• This is an exquisite collection of incidents from the life of the Prophet (Peace and Blessings of Allah be upon him), stories from our Islamic Heritage, and thought-provoking anecdotes from the life of the author. The aim of the book is to train the reader to enjoy living his life by practicing various self-development and inter-personal skills. What is so compelling and inspiring about this book is that, in order to highlight the benefit of using social skills, the author draws from the lives of the Prophet (Peace and Blessings of Allah be upon him) and his Companions (May Allah be pleased with them all). The techniques for living a happy and a leisured life are 100% applicable in every society. To meet the real goodness of life, manage and discipline ourselves well, our Prophet Muhammad (Peace and Blessings of Allah be upon him) always was and will always be our mentor. His great characters must be followed and applied to our way of living. `Zindagi Se Lutf Uthaye` is a must read book. Not only that, but it`s reader-friendly. It teaches you how to deal with people in different manners by containing most of our Prophet Muhammad (Peace and Blessings of Allah be upon him)`s lifestyle that can be benefited by Muslims and even the non-Muslim readers. The book is written by Dr. Muhammad Abdul Rahman Al Arfi (b 1970) who is a prominent scholar and orator from Saudi Arabia. Every reader mostly recommends this book to others with assurance that they`ll benefit from it much more than one expects.
  • زںدگی کےآخری لمحوں ميں اںسان جوطرزعمل اختيارکرتاہےوہ زندگی کا حاصل ہوتاہے۔ايک مسلمان کی زندگی ميں خاتمہ بالخيرکی بڑی اہميت حاصل ہے۔زيرنظرکتاب ميں چندا‫ چھےاوربرےافرادکےآخری لمحوں  کی تصویريں پيش کی گی ہيں۔يہ تصویريں افراد کےلاشعورکی عکاس ہيں،اس کتاب کامطالعہ زندگی کےمسافرکوراہ  زيست کےمتعين کرنےميں مدددےگا۔

  • شرک کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ کو اکیلا معبود مسجود خالق ومالک ،رازق نہ ماننا اور اس کی ذات وصفات میں کسی کو شریک ٹھہرانا گناہِ   کبیرہ ہے۔قرآن مجید میں جابجا شرک کی سخت مذمت کی گئی اورتوحید پر زور دیا گیا ہے ۔حضرت آدم  سے محمدﷺ تک جتنے انبیاء ورسل آئے،سب نے توحید ہی کی دعوت دی اور شرک کے نقصانات سے آگاہ کرتے ہوئے اس سے بچنے کی تلقین کی ۔ زیر نظر کتاب ’’سفینۂ نجات ‘‘ڈاکٹر محمد بن عبد الرحمن العریفی کی عربیتصنیف ’’ارکب معنا‘‘کااردو ترجمہ ہے جس میں شر ک کی تباہ کاریوں پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔اس سلسلے میں تاریخ اسلامی کے بصیرت افروز واقعات او رعصر حاضر کی معاشرتی مثالوں سے بھر پور مدد لی گئی۔شرک کے گرداب میں پھنسے ہوئے بدنصیبوں کےلیے اس کتاب کا مطالعہ انتہائی مفید ہے اوریہ کتاب شرک کی تباہ کاریوں کا عبرت ناک تذکرہ اور شرک میں پھنسے ہوئے لوگوں کےلیے سفینہ نجات ہے ۔ کتاب کے فاضل مصنف ڈاکٹر عبد الرحمن العریفی سعودی عرب کےدار الحکومت الریاض کے باشندے ہیں اور وہیں ایک معروف یونیورسٹی کےشعبہ تدریس سے   وابستہ ہیں۔دعوت دین کے حلقوں میں ان کا نام جانا پہچانا ہے ۔ ۔دعوتِ دین کےمیدان میں اُن کی مساعی جمیلہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اُن کا شمار علامہ ابن باز  کے ممتاز شاگردوں میں ہوتا ہے ۔ دیار ِعرب میں ان کی خطابت کا بھی بہت شہرہ ہے ۔ ان کی متعدد کتابیں خاصی پذیرائی حاصل کرچکی ہیں جن میں ان کی شہرۂ آفاق کتاب ’’زندگی سے لطف اٹھائیے ‘‘ سرفہرست ہے ۔ دار السلام کے ریسرچ سکالر حافظ اقبال صدیق مدنی نے زیر تبصرہ کتاب کے ترجمے او ر عبد الرحمن نے اس کتاب میں   احادیث وروایات کی تخریج کا کام   انجام دیا ہے ۔ اللہ اس کتاب کو عوام الناس کی اصلاح کا ذریعہ بنائے
  • Alam e Akherat

     5,000
    In recent times things have become very confusing and we have begun to see in book stores and on websites speculations about State of the Next World, future events, based on ayah and hadeeths which refer to these future events concerning the signs of the Hour. Sometimes you hear about the appearance of the Mahdi, sometimes you hear that the final battle between the Good and the Evil is close at hand, other time you hear some thing happening in the East or in the West. So, learn about the Final hour and State of the Next World by reading this book which is backed by proofs from Quran and Hadith.
