• Seerat Sayedna Ali Ibn Abi Taalib (R.A)

     3,750
    نبی کریم ﷺ کے بعد امتِ مسلمہ کے سب سےبڑے قائد اور اسلامی معاشرے کا سب سے عظیم نمونہ اور نمائند ہ شخصیت ابو بکر صدیق ؒ ہی تھے۔ خلافتِ راشدہ کی ابتدائی فتوحات، کامیابیاں اور خوبیاں عہد صدیقی ہی کی رہینِ منت تھیں۔ سیدنا ابو بکر صدیق ؒ ایمان و یقین، اطاعت و غلامی، محبت و وارفتگی اور ہمت و حوصلہ جیسے بے مثل خوبیوں سے مالا مال تھے۔ آیئے، ہم بھی اُنکی سیرت کی مطالعہ کر کے اپنے اعمال کو نکھارنے کا سامان کریں۔ This book relates the life of the Leader of the Believers, `Ali, may Allah be pleased with him, from birth until his martyrdom. The book relates also with detail how he came to Islam and his most important actions in Makkah, his migration to Madinah, his life in Madinah, his campaigns and battles alongside the Messenger of Allah, his life during the era of Rightly Guided Caliphs and his swearing of allegiance and his period of Caliphate. It also discusses the internal problems that `Ali faced during his reign. It goes on to mention the events that led to the Battle of the Camel, and how all the parties involved are free from any fault. Afterwards, the events of the Battle of Siffeen are mentioned, along with the relationship between `Ali and Mu`aawiyah. The book sheds light on the fallacies that are held by some deviant groups about these events and their distortion of historical truths.
  • سیرت کے موضوع پر لکھی جانے والی ایک دلفریب کتاب۔ اس کتاب کے مطالعے سے آپ نہ صرف محبت رسول ﷺ میں اضافہ محسوس کرینگے بلکہ آپ ﷺ کی سنت کو اپنی زندگی میں جگہ بناتا بھی دیکھینگے۔ کتاب نہایت ہی آسان اسلوب اور دلکش انداز میں لکھی گئی ہے۔

  • Sale!

    Seerat Umar Farooq R.A (2 Vol Set)

    Original price was: ₨ 4,950.Current price is: ₨ 4,499.

    عالم اسلام کے معروف اور مایہ ناز سیرت نگار دکتور علی محمد محمد الصلابی نے زیرِ نظر کتاب میں حضرت عمر فاروق ؒ کی سیرت کو نہایت ہی خوب سیرت پیرائے میں بیان کیا ہے اور ساتھ ہی اُس سنہرے دور کا نقشہ بھی کھینچہ ہے جس میں حضرت عمر نے اسلام کی بہترین خدمت کی۔ We are living in tumultuous times, but they are no less tumultuous than the era of Caliph `Omar Ibn al-Khattab (May Allah be pleased with him), whose life began in Jahiliyah and ended in the Golden Age of Islam. We can learn much from the history of this second caliph of Islam, who was faced with unprecedented challenges but met them successfully within the framework of shari`a and in accordance with the true spirit of Islam. For those who would be leaders, this book offers the model of an ideal Muslim leader, one who felt responsible before Allah for the well-being of all those under his rile, including his troops, women, infants, non-Muslims, and even animals. Caliph Omar was a `hands-on` leader who kept himself informed and consulted scholars and experts before every major decision. For the rest of us, this book offers a window into an exciting and important period of Islamic history, and it also reminds of an important lesson, that our strength comes not from wealth or money or status, but from our submission to Allah and our commitment to the path of Islam.

