی مدارس، ہائی سکولوں کے طلبہ اور عامہ المسلمین کے استفادے کیلئے ایک متوسط بلکہ قدرےمختصر کتاب ہے۔ اس کتاب میں قابل مصنف کے اصولِ سیرت نگاری پر مرتب شرائط و ضوابط کو کما حقہ مدّ نظر رکھا ہے۔ سیرت کے تمام تر وقائع کو نئی ترتیب اور تازہ اسلوب کے ساتھ پیش کیا ہے اور واقعاتِ سیرت کی صحت میں مصنف نے مستند ماخذوں تک رسائی حاصل کیا ہے اور اس تلاش و جستجو کا یہ نتیجہ ہے کہ ان کے ہاں اصولِ دین سے متصادم کوئی واقعہ نہیں ملتا۔ قاضی محمد سلیمان منصور پوری(1867۔1930ء) سیشن جج ریاست پٹیالہ (مشرقی پنجاب) کی شخصیت محتاج تعارف نہیں۔زیرنظر کتاب ’’مہرنبوت ‘‘ قاضی مرحوم کی کتبِ سیرت میں سے ایک اہم کتاب جو اپنی افادیت او رجامعیت کے پیش نظر پاک وہند کے تعلیمی اداروں میں شامل نصاب ہے ۔’’مہر نبوت ‘‘ کہنے کو مختصرسی کتاب یعنی کتابچہ ہے ۔لیکن اس کوزے میں دریائے سیرت کوسمیٹ لیاگیا ہے ،یوں یہ سرورکائنات کی حیات طیبہ کا ایک بہترین گلدستہ ،ایجاز وجامعیت کا عمدہ نمونہ اور آنچہ بقامت کہتر،بہ قیمت بہتر ۔ کا صحیح مصداق ہے۔ دارالسلام نے ان دونوں کتابوں کو قاری کی آسانی کے لیے ملا کر شائع کیا ہے۔
-
خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی دعوتِ توحید نے ایک دوسرے کے دشمن عرب قبائل کو متحد کر کے ساری دنیا کا امام بنا دیا تھا۔ پھر صدیوں کی گردشوں کے بعد ایسا زوال آیاکہ مسلمان دنیا طلب اور راحت کو ش بن گئے۔ قران و سنت کی صراطِ مستقیم سے دور جا پڑے۔ تاریخ کے جبر کا شکار ہوگئے ۔ شرک و بدعت کی خندق میں گر گئے۔ ان کی ملی وحدت پارہ پارہ ہوگئی ارو وہ وحدہ لا شریک کی بجائے قبروں اور آستانوں کو پوجنے لگے۔ رحمت پروردگار پھر جوش میں آئی۔ باروہیں صدی ہجری میں سرزمین عرب ہی میں رسول اللہ ﷺ کا ایک ایسا فدائی پیدا ہوا جس نے اپنے ایمان و یقین ، سوز باطن اور عمل پیہم سے قبروں اور آستانوں پر جھکی ہوئی پیشانیوں کو اٹھایا اور توحید ربانی کا درس دے کر ان کی مردہ رگوں میں زندگی کی نئی روح پھونک دی۔ توحید کے اس فدائی، رسول اللہ ﷺ کے شیدائی اور دین قیم کے اس سپاہی کو دنیا امام محمد بن عبدالوہاب کے نام نامی سے جانتی ہے۔ یہ کتاب اسی جلیل القدر ہستی کے سوزِ باطن، فکر و نظر اور دعوت و تبلیغ کی سر گزشت ہے۔ امام موصوف کی دعوتِ توحید کو قبول عامہ نصیب ہوا تو سامراجی طاقتیں اور ان کے پٹھو علمائے سو چراغ پا ہوگئے اور انھوں نے اس دعوت حق کو بدنام کرنے کے لیے اسے `تحریکِ وہابیت` کہنا شروع کردیا۔ فاضل مصنف نے مستند تاریخی حوالوںاور محکم دلائل و براہین سے اس تہمت کا پول کھول دیا ہے اور یہ حقیقت اجا گر کردی ہے کہ امام محمد بن عبدالوہاب کی تحریک کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ امت مسلمہ شرک و بدعت سے کٹ کر اور ہر طرف سے ہٹ کر صرف قران و سنت کی طرف پلٹ آئے۔ یہ کتاب توجہ سے پڑھیے۔ آپ کو یوں محسوس ہوگا جیسے تاریخ آپ کے روبرو سانس لے رہی ہے۔ -
