ہر معاشرے میں ایسے شخص کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جو اول (پہلی) پوزیشن حاصل کرتا ہے۔ اور یقینا ہر ایک کے نصیب اور مقدر میں یہ چیز نہیں ہوتی ، جیسا کہ در باب رسالت میں ایک دفعہ آپ ﷺ نے فرمایا: میری امت کے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے، یہ سن کر سب سے پہلے حضرت عکاشہ کھڑے ہوئے اور عرض کی اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے لیے دعا کریں میں انہی میں شامل ہو جاؤں آپ نے دعا کردی اور فرمایا جا تو انہی میں سے ہوگا اتنے میں ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا کہ میرے لیے بھی دعا کریں میں بھی ان میں سے ہو جاؤں آپ نے فرمایا: نہیں، یہ نمبر عکاشہ لے گیا۔ ایک عرصہ سے کسی تاریخی پہلو پر کچھ لکھنے کی تمنا تھی سو اس موضوع کے ساتھ اسے پورا کرنے کی سعی کی گئی۔ اس کتاب کی تکمیل میں خصومی معاونت امام سیوطی وغیرہ کی اوائل سے لی گئی ہے۔ ہم نے حتی الوسع صحت و ضعف کا خیال رکھا ہے۔
-
Sale!
اس کتاب کا موضوع یوں رکھا ہے کہ ابلیس کے فتنوں سے ہوشیار کرنے والی، اس کی قبیح بے ہودگیوں سے ڈرانے والی، اس کی چھپی چالوں کو کھولنے والی اور اس کے خفیہ دھوکے ظاہرکرنے والی ہے۔ اللہ تعالی ہرسچے کی مراد پوری کرنے والا ہے اور اس کتاب کو تیرہ ابواب میں منقسم کیا گیا ہے۔ ان سب کے مجموعہ سے شیطان کی تلبیس کھل جائے گی اور سمجھ دار کو اس کی تلبیس کو سمجھنا آسان ہو گا۔ اور جس بندہٌ صالحہ نے اس پر عمل کرنے کا عزم مصمم پختہ کیا تو اس سے شیطان ہار کر چیخ اٹھے گا۔ اس کے علاوہ اس کتاب میں گمراہ فرقوں اور مذاہب کا بھی بیان ہے۔
-
Sale!
نبی کریم ﷺ کو الله تعالی نے کی اعزازات سے نوازا ہے جن میں سے ایک آپ کا آخری نبی ہونا ہے آپ کے بعد قیامت تک کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا، اسی پر ہر مسلمان کا ایمان ہے۔ کتاب وسنت اور اجماع امت کی روشنی میں جو بھی عقیدہ ختم نبوت سے انحراف کرے گا وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوجائے گا۔ اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کو خاتم النبیین قرار دیا اور آپ نے فرمایا: میرے ذریعے سے نبیوں کا سلسلہ اختتام پذیر ہوا، اب دوسرا کوئی نبی پیدا نہیں ہو گا۔ فتنوں کے اس دور میں عقیدہ ختم نبوت اساس ہے ہے مضبوطی سے تھامنا اور اس کے برعکس ہر قیل و قال سے اجتناب ازحد ضروری ہے۔ عقیدہ ختم نبوت کے اثبات اور اس پر اعتراضات کے جوابات سے متعلق علمائے برصغیر پاک و ہند کی کاوشیں لائق تحسین ہیں۔ ان میں سے ایک نام محدث العصر حافظ زبیر علی زئی کا ہے جنہوں نے اس سلسلے میں کئی مقالات تحریر کیے اور وہ عوام و خواص میں بہت زیادہ مقبول بھی ہوئے۔
-
Mishkat Al-Masabih is a prominent book of hadith and infect a combination of two books: a) Masabih As-Sunnah b) Mishkat. It is one of the top most books of ahadith and is taught in various Madaris as a text book. It is one of the reason that the people of knowledge have written many commentaries on it. It is also important for one who reads Mishkat to also read about the Asma wa Ar-Rijal which is also discussed in this book towards the end. The Mishkat al-Masabih of Imam Waliuddin Abu Abdullah Mahmud Tabrizi is a comprehensive book on hadith taught around the world to students of the subject, especially in the Subcontinent where it is studied before the six famous collections, to be able to prepare for them. Most of the hadith contained in it are from the Sihah Sitta [The six Authentic compilations of Hadith] -