  • ۔ سیدنا عثمان غنی صرف کاتب وحی ہی نہیں تھے بلکہ قرآن مجید آپ کے سینے میں محفوظ تھا۔ آیات قرآنی کے شان نزول سے خوب واقف تھے ۔ بطور تاجر دیانت و امانت آپ کا طرۂ امتیاز تھا۔ نرم خو تھے اور فکر آخرت ہر دم پیش نظر رکھتے تھے ۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے عثمان کی حیا سے فرشتے بھی شرماتے ہیں ، تبلیغ و اشاعت اسلام کے ليے فراخ دلی سے دولت صرف فرماتے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ اے عثمان اللہ تعالٰی تجھے خلافت کی قمیص پہنائیں گے ، جب منافق اسے اتارنے کی کوشش کریں تو اسے مت اتارنا یہاں تک کہ تم مجھے آملو۔ چنانچہ جس روز آپ کا محاصرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھ سے حضور نے عہد لیا تھا ( کہ منافق خلافت کی قمیص اتارنے کی کوشش کریں گے تم نہ اتارنا ) اس ليے میں اس پر قائم ہوں اور صبر کر رہا ہوں ۔ 35ھ میں ذی قعدہ کے پہلے عشرہ میں باغیوں نے سیدنا عثمان ذوالنورین کے گھر کا محاصرہ کیا اور آپ نے صبر اوراستقامت کا دامن نہیں چھوڑا، محاصرہ کے دوران آپ کا کھانا اور پانی بند کردیاگیا تقریبا چالیس روز بھوکے پیاسے82سالہ مظلوم مدینہ سیدنا عثمان کو جمعة المبارک 18ذو الحجہ کو انتہائی بے دردی کے ساتھ روزہ کی حالت میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوے شہید کردیا گیا۔سیدنا عمر فاروق کے بعد امت کی زمامِ اقتدار سنبھالی اور خلیفۂ ثالث مقرر ہوئے ۔ ان کا دورِ حکومت تاریخ اسلام کا ایک تابناک اور روشن باب ہے ۔ ان کے عہد زریں میں عظیم الشان فتوحات کی بدولت اسلامی سلطنت کی حدود اطراف ِ عالم تک پھیل گئیں اور انہوں نے اس دور کی بڑی بڑی حکومتیں روم ، فارس ، مصر کےبیشتر علاقوں میں پرچم اسلام بلند کرتے ہوئے عہد فاروقی کی عظمت وہیبت اور رعب ودبدبے کو برقرار رکھا اور باطل نظاموں کو ختم کر کے ایک مضبوط مستحکم اورعظیم الشان اسلامی مملکت کواستوار کیا ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سیرت عثمان ذوالنورین ‘‘عرب کےمایہ ناز مؤلف ومحقق دکتور علی محمد محمد صلابی کی خلیفۂ ثالث ، داماد رسول ، جامع قرآن ، پیکر حیا، سیدنا عثمان بن عفان کی سیرت پر مستند تصنیف ہے۔دکتور صلابی نے اس کتاب میں عہد عثمانی کےتمام واقعات کومستند حوالوں سے بیان کیا ہے اور ان کےہر پہلو کانہایت احتیاط سےجائزہ لیا ہے۔اس کتاب کی ایک منفرد خصوصیت یہ ہےکہ اس میں عہد عثمانی کی نہایت اہم معلومات اجاگر کرنے والے 19 نادر نقشے شامل ہیں ۔اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم اور ناشرین کی اس عمدہ کاوش کو قبول فرمائے اور یہ کتا ب مسلمانوں میں سیدنا عثمان جیسی صفات جلیلہ پیدا کرنے کاباعث بنے
  • In this book, the events of the Prophet`s life, from the day he (Peace and Blessings of Allah be upon him) was born and even before that day for background information-until the day he (Peace and Blessings of Allah be upon him) died, have been recorded. Beyond enumerating the events of the Prophet`s life, lessons and morals from those events have been drawn to point out the significance of an event and the wisdom behind the Prophet`s actions or deeds, the Islamic ruling that is derived from a particular incident, and the impact that a given event should have on our character or choice of deeds is indicated.
  • Darussalam presents this booklet with the intention of providing information, knowledge and wisdom of the Islamic teaching of the woman. The increasingly important roles that woman are playing in today`s world highlight the importance of providing them the correct and reliable information Islam furnishes about them. The Islamic rulings that appear in the form of fatawa in this booklet are from the highest scholarly sources of our holy land and encompass those subjects and topics which are related to the daily routines and acts of worship.
  • Shadi se Shadiyo Tak