اخروی نجات ہر مسلمان کا مقصد زندگی ہے جو صرف اور صرف توحید خالص پرعمل پیرا ہونے سے پورا ہوسکتا ہے۔ جبکہ مشرکانہ عقائد واعمال انسان کو تباہی کی راہ پر ڈالتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم نے مشرکوں کے لیے وعید سنائی ہے ’’ اللہ تعالیٰ شرک کو ہرگز معاف نہیں کرے گا او اس کے سوا جسے چاہے معاف کردے گا۔‘‘ (النساء:48) لہذا شرک کی الائشوں سے بچنا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے ۔اس کے بغیر آخرت کی نجات ممکن ہی نہیں ۔ حضرت نوح نے ساڑے نوسوسال کلمۂ توحید کی طرف لوگوں کودعوت دی ۔ اور اللہ کے آخری رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نےبھی عقید ۂ توحید کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس فریضہ کو سر انجام دیا کہ جس کے بدلے آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علمائے اسلام نےبھی عوام الناس کوتوحید اور شرک کی حقیقت سےآشنا کرنے کےلیے دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔اس کتاب میں مصنف نے توحید وشرک کی حقیقت کو سادہ اور دل نشیں الفاظ میں بیان کردیا ہے ۔ اوراللہ تعالیٰ کے بارے میں مذاہب باطلہ کا تصور پیش کرنے کےبعد سفارش کی حقیقت بیان کی ہے او راس ضمن میں قرآنی حقائق سے استشہاد کیا ہے ۔ حضرت نوح ، اصحاب کہف اور عزیر کے قصوں اور قرآنی آیات سے خالص توحید کو اجاگر کیا ہے ۔ انہوں نے وسیلے کی حقیقت اوراسے اختیار کرنےکا طریقہ انبیائے کرام کی پاکیزہ سیرت کی پیروی میں دکھایا ہے ، نیز قرآن کریم کی روشنی میں معجزہ اور کرامات کی حقیقت کھول کر بیان کردی ہے ۔اسے کھلے دل ودماغ سے پڑھنے والا شرک اوراس کے تمام مظاہر سے بچ کر خلوص دل سے توحید الٰہی کوحرزِ جاں بنائے گا تو دنیا اورآخرت میں یقیناً فوز وفلاح کا مستحق ٹھرے گا ۔ زیر نظر ایڈیشن کتاب ’’ توحید او رہم ‘‘ کا نیو ایڈیشن ہے اسے دورنگوں میں قرآنی آیات کی خوبصورت کتابت کےساتھ شائع کیاگیا ہے ۔نیز تخریج اور تنقیح کا اہتمام کرنےک ساتھ ساتھ چند ایک ضعیف احادیث خارج کر کے ان کی بجائے صحیح احادیث درج کی گئی ہیں ۔اللہ تعالیٰ مصنف وناشرین کی کاوش کو قبول فرمائے۔ (آمین)
-
مکہ مکرمہ کو روزہ اول سے دینی و مذہبی اعتبار سے مرکزیت حاصل رہی ہے اس لحاظ سے یہ تمام دنیا کے انسانوں کے لیے بالعموم اور اہل اسلام کے لیے بالخصوص تاریخی کشش رکھتا ہے ۔اس لیے اس شہر مقدس کی تاریخ حیطہ تحریر میں لانا ازحد ضروری تھا ۔کیونکہ اس میں مسلمانوں کی قلبی تسکین کا سامان تھا۔عربی زبان میں تاریخ مکہ مکرمہ اور دعوت اللہ کے تعمیری مراحل کا بیان کتب تاریخ میں تو ہے ہی البتہ اردو دان طبقہ کے لیے مکہ مکرمہ کی قدیم و جدید تاریخ لکھنا وقت کی اہم ضرورت تھی۔اس عمدہ تاریخی موضوع کو مکتبہ دارالسلام نے بروقت تاڑ کر تاریخ مکہ مکرمہ کے نام سے کتاب مرتب کی جو ظاہری اور باطنی حسن سے آراستہ ہے ۔اس میں مکہ مکرمہ کی فضیلت و اہمیت ،مکہ کی ابتدائی آبادکاری بیت اللہ کی تعمیر ،تعمیر کعبہ کے مختلف ادوار میں تعمیری مراحل سمیت چاہ زم زم کی کھدائی ،آب زم زم کی روح زمین کے پانیوں سے فوقیت ،حج کے احکام ،حدود حرم کا بیان اور مکہ مکرمہ کے فلاحی اداروں کا بیان عمدہ اسلوب نگارش سے مرتب کیا گیا ہے ۔کتاب میں انتہائی مفید اور معلومات افزاء ہے جس کا مطالعہ قارئین کو ماضی و حال سے روشناس کراتا ہے اور قلوب و اذہان میں مکہ مکرمہ اور کعبۃ اللہ کے بارے میں جو خیالات و احساسات ہیں ان کی خوب روحانی سیرابی کرتا ہے ۔ -
