اسلام عفت و عصمت اور پاکیزگی قلب و نگاہ کا دین ہے۔ اسلام زمانہ جاہلیت کی غیر انسانی طفل کشی کی رسم کی پرزور مذمت کرتا ہے۔ اسلام ہی دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے عورتوں کو ان کے اصل مقام و مرتبے سے ہمکنار کیا۔ اس کی عزت و آبرو کے لیے جامع قوانین متعین کیے، عورت کو وراثت میں حقدار ٹھہرایا، اس کے عائلی نظام کو مضبوط کیا۔ اسلام سے پہلے دنیا نے جس قدر ترقی کی تھی، صرف ایک صنف واحد(مرد) کی اخلاقی اور دماغی قوتوں کا کرشمہ تھی۔ مصر، بابل، ایران، یونان اور ہندوستان مختلف تہذیب و تمدن کے چمن آراء تھے لیکن اس میں صنف نازک(عورت) کی آبیاری کا کچھ دخل نہ تھا۔ عورت کو دنیا میں جس نگاہ سے دیکھا جاتا ہے وہ ہر ممالک میں مختلف رہی ہے، مشرق میں عورت مرد کے دامن تقدس کا داغ ہے، اہل یونان اس کو شیطان کہتے ہیں، تورات اس کو لعنت ابدی کا مستحق قرار دیتی ہے، کلیسا اس کو باغ انسانیت کا کانٹا تصور کرتا ہے لیکن اسلام کا نقطہ نظر ان سب سے جدا گانہ ہے۔ اسلام میں عورت نسیم اخلاق کی نکہت اور چہرہ انسانیت کا غازہ سمجھی جاتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’بہنوں کے لیے تحفہ‘‘محترمہ امل بنت عبداللہ کی تصنیف کرداہے اور اس کا عربی نام ’’ھدیتی الیک ‘‘ہے اور اس کا اردو ترجمہ نعیم احمد بلوچ نے کیا ہے جس میں انہوں نے ایک عورت کی معاشرتی اور گھریلو ذمہ داریوں کو بیان کیا ہے۔اللہ رب العزت سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ فاضل مصنفہ اور فاضل مترجم نعیم احمد صاحب کو اس کار خیر پر اجرے عظیم سے نوازے۔آمین
-
پيغمبررحمت اللہ تعالی نےانسان کوعقل و شعور سے نوازا ہے۔عقل کو اگر شتر بے مہار کی طرح آزاد چھوڑ ديا جائے اوراسے خاص حدود وضوابط کا پابندنہ بنايا جا ئے تو وہ فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بنتی ہے۔اسی ليے نے بنی نوع انسان کی رہنمائی کے ليےانبياء ورسل کا سلسہ جاری فرمايا۔ہرعہداورہرعلاقےميں انبياٰءآتےاورفريضہ تبليغ ودعوت اداکرتےرہے تاآنکہ وحی ورسالت کا زريں سلسلہ نبی عربی محمدرسولﷺپرختم کرديا۔اب قيامت تک آنےوالےانسانوں کےليےآپ ہی اللہ کی طرف سے ہادی و رہنما ہيں۔آپ ہی کی بتلائ ہوئ تعليمات وہدايات انسانيت کی نجات اور ابدی سعادت وخوش بختی کا واحد ذريعہ ہيں۔ان سےاعراض وگريزکرتےہوۓ محض اپنی عقل پر انحصارکرکےانسانيت قعرمزلت ميں توگرسکتی ہےليکن امن وسکون،عافيت وراحت اورابدی نجات سے ہم کنارنہيں ہوسکتی
-
پُراَسرارحقائق تکلیف یادکھ سے دو چارانسان کی کبھی کبھی کوئی راستہ نہیں ملتا، کوئی علاج اس کی سمجھ میں نہیں آتا۔ مشورہ دینے والے اسے جادو، آسیب اورنظربد کا نام دیتے ہیں۔ پریشانی کے عالم میں وہ معاشرے میں ناسور کی طرح پھیلے ہوئے شعبدہ بازوں، بازی گروں اورنام نہادعاملوں کی چوکھٹ پہ اپنی مشکل کا حل ڈھونڈنے کے لیے جاپہنچتا ہے۔ جس کی جیب اجازت نہ دے، وہ بازار میں بکنے والےتعویذوں، مجربات اورپراسرارعلوم پرمبنی کتب میں اوٹ پٹانگ عملیات، مجرب نسخے اور نقیش آدمی کو سراسرگمراہی کی طرف لے جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کا ایمان بھی خطرے میں پڑجاتاہے۔ شایدہمیں یاد نہیں رہا کہ اسلام دین فطرت ہے۔ اس نے زندگی کے ہرمعاملے میں ہماری رہنمائی کی ہے۔ جنات اور جادو کے حوالے سے قرآن کریم اور احادیث مباکہ میں ہمارے لیے مکمل رہنمائی موجود ہے۔، بات صرف رجوع کرنے کی ہے۔ `پراسرارحقائق` قرآن و حدیث میں بتائے گئے طریق علاج پر مبنی ہے۔ بازاروں میں بکنے والی گمراہ کن کتب سے بچنے اور قرآن و حدیث کی روشنی میں صحیح علاج لے لیے یہ کتاب ازحدمفید ہے۔
-
`تقوتہ الایمان` کا موضوع توحید ہے، جو دین کی بنیاد ہے۔ اس موضوع پر بے شمار کتابیں اور رسالے لکھے جا چکے ہیں۔ شاہ اسمعیل شہید کا اندازِ بحث اور طرزِ استدلال سب سے نرالا اور سراسر مصلحانہ ہے۔ علمائے حق کی طرح اُنہوں نے صرف کتاب و سنت کو مدار بنایا۔ آیات و احادیث کے ذریعے وہ نہایت سادہ اور سلیس انداز میں انکی تشریح فرما دیتے ہیں اور توحید کے مخالف جتنی بھی غیر شرعی رسمیں معاشرے میں مروج تھیں، ان کی اصل حقیقت دل نشیں انداز میں آشکار کر دیتے ہیں۔ شاہ اسمعیل شہید نے عقیدہ و عمل کی اُن تمام خوفناک غلطیوں کو جو اسلام کی تعلیمِ توحید کے خلاف تھیں، مختلف عنوانات کے تحت جمع کردیا ہے، مثلاً شرک فی العلم، شرک فی التصرف، شرک فی العادت اور شرک فی العبادات۔ یوں تقویہ الایمان توحید کے موضوع پر ایک جامع اور یگانہ کتاب بن گئی۔ اگرچہ یہ کتاب نہایت اہم موضوع پر ہے لیکن شاہ اسمعیل شہید نے طریق استدلال ایسا اختیار کیا کہ معمولی پڑھا لکھا آدمی اور متجحر عالم دین بھی اس سے یکسان مستفید ہو سکتے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ -
قران کریم اللہ تعالیٰ کا پیغام ہے جو اللہ نے اپنے آخری رسول حضرت محمد ﷺ پر نازل فرمایا ۔ اللہ کے رسول نے اس کلام کو انسانیت کے لیے اپنی سنت اور احادیث کے ذریعے سیکھایا ۔ قران پاک اللہ کا کلام ہے لہٰذہ اسے اُسی انداز سے پڑھنا چاہیے جیسے اِسکا پڑھنے کے حق ہے۔ اسی سلسلے میں دارالسلام نے قران کریم کے 30 پارے کو تجویدی اصولوں کے ساتھ شائع کیا ہے ۔ اسکو پڑھیے، تجوید سیکھیے اور تلاوت کا ثواب حاصل کیجیے۔
-
انسان کی خصلت ہے کہ وہ نسیان سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کے تحت وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے۔ بہترین انسان وہ ہے جسے گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے ۔ اگر اس نے توبہ نہ کی تویہ غلطی اس کے خالق ومالک کو اس سے ناراض کردے گی۔ اس سےاپنے معبود ومالک کی ناراضگی کسی صورت بھی برداشت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ کریم کے دربار میں حاضر ہوکر گڑگڑاتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے کا پکا عزم کرتےہوئے توبہ کرتا ہے کہ اے مالک الملک اس مرتبہ معاف کردے آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔گناہ کے بعد ایسے احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ جب کہ اس جہاںمیں کئی ایسے بدنصیب سیاہ کار بھی ہیں جن کوزندگی بھر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا مالک ان سے ناراض ہوچکا ہے اور وہ ہیں کہ دن رات گناہ کرتے چلےجاتےہیں اور رات کوگہری نیند سوتے ہیں یا مزید گناہوں پر مبنی اعمال میں مصروف رہ کر گزار دیتے ہیں۔جبکہ اللہ کریم اس وقت پہلے آسمان پر آکر دنیا والوں کوآواز دیتا ہے کہ: اے دنیاوالو! ہےکوئی جو مجھ سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرے ... ہے کوئی توبہ کرنے والا میں اسے ا پنی رحمت سے بخش دوں. زیر تبصرہ کتاب ’’توبہ۔۔۔ فضائل و احکام اور سچے واقعات‘‘ پاکستان کے نامور دینی سکالر مولانا محمد خالد سیف﷾ کی تصنیف ہے ۔انہوں نے اس کتاب میں عام فہم شگفتہ اسلوب میں توبہ کے معانی ومفاہیم اجاگر کیے ہیں ۔ توبہ کی ضرورت اوراہمیت کا احساس دلایا ہے توبہ کی شرائط بتلائی ہیں۔ توبہ کے تمام احکام اور مسائل نہایت تفصیل سے بتائے ہیں۔ قرآن کریم اور احادیث نبویہ ﷺ کے حوالوں سےثابت کیا ہے کہ توبہ ہی دین کی اصل حقیقت ،انبیائے کرام کا وظیفۂ خاص اور فوز وفلاح کا ابدی سرچشمہ ہے مصنف موصوف نے حضرت آدم ،حضرت نوح، حضرت موسیٰ اور حضرت یونس کی توبہ کے واقعات کے علاوہ صحابۂ کرام کی توبہ کےاحوال نہایت اثر انگیز پیرائے میں بیان فرمائے ہیں ۔انہوں نے ہر صاحب ایمان کو ترغیب دی ہے کہ وہ توبہ استغفار کا خاص اہتمام اورالتزام کریں۔ اللہ رب العزت نہایت کریم اور رحیم ہے جو شخص گناہوں سےباز رہنےکا پکا ارادہ کرکے سچی توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے معاف فرمادیتا ہے ۔یہ کتاب اپنے موضوع پر منفرد اہمیت کی حامل ہے ہر مسلمان مرد اور عورت کو نہایت توجہ سے پڑھنی چاہیے ان شاء اللہ اس سے توبہ کی توفیق ملےگی دل کی دنیا بدلے گی ، قدم صراطِ مستقیم پر چل پڑیں گے۔ اوران تمام مصائب ومکروہات کا خاتمہ ہوجائے گا۔ جنہوں نے آج ہمیں اپنا ہدف بنا رکھا ہے -