     350
    یہ ایسی دو صاحبِ ایمان خواتین کی کاوش ہے، جو دنیا کے سب سے ترقی یافتہ ملک میں پیدا ہوئیں، وہیں بڑھی پلیں اور مروّجہ تعلیمی نظام سے مستفید ہوئیں۔ انھوں نے اپنے گردوپیش کے حالات بچشم خود دیکھے، نہایت قریب سے انھیں محسوس کیا اور ان عورتوں کو بھی دیکھا جنہیں بظاہر بڑی `آزادیاں` حاصل ہیں۔ مگر یہ سب کچھ آزادیوں کے نام پردیا گیا ایک دھوکہ ہے۔ مرد شادی تو ایک ہی کرتا ہے، مگر معاشرتی اسقام اور دانستہ کھلے چھوڑے گئے چور دروازوں سے اپنی ہوسناکیوں کی تسکین کرتا رہتا ہے۔ اسلام اور مثالی اسلامی معاشرہ چونکہ کوئی چور دروازہ نہیں چھوڑتا، اور حدود کو پھلانگنے والوں کے لیے حد اور تعزیزر کا اپنا نظام رکھتا ہے، اس لیے اس نے مرد کے ذوقِ تنّوع اور دیگر حقیقی ضرورتوں کو درونِ خانہ ہی پوری کرنے کا بندوبست کیا ہے، اسی کو تعدّ اد ازواج سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ مگر ایک بیوی بلعموم دوسری بیوی کو برداشت نہیں کرتی، اسے سوکن قرار دے کر اپنی روایتی حریف سمجھتی ہے۔ مصنفات کتاب ہذا نے سوکن کے مروّجہ مفہوم کے حوالے سے پھیلی ہوئی غلط فہمیاں دور کی ہیں اور اس تجربے میں سے بسلامت گزر کر ثابت کر دکھایا ہے کہ اسلام نے جب تعدّ اد ازواج کی اجازت دی ہے تو اس نے اس سے عہدہ برآ ہونے کی تدابیر بھی بتائی ہیں۔ وہ تدابیر کیا ہیں؟ اس سے آگہی کے لیے ان خواتین کی اس کاوش سے آگاہ ہونا بہت ضروری ہے۔ اُمید ہے کہ ہماری بہنیں اور بیٹیاں اس کو نہایت دلچسپ کتاب پائیں گی۔
  • کسی بھی انسان کی شخصیت ہی ہے جو کسی دوسرے انسان کو اُسکے اچھے یا بُرے ہونے کا پتا دیتی ہے۔ موجودہ دور میں شخصیت کو بطور مکمل موضوع کے پڑھا اور پڑھایا جاتا ہے۔ زیرِ نظر کتاب میں شخصیت سازی کے ان تمام سنہرے اصولوں سے قاری کو روشناس کراگیا ہے جنہیں اپنا کر وہ نہ صرف اپنی شخصیت کو خوشگوار بنائیگا بلکہ اپنی زندگی میں بھی خوبصورت تبدیلی کا تجربہ کر پائیگا۔  اس کتاب کا مطالعہ تمام عمر کے مسلمانوں اور بلخصوص نوجوان مسلماموں کے لیے بے حد مفید ہے۔
  •  شرح العقیدۃ الوسطیہ ایک بہترین کتاب ہے جس میں اسلام کے تمام بنیادی عقائد کو نہایت آسان انداز میں بیان کیا گیا کہ بات قاری کے دل میں اُتر جائے اور وہ صحیح عقیدہ حاصل کر سکے۔ اس کتاب میں اللہ کی ذات اور صفات کے حوالے سے بھی مکمل رہنمائی کی گئی ہے۔
  • In this book, the author has widely described the main principle of Taqleed. He says that Allah and Prophet Mohammed (SAW) have not ordered us to follow any opinions and interpretations. So there`s a possibility of being correct or incorrect in the opinions because there are many issues on which the Imams had different views and they explain them according to their own reasons and speculations, but the real and true Islam is based on the book (Quran) and Prophet`s Sunnah. Allah says: `But no, by your Lord, they can have no Faith until they make you judge in all disputed matters between them, and find in themselves no resistance against your decision, and accept them with full submission.` And the prophet said: `I leave you with two things as long as you hold them tightly, you never go astray: they are the book of Allah and my Sunnah.` In this sense, the author has described the difference between different Madhahib (madhabs/mazhabs), and their views and urged to follow only the Quran and Sunnah.
  •   `شکر` صفات حسنہ میں بہت اہمیت کا حامل ہے اور `توبہ` مغفرت کے وسائل میں ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ شکر اور توبہ کی یہ دونوں کیفیات کسی بندہ مومن کو میسر آجائیں تو یہ ایک خوش نصیبی اور سعادت کی بات ہے۔ ہمیں اور بہت سی تعلیمات کی طرح ان دوبنیادی اوامر کی طرف کتاب و سنت میں جابجا توجہ دلائی گئی ہے۔ محترم بشیر احمد لودھی ایک نووارد مصنف ہیں، مگر ان کے قلم میں ایسی پختگی ہے جس کا تقاضا کتاب و سنت میں موجود ہے۔ انھوں نے اس مختصر مگر جامع کتاب کے ہر باب میں صرف اور صرف کتاب و سنت ہی کے چشمہ صافی سے رجوع کیا ہے، جس کے باعث ان کی یہ کتاب ایک طالب ہدایت کے لیے نسخہ شفا ہے۔ دارالسلام کے شعبئہ تحقیق نے اس کتاب کے حوالوں کی تخریج کر کے اسے چار چاند لگا دیے ہیں۔ اب یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک سادہ اسلوب اور پختہ فکر کی نمائندگی کرتی ہے۔ عامتہ المسلمین انشا ءاللہ اس کے مطالعے کو اپنے لیے نافع اور مفید  محسوس کریں گے۔