امیر المومنین فی الحدیث امام محمد بن اسماعیل البخاری کا نام ان عظیم لوگوں میں شامل ہے جنہوں نے حدیث رسول پر مشتمل ایک ضخیم کتاب لکھی جو صرف صحیح احادیث پر مشتمل ہے، جس کو کتاب اللہ کے بعد اصح الکتب کا درجہ ملا۔
اس مختصر رسالہ کے مطالعہ سے صحیح البخاری کے منہج و اسلوب اور اہم مباحث مثلاً صحیح البخاری کے متعلق روایات، صحیح کے مضامین، رواۃ، ابواب اور خصوصیات وغیرہ کے متعلق جامع بحث کی گئی ہے۔
-
بہت سے لوگ فضائل و مناقب میں ضعیف، موضوع اور بے اصل روایات علانیہ بیان کرتے رہتے ہیں اور اللہ کی پکڑ کا انہیں کوئی ڈر نہیں ہوتا۔ ایک دن ساری مخلوقات کو اللہ کے دربار میں پیش ہونا اور خاص طور پر جن و انس کو اپنے اقوال و افعال کا حساب دینا ہے۔ اس دن مجمرمین کہیں گے: ہائے ہماری تباہی! یہ کیسی کتاب ہے جس میں ہر چھوٹی بڑی بات درج ہے اور وہ اپنے اعمال کو اپنے سامنے حاضر پائیں گے۔ اس کتاب میں صحابہ کرام کے عقائد، احکام، اعمال اور فضائل کی بنیاد قرآن مجید، صحیح احادیث، اجماع اور صحیح ثابت آثار سلف صالحین پر ہے۔
-
سود خور نہ صرف حرام کام کا مرتکب ہوتا ہے بلکہ اللہ رب العزت کے ساتھ اعلان جنگ بھی کر دیتا ہے۔ سود ہمارے معاشرے کا نسور بن چکا ہے۔ مختلف حیلوں بہانوں سے اسے جائز قرار دے کر عام کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ جہاں ایک طرف بعض عوام الناس قیل و قال کے ذریعے سے سود کو رائج کرنا چاہتے ہیں وہاں بہت سے درد دل رکھنے والے اہل علم اس کے دنیاوی و اخروی نقصانات سے آگاہ کرنے کے لیے کمبر بستہ بھی ہیں۔ عالم عرب کے معروف اسکالر فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر سعید بن علی بن وھف قحطانی جو مصنف کتب کثیرہ ہیں اور اہم موضوع پر بروقت قلم اٹھانا ان کا خاصا ہے۔ اپنی زیر نظر کتاب میں سود کا بیان میں انہوں نے کتاب و سنت کی روشنی میں سود کے دینی و دنیاوی نقصانات سے عام فہم انداز میں آگاہی دی ہے۔ -
Pareshani se Nijat?
Kiya aap ka koi maqsad hai? or aap chahte hein ke wo poora ho or aap ki har pareshani khatam ho jaye to is ke liye hum aap ko bohat chota sa nihayat mukhtasar Wazifa batayengay jis se jald az jald aap ki murad poori hogi or aap ki tamam pareshaniya khatam ho jayengi.Roz baad Namaz e Asar jaye Namaz par beth kar 3 dafa Surah Ikhlas parhein or Dua karein Insha Allah aap ki har jaiz murad poori hogi or aap ki tamam pareshaniya khatam ho jayengi. There are a lot of virtues and benefits of this Durood-e-pak. Those benefits and advantages we cannot even imagine. This is why this Islamic prayer to solve very hard problems has magnificent and speedy results. In just 1 night if ALLAH wills. -