  • انسانی زندگی میں عمل ِصالح کی بڑی اہمیت ہے ۔معاشرے میں کسی فرد کانیک کردار نہ صرف خود اسے فائدہ دیتا ہے بلکہ معاشرے کے دیگر افراد بھی اس کی خوش اطواری سےمستفید ہوئے بغیر نہیں رہتے۔عمل صالح کی توفیق اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ملتی ہے ۔یو ں عمل   صالح گویا ربانی ملازمت ہے جو آدمی اعمال صالحہ پر کاربند ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے خادم کی حیثیت سے زندگی بسر کرتا ہے ۔ وہ دین کی بھی خدمت کرتا ہے اور لوگوں کو بھی نفع پہنچاتا ہے ۔آدمی کو دنیا میں رہتے ہوئے عمل صالح کی توفیق مل جائے تو اس سےبڑی خوشی نصیبی اور کوئی نہیں۔زیر نظر کتاب’’کیا آپ ملازمت کی تلاش میں ہیں ؟ ‘‘ ڈاکٹر محمد بن عبد الرحمن العریفی کی عربیتصنیف’’ هل تبحث عن وظيفة‘‘ کااردو ترجمہ ہے ۔جس میں انہوں نے روزہ مرہ اور تاریخی واقعات کے پس منظر میں یہی باور کرایا ہے کہ عملِ صالح ہی انسانی فلاح وبہبود کاضامن ہے۔امید ہے کہ یہ ایمان افروز کتاب قارئین کو عمل وکردار کے سنوارنے میں مدد دے گی ۔کتاب کے فاضل مصنف ڈاکٹر عبد الرحمن العریفی سعودی عرب کے جانے پہچانے مصنف ہیں۔ ریاض کی مقامی یونیورسٹی میں معلمی کے فرائض انجام دیتے ہیں ۔دعوتِ دین کےمیدان میں اُن کی مساعی جمیلہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اُن کا شمار علامہ ابن باز کے ممتاز شاگردوں میں ہوتا ہے ۔ دیار ِعرب میں ان کی خطابت کا بھی بہت شہرہ ہے ۔ ان کی متعدد کتابیں خاصی پذیرائی حاصل کرچکی ہیں جن میں ان کی شہرۂ آفاق کتاب ’’زندگی سے لطف اٹھائیے ‘‘ سرفہرست ہے۔زیر تبصرہ کتاب کی اردور ترجمانی کے فرائض دارالسلام کے ریسرچ سکالر حافظ قمر حسن  نے سرانجام دئیے ہیں ۔ اللہ تعالی مصنف ومترجم کی اس کاوش کو شرف قبولیت سے نواز ے اور اس کتاب کو اہل ایمان کی اصلاح کاذریعہ بنائے
  • Malka e Aliya

     1,350
    Why is the woman of today facing a lot of problems in the society? Why is the number of harassment cases against females increasing rapidly? Why don`t women feel secure at workplaces? The answer to the questions like these is that women who don`t wear Hijab have to face a lot of problems. They promote temptation in men. New Muslim wear Hijab happily as they know that it will be a protection from the evil prevailing in the society they were living in. No one denies that the modesty which is commanded by Islamic Law and by convention includes the decency and decorousness demanded of a woman and the kind of behavior that will ensure that she is kept far away from situations of temptation and suspicion. Furthermore, there is no doubt that the greatest act of modesty that she can perform is to wear the hijab, which covers her face. It is the best thing and with which she can adorn herself, because it protects Her and keeps her far removed from temptation. This is a unique book of its kind and it presents answers to nearly all questions pertaining to family matters like: beautification of a woman, garments for women, hair styling, and a woman`s speaking with a man, use of perfume for women, mixed education, permissible work for women, legal verdicts pertaining to marriage, children games and clothes etc. This is a must have book. Every Muslim family must keep this splendid book in their homes.
