-
زیر نظر کتاب جو حجم کے اعتبار سے مختصر ہے لیکن افادیت کے پہلو سے بڑی بڑی کتابوں پہ بھاری ہے اس میں عربی بول چال کے حوالے سے بہت ہی احسن انداز سے رہنمائی کی گئی ہے مختلف فنون اور پیشوں کے لیے عربی الفاظ مختلف عناوین کےتحت بیان کیے گئے ہیں جوعربی بول چال کی عملی مشق کےلیے معاون ہے۔ مختلف افراد کےمکالمے بھی اس میں دیئے گئے ہیں مثلاً اگر کوئی عرب ملک میں جانے اور راستہ پوچھنے کی ضرورت ہو ،یا ہوٹل میں گفتگو کرنی پڑے ،یا پاسپورٹ آفس میں بات چیت کی ضرورت پڑے تو کس طریقے سے گفتگو ہوگی اس کےنمونے کتاب میں موجود ہیں آخر میں ایک جامع اور مختصر جدید عربی اردو لغت بھی شامل کتاب ہے عربی بول چال کے شوقین طبقے کےلیے یہ کتاب بہت ہی مفید ہے -
دین اسلام اصلاً کتاب و سنت کی تعلیمات و فرمودات ہی کا دوسرا نام ہے۔ دین حق کے خلاف فتنے اٹھانے والوں میں سے ایک گروہ نے حدیث کے حجت ہونے ہی کا انکار کر ڈالا۔ جبکہ علماء و ائمہ کرام کے نزدیک مسلّم ہے کہ حدیث کے دامن میں جو استناد اور اسماء الرجال کا عظیم الشان سلسلہ موجود ہے، اس کی مثال دنیا بھر کے مذہبی یا تاریخی لٹریچر میں مفقود ہے۔ حدیث وہی ہے اور اس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے اُٹھایا ہے۔ حدیث کے بغیر اکمال دین کا تصور محال ہے، لہٰذا رسول اللہ ﷺ کی سنت کو حجت تسلیم کرنا ایمان کا اولین تقاضا ہے۔ `حجیت حدیث` کا فاضل مصنف مولانا عبدالستار حماد نے انکار حدیث کا فتنہ بے نقاب کرنے میں جو عظیم الشان تحقیقی خدمت انجام دی ہے، وہ منکرین حدیث کی فتنہ انگیزی کے خلاف برہان قاطع کی حیثیت رکتھی ہے۔ اس مختصر اور انتہائی جامع تالیف کا مطالعہ دین حق کےطلبہ و اساتذہ دونوں کے لیے بے حد مفید ثابت ہوگا۔ -
ہمیں اپنے روشن ماضی میں ہر لحظ نئی آن اور نئی شان کی جو جلوہ گری ملتی ہے اس کا ایک اہم ترین سبب یہ ہے کہ ہماری عظیم ماؤں کی گود میں حسن، حسین، عبداللہ بن عمر، اور عمر بن ابدالعزیز ،عقبہ بن نافع، طارق بن زیاد اور محمد بن قاسم جیسے بچے پرورش پاتے تھے۔ آج کے دور میں ہماری محترم مائیں بہنیں بھی عزت و عظمت کا وہی درجہ حاصل کر سکتی ہیں جو قرون اولیٰ کی جلیل القدر خواتین کو نصیب ہوا تھا۔ اس کا واحد طریقہ یہ ہے کہ جس طرح اُن عظیم خواتین نے اللہ اور رسول ﷺ کے ارشادات پر عمل کیا تھا اُسی طرح آج کی خواتین بھی عمل کرنے کی کوشش کریں۔ یہ رہ نمائے عمل کتاب رسول اللہ ﷺ کی ایک سو احادیث اور ان کی شاندار تشریحات پر مشتمل ہے۔ اس میں خواتین کی کامیابی کے تمام طریقے بہت آسان اور دلکش پیرائے میں بتا دیے گئے ہیں، اسے پڑھیے، اس پر عمل کیجیے، اور اپنے مستقبل کو درخشاں بنائیے۔
-