ماضی قریب کے عظیم سیرت نگار مولانا صفی الرحمٰن مبارک پوری کی تصنیف لطیف ہے۔ آپ کو یہ سعادت حاصل ہے کہ آپ کی کتاب ’’الرحیق المختوم‘‘ کو رابطہ عالمِ اسلامی کے تحت منعقد ہونے والے بین الاقوامی انعامی مقابلہ سیرت نگاری میں اوّلیت کا شرف حاصل ہے۔ تجلیات نبوت، درأصل دینی مدارس، ہائی سکولوں کے طلبہ اور عامہ المسلمین کے استفادے کیلئے ایک متوسط بلکہ قدرےمختصر کتاب ہے۔ اس کتاب میں قابل مصنف کے اصولِ سیرت نگاری پر مرتب شرائط و ضوابط کو کما حقہ مدّ نظر رکھا ہے۔ سیرت کے تمام تر وقائع کو نئی ترتیب اور تازہ اسلوب کے ساتھ پیش کیا ہے اور واقعاتِ سیرت کی صحت میں مصنف نے مستند ماخذوں تک رسائی حاصل کیا ہے اور اس تلاش و جستجو کا یہ نتیجہ ہے کہ ان کے ہاں اصولِ دین سے متصادم کوئی واقعہ نہیں ملتا۔ قاضی محمد سلیمان منصور پوری(1867۔1930ء) سیشن جج ریاست پٹیالہ (مشرقی پنجاب) کی شخصیت محتاج تعارف نہیں۔زیرنظر کتاب ’’مہرنبوت ‘‘ قاضی مرحوم کی کتبِ سیرت میں سے ایک اہم کتاب جو اپنی افادیت او رجامعیت کے پیش نظر پاک وہند کے تعلیمی اداروں میں شامل نصاب ہے ۔’’مہر نبوت ‘‘ کہنے کو مختصرسی کتاب یعنی کتابچہ ہے ۔لیکن اس کوزے میں دریائے سیرت کوسمیٹ لیاگیا ہے ،یوں یہ سرورکائنات کی حیات طیبہ کا ایک بہترین گلدستہ ،ایجاز وجامعیت کا عمدہ نمونہ اور آنچہ بقامت کہتر،بہ قیمت بہتر ۔ کا صحیح مصداق ہے۔ دارالسلام نے ان دونوں کتابوں کو قاری کی آسانی کے لیے ملا کر شائع کیا ہے۔
-
خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی دعوتِ توحید نے ایک دوسرے کے دشمن عرب قبائل کو متحد کر کے ساری دنیا کا امام بنا دیا تھا۔ پھر صدیوں کی گردشوں کے بعد ایسا زوال آیاکہ مسلمان دنیا طلب اور راحت کو ش بن گئے۔ قران و سنت کی صراطِ مستقیم سے دور جا پڑے۔ تاریخ کے جبر کا شکار ہوگئے ۔ شرک و بدعت کی خندق میں گر گئے۔ ان کی ملی وحدت پارہ پارہ ہوگئی ارو وہ وحدہ لا شریک کی بجائے قبروں اور آستانوں کو پوجنے لگے۔ رحمت پروردگار پھر جوش میں آئی۔ باروہیں صدی ہجری میں سرزمین عرب ہی میں رسول اللہ ﷺ کا ایک ایسا فدائی پیدا ہوا جس نے اپنے ایمان و یقین ، سوز باطن اور عمل پیہم سے قبروں اور آستانوں پر جھکی ہوئی پیشانیوں کو اٹھایا اور توحید ربانی کا درس دے کر ان کی مردہ رگوں میں زندگی کی نئی روح پھونک دی۔ توحید کے اس فدائی، رسول اللہ ﷺ کے شیدائی اور دین قیم کے اس سپاہی کو دنیا امام محمد بن عبدالوہاب کے نام نامی سے جانتی ہے۔ یہ کتاب اسی جلیل القدر ہستی کے سوزِ باطن، فکر و نظر اور دعوت و تبلیغ کی سر گزشت ہے۔ امام موصوف کی دعوتِ توحید کو قبول عامہ نصیب ہوا تو سامراجی طاقتیں اور ان کے پٹھو علمائے سو چراغ پا ہوگئے اور انھوں نے اس دعوت حق کو بدنام کرنے کے لیے اسے `تحریکِ وہابیت` کہنا شروع کردیا۔ فاضل مصنف نے مستند تاریخی حوالوںاور محکم دلائل و براہین سے اس تہمت کا پول کھول دیا ہے اور یہ حقیقت اجا گر کردی ہے کہ امام محمد بن عبدالوہاب کی تحریک کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ امت مسلمہ شرک و بدعت سے کٹ کر اور ہر طرف سے ہٹ کر صرف قران و سنت کی طرف پلٹ آئے۔ یہ کتاب توجہ سے پڑھیے۔ آپ کو یوں محسوس ہوگا جیسے تاریخ آپ کے روبرو سانس لے رہی ہے۔ -
اخروی نجات ہر مسلمان کا مقصد زندگی ہے جو صرف اور صرف توحید خالص پرعمل پیرا ہونے سے پورا ہوسکتا ہے۔ جبکہ مشرکانہ عقائد واعمال انسان کو تباہی کی راہ پر ڈالتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم نے مشرکوں کے لیے وعید سنائی ہے ’’ اللہ تعالیٰ شرک کو ہرگز معاف نہیں کرے گا او اس کے سوا جسے چاہے معاف کردے گا۔‘‘ (النساء:48) لہذا شرک کی الائشوں سے بچنا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے ۔اس کے بغیر آخرت کی نجات ممکن ہی نہیں ۔ حضرت نوح نے ساڑے نوسوسال کلمۂ توحید کی طرف لوگوں کودعوت دی ۔ اور اللہ کے آخری رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نےبھی عقید ۂ توحید کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس فریضہ کو سر انجام دیا کہ جس کے بدلے آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علمائے اسلام نےبھی عوام الناس کوتوحید اور شرک کی حقیقت سےآشنا کرنے کےلیے دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔اس کتاب میں مصنف نے توحید وشرک کی حقیقت کو سادہ اور دل نشیں الفاظ میں بیان کردیا ہے ۔ اوراللہ تعالیٰ کے بارے میں مذاہب باطلہ کا تصور پیش کرنے کےبعد سفارش کی حقیقت بیان کی ہے او راس ضمن میں قرآنی حقائق سے استشہاد کیا ہے ۔ حضرت نوح ، اصحاب کہف اور عزیر کے قصوں اور قرآنی آیات سے خالص توحید کو اجاگر کیا ہے ۔ انہوں نے وسیلے کی حقیقت اوراسے اختیار کرنےکا طریقہ انبیائے کرام کی پاکیزہ سیرت کی پیروی میں دکھایا ہے ، نیز قرآن کریم کی روشنی میں معجزہ اور کرامات کی حقیقت کھول کر بیان کردی ہے ۔اسے کھلے دل ودماغ سے پڑھنے والا شرک اوراس کے تمام مظاہر سے بچ کر خلوص دل سے توحید الٰہی کوحرزِ جاں بنائے گا تو دنیا اورآخرت میں یقیناً فوز وفلاح کا مستحق ٹھرے گا ۔ زیر نظر ایڈیشن کتاب ’’ توحید او رہم ‘‘ کا نیو ایڈیشن ہے اسے دورنگوں میں قرآنی آیات کی خوبصورت کتابت کےساتھ شائع کیاگیا ہے ۔نیز تخریج اور تنقیح کا اہتمام کرنےک ساتھ ساتھ چند ایک ضعیف احادیث خارج کر کے ان کی بجائے صحیح احادیث درج کی گئی ہیں ۔اللہ تعالیٰ مصنف وناشرین کی کاوش کو قبول فرمائے۔ (آمین)
-
مکہ مکرمہ کو روزہ اول سے دینی و مذہبی اعتبار سے مرکزیت حاصل رہی ہے اس لحاظ سے یہ تمام دنیا کے انسانوں کے لیے بالعموم اور اہل اسلام کے لیے بالخصوص تاریخی کشش رکھتا ہے ۔اس لیے اس شہر مقدس کی تاریخ حیطہ تحریر میں لانا ازحد ضروری تھا ۔کیونکہ اس میں مسلمانوں کی قلبی تسکین کا سامان تھا۔عربی زبان میں تاریخ مکہ مکرمہ اور دعوت اللہ کے تعمیری مراحل کا بیان کتب تاریخ میں تو ہے ہی البتہ اردو دان طبقہ کے لیے مکہ مکرمہ کی قدیم و جدید تاریخ لکھنا وقت کی اہم ضرورت تھی۔اس عمدہ تاریخی موضوع کو مکتبہ دارالسلام نے بروقت تاڑ کر تاریخ مکہ مکرمہ کے نام سے کتاب مرتب کی جو ظاہری اور باطنی حسن سے آراستہ ہے ۔اس میں مکہ مکرمہ کی فضیلت و اہمیت ،مکہ کی ابتدائی آبادکاری بیت اللہ کی تعمیر ،تعمیر کعبہ کے مختلف ادوار میں تعمیری مراحل سمیت چاہ زم زم کی کھدائی ،آب زم زم کی روح زمین کے پانیوں سے فوقیت ،حج کے احکام ،حدود حرم کا بیان اور مکہ مکرمہ کے فلاحی اداروں کا بیان عمدہ اسلوب نگارش سے مرتب کیا گیا ہے ۔کتاب میں انتہائی مفید اور معلومات افزاء ہے جس کا مطالعہ قارئین کو ماضی و حال سے روشناس کراتا ہے اور قلوب و اذہان میں مکہ مکرمہ اور کعبۃ اللہ کے بارے میں جو خیالات و احساسات ہیں ان کی خوب روحانی سیرابی کرتا ہے ۔ -