  • انسانی تاریخ سامانِ تفریح نہیں ،سامانِ عبرت ہے۔ہر عقل مند آدمی ماضی سے سبق سیکھتا ہے اور اپنے حال ومستقبل کی اصلاح کرتا ہے۔گزشتہ نسلوں کے تجربات سے آئندہ نسلوں کو راہِ راست متعین کرنے میں مدد ملتی ہے۔قرآن مجید نے بھی سابقہ اقوام کے تذکرے اسی لئے بیان کئے ہیں ،تاکہ ان سے سبق حاصل کیا جائے اور ان سے سرزد ہونے والی غلطیوں کو دوبارہ نہ دہرایا جائے۔ زیرنظر کتاب ``نیکی کے سفیر`` سعودی عرب کے معروف عالم دین،واعظ اور مبلغ ڈاکٹر محمد بن عبد الرحمن عریفی کی تصنیف ہے۔آپ ایک درد دل رکھنے والی شخصیت ہیں اور دعوت وتبلیغ کے میدان میں بہت بلند مقام پر فائز ہیں۔اس کتاب میں انہوں نے تاریخ کے چند سبق آموز واقعات کو جمع فرما دیا ہے اور مسلمانوں کو ان واقعات سے سبق حاصل کرنے کی بڑی درد مندانہ اپیل کی ہے۔کتاب عربی میں ہے جسے اردو زبان میں ترجمہ کرنے کی سعادت معروف مکتبہ دار السلام کے ریسرچ فیلو مولانا تنویر احمد کے حصے میں آئی ہے۔اللہ تعالی ان کی اس محنت کو قبولیت سے نوازے اور ان کے میزانِ حسنات میں اضافے کا باعث بنائے
  • آج کے مغرب زدہ معاشرے میں اسلام کو ضابطہ حیات کی بجائے چند عبادات اور رسم و رواج کا دین سمجھ لیا گیا ہے اور باور بھی یہی کروایا جاتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور جدید میڈیکل سائنس سے متعلق اسلام خاموش ہے، اس کا مکمل کریڈٹ یورپ کو دیا جاتا ہے، حالانکہ یہ ظلم ہے۔ تعصب کی عینک اتار کر اگر اسلام کا مطالعہ کیا جائے تو آپ کو اس میں دین و دنیا کے ہر شعبہ سے متعلق راہنمائی ملے گی۔ مغربی معاشرے میں لا علاج مریضوں کو ایک ایسی دوا دی جاتی ہے جس میں زہر ہوتا ہے اور یہ زہر مریض کی اکھڑی ہوئی ناہموار زندگی کا خاتمہ کر دیتا ہے، جبکہ اسلام ایسی ادویات سے دور رہنے کا حکم دیتا ہے اور اسلامی تعلیمات سے یہ سبق ملتا ہے کہ بیماری تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نویدِ رحمت ہوتی ہے ۔ بیماری سے مومن کے گناہ معاف ہوتے ہیں اور مریض کی عاجزی اور تسبیح و تہلیل قبول فرما کر اللہ تعالیٰ اسے جنت عطا کرنے کا فیصلہ کر دیتا ہے۔ زیر نظر کتاب`ہسپتال میں طبیب اور مریض کے ساتھ` دکتور محمد عبد الرحمٰن العریفی کی عربی تصنیف ہے جس کو مولانا حافظ قمر حسن کے نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ اردو ترجمہ میں ڈھالا ہے۔موصوف نے کتاب ہذا میں مریض، طبیب اور علاج معالجہ سے متعلق دینی احکامات کو قلمبند کیا ہے اور مریض کے عیادت کے فضائل کے ساتھ ساتھ عیادت کے آداب وغیرہ کو بھی درج کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف و مترجم کے لیے بلندی درجات کو سبب بنائے اور اہل اسلام کو ان سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے
  • جو قوم اپنی خصوصیات اور روایات کو بھلا کر غیروں کی نقالی کرتی ہے وہ صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہے۔ مسلمان دنیا کی امامت و قیادت کے لیے پیدا ہوئے تھےمگر یہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ جو قوم انسانیت کی قیادت پر مامور کی گئی تھی، وہ خود ترغیبات نفس  کے جال میں پھنس کر اپنی مایہ ناز روایات بھلا بیٹھی  اور مغربی تہذیب کی نقالی میں ڈوب گئی۔ نتیجہ ظاہر کہ آج مسلمان دنیا کی تگ و دو میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں اور ہر جگہ اپنے زوال کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔ زیرِ نظر کتاب ارکان اسلام و ایمان میں دین قیم کا خلاصہ آسان اسلوب میں بیان کرتی ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی سچی بندگی کی دعوت دی ہے اور کفر، شرک اور بدعت کی ہلاتکوں اور نئی تہذیب کی قباحتوں سے خبردار کردیا گیا ہے۔ اس کتاب میں دین کی تما م بنیادی تعلیمات عام فہم اسلوب میں قلم بندد کر کے مسلمان کو دعوت عمل دی گئی ہے اور واضح کیاگیا ہے کہ دین کی تفہیم ،ایمان کی مضبوطی اور حسن عمل کے بغیر  ہماری کامیابی  کا کوئی امکان نہیں۔ یہ کتاب خوب بھی پڑھیے اور اپنے عزیز و اقارب اور دوست احباب کو بھی پڑھنے کی دعوت دیجیے۔