زندگی کیا ہے؟ کیوں ہے؟ کس لیے ہے؟ اور اس کا انجام کیا ہے؟ آج کی دلکش مادی اور مصروف زندگی میں ان سوالات پر غور کرنے کی مہلت شاذ ہی نصیب ہوتی ہے۔ محترم ام منیب نے زیرِ نظر کتاب `دنیا کے اے مسافر!` میں انھی اہم ترین سوالوں کا ہمہ جہت جائزہ لیا ہے۔ موصوفہ نے قران کریم اور احادیث نبوی کی روشنی میں زندگی کا اصل مقصد بڑی خوبی سے اُجاگر کیا ہے۔ انھوں نے دعوت دی ہے کہ اے فانی لذ توں پر مرنے والے انسان! اپنا مرتبہ پہچان۔ تجھے اللہ تعالیٰ نے صرف اپنی بندگی کے لیے بنایا ہے، تو غیر کا متوالا نہ بن ، صرف اللہ رب العزت سے پیار کر۔ اُسی کا ہو جا۔ ہر آن، ہر گھڑی نیکی کی شمعیں روشن کرتا رہ تا کہ جب موت آئے تو تیرا دامن اعمال صالحہ سے مالا مال ہوا اور رب کریم تجھ سے خوش ہو کر تجھے اپنے جوار پاک میں جگہ دے۔ یہ کتاب ہر مسلمان کو پڑھنی چاہیے۔ اس کتاب کی پاکیزہ تعلیمات پر جو بھی اخلاص سے عمل کرے گا، اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے اسے ابدی عزت و عظمت کا تاج پہنا دے گا۔ -
Sale!
نبی کریم ﷺ کے بعد امتِ مسلمہ کے سب سےبڑے قائد اور اسلامی معاشرے کا سب سے عظیم نمونہ اور نمائند ہ شخصیت ابو بکر صدیق ؒ ہی تھے۔ خلافتِ راشدہ کی ابتدائی فتوحات، کامیابیاں اور خوبیاں عہد صدیقی ہی کی رہینِ منت تھیں۔ سیدنا ابو بکر صدیق ؒ ایمان و یقین، اطاعت و غلامی، محبت و وارفتگی اور ہمت و حوصلہ جیسے بے مثل خوبیوں سے مالا مال تھے۔ آیئے، ہم بھی اُنکی سیرت کی مطالعہ کر کے اپنے اعمال کو نکھارنے کا سامان کریں۔ The life of Abu Bakr As Siddique (May Allah be pleased with him) offers a blueprint to successful life to those Muslims as well as non-muslims who are searching for the truth. This book provides detailed and insightful glimpses into the extraordinary life of the first Caliph of the Muslims Abu Bakr As-Siddeeq (May Allah be pleased with him) and his massive contribution to all of humanity. He was a truly a man for all ages. This compilation has specifically been made for the Muslim Youth, who need to learn about the sacred personalities and their success stories. Indeed, this is the best way to teach core values of an ideal Islamic life and help youth understand their religion. -
امام بخاری ۱۳شوال ۱۹۴ھ، بروز جمعہ بخارا میں پیدا ہوئے۔ دس سال کی عمر ہوئی تو مکتب کا رخ کیا۔ بخارا کے کبار محدثین سے استفادہ کیا۔ جن میں امام محمد بن سلام بیکندی، امام عبداللہ بن محمد بن عبداللہ المسندی، امام محمد بن یوسف بیکندی زیادہ معروف ہیں۔ اسی دوران انہوں نے امام عبداللہ بن مبارک امام وکیع بن جراح کی کتابوں کو ازبر کیا اور فقہ اہل الرائے پر پوری دسترس حاصل کر لی۔ طلبِ حدیث کی خاطر حجاز، بصرہ،بغداد شام، مصر، خراسان، مرو بلخ،ہرات،نیشا پور کا سفر کیا ۔ ان کے حفظ و ضبط اور معرفت حدیث کا چرچا ہونے لگا۔ امام بخاری کے استاتذہ کرام بھی امام بخاری سے کسب فیض کرتے تھے ۔ آپ کے استاتذہ اور شیوخ کی تعداد کم وبیش ایک ہزار ہے۔ جن میں خیرون القرون کےاساطین علم کےاسمائے گرامی بھی آتے ہیں۔اور آپ کےتلامذہ کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ امام بخاری سے صحیح بخاری سماعت کرنےوالوں کی تعداد 90ہزار کےلگ بھگ تھی ۔امام بخاری کے علمی کارناموں میں سب سے بڑا کارنامہ صحیح بخاری کی تالیف ہے جس کے بارے میں علمائے اسلام کا متفقہ فیصلہ ہے کہ قرآن کریم کے بعد کتب ِحدیث میں صحیح ترین کتاب صحیح بخاری ہے ۔ فن ِحدیث میں اس کتاب کی نظیر نہیں پائی جاتی آپ نے سولہ سال کے طویل عرصہ میں 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔امام بخاری کی سیر ت پر متعدد اہل علم نے کتب تصنیف کی ہیں لیکن سب سے عمدہ کتاب مولانا عبد السلام مبارکپوری کی تصنیف ’’سیرۃ البخاری ‘‘ ہے جو کہ کتاب وسنت ویب سائٹ پر موجود ہے۔ اس کتاب کا عربی ترجمہ ڈاکٹر عبد العلیم بستوی کےقلم سے جامعہ سلفیہ بنارس سے شائع ہوچکا ہے۔ زیر نظرکتاب ’’سیرت امام بخاری‘‘ کو تالیف کرنے کی سعادت شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمٰن چیمہ﷾نے حاصل کی بعد ازاں دارالسلام ،لاہور کے شعبہ تحقیق وتصنیف کےسکالرزنے بھی اس میں بیش قیمت اضافے کیے ہیں۔ شیخ الحدیث مولاناحافظ عبدالعزیز علوی نے ترمیم واضافہ کے ساتھ ساتھ اس کی نظرثانی کی ہے اور اسی طرح محقق دوراں مولاناارشاد الحق اثری نےاس میں کچھ حک و اضافہ کےساتھ اس پر ایک جاندار مقدمہ تحریرکیا ہے جس سے اس کتاب اہمیت وافادیت دو چند ہوگئی ہے۔ اس کتاب میں امام بخاری کےاساتذہ کی سیرت، اساتذہ کرام، ان کے طبقات، وسعت علمی ، عقائد ونظریات، صحیح بخاری میں احادیث کو نقل وجمع کرنے کی شرائط، دیگر تصانیف اور ان کےاسلوب اور متعلقات وشروح صحیح بخاری کےساتھ ساتھ امام بخاری کی فقیہانہ بصیرت، محدثانہ صلاحیت ،امام موصوف کے معاصرین اور تلامذہ وغیرہ کا تذکرہ بڑے یگانہ اور جدید اسلوب میں پیش کیا گیا ہے۔ -
مذہب، ادب، سیاست، عدالت، تجارت، معاشرت اور علم و ہنر غرضیکہ ہر شعبہ زندگی میں ہمارے رہنما صرف حضرت محمد ﷺ ہیں۔ آپ کی زندگی اللہ تعالیٰ کی والہانہ محبت، اطاعت اور استقامت کی نہایت ایمان پرور اور ولولہ انگیز داستان ہے۔ آپ ﷺ نے کفر و شرک اور ظلم و جفا کی صدیوں پرانی زندگی کا طلسم توڑا۔ رنگ، نسل ، ذات پات اور دولت و ثروت کے جھوٹے امتیازات ختم کیے۔ انسان کو اللہ رب العزت کی عظمت و کبریائی کا سبق سکھا کر اجتماعی زندگی کی بنیاد توحید ، اخوت اور مساوات پر رکھی اور بنی نوع انسان کو شرافت اور امن دوستی کی اعلیٰ اقدار کا پیغام دیا۔ آج کا انسان رحمت للعالمین ﷺ کی تعلیماتِ عالیہ کا پیاسا ہے۔ آیئے ہم خوب بھی اللہ کے آخری رسول حضرت محمد ﷺ کی پیروی کریں اور اپنے بچوں کو بھی اسوہ حسنہ کے اُجالوں سے رشناس کرائیں۔ یہ کتاب اسی مقصد سے شائع کی جا رہی ہے کہ ہمارے نونہال ابھی سے سیرتِ نبوی سے روشنی حاصل کریں اور دنیا کو معصیت، حرص و ہوس اور ظلم و جور کی آلودگی سے نجات دلانے کے لیے سرگرمِ عمل ہوجائیں۔ اس غایت سے ہر بچے اور بچی کے لیے اس کتاب کا مطالعہ آج کی اولین ضرورت ہے۔ -
`شکر` صفات حسنہ میں بہت اہمیت کا حامل ہے اور `توبہ` مغفرت کے وسائل میں ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ شکر اور توبہ کی یہ دونوں کیفیات کسی بندہ مومن کو میسر آجائیں تو یہ ایک خوش نصیبی اور سعادت کی بات ہے۔ ہمیں اور بہت سی تعلیمات کی طرح ان دوبنیادی اوامر کی طرف کتاب و سنت میں جابجا توجہ دلائی گئی ہے۔ محترم بشیر احمد لودھی ایک نووارد مصنف ہیں، مگر ان کے قلم میں ایسی پختگی ہے جس کا تقاضا کتاب و سنت میں موجود ہے۔ انھوں نے اس مختصر مگر جامع کتاب کے ہر باب میں صرف اور صرف کتاب و سنت ہی کے چشمہ صافی سے رجوع کیا ہے، جس کے باعث ان کی یہ کتاب ایک طالب ہدایت کے لیے نسخہ شفا ہے۔ دارالسلام کے شعبئہ تحقیق نے اس کتاب کے حوالوں کی تخریج کر کے اسے چار چاند لگا دیے ہیں۔ اب یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک سادہ اسلوب اور پختہ فکر کی نمائندگی کرتی ہے۔ عامتہ المسلمین انشا ءاللہ اس کے مطالعے کو اپنے لیے نافع اور مفید محسوس کریں گے۔ -
کسی بھی انسان کی شخصیت ہی ہے جو کسی دوسرے انسان کو اُسکے اچھے یا بُرے ہونے کا پتا دیتی ہے۔ موجودہ دور میں شخصیت کو بطور مکمل موضوع کے پڑھا اور پڑھایا جاتا ہے۔ زیرِ نظر کتاب میں شخصیت سازی کے ان تمام سنہرے اصولوں سے قاری کو روشناس کراگیا ہے جنہیں اپنا کر وہ نہ صرف اپنی شخصیت کو خوشگوار بنائیگا بلکہ اپنی زندگی میں بھی خوبصورت تبدیلی کا تجربہ کر پائیگا۔ اس کتاب کا مطالعہ تمام عمر کے مسلمانوں اور بلخصوص نوجوان مسلماموں کے لیے بے حد مفید ہے۔ -
اللہ عزوجل نے یہ کائنات ہست و بود انسان کے لیے بنائی ہے اور انسان کو اپنی بندگی کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ہمارا عظیم خالق خوب جانتا ہے کہ یہ دنیا انسان کو کن طریقوں سے فائدہ پہنچائے گی اور کن کرتوتوں کی وجہ سے شدید نقصانات سے دوچار رکردے گی۔اللہ تعالیٰ نے یہ باتیں قرآن کریم میں اوامر نواہی کی صورت میں بتلا دی ہیں اور اپنے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے ذریعے سے سارے عالم پر ہمیشہ کے لیے روشن کر دی ہیں۔علمائے سنت نے ان اوامر و نواہی کو جو کتا وسنت میں بیان ہوئے ہیں،آسان زبان میں ایک ترتیب کے ساتھ امت مسلمہ کے سامنے پیش کر دیے ہیں۔ زیرِ نظر کتاب میں ایک مسلمان کی زندگی میں پیش آنے والے تمام مسائل کو ایک خاص ترتیب کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ قاری باآسانی اپنے مسائل کو سنت کے مطابق حل کر سکے۔ -