انسانیت کو ہدایت کی روشنی دینےکےلیے اس دنیامیں بےشمار انبیاء آئےپہلے نبی ہونےکاشرف سیدنا آدم علیہ السلام کوحاصل ہے او رآخری نبی ہونےکااعزازمحمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے میں آیا۔انبیاء کی سیرت کامطالعہ کریں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہےکہ اللہ تعالی نےنبوت کی ذمہ داری کےلیے ایسے افراد کو چناجن کی زندگیاں ہر طرح کے عیب سے پاک تھیں۔سچائی ،پرہیزگاری اور نیکی ان کا وصف تھا۔نبئی مہرباں صلی اللہ علیہ وسلم خاتم المرسلین ہیں ۔آپ کےبعد کوئی نبی نہیں آئے گا یہ اللہ کافیصلہ ہے۔لیکن کچھ لوگ ذاتی مفادات کےلیے ،اپنی دوکانداری چمکانے کے لیے نبوت کے بند کیے ہوئے محل میں نقب لگانےسے باز نہ آئے ۔ان میں سےایک جھوٹا نبی انگریزوں کےہاتھ سے تراشا ہوا مرزا غلام احمد قادیانی ہے ۔اس جھوٹے نبی کی پرورش کس نے کی؟، اس خاردار پودے کی آبیاری کسے نےکی؟،اس کی جھوٹی شخصیت کو نبوت کا لباس کس نے پہنایا ؟،اس گھٹیا تحریرات اور خیالات کو الہام کیسے بنایا گیا ؟،یہ سب باتیں آپ کے سامنے’’تھالی کا بینگن ‘‘کی شکل میں پیش ہیں اس کتاب میں جعلی نبوت کے حقائق کو بڑے دلچسپ انداز میں بیان کیا گیاہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ مرزا کی اپنی ہی تحریروں کی مدد سے اس کی نبوت کے فتنے کو عیاں کیاگیاہے۔ -
موت وہ اٹل حقیقت ہے جو دنیوی زندگی کے عقائد و اعمال پر جزا و سزا کا نظام مرتب کرتی ہے۔ زندگی کی طرح موت بھی ایک امانت ہے جس میں غیر شرعی امور کو اختیار کر کے ہم اس میں خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ہر مرنے والا مسلمان اس بات کا شرعی حق رکھتاا ہے کہ اس کے پسماندگان اس کی تجہیز و تدفین کے عمل کو سنت کے مطابق ادا کریں۔ انسانی زندگی کا یہی وہ مرحلہ ہے جسے احکام شریعت ےسے بے خبر لوگ رسوم و رواجات اور شرک و بدعات کا مجموعہ بنا دیتے ہیں۔ اس مختصر کتاب میں بیما ر پرسی کے آداب، میت کے غسل کا طریقہ، تکفین کے احکام، جنازے کی نماز کا مسنون طریق اور قبروں کی زیارت کے شرعی اسلوب پر مستند حوالوں سے رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔ آج ملت اسلامیہ کا ایک بڑا حصہ ان تعلیمات سے بے خبر مرنے والوں کے غم میں سوگوار ہونے کے باوجود اس طریقہ کار سے بے خبر اور غافل ہے جو اس موقع کا شرعی تقاضا ہے۔ آئیے ہم اس معتبر کتاب کے مطالعہ سے اپنے بچھڑنے والوں کو شرعی آداب کے ساتھ رخصت کرسکیں۔
-
جادو اور جنات سے تعلق رکھنے والی بیماریوں کے علاج کےلیے کتاب وسنت کے بیان کردہ طریقوں سے ہٹ کر بے شمار لوگ شیطانی اور طلسماتی کرشموں کے ذریعے ایسے مریضوں کاعلاج کرتے نظر آتے ہیں جن کی اکثریت تو محض وہم وخیال کے زیر اثر خود کو مریض سمجھتی ہے ۔جادوکا موضوع ان اہم موضوعات میں سے ہے جن کا بحث وتحقیق اور تصنیف وتالیف کے ذریعے تعاقب کرنا علماء کےلیے ضروری ہے کیونکہ جادو عملی طور پر ہمارے معاشروں میں بھر پور انداز سے موجود ہے اور جادوگرچند روپوں کے بدلے دن رات فساد پھیلانے پر تلے ہوئے ہیں جنہیں وہ کمزور ایمان والے اور ان کینہ پرور لوگوں سے وصو ل کرتے ہیں جو اپنے مسلمان بھائیوں سے بغض رکھتے ہیں او رانہیں جادو کے عذاب میں مبتلا دیکھ کر خوشی محسوس کرتےہیں لہذا علماء کے لیے ضروری ہے کہ جادو کے خطرے او راس کے نقصانات کے متعلق لوگوں کوخبر دارکریں اور جادو کا شرعی طریقے سے علاج کریں تاکہ لوگ اس کے توڑ اور علاج کے لیے نام نہادجادوگروں عاملوں کی طرف رخ نہ کریں۔زیرنظر کتاب ’’جادو اورآسیب کا کامیاب علاج‘‘ مصر کے ایک نوجوان عالم ابو منذر خلیل بن ابراہیم امین کی تالیف ہے۔ جس میں انہوں نے ایک جدید انداز میں جناتی بیماریوں کے لیے کتاب وسنت سے علاج کے مختلف طریقے نقل کیے ہیں ۔او ر شیاطین جن وانس کی فتنہ سامانیوں سے آگاہ رہنے کے لیے شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائی ہے ۔تاکہ علمائے سو ،جاہل صوفیاء ،کاہن ،نجو می اور مال ودولت کےپجاری پریشانیوں ومصائب میں مبتلاء لوگوں کی دولت اور عزت پر ڈاکہ نہ ڈال سکیں۔او ر وہ ان تمام شیطانی کارندوں سے محفوظ رہ سکیں جنہوں نے اپنا جال اس کرۂ ارضی میں ہر طرف پھیلا رکھا ہے ۔ اللہ تعالی اس کتاب کو لوگوں کے لیے باعث نفع بنائے -
دین اسلام میں جادو کے حوالے سے جس قدر شدید وعید آئی ہے مسلم معاشرے میں اسی قدر شدو مد کے ساتھ یہ اپنے پنجے گاڑنے میں روبہ عمل ہے۔ بہت سے صحیح العقیدہ مسلمان جادوگروں اور شعبدہ بازوں کے ہاتھوں اپنی ایمانی دولت گنوانے میں لگے ہیں۔ یہ کتاب ہمیں بتائے گی کہ دین اسلام میں تمام ٹونوں ٹوٹکوں کا حل انتہائی آسان انداز میں دستیاب ہے ۔ کتاب میں جادوگروں کا تقرب حاصل کرنے کے لیے جادوگروں کے بعض وسائل، اور جادواور جنات کے وجود کو قرآن وسنت سے ثابت کرتے ہوئے جادو کی اقسام پر روشنی ڈالی گئی ہے۔اس کے علاوہ شریعت میں جادو کا حکم اور جادو کے اثر سے بچنے کے لیے چند احتیاطی تدابیر ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ نظر بد کی تاثیر اور علاج پر سیر حاصل اور علمی گفتگو کی گئی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اس کتاب کے مطالعے کے بعد ہر فرد اپنے عقیدہ وایمان کی حفاظت کرتے ہوئے جادو، نظر بد اور ان سے پیدا شدہ امراض کا علاج قرآن کریم اور ماثور دعاؤں کے ذریعے کر سکے گا۔
-
زندگی کی برف دم بدم پگھل رہی ہے۔ اجل ہر آن سر پر کھڑی ہے۔ مگر ہم اس اٹل حقیقت کو بھول کر دنیا کی فنا پذیر زندگی کے عشق میں گم ہیں۔ اللہ رب العزت اس دھوکے سے نکال کر ہمیں دوزخ سے بچانا اور جنت کے سدا بہار باغوں میں بھیجنا چاہتا ہے۔ اس غرض و غایت سے اللہ تعالیٰ نے زندگی کے ہر گوشے کے بارے میں واضح احکام دیے ہیں۔ بعض امور کی ترغیب دی ہے اور کچھ باتوں کی ممانعت فرمائی ہے۔ شرک سےبڑی سختی سے روکا ہے اور توحید کے تقاضوں پر ہر آن عمل کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔ جھوٹ، ظلم، سفاکی ، ناپاکی اور حق تلفی سے منع کیا ہے ۔ اور سخاوت، عدل اور انسانیت کی بھلائی کے کام کرنے کا حکم دیا ہے۔ زیرِ نظر کتاب انھی بیش قیمت باتوں کا دلکش مجموعہ ہے۔ نامور سعدی عالم شیخ عبداللہ بن جاراللہ نے قران کریم اور رسالت مآب ﷺ کی احادیث سے وہ تمام باتیں چن چن کر یک جا کردی ہیں جو دوزخ سے نجات اور جنت میں داخلے کی ضامن ہیں۔ دارالسلام یہ گرانمایہ کتاب ایمان کی مضبوطی اور حسن عمل کے فروغ کے لیے شائع کر رہا ہے۔ یہ کتاب جنت میں داخلے کی دستاویز ہے۔ اسے پڑھیے اور اپنی اخروی نجات کے لیے اس کی تعلیمات پر سچے دل سے عمل کیجیے ۔ -
زیر نظر کتاب جو حجم کے اعتبار سے مختصر ہے لیکن افادیت کے پہلو سے بڑی بڑی کتابوں پہ بھاری ہے اس میں عربی بول چال کے حوالے سے بہت ہی احسن انداز سے رہنمائی کی گئی ہے مختلف فنون اور پیشوں کے لیے عربی الفاظ مختلف عناوین کےتحت بیان کیے گئے ہیں جوعربی بول چال کی عملی مشق کےلیے معاون ہے۔ مختلف افراد کےمکالمے بھی اس میں دیئے گئے ہیں مثلاً اگر کوئی عرب ملک میں جانے اور راستہ پوچھنے کی ضرورت ہو ،یا ہوٹل میں گفتگو کرنی پڑے ،یا پاسپورٹ آفس میں بات چیت کی ضرورت پڑے تو کس طریقے سے گفتگو ہوگی اس کےنمونے کتاب میں موجود ہیں آخر میں ایک جامع اور مختصر جدید عربی اردو لغت بھی شامل کتاب ہے عربی بول چال کے شوقین طبقے کےلیے یہ کتاب بہت ہی مفید ہے -