  • ہمارے ہادی و مرشد، سید المرسلین حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:  `اللہ تعالیٰ کے نناوے، ایک کم سو نام ہیں، جو بھی ان کی حفاطت کرے گا جنت میں داخل ہوگا۔ وہ وتر یعنی طاق ہے اور وتر ہی کو پسند کرتا ہے` اللہ کے خوبصورت ناموں کو بہترین انداز میں پیش کرنے والی نایاب کتاب۔

  •  نبی ﷺ پر درود و سلام ` اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جس کا انکار یا استخفاف کفر ہے اور اس کا اہتمام رسول اللہ ﷺ سے محبت اور والہانہ تعلق و وابستگی کا ذریعہ بھی ہے اور اس کی علامت اور دلیل بھی۔ لیکن وہ درود و سلام کون سا ہے اور اس کا طریقہ کیا ہے جس کا حکم مسلمانوں کو دیا گیا ہے اور جو محبت رسول ﷺ کا ذریعہ بھی ہے اور اس کی علامت بھی؟ زیرِ نظر کتاب اسی موضوع پر منفرد اور نہایت اہم کتاب ہے جو شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ؒ کی کتاب کا اردو ترجمہ ہے۔ اس میں صلوٰۃ و سلام کے تقریباً ہر موضوع پر تفصیلی، مدلل اور واضح گفتگو ہے۔ جیسا کہ امام ابن القیم ؒ کا اسلوب ہے جو اہلِ علم میں معروف ہے۔
  • ستغفار دل کی سلامتی اور صفائی کا ذریعہ ہے۔کیونکہ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:’’ان العبد اذا أخطا خطیئة نکتت فی قلبه نکتة سوداء ،فان هو نزع واستغفر وتاب،صقل قلبه ‘‘(رواہ الترمذی)’’جب انسان گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ نکتہ لگا دیا جاتا ہے،اگر انسان اس گناہ کو چھوڑ دے اور اس پر توبہ واستغفار کرے تو اس کے دل کودھو کر چمکا دیا جاتا ہے۔‘‘ حضرت شداد بن اوس روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص یقین کامل کے ساتھ صبح کی نماز کے بعد سید الاستغفار پڑھے گا ،اگر اسی دن شام سے پہلے پہلے مر گیا تو سیدھا جنت میں جائے گا،اسی طرح جو شخص یقین کامل کے ساتھ مغرب کی نماز کے بعد سید الاستغفار پڑھے گا ،اگر اسی رات صبح سے پہلے پہلے مر گیا تو سیدھا جنت میں جائے گا۔سید الاستغفار یہ ہے: `اللھم أنت ربی لااله الا أنت،خلقتنی وأنا عبدک ،وأنا علی عهدك ووعدک مااستطعت،أعوذبک من شر ما صنعت ، أبوء لک بنعمتک علی وأبوء بذنبی ،فاغفرلی فانہ لا یغفر الذنوب الا أنت [رواہ مسلم] ’’اے اللہ تو ہی میرا رب ہے ، تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں،تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوںجس قدرطاقت رکھتا ہوں،میں نے جو کچھ کیا اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں،اپنے آپ پر تیری نعمت کا اقرار کرتا ہوںاور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں،پس مجھے بخش دے کیونکہ تیرے علاوہ کوئی گناہوں کو نہیں بخش سکتا۔‘‘ زير تبصره كتاب ’’ استغفار وتعوذ فضائل وثمرات ‘‘ اشاعت کتب کے انٹرنیشنل ادارے ، دار السلام کے سکالر زکی مرتب شدہ ہے ۔ اس کتاب کے پہلے حصے میں میں انہوں نےاستغفار کی اہمیت وضرورت، استغفار کی قرآنی ونبوی دعائیں ، استغفار کے مستحب اوقات ومواقع ،استغفار کے فوائد وثمرات کو بیان کیا ہے اور دوسرے حصے میں تعوذ کی ضرروت واہمیت ، قرآنی تعوذ تعوذ کےمستحب اوقات کو قرآن واحادیث کی روشنی میں آسان فہم انداز میں پیش کیا ہے