  • One of the wise people once said: `I am amazed at the one who feels grief over the loss of his wealth but yet he does not feel grief over the loss of his lifes pan (which occurs daily).` So strive hard in worship (of Allah), weep over your sins and flee from the punishment (in the Hereafter). The victorious one is he who directs his hopes toward that which is everlasting and cuts off his aspirations for that which is temporary. When Muhammad bin Sirin was about to die, he wept. It was said to him: `Why are you weeping?` He replied: `I am weeping due to my lapses in the days that have passed and the small number of deeds that I performed seeking the lofty Paradise.
  • The day of Judgement in sure to come, but when it will be, it is a matter known to only Allah the Great. But the Prophet Muhammad (PBUH) has told us about some sings that indicate that the day is coming nearer and nearer. Such signs are of three types: the first type of signs have already come to pass, the second type of signs are those that appear gradually with the passage of time. The third type is of the signs that appears just very near too the Day- these are called the Greater Signs of the Day. In this book we have dealt with the first two types of the signs that are known to be the Smaller Signs of the Day.
  • This book shares with its reader the humbling incidents of Muslims around the world that repented in front of their Lord and decided not to live a life of disobedience anymore. This book will provide the insight into the limitless mercy of Allah (S.W.T) and inspire the reader to live his/her life according to the fitra’h created by the most beautiful Creator, Allah.   ہم میں سے کون ہے جس نے گناہ نہ کیا ہو؟ ہم میں سے کون ہے جس نے تمام احکام با کمال پورے کیے ہوں؟ ہم سب ہی بحیثیتِ انسان گناہ گار اور خطا کار ہیں اور ہمیشہ اپنے رب کی رحمت اور مغفرت کے طلبگار ہیں۔ ہم میں سے بہتر وہی ہیں جو اپنی خامیوں، کمیوں اور غلطیوں کو پہچانتے ہوں اور اپنے رب کے آگے توبہ کر کے اُسکی رحمت کے طلبگار ہوں۔ یہ کتاب ایسی ہی لوگوں کی سچی کہانیوں کا مجموعہ ہے جو اپنے رب سے مایوس نہیں ہوئے اور اُسکے آگے اپنی غلطی کا اعتراف کر کے معافی کے طلبگار ہوئے۔ آیئے، ہم بھی ان سچے واقعات سے اپنی مغفرت کا سامان کریں۔
  • صحابہ کرام رضی اللہ عنہُم میں بعض ایسی بھی شخصیات تھیں جو زمانہ کفر میں بھی بڑا نمایاں مقام رکھتی تھیں اور جب اسلام قبول کیا تو ان کی صلاحیتوں کو مزید جلا ملی اور انھوں نے کفر کی حالت میں اسلام کو جو نقصان پہنچایا تھا اس کی بھر پور تلافی کرنے کی کوشش کی-ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سیدنا سہیل بن عمر رضی اللہ عنہ کا نام بڑا نمایاں ہے- سید نا سہیل بن عمر رضی اللہ عنہ زمانہ کفر میں بھی بڑے دانا ،سمجھدار ،مدبر،خطیب،شاعراور کامیاب سفارت کار تھے- وہ گفتگو کرنے کا سلیقہ اور طریقہ خوب جانتے تھے –حدیبیہ کے مقام پر قریش کی طرف سے سفیر بن کر آتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صلح حدیبیہ کی شرائط پر قریش مکہ کی طرف سے دستخط کرتے ہیں – پھر ایک دن آیا ،ان کی قسمت نے پلٹا کھایااوروہ فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کر لیتے ہیں
  • This is the English translation of Sunan Abu Dawud (originally by Abu Dawud Sulaymān ibn al-Ash‘ath al-Azdi as-Sijistani)) (5 Volume Set)  which is published by Darussalam with commentary after each hadith. Unlike other prints, this edition has crisp and clear printing in deluxe bounding. Like the other translations of the six books of hadith, Darussalam Publications, has taken great care in correct translation, simple and clear modern English language, and high-quality publishing. Ahadith in the book are followed by comments to explain issues and to help readers derive lessons. To aid readers further, Darussalam has added several features like the section on how to benefit from Sunan Abu Dawud, about the Arabic and technical terms used, information about the hadith compilations and a glossary of Islamic terms in the last volume. Each hadith is also followed by its status in regards to the authenticity. The status is explained more in detail in the Arabic text. The chain is also complete in the Arabic text while it is removed from the English to reduce the length and not being of much benefit to the English readers.
  • Sale!