`Jadeed Arabic Seekhien` is a very useful and unique book written in a different style making it highly distinguished. It teaches modern Arabic that is spoken in the markets, in the streets, in offices, at airports, in hospitals and at public places of Arab world these days. This book has conversations between people in different places. The conversations are written in Arabic along with their transliteration and translation. -
دین اسلام اصلاً کتاب و سنت کی تعلیمات و فرمودات ہی کا دوسرا نام ہے۔ دین حق کے خلاف فتنے اٹھانے والوں میں سے ایک گروہ نے حدیث کے حجت ہونے ہی کا انکار کر ڈالا۔ جبکہ علماء و ائمہ کرام کے نزدیک مسلّم ہے کہ حدیث کے دامن میں جو استناد اور اسماء الرجال کا عظیم الشان سلسلہ موجود ہے، اس کی مثال دنیا بھر کے مذہبی یا تاریخی لٹریچر میں مفقود ہے۔ حدیث وہی ہے اور اس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے اُٹھایا ہے۔ حدیث کے بغیر اکمال دین کا تصور محال ہے، لہٰذا رسول اللہ ﷺ کی سنت کو حجت تسلیم کرنا ایمان کا اولین تقاضا ہے۔ `حجیت حدیث` کا فاضل مصنف مولانا عبدالستار حماد نے انکار حدیث کا فتنہ بے نقاب کرنے میں جو عظیم الشان تحقیقی خدمت انجام دی ہے، وہ منکرین حدیث کی فتنہ انگیزی کے خلاف برہان قاطع کی حیثیت رکتھی ہے۔ اس مختصر اور انتہائی جامع تالیف کا مطالعہ دین حق کےطلبہ و اساتذہ دونوں کے لیے بے حد مفید ثابت ہوگا۔ -
Sale!
Hisn-ul-Muslim is brief and comprehensive collection of supplications that Muslims may recite on certain occasions/events. This best selling compilation by Darussalam Publishers has the following in it. • 267 prayers, supplications and invocations for different daily life occasions, events, and times. • Each prayer is written in Arabic script with Urdu translation. • Only texts of Dua with short references to the source. • Portable, easy to understand and memorize content. A compilation by Said bin Ali bin Wahaf Al-Qahtani, Hisn-ul-Muslim is an abridged version of his previous works. Here, he chose to mention only the text of Duas (to be recited/remembered) instead of the entire Hadith. The references list has also been shortened to one or two. In other words, this book provides required spiritual support to Muslim brothers and sisters in performing their daily activities. -
اسلام کی اشاعت کے لیےعلماء کاکردار بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ جنہوں نے اپنی تحریر و تقریر سے عامۃ الناس میں علمِ دین کو پھیلایا اور علم و عرفان کی قندیلیں ابھی تک جلا رے ہیں۔ علماء ہی انبیاء کے وارث ہیں کہ جنہوں نے نبوی مشن سنبھالتے ہوئے شریعت کےعلم کو دوسرےلوگوں تک پہنچانا ہوتاہے۔ شرعی مسائل اور اخلاقی شرعی رہنمائی کے لیے علماء کے قرآن و سنت اور آثار صحابہ سے اخذ کردہ مسائل عامۃ الناس کے لیے انہیں دین کے فہم میں آسانی فراہم کرتے ہیں۔ اور خطبات کے ذریعے عوام الناس کی دینی رہنمائی کرتے ہیں۔ علمائے کرام کے مجموعہ خطبات کےحوالے سے کئی مجموعات شائع ہوچکے ہیں۔ ان میں سے اسلامی خطبات از مولانا عبدالسلام بستوی ، خطباتِ محمدی از مولانا محمد جونا گڑھی ،خطبات ِنبوی از مولانا محمد داؤد راز، خطاب سلفیہ، خطبات آزاد، خطبا ت بہاولپور ی خطبات علامہ احسان الٰہی ظہیر، خطبات یزدانی، خطبا حرم، مواعظ طارق ،زاد الخطیب، اور فاضل نوجوان مولانا عبد المنان راسخ کے خطبات وغیرہ، قابلِ ذکر ہیں۔ اور عربی زبان میں خطباء واعظین حضرات کے لیے 12 ضخیم مجلدات پر مشتمل ’’نضرۃ النعیم ‘‘انتہائی عمدہ کتاب ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ خطبات حرم ‘‘امام کعبہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمن السدیس کے بیت اللہ میں دیے گئے خطبات جمعہ میں سے منتخب خطبات ’’ کوکبۃ الکوکبۃ‘‘کا اردو ترجمہ ہے۔ ان منتخب خطبات کو نہایت خوبصورت سلیس اردو میں پیش کرنےکا اعزاز دار السلام نے حاصل کیا ہے۔ تعمیر سیرت کےلیےان پُر تاثیر خطبات کا مطالعہ ہر فرد وبشر کی ضرورت، مردوں او رعورتوں کے لیے ذریعہ ہدایت اورواعظین واساتذہ کرام کے لیے گنجینہ افادیت ہے۔ -
بچہ پیدا ہوتے ہی اپنے اردگرد کے انسانوں کی عادات و اطوار، زبان، سوچ اور عمل اپنانا شروع کردیتا ہے۔ کردار و عمل کے جیسے نمونے اس کے سامنے ہوتے ہیں، اس کی شخصیت ان کے مطابق ڈھلتی چلی جاتی ہے۔ عمر بڑھتی ہے تو وہ کسی نہ کسی کو مثالی شخصیت (ہیرو) قرار دے کر اس کے سانچے میں ڈھل جانا چاہتا ہے۔ اسلام یہ کہتا ہے کہ اپنا ہیرو عام آدمی کو نہ بناؤ بلکہ خوبی اور جمال کی تصوریں دیکھو۔ عظیم ترین خوبی، کامرانی، حسنِ اعتقاد اور حسنِ عمل کا سب سے زیادہ خوبصورت پیکر امام الانبیاء حضرت محمد ﷺ ہیں۔ بس انھی کو اپنا رہبر مانو، انھی کو دیکھو، انھی کی سیرت کا مطالعہ کرو اور انھی جیسے پیارے پیارے کام کرو۔۔۔ یہ کتاب اللہ کے برگزیدہ پیغمبروں، خاص طور پر حضرت محمد ﷺ کے فکر و عمل کے درخشاں نقوش سے مزین ہے۔ آسان، شگفتہ اور شستہ۔ خودبھی اس کا مطالعہ کریں اور اپنی نئی نسل کو بھی اس کی ترغیب دیں۔ امید ہے حسنِ فکر و عمل کا گلشن کِھلے گا۔ نئی نسل پاکیزہ ترین راستوں کو اپنا کر اپنی اور آپ کی زندگیوں کو سکون اور اطمینان سے معمور کر دے گی۔ -
ہمیں اپنے روشن ماضی میں ہر لحظ نئی آن اور نئی شان کی جو جلوہ گری ملتی ہے اس کا ایک اہم ترین سبب یہ ہے کہ ہماری عظیم ماؤں کی گود میں حسن، حسین، عبداللہ بن عمر، اور عمر بن ابدالعزیز ،عقبہ بن نافع، طارق بن زیاد اور محمد بن قاسم جیسے بچے پرورش پاتے تھے۔ آج کے دور میں ہماری محترم مائیں بہنیں بھی عزت و عظمت کا وہی درجہ حاصل کر سکتی ہیں جو قرون اولیٰ کی جلیل القدر خواتین کو نصیب ہوا تھا۔ اس کا واحد طریقہ یہ ہے کہ جس طرح اُن عظیم خواتین نے اللہ اور رسول ﷺ کے ارشادات پر عمل کیا تھا اُسی طرح آج کی خواتین بھی عمل کرنے کی کوشش کریں۔ یہ رہ نمائے عمل کتاب رسول اللہ ﷺ کی ایک سو احادیث اور ان کی شاندار تشریحات پر مشتمل ہے۔ اس میں خواتین کی کامیابی کے تمام طریقے بہت آسان اور دلکش پیرائے میں بتا دیے گئے ہیں، اسے پڑھیے، اس پر عمل کیجیے، اور اپنے مستقبل کو درخشاں بنائیے۔
-
محسن انسانیت حضرت محمدﷺ نے خواتین پر عظیم احسان فرمایا۔ انھیں قعر مذلت سے نکال کر گھر کی ملکہ بنایا۔ ماں کی حیثیت سے عورت کو اتنی عظمت بخشی کہ اس کے قدموں تلے جنت کی بشارت دی۔ بہن کی دلجوئی اور قدر شناسی کا سبق دیا اور بیٹی کو شفقت و مرحمت کا مرجع بنا دیا۔ مسلمانوں کے زوال کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انھوں نے عورت کی عظیم اور اس کے حقوق کی پاسبانی کا وہ سبق بھلا دیا جس کی تعلیم اسلام نے التزام کے ساتھ دی ہے۔ یہ کتاب اسی سبق کی یاد دہانی کے لیے شائع کی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اسلامی معاشرے میں عورت کا کیا درجہ ہے۔ ایک مسلمان مرد کو کن اوصاف کی عورت سے شادی کرنی چاہیے۔ بیوی سے کتنی نرمی اور نوازش سے رہنا چاہیے۔ خدانخواستہ ناچاقی ہو جائے تو کیا کرنا چاہیے۔ نکاح، مہر، خلع، طلاق اور عدت کے احکام کیا ہیں۔ حلالہ کتنی گھناؤنی لعنت ہے۔ بیوائیں کیسے حسن سلوک کی مستحق ہیں اور خواتین کو وراثت میں کتنا حصہ ملنا چاہیے۔ فی الجملہ یہ کتاب ایک مسلمان خاتون کے حقوق و فرائض کی مکمل دستاویز ہے۔ معاشرے میں عصمت و طہارت کے تحفظ اور پاکیزگی کا نور پھیلانے کے لیے اسے خود بھی پڑھیے اور اپنے عزیز و اقارب کو بھی اس کے مطالعے کی دعوت دیجیے ۔
-
Sale!
This book briefly describes the sunnah way of Islamic medication and masnoon prayers for cure in the light of Quran and Hadith. -
دعوتِ حق کیا ہے؟ اس کی تفصیلا ت قران مجید کی آیات مقدسہ اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث مبارکہ میں موجود ہیں۔ ان کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ کتاب الہٰی کا مرکزی مضمون توحید اور دوعوت دین ہے جسے نبی کریم ﷺ نے اس قدر کاملیت اور جامعیت سے پیش کیا کہ آپ دین حق کے داعئ اعظم ہی کی حیثیت سے ہمارے سامنے آتے ہیں۔ حق یہ ہے کہ دعوت الی اللہ ہی وہ مقدس نصب العین ہے جسے آپ نے امت مسلمہ کے سپرد کیا ہے۔ امت مسلمہ اس دعوت حق کے تقاضوں کو کیسے جان سکتی ہے اور اس کے داعیوں میں وہ معیاری، داعیانہ صفات کیسے پیدا ہو سکتی ہیں؟ اس مختصر سی کتاب کا اصلی موضوع یہی ہے۔ دعوت دین اور داعیان حق کی صفات پر ہمارے اسلاف نے بہت عظیم الشان لٹریچر تیار کیا ہے۔ یہ مختصر او ر جامع کتاب اس پورے لٹریچر کا احاطہ کرتی ہے۔ اس کے مطالعے سے مقصد زندگی کا شعور اُبھرتا اور اس کے تقاضوں کو بروئے کار لانے کی بصیرت پیدا ہوتی ہے۔
-
آج کے اس پُر فتن دور میں جبکہ نوجوان نسل بتدریج اسلام سے دور ہو رہی ہے، اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو اپنے اسلاف کی سیرت پڑھائیں، نوجوان نسل کو بتائیں کہ ان کے اخلاق و کردار کیسے تھے اور انھوں نے اسلام کے لیے کتنی قربانیاں پیش کیں۔ `رجالِ قران` کے فاضل مؤلف ڈاکٹر عبدالرحمٰن عمیرہ کا اسلوب بیان بڑا عمدہ ہے۔ انھوں نے بلکل کہانی کے انداز مین ان صحابہ کرام کی سیرت اس کتاب میں بیان کی ہے جن کے بارے میں قران کریم میں آیات نازل ہوئی ہیں۔ انھوں نے اس کتاب میں صحابہ کرام ہی نہیں بلکہ ان کفار اور منافقین کے بارے میں بھی پوری تفصیل کے ساتھ لکھا ہے جن کے بارے میں قران نازل ہوا، کتاب میں موجود واقعات تاریخ کی مستند کتابوں سے نقل کیے گئے ہیں۔ ان واقعات اور صحابہ کرام کی مبارک زندگیوں میں ہمارے لیے دروس موجود ہیں۔
-
یہ کتاب زیادہ بڑی نہیں۔ عام لوگوں کے لیے ہے۔عام فہم ہے وہ لوگ جو رمضان میں اپنی زندگی میں انقلاب لانا چاہتے ہیں ؛بلاشبہ رمضان ان کی زندگی کو نئے سرے سے تشکیل دیتا ہے۔یہ ایک روزنامچہ ہے۔رمضان میں ہم ہر روز ایک نئے عزم اور ارادے کے ساتھ یہ تہیہ کرسکتے ہیں کہ ہمیں آج کیا کام کرنا ہے۔ تھوڑی سی محنت ، تھوڑی سی جدوجہد اور عزم و ارادہ آپ کی زندگی بدل سکتا ہے۔ -
Sale!
دعا ایک مسلمان اور اُسکے رب کے درمیان گفتگو کا بہترین ذریعہ ہے۔ اللہ نے کود قران پاک میں فرمایا ہے کہ مجھے پکارو میں سنتا ہوں اور جواب دیتا ہوں۔ زیرِ نظر کتاب اُن تمام دعاوں کا مجموعہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں قران مجید یا اللہ کے رسول ﷺ کے ذریعے سے سکھائیں اور جن کے الفاظ رَبَّنا کے خوبصورت لفظوں سے شروع ہوتے ہیں۔ اس کتاب کو پڑھیے اور اپنے رب سے دعا مانگنے کا وہ طریقہ سیکھیئے جو خود رب اور اُسکے رسول ﷺ نے سیکھایا ہے۔
-
بانی مملکت سعودی شاہ عبد العزیز بن عبد الرحمن آل سعو د 1886ء میں پید اہوئے ۔والدین نے ان کی تعلیم وتربیت کا بہترین انتظام کیا قرآن پاک اور ابتدائی دینی تعلیم الشیخ قاضی عبد اللہ ا لخرجی او راصول فقہ اور توحید کی تعلیم الشیخ عبد اللہ بن عبدالطیف سے حاصل کی ۔ جب گیارہ برس کے ہوئے تو شرعی علوم پر بھی مکمل دسترس حاصل کرچکے تھے ۔ریاض پر الرشید کے غلبہ کی وجہ سے شاہ عبدالعزیز اپنے والد گرامی کے ہمرا کویت چلے گئے۔شاہ عبد العزیز وہاں اپنے خاندان پر گزرنے والی مشکلات کے بارے میں سوچا کرتے تھےکہ ان کے والد کس طرح کویت میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے ۔ وہ ہمیشہ اپنے ملک کے بارے میں پریشان رہتے۔اس کی تعمیر وترقی کا خواب دیکھتے رہتے تھے ۔شاہ عبدالعزیز کے والد نے ان کی سیاسی تربیت اسے انداز سے کی کہ وہ لوگوں سے کامیابی کے ساتھ مکالمہ کرسکیں۔شاہ عبد العزیز نے اپنے والد گرامی کےسائے میں کویت میں صبرو سکون کے بڑی منطم زندگی گزاری۔انہوں نے 1902 میں اپنے چالیس جانثار کو ساتھ لے کر ریاض پر حملہ کر کے ریاض کو الرشید کے قبضہ سے آزاد کروایا ۔ جس سے مملکت سعودی عرب کا آغاز ہوا اور پر تھوڑے عرصہ میں پورے سعودی عرب پر شاہ عبد العزیز نےعدل وانصاف پر مبنی حکومت قائم کی ۔شاہ عبدالعزیز نے تیس سال تک مسلسل جدوجہدکی اور اپنی مملکت کی سرحدوں کو وہاں تک پہنچایا جوان کے آباؤ اجداد کے وقت میں تھیں۔ان کی کوششوں سے سعودی عرب صحیح اسلامی مملکت کے طور پر نمایا ں ہوا۔جس کی وجہ سے اللہ تعالی نے ان کو تیل کےذریعے دولت کی فراوانی سے مالامال کیا۔ غلبۂ اسلام کے لیے شاہ عبدالعزیز کی خدمات قابل تحسین ہیں ۔73سال کی عمر میں 1953ءکو طائف میں وفات پائی ۔ زیر نظر کتاب بحر اللہ ہزاروی کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے شاہ عبد العزیزبن عبد الرحمن آل سعود کی بچپن سے جوانی اور سعودی عرب میں اسلامی حکومت قائم کرنے کے تفصیلی حالات کوبڑے احسن انداز میں تحریر کیا ہے ۔ کتاب کے مصنف نے طویل عرصہ سعودی عرب میں پاکستان کےسفارتی مشن میں خدمات انجام دیں اور 1993ء میں جامعہ کراچی سے ’’مملکت سعودی عرب میں اسلامی نظام اور عالم اسلام پر اس کے اثرات‘‘ کےعنوان پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔سعودی عرب کی تاریخ اور آل سعود کے حالات وواقعات جاننے کےلیے یہ ایک منفرد کتاب ہے ۔ اللہ تعالی حکام سعودیہ کو دین حنیف کی خدمت کرنے اور اس پر قائم رہنے کی توفیق دے -
Sale!
نبی کریم ﷺ کے بعد امتِ مسلمہ کے سب سےبڑے قائد اور اسلامی معاشرے کا سب سے عظیم نمونہ اور نمائند ہ شخصیت ابو بکر صدیق ؒ ہی تھے۔ خلافتِ راشدہ کی ابتدائی فتوحات، کامیابیاں اور خوبیاں عہد صدیقی ہی کی رہینِ منت تھیں۔ سیدنا ابو بکر صدیق ؒ ایمان و یقین، اطاعت و غلامی، محبت و وارفتگی اور ہمت و حوصلہ جیسے بے مثل خوبیوں سے مالا مال تھے۔ آیئے، ہم بھی اُنکی سیرت کی مطالعہ کر کے اپنے اعمال کو نکھارنے کا سامان کریں۔ The life of Abu Bakr As Siddique (May Allah be pleased with him) offers a blueprint to successful life to those Muslims as well as non-muslims who are searching for the truth. This book provides detailed and insightful glimpses into the extraordinary life of the first Caliph of the Muslims Abu Bakr As-Siddeeq (May Allah be pleased with him) and his massive contribution to all of humanity. He was a truly a man for all ages. This compilation has specifically been made for the Muslim Youth, who need to learn about the sacred personalities and their success stories. Indeed, this is the best way to teach core values of an ideal Islamic life and help youth understand their religion. -
Sale!