  •   آج کل بنیادی حقوق کا بڑا چرچا ہے اور شور ہے اور یہ شور زیادہ تر مغرب کے مادر پدر آزادمعاشرے کے فرزندوں کی طرف سے مچایا جا رہا ہے جو انسان اور حیوان کے درمیان فرق کرنے کے روادار ہیں نہ انھیں مرد اور عورت کے درمیان فطری امتیازات نظر آتے ہیں۔ اسی لیے وہ حیوانوں والے حقوق انسانوں کے لیے تسلیم کرانا اور مردوں کے فرائض عورتوں کو بھی تفویض کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ یہ دونوں باتیں فطرت کے خلاف ہیں اور فطرت کے خلاف جنگ کرنے سے دنیا میں کبھی امن اور سکون نہیں ہو سکتا اور بعض لوگ وہ ہیں جو کسی کے بھی بنیادی حقوق کے قائل نہیں۔ ان کے نزدیک حقوق ہیں تو طاقت وروں کے ، کمزوروں کے کوئی حقوق نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے  لوگ اقتدار و اختیار سے بہر ہ ور ہو کر عوام پر ہر قسم کا جبر و ظلم کرنا جائز سمجھتے ہیں۔ فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین ؒ نے اس کتابچے میں افراط و تفریط سے دامن بچاتے ہوئے اسلام کی اعتدال پر مبنی تعلیمات کی روشنی میں انسانوں کے وہ بنیادی حقوق واضح کیے ہیں جو دین متین نے تسلیم اور بیان کیے ہیں جن سے مرد اور عورت کے درمیان امتیاز قائم رہتا ہے جو فطرت کے عین مطابق ہے اور انسان اور حیوان کے درمیان فرق بھی قائم رہتا ہے۔ اور یہی وہ نقطہ اعتدال ہے جو امن وسکوں کا ضامن ہے۔
  •    اگر آپ ایک خوب سیرت مسلمان بننا چاہتے ہیں تو اس کتاب کا مطالعہ توجہ سے فرمایئے کہ اس میں احادیث کی روشنی میں اسلامی آداب و احکام کو اس خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے کہ ایک ایمان کا حامل دل فوراً اُن آداب کو اپنا کر اپنی شخصیت کو سنوارتا ہے اور دنیا اور آخرت کی کامیابی کا اُمیدوار بن جاتا ہے۔
  • Atlas Of Quran

     5,950
    This Atlas is new in its subject, a subject that has not been touched before. It helps whoever recites the Qur`Gn or studies it to specify the locations mentioned by the Noble Verses, and to mark those places of ancient people mentioned in the Qur`Gn. This is besides locating areas where the incidents of the prophetic Seerah occurred. Eventually the diligent reader will easily recognize those places, learn about them, and take heed of them while reciting. Eventually the diligent reader will easily recognize those places, learn about them, and take heed of them while reciting. The Atlas has also revealed obscure places we used to pass through inattentively, like the site where Nuh`s Ark settled, the site of the curved Sand-hills {Al Ahqah}, the cave of the young faithful men, the houses of median, the site of Sodom and other places determined by the Atlas depending on reliable sources. Thus the Atlas eliminates all the guessing and the fantasies we used to encounter when reciting the Noble Quran, and takes us to the specific place.
  •  انسانی وجود کے دو حصّے ہیں۔۔۔ ایک روحانی، دوسرا مادی۔ مادیت پسندی کے اس دور میں انسان کے اس وجود پر بہت کام ہوا ہے مگر دوسرے اور اہم تر وجود پر جو کچھ لکھا اور کہا گیا ہے اس کی وقعت نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ضمن میں انسانی عقل کی رہنما۔۔۔۔ وحی۔۔۔ سے روشنی حاصل نہیں کی گئی۔ `انسان اپنی صفات کے آئینے میں` اس غلط روش کا خوب صورت ازالہ ہے۔۔۔ مصنف نے وحی االہٰی کی روشنی میں انسان کی مثبت اور منفی، تمام صفات کا خوب صورت تجزیہ کیا ہے اور انسان کو وہ آئینہ دکھایا ہے جس میں وہ اپنی سچی اور اصل تصویر دیکھ سکتا ہے۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ ان عوامل کی نشان دہی بھی کی گئی ہے جن سے انسان اپنی تصویر کی بد نمائی کو دور کر سکتا ہے۔۔ ان پہلوؤں نے اس کتاب کی افادیت میں اس قدر اضافہ کر دیا ہے کہ اس کا مطالعہ ہر سچے انسان کی ضرورت بن گئی ہے۔