انسانیت کو ہدایت کی روشنی دینےکےلیے اس دنیامیں بےشمار انبیاء آئےپہلے نبی ہونےکاشرف سیدنا آدم علیہ السلام کوحاصل ہے او رآخری نبی ہونےکااعزازمحمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے میں آیا۔انبیاء کی سیرت کامطالعہ کریں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہےکہ اللہ تعالی نےنبوت کی ذمہ داری کےلیے ایسے افراد کو چناجن کی زندگیاں ہر طرح کے عیب سے پاک تھیں۔سچائی ،پرہیزگاری اور نیکی ان کا وصف تھا۔نبئی مہرباں صلی اللہ علیہ وسلم خاتم المرسلین ہیں ۔آپ کےبعد کوئی نبی نہیں آئے گا یہ اللہ کافیصلہ ہے۔لیکن کچھ لوگ ذاتی مفادات کےلیے ،اپنی دوکانداری چمکانے کے لیے نبوت کے بند کیے ہوئے محل میں نقب لگانےسے باز نہ آئے ۔ان میں سےایک جھوٹا نبی انگریزوں کےہاتھ سے تراشا ہوا مرزا غلام احمد قادیانی ہے ۔اس جھوٹے نبی کی پرورش کس نے کی؟، اس خاردار پودے کی آبیاری کسے نےکی؟،اس کی جھوٹی شخصیت کو نبوت کا لباس کس نے پہنایا ؟،اس گھٹیا تحریرات اور خیالات کو الہام کیسے بنایا گیا ؟،یہ سب باتیں آپ کے سامنے’’تھالی کا بینگن ‘‘کی شکل میں پیش ہیں اس کتاب میں جعلی نبوت کے حقائق کو بڑے دلچسپ انداز میں بیان کیا گیاہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ مرزا کی اپنی ہی تحریروں کی مدد سے اس کی نبوت کے فتنے کو عیاں کیاگیاہے۔ -
موت وہ اٹل حقیقت ہے جو دنیوی زندگی کے عقائد و اعمال پر جزا و سزا کا نظام مرتب کرتی ہے۔ زندگی کی طرح موت بھی ایک امانت ہے جس میں غیر شرعی امور کو اختیار کر کے ہم اس میں خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ہر مرنے والا مسلمان اس بات کا شرعی حق رکھتاا ہے کہ اس کے پسماندگان اس کی تجہیز و تدفین کے عمل کو سنت کے مطابق ادا کریں۔ انسانی زندگی کا یہی وہ مرحلہ ہے جسے احکام شریعت ےسے بے خبر لوگ رسوم و رواجات اور شرک و بدعات کا مجموعہ بنا دیتے ہیں۔ اس مختصر کتاب میں بیما ر پرسی کے آداب، میت کے غسل کا طریقہ، تکفین کے احکام، جنازے کی نماز کا مسنون طریق اور قبروں کی زیارت کے شرعی اسلوب پر مستند حوالوں سے رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔ آج ملت اسلامیہ کا ایک بڑا حصہ ان تعلیمات سے بے خبر مرنے والوں کے غم میں سوگوار ہونے کے باوجود اس طریقہ کار سے بے خبر اور غافل ہے جو اس موقع کا شرعی تقاضا ہے۔ آئیے ہم اس معتبر کتاب کے مطالعہ سے اپنے بچھڑنے والوں کو شرعی آداب کے ساتھ رخصت کرسکیں۔
-