عالم اسلام کے معروف اور مایہ ناز سیرت نگار دکتور علی محمد محمد الصلابی نے زیرِ نظر کتاب میں حضرت عمر فاروق ؒ کی سیرت کو نہایت ہی خوب سیرت پیرائے میں بیان کیا ہے اور ساتھ ہی اُس سنہرے دور کا نقشہ بھی کھینچہ ہے جس میں حضرت عمر نے اسلام کی بہترین خدمت کی۔ We are living in tumultuous times, but they are no less tumultuous than the era of Caliph `Omar Ibn al-Khattab (May Allah be pleased with him), whose life began in Jahiliyah and ended in the Golden Age of Islam. We can learn much from the history of this second caliph of Islam, who was faced with unprecedented challenges but met them successfully within the framework of shari`a and in accordance with the true spirit of Islam. For those who would be leaders, this book offers the model of an ideal Muslim leader, one who felt responsible before Allah for the well-being of all those under his rile, including his troops, women, infants, non-Muslims, and even animals. Caliph Omar was a `hands-on` leader who kept himself informed and consulted scholars and experts before every major decision. For the rest of us, this book offers a window into an exciting and important period of Islamic history, and it also reminds of an important lesson, that our strength comes not from wealth or money or status, but from our submission to Allah and our commitment to the path of Islam.
-
۔ سیدنا عثمان غنی صرف کاتب وحی ہی نہیں تھے بلکہ قرآن مجید آپ کے سینے میں محفوظ تھا۔ آیات قرآنی کے شان نزول سے خوب واقف تھے ۔ بطور تاجر دیانت و امانت آپ کا طرۂ امتیاز تھا۔ نرم خو تھے اور فکر آخرت ہر دم پیش نظر رکھتے تھے ۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے عثمان کی حیا سے فرشتے بھی شرماتے ہیں ، تبلیغ و اشاعت اسلام کے ليے فراخ دلی سے دولت صرف فرماتے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ اے عثمان اللہ تعالٰی تجھے خلافت کی قمیص پہنائیں گے ، جب منافق اسے اتارنے کی کوشش کریں تو اسے مت اتارنا یہاں تک کہ تم مجھے آملو۔ چنانچہ جس روز آپ کا محاصرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھ سے حضور نے عہد لیا تھا ( کہ منافق خلافت کی قمیص اتارنے کی کوشش کریں گے تم نہ اتارنا ) اس ليے میں اس پر قائم ہوں اور صبر کر رہا ہوں ۔ 35ھ میں ذی قعدہ کے پہلے عشرہ میں باغیوں نے سیدنا عثمان ذوالنورین کے گھر کا محاصرہ کیا اور آپ نے صبر اوراستقامت کا دامن نہیں چھوڑا، محاصرہ کے دوران آپ کا کھانا اور پانی بند کردیاگیا تقریبا چالیس روز بھوکے پیاسے82سالہ مظلوم مدینہ سیدنا عثمان کو جمعة المبارک 18ذو الحجہ کو انتہائی بے دردی کے ساتھ روزہ کی حالت میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوے شہید کردیا گیا۔سیدنا عمر فاروق کے بعد امت کی زمامِ اقتدار سنبھالی اور خلیفۂ ثالث مقرر ہوئے ۔ ان کا دورِ حکومت تاریخ اسلام کا ایک تابناک اور روشن باب ہے ۔ ان کے عہد زریں میں عظیم الشان فتوحات کی بدولت اسلامی سلطنت کی حدود اطراف ِ عالم تک پھیل گئیں اور انہوں نے اس دور کی بڑی بڑی حکومتیں روم ، فارس ، مصر کےبیشتر علاقوں میں پرچم اسلام بلند کرتے ہوئے عہد فاروقی کی عظمت وہیبت اور رعب ودبدبے کو برقرار رکھا اور باطل نظاموں کو ختم کر کے ایک مضبوط مستحکم اورعظیم الشان اسلامی مملکت کواستوار کیا ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سیرت عثمان ذوالنورین ‘‘عرب کےمایہ ناز مؤلف ومحقق دکتور علی محمد محمد صلابی کی خلیفۂ ثالث ، داماد رسول ، جامع قرآن ، پیکر حیا، سیدنا عثمان بن عفان کی سیرت پر مستند تصنیف ہے۔دکتور صلابی نے اس کتاب میں عہد عثمانی کےتمام واقعات کومستند حوالوں سے بیان کیا ہے اور ان کےہر پہلو کانہایت احتیاط سےجائزہ لیا ہے۔اس کتاب کی ایک منفرد خصوصیت یہ ہےکہ اس میں عہد عثمانی کی نہایت اہم معلومات اجاگر کرنے والے 19 نادر نقشے شامل ہیں ۔اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم اور ناشرین کی اس عمدہ کاوش کو قبول فرمائے اور یہ کتا ب مسلمانوں میں سیدنا عثمان جیسی صفات جلیلہ پیدا کرنے کاباعث بنے -
امام بخاری ۱۳شوال ۱۹۴ھ، بروز جمعہ بخارا میں پیدا ہوئے۔ دس سال کی عمر ہوئی تو مکتب کا رخ کیا۔ بخارا کے کبار محدثین سے استفادہ کیا۔ جن میں امام محمد بن سلام بیکندی، امام عبداللہ بن محمد بن عبداللہ المسندی، امام محمد بن یوسف بیکندی زیادہ معروف ہیں۔ اسی دوران انہوں نے امام عبداللہ بن مبارک امام وکیع بن جراح کی کتابوں کو ازبر کیا اور فقہ اہل الرائے پر پوری دسترس حاصل کر لی۔ طلبِ حدیث کی خاطر حجاز، بصرہ،بغداد شام، مصر، خراسان، مرو بلخ،ہرات،نیشا پور کا سفر کیا ۔ ان کے حفظ و ضبط اور معرفت حدیث کا چرچا ہونے لگا۔ امام بخاری کے استاتذہ کرام بھی امام بخاری سے کسب فیض کرتے تھے ۔ آپ کے استاتذہ اور شیوخ کی تعداد کم وبیش ایک ہزار ہے۔ جن میں خیرون القرون کےاساطین علم کےاسمائے گرامی بھی آتے ہیں۔اور آپ کےتلامذہ کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ امام بخاری سے صحیح بخاری سماعت کرنےوالوں کی تعداد 90ہزار کےلگ بھگ تھی ۔امام بخاری کے علمی کارناموں میں سب سے بڑا کارنامہ صحیح بخاری کی تالیف ہے جس کے بارے میں علمائے اسلام کا متفقہ فیصلہ ہے کہ قرآن کریم کے بعد کتب ِحدیث میں صحیح ترین کتاب صحیح بخاری ہے ۔ فن ِحدیث میں اس کتاب کی نظیر نہیں پائی جاتی آپ نے سولہ سال کے طویل عرصہ میں 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔امام بخاری کی سیر ت پر متعدد اہل علم نے کتب تصنیف کی ہیں لیکن سب سے عمدہ کتاب مولانا عبد السلام مبارکپوری کی تصنیف ’’سیرۃ البخاری ‘‘ ہے جو کہ کتاب وسنت ویب سائٹ پر موجود ہے۔ اس کتاب کا عربی ترجمہ ڈاکٹر عبد العلیم بستوی کےقلم سے جامعہ سلفیہ بنارس سے شائع ہوچکا ہے۔ زیر نظرکتاب ’’سیرت امام بخاری‘‘ کو تالیف کرنے کی سعادت شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمٰن چیمہ﷾نے حاصل کی بعد ازاں دارالسلام ،لاہور کے شعبہ تحقیق وتصنیف کےسکالرزنے بھی اس میں بیش قیمت اضافے کیے ہیں۔ شیخ الحدیث مولاناحافظ عبدالعزیز علوی نے ترمیم واضافہ کے ساتھ ساتھ اس کی نظرثانی کی ہے اور اسی طرح محقق دوراں مولاناارشاد الحق اثری نےاس میں کچھ حک و اضافہ کےساتھ اس پر ایک جاندار مقدمہ تحریرکیا ہے جس سے اس کتاب اہمیت وافادیت دو چند ہوگئی ہے۔ اس کتاب میں امام بخاری کےاساتذہ کی سیرت، اساتذہ کرام، ان کے طبقات، وسعت علمی ، عقائد ونظریات، صحیح بخاری میں احادیث کو نقل وجمع کرنے کی شرائط، دیگر تصانیف اور ان کےاسلوب اور متعلقات وشروح صحیح بخاری کےساتھ ساتھ امام بخاری کی فقیہانہ بصیرت، محدثانہ صلاحیت ،امام موصوف کے معاصرین اور تلامذہ وغیرہ کا تذکرہ بڑے یگانہ اور جدید اسلوب میں پیش کیا گیا ہے۔ -
یہ سیرت انسائیکلو پیڈیا اس میں آپ عرب بلخصوس مکہ و مدینہ کی مستند تاریخ اور جغرافیہ ملاحظہ کریں گے، اہل عرب کی بود و باش اور ثقافت و تہذیب سے آشنا ہوں گے۔ عاد، ثمود، جرہم، طسم و جدیس جیسی مبغوض قوموں کی تباہی میں ہمارے لیے کیسے کیسے اسباق اور عبرتیں موجود ہیں؟ ان کا کامل مشاہدہ پائیں گے۔ ۔۔۔۔ اسی طرح آپ پر یہ حقیقت روشن ہوگی کے سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ نے کفر، شرک، اصنام اور اوہام کے کس قدر تاریک ظلمت زار میں کتنی دانائی اور دلیری سے اسلام کی فطری اور عالم گیر صداقت پیش کی۔