    Sunan An Nasai 7 Volumes Set

    Original price was: ₨ 27,000.Current price is: ₨ 25,750.
    This Sunan is one of the six is al-Mujtaba or as-Sunan as-Sughara, which is a synopsis of a large collection of Ahadiths which he considered to be fairly reliable. In the smaller collection, only those Ahadiths which he considered to be reliable have been included. It was compiled by the great scholar of Ahadith’s, Abu Abdur-Rahman Ahmad bin Shu`aib bin An-Nasai.  Imam An-Nasai, like other great scholars of Ahadith’s traveled to Baghdad, Ash-Sham, Egypt, Makkah, and many other cities to seek knowledge. He received the praises of many scholars including Ad-Daraqutni who said about him: `He is given preference over all others who are mentioned with this knowledge from the people of his time`. Some scholars consider his compilation to have the least number of defective or weak narrations among the four Sunans. This great book of his contains 5761 Ahadiths, making it as an invaluable addition to anyone`s library.
  • Sale!

    Sunan Ibn e Majah (5 Vol. Set)

    Original price was: ₨ 26,000.Current price is: ₨ 21,750.
    اس وقت آپ کے سامنے صحاح ستہ کی آخری کتاب ’سنن ابن ماجہ‘ کا سلیس اور رواں اردو ترجمہ ہے۔ صحاح ستہ میں سے بخاری و مسلم کی تمام احادیث کی صحت پر محدثین متفق ہیں لیکن بقیہ چار کتب ایسی ہیں جن میں صحیح احادیث کے ساتھ ساتھ ضعیف احادیث بھی شامل ہیں۔سنن ابن ماجہ کو پانچویں صدی ہجری کے آخر میں کتب ستہ میں شمار کیا جانے لگا۔اس کے بعد ہر دور میں یہ  کتاب اپنی حیثیت منواتی گئی ۔ صحت و قوت کے لحاظ سے صحیح ابن حبان، سنن دار قطنی اور دوسری کئی کتب سنن ابن ماجہ سے برتر تھیں لیکن ان کتب کو وہ پذیرائی اور قبول عام حاصل نہ ہوسکا جو سنن ابن ماجہ کو حاصل ہوا۔’سنن ابن ماجہ‘ کا اسلوب نہایت شاندار ہے اور تراجم ابواب کی احادیث کی مطابقت نہایت واضح ہے۔ کتاب مختصر ہونے کے باوجود احکام و مسائل میں نہایت جامع ہے۔ امام ابن ماجہ نے اپنی سنن میں 482 ایسی صحیح احادیث کا اضافہ کیا ہے جو باقی کتب خمسہ میں نہیں ہیں۔ ’سنن ابن ماجہ‘ کی اسی اہمیت کےپیش نظر مولانا عطاء اللہ ساجد نے افادہ عام کے لیے اسے اردو میں منتقل کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ مولانا نے کتاب کا عمدہ ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہر حدیث سے ثابت ہونے والے فوائد کا بھی متصل تذکرہ کیا ہے۔ حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کی نظر ثانی اور تصحیح و اضافات نے کتاب کی افادیت کو بڑھا دیا ہے۔ تخریج و تحقیق کے لیے حافظ زبیر علی زئی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں انہوں نے ہر حدیث پر اپنی تحقیق کے مطابق حکم لگایا ہے کہ وہ صحیح، حسن یا ضعیف ہے۔
  • چونکہ نبی کریم ﷺ ، صحابہ کرام، تابعین وتبع تابعین، فقہائے کرام اور سلف صالحین کی  زندگی امت مسلمہ کے ہر فرد کے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے اس لیے اس امر کی شدید ضرورت محسوس  کی جارہی تھی کہ ان تابندہ ستاروں کی زندگی کے درخشاں واقعات کو اختصار کے ساتھ یکجا کیا جا سکے- زیر مطالعہ کتاب میں عبدالمالک مجاہد نے اسلامی تاریخ کے انہی چنیدہ ستاروں کے  واقعات احاطہ تحریر میں لائے ہیں- مصنف نے سیرت رسول ﷺ، صحابہ کرام ، تابعین  اور اس کے بعد ترتیب وار سلف صالحین اور نامور سلاطین کے سبق آموز اور دلچسپ واقعات کا تذکرہ کیا ہے کتاب میں ذکر کردہ مصادر صحیح اور مستند ہیں- اسلاف کے تفقہ، رسوخ فی العلم، تواضع، ایثار اور اعلائے کلمۃ الحق کے یہ واقعات ہر مسلمان مرد اور عورت کے لیے گرانقدر راہنمائی فراہم کرتے ہیں
  • زیر مطالعہ کتاب بھی مولانا عبدالمالک مجاہد صاحب کی دیگر کتب کی طرح سبق آموز اور دلچسپ داستانوں پر مشتمل ہے- مولانا نے کہانی کے انداز میں زندگی کی اٹل حقیقتیں جچے تلے لفظوں میں بیان کر دی ہیں-ایک مرد مؤمن فقط احکام الہی کا پابند اور محمد  ﷺ کا پیروکار ہوتا ہے دنیا کی کوئی بھی طاقت مؤمن کے ایمان کو شکست نہیں دے سکتی- یہ نظارہ دیکھنا ہو تو لشکر اسامہ کی روانگی کے زیر عنوان حضرت ابوبکر کی استقامت ملاحظہ فرمائیں- حضرت عمر بن عبدالعزیز کے احوال پڑھ کر اسلام کے طریق سیاست وحکومت سے آگاہ ہوں- قرآن کریم کی اثر آفرینی ملاحظہ کرنی ہو تو حضرت عمر اور ان کی ہمشیرہ فاطمہ کا واقعہ پڑھئے- ایک مسلمان کا شباب اسلام کے لیے کس حد تک کار آمد ثابت ہوسکتا ہے اس کی تفصیل جاننی ہو تو کتاب میں موجود عمیر بن حمام، اسامہ بن زید اور طارق بن زیاد کی سیرت ملاحظہ فرمائیے-کتاب میں جہاں آپ کو سعید بن جبیر اور امام احمد بن حنبل کی دلکش سیرت کے جلوے نظر آئیں گے وہیں حضرت عثمان کی اہلیہ محترمہ کو تھپڑ مارنے والے انجام بھی دیکھنے کو ملے گا- مختصرا یہ کتاب نیکی اور بدی کے کرداروں کا حیرت انگیز نگار خانہ ہے جس کے مطالعے سے دل ودماغ کے بند دریچے کھلتے ہوئے نظر آئیں گے
  • Sunehre Awraq