  •    یہ کتاب عالمگیر سچائیوں کا سبق دیتی ہے، اس کا موضوع یہ ہے کہ انسان شعور و آگہی کی زندگی بسر کرے۔ اپنے مقدس پروردگار کو پہچانے۔ رسالت مآب حضرت محمد ﷺ کے منصب و منزلت کی معرفت حاصل کرے۔ آپ ﷺ کے فکر و عمل کی پیروی کرے۔ آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ کو ذہنی ارتقا کا ذریعہ اور عملی زندگی کا مرکز و محور بنائے۔ دن حنیف کی تعلیمات سے پوری طرح با خبر رہے۔ اور صبر و استقامت کی راہ پر گامزن رہے۔ یہ کتاب ایک دوست کی پکار، ایک داعی کی صدا اور ایک مجاہد کی آواز ہے جو زمانے اور زندگی کے ہر مرحلے پر صراطِ مستقیم دکھاتی ہے اور قران و سنت کی روشنی میں حسن عمل کی تعلیم دیتی ہے۔ عمل کا ارادہ کیجیے اور اس کتاب کا ایک ایک حرف احترام اور التزام سے پڑھیے۔ ان شا ء اللہ آپ کے عقائد و نظریات میں حقیقی نور پیدا ہوگا اور روشن روشن کرنیں جگمگا اُٹھیں گی۔ آپ حسن نیت اور اچھے کام کرنے کے خوگر بنیں گے۔ یوں آپ اس دنیا میں سر خرو اور آخرت میں سرفراز رہیں گے۔
  •  پیش نظر کتاب دورہ تفسیر کے علمی نکات اور افادات پر مبنی خزینہ معلومات ہے جسے مدارس کے نصاب، فہم قران کورسز کی بنیادی ضرورت اور دورہ تفسیر کی روایت کے عین مطابق مرتب کی گیا ہے۔ یہ اپنے   اسلوب کے لحاظ سے بہت اہم اور مفید علمی کاوش ہے جو طالبان قران کے لیے قرانی موضوعات اور اصول تفسیر کے لوازم کے تحت تحریر کی گئی ہے۔ اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ اس میں اصول تفسیر کے مشکل مراحل کو سوال و جواب کے اسلوب میں آسان اور زود و فہم بنا دیا گیا ہے۔
  •   آج ساری دنیا جس بے قراری سے امن و سلامتی کا راستہ ڈھونڈ رہی ہے، اس سے کوئی بے خبر نہیں۔ ملاال یہ ہے کہ جو افکار و اعمال انسان کے لیے ذلت اور ہلاکت کا سبب ہیں، آج کا ترقی یافتہ انسان انھی موہوم اور مسموم افکار و اعمال میں اپنے زخموں کا مرہم ٹٹول رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ انسان کے دکھوں میں آئے دن ہولناک اور ہلاکت بار اضافہ ہو رہا ہے۔ اس عالم گیر المیے کی اصل وجہ کیا ہے؟ یہ بھید جاننے کے لیے زیرِ نظر کتاب پڑھیے۔  اس کتاب کے مصنف فضیلتہ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز ؒ عہد حاضر کے سب سے بڑے سکالر تھے، ان کی بین نگاہوں نے انسان کے آلام و مصائب کے اصل سبب کا کھوج لگایا اور صاف صاف بتا دیا کہ جب تک انسان اپنے من گھڑت افکار و عقائد کی دلدل میں پھنسا رہے گا امن و سلامتی کا راستہ کبھی نا پا سکے گا۔ امن و سلامتی اور فلاح و کامیابی کا واحد طریقہ یہ ہے کہ جس قادر مطلق نے یہ دنیا بنائی ہے ہم اُسی کی بتائی ہوئی صراط مستقیم پر چل پڑیں۔ صراطِ مستقیم کیا ہے؟ یہ کتاب اسی سوال کا بڑا مستند ، منور، مفصل اور مدلل جواب ہے۔ اسے مرکز توجہات بنائیے۔ خود بھی پڑھیے اور عزیز و اقارب کو بھی پڑھنے کی دعوت دیجیے۔
  • خانقاہی نظام سے مراد تصوف ہے۔تصوف کا لفظ اس طریقۂ کار یا اسلوب اس عمل کے لیے اختیار کیا جاتا ہے جس پر کوئی صوفی عمل پیرا ہو۔ اسلام سے قربت رکھنے والے صوفی، لفظ تصوف کی تعریف یوں کرتے ہیں کہ : تصوف کو قرآنی اصطلاح میں تزکیۂ نفس اور حدیث کی اصطلاح میں احسان کہتے ہیں۔ تصوف کی اس مذکوہ بالا تعریف بیان کرنے والے افراد تصوف کو قرآن و سنت کے عین مطابق قرار دیتے ہیں۔ اور ابتدائی ایام میں متعدد فقہی علماء کرام بھی یہی مراد مراد لیتے رہے۔ پھر بعد میں تصوف میں ایسے افکار ظاہر ہونا شروع ہوئے کہ جن پر شریعت و فقہ پر قائم علماء نے نہ صرف یہ کہ ناپسندیدگی کا اظہار کیا بلکہ ان کا رد بھی کیا۔امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم اوران کےبعد جید علمائے امت نے اپنی پوری قوت کے ساتھ غیراسلامی تصوف کےخلاف علم جہاد بلند کیا اورمسلمانوں کواس کےمفاسد سے آگاہ کر کے اپنا فرضِ منصبی انجام دیا۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نےبھی اپنے اردو فارسی کلام میں جگہ جگہ غیر اسلامی تصوف کی مذمت کی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اسلام اور خانقاہی نظام ایک تحقیقی وتاریخی جائزہ ‘‘ محترم جناب پروفیسر ڈاکٹر امان اللہ بھٹی کی تصنیف لطیف ہے اس کتاب میں انہوں نے تصوف اور خانقاہی نظام کی تعریف، تاریخ اور تصوف کےمختلف سلسلوں اور ان کےطریق کار کی مفصل اور چشم کشا دستاویز پیش کی ہیں۔نیز عہد بہ عہد صحابۂ کرام کے نام دے کر بتایا گیا ہے کہ انہوں نےکتنے کٹھن حالات میں دنیا کےدور دراز گوشوں میں پہنچ کر توحید کی اذان دی اور لوگوں تک اللہ کا دین پہنچایا۔ ان کی دعوت سیدھی سادی تھی۔ وہ غیر اللہ کی نفی کرتے تھے۔ دلوں میں اللہ کی یکتائی ،بڑائی کبریائی اور زیبائی کانقش جماتے تھے ، رسول اللہﷺ کی زندگی کے مبارک طریقے سکھاتے تھے ۔اس کتاب کے مطالعے سے یہ حقیقت بڑی نمایاں ہوجاتی ہے کہ اسلام جیسے جامع دین کے مقابلے میں تصوف اور خانقاہیت ایک ژولیدہ فلسفہ ہے ۔ فاضل مصنف نےخانقاہی نظام کا بڑا مفصل اور مدلل جائزہ پیش کیا ہے۔ انھوں نےاکابر علماء اور نامور صوفی بزرگوں ہی کےاقوال سے تصوف کی تعریف بیان کی ہے اور مختلف آراء کے اقتباسات درج کیے ہیں ۔ تصوف کے مختلف سلسلوں اور منازلِ سلوک کی بہت سی شاخوں کےتعارف کے علاوہ ان کےطریق عمل پر روشنی ڈالی ہے۔ فاضل مصنف نےحوالہ جات پیش کر کے بتایا ہے کہ تصوف کےنظریات کہاں کہاں پہنچ کر اسلامی تعلیمات سےبے آہنگ ہوگئے اورشرک کی آبیاری کاموجب بنے۔پھر اس کے نتیجے میں کیسے کیسے فاسد عقائد کے کانٹے اگتے اورپھیلتے چلے گئے
  •   `اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں؟` ان خوش نصیب انسانوں کے تجربات و تاثرات اور قلبی واردات کا خوبصورت مرقّع ہے جنہوں نے عیسائیت، یہودیت یا ہندو مت کے باطل عقائد و افکار کو تج کر اسلام کے باعثِ تسکینِ جاں اور بہارِ قلب و نظر کے حامل سرمدی سائے میں پناہ لی۔ ان نو مسلموں کے اپنے سابق مذاہب کے حوالے سے اعتراضات اور اسلام کے بارے میں سرور انگیز والہانہ جذبات حقیقتاً ایمان افروز اور ایقان پرور ہیں جن سے اس دین حنیف کی ازلی و ابدی سچائی روزِ روشن کی طرح نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے۔ یہ بے مثال کتاب ہر مسلمان بلکہ ہر انسان کے پڑھنے کی چیز ہے، بلخصوص وعظ و تبلیغ کے فریضے کی ادائیگی میں مصروف لوگوں کے لیے سوغات ہے۔ اسے خود پڑھ کر اسلام پر اپنا ایمان و یقین تازہ کیجیے اور دوسروں کو پڑھائیے کہ اسلام، قران اور پیغمبر اسلام ﷺ سے  نومسلموں کی وابستگی کا تقابلی مطالعہ دل و نگاہ کو رفعت و صلابت اور کشادگی عطا کرتا ہے۔

  • تقسیم وراثیت سے متعلقہ اسلام کی تعلیمات نہایت عادلانہ اور منصفانہ ہیں۔ تاکہ مرحومین کے پسماندگان کی مامون و محفوظ اور پر امن دنیوی زندگی کا اہتمام ہو سکے۔ لیکن نہ معلوم کس وجہ سے بہت سے علماے کرام اور اہل علم حضرات بھی تقسیم وراثت کے حوالے سے دینی احکامات سے پوری طرح آگاہ نہیں ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’اسلامی قانون وراثت‘ جہاں علمائے کرام کے لیے استفادے کا باعث بنے گی وہیں طلبا اور عامۃ المسلمین بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ فاضل مصنف ابونعمان بشیر نے وراثت کے مبادیات، موانع، ترکہ کے متعلق امور، مستحقین اور ان کے حصص، عصبات، حجب سے لےکر تقسیم ترکہ، تخارج، خنثیٰ، حمل سمیت تمام موضوعات نہایت جامعیت کے ساتھ روشنی ڈالی ہے۔ یوں سوالاً جواباً انداز میں لکھی گئی یہ کتاب طلبہ کے لیے بالخصوص مفید ثابت ہوگی، اسے مدارس کے نصاب میں شامل کیا جائے تو یہ ابتدائی کلاسوں کے لیے آسان جدید اسلوب میں نہایت مفید اضافہ ثابت ہوگی