-
In this book, the events of the Prophet`s life, from the day he (Peace and Blessings of Allah be upon him) was born and even before that day for background information-until the day he (Peace and Blessings of Allah be upon him) died, have been recorded. Beyond enumerating the events of the Prophet`s life, lessons and morals from those events have been drawn to point out the significance of an event and the wisdom behind the Prophet`s actions or deeds, the Islamic ruling that is derived from a particular incident, and the impact that a given event should have on our character or choice of deeds is indicated. -
کسی قوم، معاشرے یا فرد کی کامیابی اور ناکامی کا دارومدار اس کے عقائد و نظریات پر ہوتا ہےقطع نظر اس کے وہ عقائد و نظریات صحیح ہیں یا غلط، جو قوم اپنے نظریات و افکار میں پختہ ہو وہی کامیاب ہوتی ہے۔ اگر عقائد و نظریات مستحکم اور صحیح ہوں تو دین و دنیا دونوں کی کامیابی مقدر ٹھہرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام انبیائے کرام نے سب سے پہلے لوگوں کے عقائد و نظریات کی اصلاح کی اور اسلام نے بھی عقائد پر بہت زور دیا ہے اور پختہ عقائد کے بغیر اسلام کو نفاق کے درجے میں رکھاہے۔ عصرِ حاضر کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے علمائے ربانی نے اسلام کے بنیادی عقائد و نظریات کے حوالے سے بے شمار کتابیں تحریر کی ہیں۔ زیر نظر کتاب، عالم عرب کے معروف قلم کار فضیلۃ الشیخ عبداللہ بن عبدلحمید اثری کی تالیف `الوجیز فی عقیدۃ السلف الصالح` کا اردو ترجمہ ہے۔ اس کتاب میں عقیدے کی تعریف و توضیح کے علاوہ 11 بنیادی اصول ذکر کیے گئے ہیں جن کا جاننا اہل اسلام کے لیے نہایت ضروری ہے۔ عقیدہ توحید اور ایمانیات کے مسائل کو صحابہ کرام ، تابعین اور محدثین کے فہم کی روشنی میں واضح کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب سادہ اور عام فہم ہے جو علماء، طلبہ اور عوام الناس کے لیے یکساں مفید ہے۔ -
Attainment of the Happiness is a most valuable book on the topic of Islamic Monotheism. The very accomplished author of this book was very well-known Islamic scholar and jurist of the present day. Shaykh Salaah Al-Budair has chosen the ahadeeth in this book with due care and diligence. In order to compile thses ahadeeth, he has very meticulously studied almost the entire stock of hadith literature available. Like an expert gems dealer, Shaykh Salaah has chosen only those hadith for the purpose of explaining a particular topic, which were the most relevant in terms of their meanings and context. For this purpose, on some occasions a single hadith has been taken from many different books of Hadith. -
مذہب، ادب، سیاست، عدالت، تجارت، معاشرت اور علم و ہنر غرضیکہ ہر شعبہ زندگی میں ہمارے رہنما صرف حضرت محمد ﷺ ہیں۔ آپ کی زندگی اللہ تعالیٰ کی والہانہ محبت، اطاعت اور استقامت کی نہایت ایمان پرور اور ولولہ انگیز داستان ہے۔ آپ ﷺ نے کفر و شرک اور ظلم و جفا کی صدیوں پرانی زندگی کا طلسم توڑا۔ رنگ، نسل ، ذات پات اور دولت و ثروت کے جھوٹے امتیازات ختم کیے۔ انسان کو اللہ رب العزت کی عظمت و کبریائی کا سبق سکھا کر اجتماعی زندگی کی بنیاد توحید ، اخوت اور مساوات پر رکھی اور بنی نوع انسان کو شرافت اور امن دوستی کی اعلیٰ اقدار کا پیغام دیا۔ آج کا انسان رحمت للعالمین ﷺ کی تعلیماتِ عالیہ کا پیاسا ہے۔ آیئے ہم خوب بھی اللہ کے آخری رسول حضرت محمد ﷺ کی پیروی کریں اور اپنے بچوں کو بھی اسوہ حسنہ کے اُجالوں سے رشناس کرائیں۔ یہ کتاب اسی مقصد سے شائع کی جا رہی ہے کہ ہمارے نونہال ابھی سے سیرتِ نبوی سے روشنی حاصل کریں اور دنیا کو معصیت، حرص و ہوس اور ظلم و جور کی آلودگی سے نجات دلانے کے لیے سرگرمِ عمل ہوجائیں۔ اس غایت سے ہر بچے اور بچی کے لیے اس کتاب کا مطالعہ آج کی اولین ضرورت ہے۔ -
Sale!
مذہب، ادب، سیاست، عدالت، تجارت، معاشرت اور علم و ہنر غرضیکہ ہر شعبہ زندگی میں ہمارے رہنما صرف حضرت محمد ﷺ ہیں۔ آپ کی زندگی اللہ تعالیٰ کی والہانہ محبت، اطاعت اور استقامت کی نہایت ایمان پرور اور ولولہ انگیز داستان ہے۔ آپ ﷺ نے کفر و شرک اور ظلم و جفا کی صدیوں پرانی زندگی کا طلسم توڑا۔ رنگ، نسل ، ذات پات اور دولت و ثروت کے جھوٹے امتیازات ختم کیے۔ انسان کو اللہ رب العزت کی عظمت و کبریائی کا سبق سکھا کر اجتماعی زندگی کی بنیاد توحید ، اخوت اور مساوات پر رکھی اور بنی نوع انسان کو شرافت اور امن دوستی کی اعلیٰ اقدار کا پیغام دیا۔ آج کا انسان رحمت للعالمین ﷺ کی تعلیماتِ عالیہ کا پیاسا ہے۔ آیئے ہم خوب بھی اللہ کے آخری رسول حضرت محمد ﷺ کی پیروی کریں اور اپنے بچوں کو بھی اسوہ حسنہ کے اُجالوں سے روشناس کرائیں۔ یہ کتاب اسی مقصد سے شائع کی جا رہی ہے کہ ہمارے نونہال ابھی سے سیرتِ نبوی سے روشنی حاصل کریں اور دنیا کو معصیت، حرص و ہوس اور ظلم و جور کی آلودگی سے نجات دلانے کے لیے سرگرمِ عمل ہوجائیں۔ اس غایت سے ہر بچے اور بچی کے لیے اس کتاب کا مطالعہ آج کی اولین ضرورت ہے
-
ہماری زمین نظام ِ شمسی کا ایک ادنٰی حصہ ہے جبکہ سورج اس نظام کا مرکزی ستارہ ہے۔ یہ عظیم کُرہ روشنی اور گرمی کا بہت بڑا ما خذ ہے جس کے گرد زمین اور چان سمیت کئی سیارے محوِ گردش ہیں۔ سورج کی بناوٹ کے جو عناصر دریافت ہوئے ہیں، وہ سارے عناصر زمین پر بھی پائے جاتے ہیں۔ سورج میں بڑی تیز روشنی اور حرارت دینے والی گیسیں ہر آن جلتی رہتی ہیں۔ یہ اور اس قسم کے دوسرے اہم سائنسی حقائق اس کتاب میں وحی کی روشنی اور کہانی کے دلکش پیرائے میں بتائے گئے ہیں۔ یوں طلبہ کے لیے یہ کتاب ضروری سائنسی اور دینی معلومات کابڑا خوبصورت مجموعہ ہے۔ اس کے مطالعے سے دل و دماغ میں یہ اعلیٰ حقیقت پتھر پر لکیر کی طرح نقش ہوجاتی ہے کہ جس خالق و مالک نے سورج اور کائنات کے جملہ مظاہر پیدا کیے ہیں، وہ زبردست حکمت، قوت اور انتہائی اعلیٰ انتظامی قدرتوں کا مالک ہے۔ ذرے ذرے پر اسی کاقبضہ ہے۔ اس لیے ہمیں صرف اسی کی بندگی کرنی چاہیے۔ -
`شکر` صفات حسنہ میں بہت اہمیت کا حامل ہے اور `توبہ` مغفرت کے وسائل میں ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ شکر اور توبہ کی یہ دونوں کیفیات کسی بندہ مومن کو میسر آجائیں تو یہ ایک خوش نصیبی اور سعادت کی بات ہے۔ ہمیں اور بہت سی تعلیمات کی طرح ان دوبنیادی اوامر کی طرف کتاب و سنت میں جابجا توجہ دلائی گئی ہے۔ محترم بشیر احمد لودھی ایک نووارد مصنف ہیں، مگر ان کے قلم میں ایسی پختگی ہے جس کا تقاضا کتاب و سنت میں موجود ہے۔ انھوں نے اس مختصر مگر جامع کتاب کے ہر باب میں صرف اور صرف کتاب و سنت ہی کے چشمہ صافی سے رجوع کیا ہے، جس کے باعث ان کی یہ کتاب ایک طالب ہدایت کے لیے نسخہ شفا ہے۔ دارالسلام کے شعبئہ تحقیق نے اس کتاب کے حوالوں کی تخریج کر کے اسے چار چاند لگا دیے ہیں۔ اب یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک سادہ اسلوب اور پختہ فکر کی نمائندگی کرتی ہے۔ عامتہ المسلمین انشا ءاللہ اس کے مطالعے کو اپنے لیے نافع اور مفید محسوس کریں گے۔ -