جادو اور جنات سے تعلق رکھنے والی بیماریوں کے علاج کےلیے کتاب وسنت کے بیان کردہ طریقوں سے ہٹ کر بے شمار لوگ شیطانی اور طلسماتی کرشموں کے ذریعے ایسے مریضوں کاعلاج کرتے نظر آتے ہیں جن کی اکثریت تو محض وہم وخیال کے زیر اثر خود کو مریض سمجھتی ہے ۔جادوکا موضوع ان اہم موضوعات میں سے ہے جن کا بحث وتحقیق اور تصنیف وتالیف کے ذریعے تعاقب کرنا علماء کےلیے ضروری ہے کیونکہ جادو عملی طور پر ہمارے معاشروں میں بھر پور انداز سے موجود ہے اور جادوگرچند روپوں کے بدلے دن رات فساد پھیلانے پر تلے ہوئے ہیں جنہیں وہ کمزور ایمان والے اور ان کینہ پرور لوگوں سے وصو ل کرتے ہیں جو اپنے مسلمان بھائیوں سے بغض رکھتے ہیں او رانہیں جادو کے عذاب میں مبتلا دیکھ کر خوشی محسوس کرتےہیں لہذا علماء کے لیے ضروری ہے کہ جادو کے خطرے او راس کے نقصانات کے متعلق لوگوں کوخبر دارکریں اور جادو کا شرعی طریقے سے علاج کریں تاکہ لوگ اس کے توڑ اور علاج کے لیے نام نہادجادوگروں عاملوں کی طرف رخ نہ کریں۔زیرنظر کتاب ’’جادو اورآسیب کا کامیاب علاج‘‘ مصر کے ایک نوجوان عالم ابو منذر خلیل بن ابراہیم امین کی تالیف ہے۔ جس میں انہوں نے ایک جدید انداز میں جناتی بیماریوں کے لیے کتاب وسنت سے علاج کے مختلف طریقے نقل کیے ہیں ۔او ر شیاطین جن وانس کی فتنہ سامانیوں سے آگاہ رہنے کے لیے شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائی ہے ۔تاکہ علمائے سو ،جاہل صوفیاء ،کاہن ،نجو می اور مال ودولت کےپجاری پریشانیوں ومصائب میں مبتلاء لوگوں کی دولت اور عزت پر ڈاکہ نہ ڈال سکیں۔او ر وہ ان تمام شیطانی کارندوں سے محفوظ رہ سکیں جنہوں نے اپنا جال اس کرۂ ارضی میں ہر طرف پھیلا رکھا ہے ۔ اللہ تعالی اس کتاب کو لوگوں کے لیے باعث نفع بنائے -
دین اسلام میں جادو کے حوالے سے جس قدر شدید وعید آئی ہے مسلم معاشرے میں اسی قدر شدو مد کے ساتھ یہ اپنے پنجے گاڑنے میں روبہ عمل ہے۔ بہت سے صحیح العقیدہ مسلمان جادوگروں اور شعبدہ بازوں کے ہاتھوں اپنی ایمانی دولت گنوانے میں لگے ہیں۔ یہ کتاب ہمیں بتائے گی کہ دین اسلام میں تمام ٹونوں ٹوٹکوں کا حل انتہائی آسان انداز میں دستیاب ہے ۔ کتاب میں جادوگروں کا تقرب حاصل کرنے کے لیے جادوگروں کے بعض وسائل، اور جادواور جنات کے وجود کو قرآن وسنت سے ثابت کرتے ہوئے جادو کی اقسام پر روشنی ڈالی گئی ہے۔اس کے علاوہ شریعت میں جادو کا حکم اور جادو کے اثر سے بچنے کے لیے چند احتیاطی تدابیر ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ نظر بد کی تاثیر اور علاج پر سیر حاصل اور علمی گفتگو کی گئی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اس کتاب کے مطالعے کے بعد ہر فرد اپنے عقیدہ وایمان کی حفاظت کرتے ہوئے جادو، نظر بد اور ان سے پیدا شدہ امراض کا علاج قرآن کریم اور ماثور دعاؤں کے ذریعے کر سکے گا۔
-