  •   جو قوم اپنی روایات اور خصوصیات کو بھلا کر غیروں کی نقالی کرتی ہے وہ صفحہ ء ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹ جاتی ہے۔ بدقسمتی سے مسلمانوں نے یہی مہلک طریقہ اختیار کرلیا، دو اڑھائی سو برس پہلے  یورپ کے صنعتی انقلاب کے بطن سے جو مادی تہذیب پیدا ہوئی، اس میں مذہب سے شدید بغاوت بھی کار فرما تھی۔ اس تہذیب نے اللہ تعالیٰ سے اہل یورپ کا رشتہ منقطع کردیا۔ یہی چمکیلی بھڑکیلی تہذیب جب انگریزوں ، فرانسیسیوں اور ولندیزیوں کی معرفت مشرقی ملکوں میں پہنچی تو مسلمانوں کے بالائی طبقات نے اسے گلے لگا لیا۔ یہ تاریکی بڑھتی اور پھیلتی چلی گئی اور ہم اپنی مایہ ناز روایات کو یکے بعد دیگرے فراموش کرتے چلے گئے۔ آج جسدِ ملت کے زخموں سے جو خون ٹپک رہا ہے وہ اسی مادر پدر آزاد مغربی تہذیب کی نقالی اور اپنی معظم روایات سے دستبرداری کا نتیجہ ہے۔ اب مسلمانوں کی بقا اور فلاح کا یک ہی طریقہ ہے کہ وہ مغربی تہذیب کی طنابیں توڑ دیں اور اسلامی تعلیمات کے دامن رحمت میں لوٹ آئیں۔ عالم اسلام کے نامور عالم دین فضیلتہ الشیخ محمد بن صالح العثیمین ؒ نے `اسلام کے بنیادی عقائد` کے زیر عنوان یہ گرانقدر کتاب لکھ کر وہ تعلیمات و مبادیات اجاگر کردیے ہیں جن پر عمل کر کے ہم اپنی گم شدہ عظمت دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کتاب کا سنجیدگی سے مطالعہ کیجیے۔ یہ کتاب قران و سنت کی تعلیمات کا عطر ہے۔

  • یہ مختصر سی کتاب شیخ محمد بن سلیمان رحمہ اللہ کی عربی کتاب``الأصول الثلاثۃ وأدلتہا`` کا اردو سلیس ترجمہ ہے –شیخ موصوف نے کتاب کی تین ابواب میں تقسیم کرتے ہوئے اسلام کے تمام اساسی اصولوں کی بڑی سادہ اور دلنشین تشریح کی ہے- ان اصولوں کے ذیلی عنوانات میں اللہ تعالی کی معرفت، اسلام، ایمان اور احسان کے مراتب، مراحل اور مدارج وضاحت سے بتائے گئے ہیں اور آخر میں حضرت محمد مصطفی ﷺکی صفات، جہات، حیثیات اور تعلیمات بیان کی گئی ہیں- دین اسلام کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے یہ ننھی سی کتاب بڑی بڑی ضخیم کتابوں پر بھاری ہے-

  • صلاح الدین علی عبدالموجود ایک نامور عرب مصنف ہیں جنھوں نے مسلمانوں کی نئی نسل کے سامنے صحابہ، محدثین اور اجل علما کی سیرتیں نئے اسلوب سے پیش کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے تاکہ وہ ان کے اوصاف کو اپنے کردار و عمل میں اجاگر کر سکیں۔ ’سیرت سفیان بن عیینہ‘ اس سلسلے کی ایک اہم کتاب ہے جس میں علم حدیث کے امام، یگانہ روز گار اور اپنے دور کی بے مثال اور منفرد شخصیت  سفیان بن عیینہ کی سیرت کا تذکرہ ہے، جن کاشمار تبع تابعین میں ہوتا ہے اور انھوں نے تابعین کرام اور اتباع تبع تابعین کے درمیان رابطے کا کام دیا۔ اس کتاب میں قارئین کو بیسیوں اسے راویان حدیث کے احوال، روشن واقعات اور اقوال پڑھنے کو ملیں گے جو یا تو ابن عیینہ کے شیوخ تھے یا ان کے شاگرد اور ہم عصر تھے یا ان کے خوشہ چین تھے۔ اس میں ابن عیینہ کی علمی مجلسوں کے دلچسپ احوال اور ان سے پوچھے گئے سوالات اور ان کے حکیمانہ جوابات بھی ہیں جو علم دین کی جستجو کرنے والوں کے دل و دماغ کو روشن کرتے ہیں۔ علم اور اہل علم سے آپ کی دلچسپی، آپ کے چند علمی مواخذات، تدلیس کے بارے میں آپ کانقطہ نظر اور حکمرانوں کے بارے میں آپ کی آراء بھی پیش کی گئی ہیں جبکہ آخر میں ابن عیینہ کے تفسیری اقوال، شروح احادیث اور دیگر فرموادات ہیں جو آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ کتاب کا سلیس اور عام فہم اردو ترجمہ پروفیسر حافظ عبدالرحمٰن ناصر کی محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کوئی بھی بات حوالہ کے بغیر نقل نہیں کی گئی اور کتابت کی غلطی تو پوری کتاب میں ڈھونڈے سے  بھی نہیں ملتی حتی کہ غلط العام الفاظ استعمال کرنے سے بھی اجتناب کیا گیا ہے

Title

Go to Top