کسی بھی انسان کی شخصیت ہی ہے جو کسی دوسرے انسان کو اُسکے اچھے یا بُرے ہونے کا پتا دیتی ہے۔ موجودہ دور میں شخصیت کو بطور مکمل موضوع کے پڑھا اور پڑھایا جاتا ہے۔ زیرِ نظر کتاب میں شخصیت سازی کے ان تمام سنہرے اصولوں سے قاری کو روشناس کراگیا ہے جنہیں اپنا کر وہ نہ صرف اپنی شخصیت کو خوشگوار بنائیگا بلکہ اپنی زندگی میں بھی خوبصورت تبدیلی کا تجربہ کر پائیگا۔ اس کتاب کا مطالعہ تمام عمر کے مسلمانوں اور بلخصوص نوجوان مسلماموں کے لیے بے حد مفید ہے۔ -
قران کریم میں جن حیوانات، نباتات، جمادات اور چرند پرند کا تذکرہ آیا ہے اُن میں سے مکھی کے بارے میں `عزم` کے عنوان سے یہ کتاب انھی چیزوں کے تعارف کی ایک آگہی بخش کڑی ہے۔ دارالسلام نے دلربا مطبوعات کا یہ سلسلہ طلبہ و طالبات کی خُفتہ صلاحیتوں کو بیدار کر کے انھیں علم و تحقیق کی راہ پر لگانے کے لیے جاری کیا ہے۔ یہ اور اس سلسلے کی دوسری دلآویز کتابیں اپنے نو نہالوں کو بطور تحفہ پیش کیجیے۔ اچھی سیرت سازی اور عمدہ ذہنی تربیت کے لیے، یہ بہترین تحفہ ہے۔ -
عیسائیت ،تجزیہ ومطالعہ اپنے موضوع پر ایک بہترین کتاب ہے جس میں عیسائیت کی تعلیمات کو بڑی تفصیل کے ساتھ پیش کرتے ہوئے اسلامی تعلیمات کے ساتھ موازنہ پیش کر کے عیسائیت کو دین اسلام کی دعوت دی گئی ہے اور کتاب کا ہر صفحہ دلائل کا انبار لگائے عیسائی دنیا کو راہ ہدایت کی طرف پکار رہاہے-مصنف نے اپنی کتاب میں عیسائیت کے سارے چنیدہ مسائل کو زیر بحث لاکر ان کی حقیقت کو واضح کیا ہے-جیساکہ عقیدہ ابنیت،عقیدہ تثلیث، عقیدہ کفارہ اور اس کے ساتھ ساتھ عیسی علیہ السلام کی پیش کردہ تعلیمات کی روشنی میں مذہب عیسائیت کی اصلاح کی کو شش کی گئی ہے اور یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کہ کوئی بھی انصاف پسند عیسائی اس کے مطالعے کے بعد اپنی اصلاح کیے بغیر نہیں رک سکتا-اسی طرح سے عیسائیت کو تقویت کس طرح دی گئی اور جدید عیسائیت کا بانی کون ہے ؟اور اسی طرح سے دنیا میں رائج مختلف اناجیل وغیرہ کی تاریخ اور تحقیقی حیثیت کیا ہے؟ایسے موضوعات پر مدلل اور مصلحانہ انداز سے روشنی ڈالی گئی ہے-مکتبہ دارالسلام نے اس کتاب کی اہمیت کے پیش نظر اسے عربی،اردو اور انگریزی زبانوں میں شائع کیا ہے اور دنیا میں پائی جانے والی دیگر زبانوں میں بھی اس کتاب کو شائع کرنے کی امید ہے- -
کسی بھی عبادت کے لیے پاکیزگی کا ہونا جزوِ لا ینفک ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ خود بھی پاک ہیں چنانچہ مرد و زن کی روحانی پاکیزگی نظر کے جھکانے اور پردے میں مضمر ہے، جس کے بارے میں یہ کتابچہ مرتب کیا گیا ہے۔ اس میں قرآن و سنت کی روشنی میں عورت کی عزت و عفت کا ضامن اور فضیلت کا تاج و زیور ’پردہ‘ اور اس کی ذلت و خواری اور جہنم کے ایندھین کا موجب ’بے پردگی‘ کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ اس کتابچے کے مصنف قاری صہیب احمد میر محمدی ہیں جن کی متعدد کتب شائع ہو کر عوام و خواص سے داد وصول کر چکی ہیں۔ کتابچے کی فہرست پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ اگرچہ یہ 136 صفحات پر مشتمل ایک کتابچہ ہے لیکن اس میں تمام وہ بنیادی ابحاث شامل ہیں جن کے لیے ایک ضخیم کتاب کی ضرورت ہوتی ہے۔ سب سے پہلے پردے کے عمومی فضائل رقم کیے گئے ہیں اس کے بعد پردے کی فرضیت پر قرآنی اور احادیث نبوی سے دلائل، پردے کی قسمیں اور پردے کی شروط بیان کی گئی ہیں۔ بعض لوگ چہرے کو پردے میں شامل نہیں کرتے کچھ اہل حدیث علما بھی چہرے کے پردے کواستحباب کا درجہ دیتے ہیں قاری صہیب صاحب نے ایسے تمام دلائل کا گہرائی کے ساتھ جائزہ لیا ہے اور بڑے اچھے انداز میں ان کا رد کیا ہے۔ اس موضوع پر پہلے بھی اردو میں کتب موجود ہیں یہ کتابچہ ان میں ایک اور اضافہ ہے۔ -
شرعی احکام اور مسائل دینیہ سے آگاہی ہر مسلمان مرد اور عورت کی ضرورت ہے اور اس روحانی تشنگی کی سیرابی کے لیے شروع اسلام سے عامۃ الناس کی راہنمائی کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سائلین کا خود تشفی بخش جواب دیتے ۔بعض اوقات مسائل کی پیچیدگیوں کی عقدہ کشائی کے لیے وحی کا نزول ہوتا ۔پھر صحابہ کرام ،تابعین ،تبع تابعین اور علماء و محدثین نے اس ذمہ داری کو نہایت اچھے انداز سے نبھایا۔ اگرچہ قدیم علماء کے فتاویٰ کافی تعداد میں موجود ہیں لیکن ہر دور میں فتویٰ طلبی اور نت نئے مسائل جنم لینے کی وجہ سے ایسے مسائل کی وضاحت کی اہمیت برقرار رہی بلکہ فتویٰ طلبی کی ضرورت او رافتاء کی اہمیت میں اضافہ ہوتا رہا ہے ۔پاکستان میں کئی جید علماء اپنے طور یاکسی جماعت کے پلیٹ فارم پر عوام الناس کے دینی مسائل کے جوابات قلمبند کر رہے ہیں اور کئی علماء کے فتاویٰ منصہ شہود پر آکر داد تحسین حاصل کر چکے ہیں۔لیکن زیر نظر فتاویٰ اسلامیہ کا اسلوب عام فتاویٰ سے جداگانہ ہے کیونکہ یہ فتاویٰ جات مختلف نامور عرب علماء کے ہیں کہ جن کی علمی حیثیت کو دنیا تسلیم کرتی ہے اور عرب علماء کے پینل کے فتاویٰ میں علمی رسوخ اور پختگی تنہا عالم سے کہیں زیادہ ہے۔ پھر عرب علماء کا طریقہ استدلال انتہائی جانشین اور انداز بیان انتہائی شائستہ اور عام فہم ہے ایک عام قاری کو بھی ان فتاویٰ کے سمجھنے میں ذرا دقت نہیں ہوتی ۔پھر سونے پہ سہاگہ کہ اس کا ترجمہ نشرو اشاعت کے عالمی مسلمہ ادارے دارالسلام کی طرف سے کیاگیا ہے جس کی کتب کی طباعت و شستہ تحریر کے اپنے اور بے گانے سبھی معترف ہیں ۔ مترجم فتاویٰ چار جلدوں پر مشتمل ہے مترجم کی سلاست روانی قاری کو پریشان نہیں ہونے دیتی اور مترجم نے مفتیان کی تحریروں کی ایسی جاندار ترجمانی کی ہے کہ یہ ترجمہ محسوس ہی نہیں ہوتا۔یہ کتاب علمی ،فنی ،تکنیکی ہر اعتبار سے بے مثال ہے جو زندگی کے تمام مسائل،عقائد،نظریات،عبادات ،آداب و معاشرت الغرض زندگی میں پیش آمدہ مسائل کے تمام پہلوؤں کو محیط ہے ۔لہذا صاحب استطاعت لوگوں اور علمی ذوق کے حامل افراد کا اس کتاب کو خریدنا، گھر پر رکھنا اور زیر مطالعہ لانا از حد ضروری ہے ۔ اُمید ہے کہ فتاویٰ کے اس بہترین مجموعے سے علماء اور عوام دونوں کو رہنمائی حاصل ہوگی۔
-
اس وقت آپ کےپیش نظر ’فتاوی ارکان اسلام‘ ہے۔ اس میں عقائد و عبادات کے بارے میں مخصوص سوالات اورمشکلات کے ایسے جوابات فراہم کیے گئے ہیں، جن سے کتاب و سنت اور ادلہ شرعیہ کا مؤقف واضح ہو کر سامنے آ جاتا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت شاندار ہے، اس کو پڑھنے اور سمجھنے والا ایک خاص علمی اور تحقیقی ذوق محسوس کرے گا۔ عالم اسلام کے ممتاز محقق اور مفتی علامہ محمد بن صالح العثیمین کو اللہ تعالیٰ نے علمی رسوخ اور زہد و تقویٰ کی جیسی خوبیوں سے نوازا تھا۔ انہوں نے فتاویٰ کی مختصر مگر جامع کتاب میں عقائد و عبادات پر عامۃ المسلمین کے اذہان میں پیدا ہونے والے تمام تر امکانی سوالوں کے ادلہ شرعیہ کی روشنی میں ایسے محکم، مدلل اور دلنشیں جوابات مرحمت فرمائےہیں کہ جن سے قلب ونظر کو طمانیت اور ذوق عمل میں یقین کا عنصر شامل ہو جاتا ہے۔ کتاب کا اردو ترجمہ مولانا محمد خالد سیف نے کیا ہے جو نہایت سلیس اور جاندار ہے اور کسی بھی موقع پر یہ احساس نہیں ہوتا کہ فتاوی جات اصل میں عربی میں تھے۔