زندگی کی برف دم بدم پگھل رہی ہے۔ اجل ہر آن سر پر کھڑی ہے۔ مگر ہم اس اٹل حقیقت کو بھول کر دنیا کی فنا پذیر زندگی کے عشق میں گم ہیں۔ اللہ رب العزت اس دھوکے سے نکال کر ہمیں دوزخ سے بچانا اور جنت کے سدا بہار باغوں میں بھیجنا چاہتا ہے۔ اس غرض و غایت سے اللہ تعالیٰ نے زندگی کے ہر گوشے کے بارے میں واضح احکام دیے ہیں۔ بعض امور کی ترغیب دی ہے اور کچھ باتوں کی ممانعت فرمائی ہے۔ شرک سےبڑی سختی سے روکا ہے اور توحید کے تقاضوں پر ہر آن عمل کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔ جھوٹ، ظلم، سفاکی ، ناپاکی اور حق تلفی سے منع کیا ہے ۔ اور سخاوت، عدل اور انسانیت کی بھلائی کے کام کرنے کا حکم دیا ہے۔ زیرِ نظر کتاب انھی بیش قیمت باتوں کا دلکش مجموعہ ہے۔ نامور سعدی عالم شیخ عبداللہ بن جاراللہ نے قران کریم اور رسالت مآب ﷺ کی احادیث سے وہ تمام باتیں چن چن کر یک جا کردی ہیں جو دوزخ سے نجات اور جنت میں داخلے کی ضامن ہیں۔ دارالسلام یہ گرانمایہ کتاب ایمان کی مضبوطی اور حسن عمل کے فروغ کے لیے شائع کر رہا ہے۔ یہ کتاب جنت میں داخلے کی دستاویز ہے۔ اسے پڑھیے اور اپنی اخروی نجات کے لیے اس کی تعلیمات پر سچے دل سے عمل کیجیے ۔ -
زیر نظر کتاب جو حجم کے اعتبار سے مختصر ہے لیکن افادیت کے پہلو سے بڑی بڑی کتابوں پہ بھاری ہے اس میں عربی بول چال کے حوالے سے بہت ہی احسن انداز سے رہنمائی کی گئی ہے مختلف فنون اور پیشوں کے لیے عربی الفاظ مختلف عناوین کےتحت بیان کیے گئے ہیں جوعربی بول چال کی عملی مشق کےلیے معاون ہے۔ مختلف افراد کےمکالمے بھی اس میں دیئے گئے ہیں مثلاً اگر کوئی عرب ملک میں جانے اور راستہ پوچھنے کی ضرورت ہو ،یا ہوٹل میں گفتگو کرنی پڑے ،یا پاسپورٹ آفس میں بات چیت کی ضرورت پڑے تو کس طریقے سے گفتگو ہوگی اس کےنمونے کتاب میں موجود ہیں آخر میں ایک جامع اور مختصر جدید عربی اردو لغت بھی شامل کتاب ہے عربی بول چال کے شوقین طبقے کےلیے یہ کتاب بہت ہی مفید ہے -
`Jadeed Arabic Seekhien` is a very useful and unique book written in a different style making it highly distinguished. It teaches modern Arabic that is spoken in the markets, in the streets, in offices, at airports, in hospitals and at public places of Arab world these days. This book has conversations between people in different places. The conversations are written in Arabic along with their transliteration and translation. -
دین اسلام اصلاً کتاب و سنت کی تعلیمات و فرمودات ہی کا دوسرا نام ہے۔ دین حق کے خلاف فتنے اٹھانے والوں میں سے ایک گروہ نے حدیث کے حجت ہونے ہی کا انکار کر ڈالا۔ جبکہ علماء و ائمہ کرام کے نزدیک مسلّم ہے کہ حدیث کے دامن میں جو استناد اور اسماء الرجال کا عظیم الشان سلسلہ موجود ہے، اس کی مثال دنیا بھر کے مذہبی یا تاریخی لٹریچر میں مفقود ہے۔ حدیث وہی ہے اور اس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے اُٹھایا ہے۔ حدیث کے بغیر اکمال دین کا تصور محال ہے، لہٰذا رسول اللہ ﷺ کی سنت کو حجت تسلیم کرنا ایمان کا اولین تقاضا ہے۔ `حجیت حدیث` کا فاضل مصنف مولانا عبدالستار حماد نے انکار حدیث کا فتنہ بے نقاب کرنے میں جو عظیم الشان تحقیقی خدمت انجام دی ہے، وہ منکرین حدیث کی فتنہ انگیزی کے خلاف برہان قاطع کی حیثیت رکتھی ہے۔ اس مختصر اور انتہائی جامع تالیف کا مطالعہ دین حق کےطلبہ و اساتذہ دونوں کے لیے بے حد مفید ثابت ہوگا۔ -
Sale!