     2,350
    تاریخ اسلامی دلچسپ اور سبق آموز واقعات سے بھری پڑی ہے- اس موضوع پر اب تک بہت سی کتب لکھی جا چکی ہیں لیکن وہ کافی تفصیلی اور ضخیم ہیں جن کا مطالعہ کھلے وقت کا متقاضی  ہے- کتاب ہذا میں مصنف نے حقائق پر مبنی دلچسپ واقعات کو آسان اور سلیس زبان میں بیان کر دیا ہے- کتاب کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہماری تاریخ میں کس قدر عظیم لوگ پیدا ہوئے جن کے کارہائے نمایاں روز روشن کی طرح عیاں ہیں یہ ایسے سنہرے اوراق ہیں جو بچوں، بڑوں غرض ہر عمر کے لوگوں کے لیے یکساں دلچسپی کے حامل ہیں-مصنف نے حتی الامکان کوشش کی ہے کہ صرف وہی واقعات ذکر کئے جائیں جو تاریخی اعتبار سے درست ہیں اور جن کے حوالہ جات موجود ہیں 
  • ـ’’سنہرے فیصلے‘‘ کے عنوان سے زیرِ نظر کتاب میں نبیﷺ، صحابہ کرام ؓ، نامور مسلم حکمرانوں اور قضیانِ کرام کے وہ فیصلے شامل کیے گئے ہیں جن سے دینا میں عدل و انصاف کی سنہری روایات قائم ہوئی ہیں اور آنے والے حکمرانوں،قاضیوں اور ججوں کو ان سے گرانقدر رہنمائی ملتی ہے۔ ان تابندہ روایات اور واقعات کو اس لیے بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ اسلامی معاشرے میں صالح اقدار پھر سے فروغ پائیں اور عوام اسلام کے انفرادی و اجتماعی عدل کی برکتوں سے مستفیدہونے لگیں۔
  • دعائیں کیا ہیں؟ دراصل التجائیں ہیں جو انسان اپنے رب کے حضور پیش کرتا ہے۔مشکل ترین اوقات میںبے اختیار اس کی زبان سے ’’یا اللہ‘‘ نکلتا ہے۔ اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کوحکم دیا ہے کہ اس کو پکاریں، وہ ان کی دعائوں کو قبول کے گا۔اگر آپ نبی کریمﷺ کے صبح و شام کے معمولات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر مرحلے پر آپ نے اپنے رب سے دعا مانگی۔ ان دعائوں میں یا تو آپ نے اپنے رب سے دنیا و آخرت کی بھلائیاں طلب کیں، یا نقصان دہ امور سے اس کی پناہ مانگی، یا اس کی تسبیح و تعریف کی اور اس کا شکر ادا کیا اور پھراپنے صحابہ کرام کو بھی اپنے رب سے تعلق پیدا کرنے کا حکم دیا اور انہیں کثرت سے دعائیں مانگنے کی تلقین فرمائی۔ اس کتاب میں روز مرہ کی صرف اہم دعائیں ذکر کی گئی ہیں جن سے عام آدمی کو واسطہ پڑتا ہے۔ اس کتاب سے مدد لیں اور اپنے رب سے مانگیں خوب مانگیں، ہر روز مانگیں، ہر وقت مانگیں۔ آپ خشوع وخضوع سے،گڑگڑا کر،دل کی توجہ سے دعا کریں گے تو آپ زندگی میں بہت بڑی تبدیلی آئے گی۔ 
  • Sunehri Kirney

     3,350
    اسلام نےخواتین کو جو مقام عطا کیا اورانہیں جواہمیت دی ہے اس کی مثال دنیاکاکوئی دوسرامذہب دینےسےقاصرہےبھلا اور کس مذہب میں آپ کو ملے گا کہ ماں کےقدموں کےنیچےجنت ہےاور کس مذہب کےرہنما آپ کو بتائیں گے کہ ہماری خدمت اور حسن سلوک کی سب سے زیادہ حقدار ہماری مائیں ہیں ۔اور حقیقت یہی ہے کہ شروع ہی سے ہماری نوزائیدہ نسلیں اپنی بالیدگی ،تربیت او ر نشوونما کےلیے اپنی ماؤں کی محتاج رہی ہیں بچوں کی تربیت اور او ران کی مناسب انداز میں اٹھان اتنا بڑا کام ہے اور اس کےلیے اتنی توجہ ،صبر،محبت  اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے کہ جو مرد کے بس سے باہر کی بات ہے ۔الغرض اسی طرح عورت اپنے ہر رشتے کے اعتبار سے بھی  مقدس ومحترم ہوتی ہے چاہے وہ ایک ماں ،نانی،دادی،بہن،بیٹی ،خالہ اور پھوپھی کے روپ میں ہو یا ساس ،بہو کے روپ میں۔عورت کی شخصیت کےایسے تمام پہلو جن میں اس کی ذہانت ،شجاعت،تقوی،پرہیز گاری او ربہادری ظاہرہوتی ہو اس کتاب کی زینت ہیں۔
  • Sunehri Seerat

     2,900
    The biography of the Prophet Muhammad (Peace and Blessings of Allah be upon him) is a very noble and exalted subject by which Muslims learn about the rise of Islam, and how the Prophet Muhammad (Peace and Blessings of Allah be upon him) was chosen by Allah (SWT) to receive the divine revelation. You also learn about the hardships the Prophet (Peace and Blessings of Allah be upon him) and his Companions faced, and how they eventually succeeded with Allah`s help. So, it is necessary to study the Prophet`s life and follow it in all manners. We hope this study will help you to get the better understanding of the religion. In this sense, this is one of the best books which are meant to be read and read again.

Title

Go to Top