مولانا ابوالکلام آزاد نے ’’ الہلا ل ‘‘ سے اردو صحافت کی عظمت کی بنیاد رکھی ۔ انہوں نے اس اخبار میں کئی مضامین ایک ہی عنوان سے لکھے ، جیسے ’’انسانیت موت کے دروازے پر‘‘ اس میں مشاہیر کے انجام زندگی کا صحیح نقشہ پیش کیا گیا ہے ۔ جو لوگ دنیا میں مناصب ومراتب کی انتہائی بلندیوں پر فائز ہوجاتے ہیں اور اپنے اوصاف و کمالات کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا لیتے ہیں تو طبعی طور پر عام انسانوں کو یہ معلوم کرنے کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی زندگی کی ابتدا کیسے ہوئی اور موت کا سامنا کیسے کیا ۔ اس کتاب میں انتالیس مشہور شخصیات کا ذکر ہے ۔جن میں سے عشرہ مبشرہ میں سے بھی چند صحابہ کا ذکر ہے ۔ حضرت امام حسین کا ذکر خصوصی طور پر کیا گیا چونکہ ان کے واقعہ شہادت میں لوگوں کی عقیدت اور عظمت و شہرت کے تصور نے کچھ ایسے حالات شامل کردیے ہیں جو تاریخی اعتبار سے محل نظر ہیں ۔ اس لیے ان کے بیان تذکرہ میں مولانا نے انتہائی تحقیق و تفتیش سے کام لیا ہے ۔ اسی طریقے سے حجا ج بن یوسف کا خصوصی ذکر ہے کیونکہ جس بندہ نے ہزار وں مخلوق کو موت کے گھاٹ اتا را اس نے خود کیسے موت کا سامنا کیا؟ ایسی نایاب کتابیں بہت کم لکھی جاتی ہیں جس میں کسی کی بھی موت کا ذکر ہو چہ جائیکہ بڑے اشخاص کی موت کا ذکر کیا جائے۔ -
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات میں جہاں روحانی اور باطنی بیماریوں کے حل تجویز فرمائے وہیں جسمانی اور ظاہری امراض کے لیے بھی اس قدر آسان اور نفع بخش ہدایات دیں کہ دنیا چاہے جتنی بھی ترقی کر لے لیکن ان سے سرمو انحراف نہیں کر سکتی۔ زیر نظر کتاب حافظ ابن قیم کی شہرہ آفاق تصنیف ’زاد المعاد فی ہدی خیر العباد‘ کے ایک باب ’الطب النبوی‘ کا علیحدہ حصہ ہے جسے ایک کتاب کی شکل میں الگ سے طبع کیا گیا ہے۔ مولانا کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ دعا اور دوا کے سلسلے میں افراط کا شکار ہیں لیکن یہ دونوں نقطہ ہائے نظر تعلیمات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے میل نہیں کھاتے بیماری کے علاج کے لیے دعا اور دوا دونوں از حد ضروی ہیں۔ -
Hadyah Al Musalla Al Maroof Fazail e Namaz Written By: Hafiz Nadeem Zaheer. Book is very interested and informative.آج نماز کے حوالے سے بہت سی کتابیں آپ کو دیکھنے کو ملیں گی جن میں نہ صرف اپنے اپنے مسلکوںکا دفاع کیا جاتاہے بلکہ ضعیف اور موضوع روایات درج کرنے میں بھی کسی قسم کے تردد سے کام نہیں لیا جاتاجس وجہ سے عوام لناس میں نماز کی ادائیگی میں بہت تفاوت نظر آتا ہے. اس لیے اس تفاوت کو ختم کرنے اور باہمی اختلاف کو دور کرنے کے لیے ایک ایسے طریقے کی ضرورت ہے جو بالکل وہ طریقہ ہو جس کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی ادائیگی فرمائی اور بعد میں صحابہ کرام نے بھی اسی طریقے کو اختیار کیا- زیر نظر کتاب ڈاکٹر سید شفیق الرحمن کی طرف سے نماز نبوی پر لکھی جانے والی ایک بہترین کاوش ہے- ان کا اندازانتہائی آسان اور عام فہم ہے اور نمازکے متعلق تقریباً تمام موضوعات کو جمع کردیا گیا ہے ۔
جن میںطہارت کے مکمل مسائل، وضو اور تیمم کا طریقہ اور تکبیر اولی سے سلام تک مکمل نماز نبوی کے ساتھ ساتھ مساجد، اور جنازے کے احکام کا احاطہ کیا گیا ہے-اس کے ساتھ ساتھ نماز معہ کی فرضیت اور اہمیت اور طریقہ ادائیگی کو بیان کیا ہے،نماز کسوف اور خسوف کا طریقہ،میت کے احکام وغیرہ- مزید برآں نماز تہجد، نماز سفر اورسجدہ سہو کے حوالے سے مکمل آگاہی فراہم کی گئی ہے-جنازے سے متعلقہ جمیع مسائل کا حاطہ کیا گیا ہے اور میت سے متعلقہ امور کی نشاندہی کی گئی ہے- اس کتاب کی اہم خوبی یہ ہے کہ اس میں صرف اور صرف صحیح احادیث سے استدلال کیا گیا ہے۔