Hisn-ul-Muslim is brief and comprehensive collection of supplications that Muslims may recite on certain occasions/events. This best selling compilation by Darussalam Publishers has the following in it. • 267 prayers, supplications and invocations for different daily life occasions, events, and times. • Each prayer is written in Arabic script with Urdu translation. • Only texts of Dua with short references to the source. • Portable, easy to understand and memorize content. A compilation by Said bin Ali bin Wahaf Al-Qahtani, Hisn-ul-Muslim is an abridged version of his previous works. Here, he chose to mention only the text of Duas (to be recited/remembered) instead of the entire Hadith. The references list has also been shortened to one or two. In other words, this book provides required spiritual support to Muslim brothers and sisters in performing their daily activities. -
اسلام کی اشاعت کے لیےعلماء کاکردار بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ جنہوں نے اپنی تحریر و تقریر سے عامۃ الناس میں علمِ دین کو پھیلایا اور علم و عرفان کی قندیلیں ابھی تک جلا رے ہیں۔ علماء ہی انبیاء کے وارث ہیں کہ جنہوں نے نبوی مشن سنبھالتے ہوئے شریعت کےعلم کو دوسرےلوگوں تک پہنچانا ہوتاہے۔ شرعی مسائل اور اخلاقی شرعی رہنمائی کے لیے علماء کے قرآن و سنت اور آثار صحابہ سے اخذ کردہ مسائل عامۃ الناس کے لیے انہیں دین کے فہم میں آسانی فراہم کرتے ہیں۔ اور خطبات کے ذریعے عوام الناس کی دینی رہنمائی کرتے ہیں۔ علمائے کرام کے مجموعہ خطبات کےحوالے سے کئی مجموعات شائع ہوچکے ہیں۔ ان میں سے اسلامی خطبات از مولانا عبدالسلام بستوی ، خطباتِ محمدی از مولانا محمد جونا گڑھی ،خطبات ِنبوی از مولانا محمد داؤد راز، خطاب سلفیہ، خطبات آزاد، خطبا ت بہاولپور ی خطبات علامہ احسان الٰہی ظہیر، خطبات یزدانی، خطبا حرم، مواعظ طارق ،زاد الخطیب، اور فاضل نوجوان مولانا عبد المنان راسخ کے خطبات وغیرہ، قابلِ ذکر ہیں۔ اور عربی زبان میں خطباء واعظین حضرات کے لیے 12 ضخیم مجلدات پر مشتمل ’’نضرۃ النعیم ‘‘انتہائی عمدہ کتاب ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ خطبات حرم ‘‘امام کعبہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمن السدیس کے بیت اللہ میں دیے گئے خطبات جمعہ میں سے منتخب خطبات ’’ کوکبۃ الکوکبۃ‘‘کا اردو ترجمہ ہے۔ ان منتخب خطبات کو نہایت خوبصورت سلیس اردو میں پیش کرنےکا اعزاز دار السلام نے حاصل کیا ہے۔ تعمیر سیرت کےلیےان پُر تاثیر خطبات کا مطالعہ ہر فرد وبشر کی ضرورت، مردوں او رعورتوں کے لیے ذریعہ ہدایت اورواعظین واساتذہ کرام کے لیے گنجینہ افادیت ہے۔ -
بچہ پیدا ہوتے ہی اپنے اردگرد کے انسانوں کی عادات و اطوار، زبان، سوچ اور عمل اپنانا شروع کردیتا ہے۔ کردار و عمل کے جیسے نمونے اس کے سامنے ہوتے ہیں، اس کی شخصیت ان کے مطابق ڈھلتی چلی جاتی ہے۔ عمر بڑھتی ہے تو وہ کسی نہ کسی کو مثالی شخصیت (ہیرو) قرار دے کر اس کے سانچے میں ڈھل جانا چاہتا ہے۔ اسلام یہ کہتا ہے کہ اپنا ہیرو عام آدمی کو نہ بناؤ بلکہ خوبی اور جمال کی تصوریں دیکھو۔ عظیم ترین خوبی، کامرانی، حسنِ اعتقاد اور حسنِ عمل کا سب سے زیادہ خوبصورت پیکر امام الانبیاء حضرت محمد ﷺ ہیں۔ بس انھی کو اپنا رہبر مانو، انھی کو دیکھو، انھی کی سیرت کا مطالعہ کرو اور انھی جیسے پیارے پیارے کام کرو۔۔۔ یہ کتاب اللہ کے برگزیدہ پیغمبروں، خاص طور پر حضرت محمد ﷺ کے فکر و عمل کے درخشاں نقوش سے مزین ہے۔ آسان، شگفتہ اور شستہ۔ خودبھی اس کا مطالعہ کریں اور اپنی نئی نسل کو بھی اس کی ترغیب دیں۔ امید ہے حسنِ فکر و عمل کا گلشن کِھلے گا۔ نئی نسل پاکیزہ ترین راستوں کو اپنا کر اپنی اور آپ کی زندگیوں کو سکون اور اطمینان سے معمور کر دے گی۔ -
ہمیں اپنے روشن ماضی میں ہر لحظ نئی آن اور نئی شان کی جو جلوہ گری ملتی ہے اس کا ایک اہم ترین سبب یہ ہے کہ ہماری عظیم ماؤں کی گود میں حسن، حسین، عبداللہ بن عمر، اور عمر بن ابدالعزیز ،عقبہ بن نافع، طارق بن زیاد اور محمد بن قاسم جیسے بچے پرورش پاتے تھے۔ آج کے دور میں ہماری محترم مائیں بہنیں بھی عزت و عظمت کا وہی درجہ حاصل کر سکتی ہیں جو قرون اولیٰ کی جلیل القدر خواتین کو نصیب ہوا تھا۔ اس کا واحد طریقہ یہ ہے کہ جس طرح اُن عظیم خواتین نے اللہ اور رسول ﷺ کے ارشادات پر عمل کیا تھا اُسی طرح آج کی خواتین بھی عمل کرنے کی کوشش کریں۔ یہ رہ نمائے عمل کتاب رسول اللہ ﷺ کی ایک سو احادیث اور ان کی شاندار تشریحات پر مشتمل ہے۔ اس میں خواتین کی کامیابی کے تمام طریقے بہت آسان اور دلکش پیرائے میں بتا دیے گئے ہیں، اسے پڑھیے، اس پر عمل کیجیے، اور اپنے مستقبل کو درخشاں بنائیے۔
-
محسن انسانیت حضرت محمدﷺ نے خواتین پر عظیم احسان فرمایا۔ انھیں قعر مذلت سے نکال کر گھر کی ملکہ بنایا۔ ماں کی حیثیت سے عورت کو اتنی عظمت بخشی کہ اس کے قدموں تلے جنت کی بشارت دی۔ بہن کی دلجوئی اور قدر شناسی کا سبق دیا اور بیٹی کو شفقت و مرحمت کا مرجع بنا دیا۔ مسلمانوں کے زوال کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انھوں نے عورت کی عظیم اور اس کے حقوق کی پاسبانی کا وہ سبق بھلا دیا جس کی تعلیم اسلام نے التزام کے ساتھ دی ہے۔ یہ کتاب اسی سبق کی یاد دہانی کے لیے شائع کی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اسلامی معاشرے میں عورت کا کیا درجہ ہے۔ ایک مسلمان مرد کو کن اوصاف کی عورت سے شادی کرنی چاہیے۔ بیوی سے کتنی نرمی اور نوازش سے رہنا چاہیے۔ خدانخواستہ ناچاقی ہو جائے تو کیا کرنا چاہیے۔ نکاح، مہر، خلع، طلاق اور عدت کے احکام کیا ہیں۔ حلالہ کتنی گھناؤنی لعنت ہے۔ بیوائیں کیسے حسن سلوک کی مستحق ہیں اور خواتین کو وراثت میں کتنا حصہ ملنا چاہیے۔ فی الجملہ یہ کتاب ایک مسلمان خاتون کے حقوق و فرائض کی مکمل دستاویز ہے۔ معاشرے میں عصمت و طہارت کے تحفظ اور پاکیزگی کا نور پھیلانے کے لیے اسے خود بھی پڑھیے اور اپنے عزیز و اقارب کو بھی اس کے مطالعے کی دعوت دیجیے ۔
-
Sale!
This book briefly describes the sunnah way of Islamic medication and masnoon prayers for cure in the light of Quran and Hadith.