یقیناً قیامت بہت بڑی حقیقت ہے جو ارشاد ربانی کے مطابق واقع ہو کر رہے گی۔ اس دن سب انسان دوبارہ زندہ کردیئے جائیں گے۔ پھر سب کشاں کشاں آئیں گے اور حشر کے ہجوم و ہیجان میں اپنے اپنے اعمال کا حساب دیں گے۔ زیرِ نظر کتاب اسی حقیقت عظمیٰ کی یاد دہانی اور فکر آخرت کے لیے لکھی گئی ہے اس میں قران کریم اور احادیث رسول ﷺ کی روشنی میں بتایا گیا ہے کہ قیامت کا دن کیسا ہوگا؟ اس دن کتنی زبردست وحشت، گھبراہٹ اور ہولناکی چھائی ہوئی ہوگی؟ لوگ پلِ صراط سے کس طرح گزریں گے۔ جنتی لوگ کتنے خوش و خرم ہوں گے اور کافروں ، مشرکوں اور بدکاروں کا کیا انجام ہوگا۔ اس کتاب میں قیامت کے دن رسوائی سے بچنے اور جنت میں جانے کے آسان طریقے بتائے گئے ہیں۔ ہر مسلمان بہن بھائی کو اپنی آخرت سنوارنے کے لیے اس کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔
-
سلام مسلمانوں سے صرف دو باتوں کا مطالبہ کرتا ہے۔ پہلی یہ کہ اس کے دل کا یقین ٹھیک ہو، یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو اپنا معبود، مسجود، مقصود، مشکل کشا اور حاجت روا نہ مانے۔ اور دوسری بات یہ کہ اس کی پوری زندگی حسن عمل کی آئینہ دار ہو، یعنی وہ ہر قسم کے شرک و بدعت سے بلکل پاک ہو، اور اُس کے ہر کام اور اقدام میں سنت رسول اللہ ﷺ کا نو چمک رہا ہو۔ امام ابن تیمیہ اسلام کی ان مایہ ناز ہستیوں میں سے ایک ہیں جو ہمارے دین ، ہمارے علوم، ہماری تہذیب اور ہماری تاریخ کا وقار اور اعتبار تھے۔ انہوں نے ایک طرف تاتا ریوں کے خلاف علم جہاد بلند کیا اور دوسری طرف اپنے علوم عالیہ سے مسلمانوں کی فکری صحت و سلامتی کا عظیم الشان کام انجام دیا اور طرح طرح کی فکری گمراہیوں اور بدعتوں کا سدِ باب کیا۔ امام موصوف کی معروف کتاب `اقتضاع الصراط المستقیم` ان کی انھی نادر خوبیوں کا مرقع ہے۔ یہ کتاب ایک طرف اللہ کی ذات عالی پر ایمان کو مضبوط بناتی ہے اور دوسری طرف مسلمانوں کو ہر قسم کی فکری لغزشوں اور عملی گمراہیوں سے خبردار کر کے ان پر قران و سنت کی راہ روشن کردیتی ہے۔ اس کتاب کی اسی اہمیت کے پیش نظر `دارالسلام` اسے اُردو کے قالب میں `فکر و عقیدہ کی گمراہیاں اور صراط مستقیم کے تقاضے` کے عنوان سے پیش کر رہا ہے۔ زندگی کو صحیح معنوں میں اسلام کے مطابق بنانے کے لیے اس کتاب کا مطالعہ ضروری ہے۔
-
اس کتاب ميں عقيدہ،قربانی،تصويروں،مجسموںمنتراورتعويذ،وضو،غسل،طہارت،اذان،نماز،زکوٰۃ،روزے،حج اوراس سےمتعلقہ مسائل،سود، بينکوں کےمعاملات،وصيت،ميراث،نکاح،طلاق،پردہ،اطاعت والدين،غنا،موسيقی اورمعاشرتی زندگی سےمتعلق متفرق معاملات پر270سےزائدسوالوں کےجوابات قرآن وحديث کی ميں مفتی اعظم سعودی عرب ديئےہيں۔اُردوزبان ميں اپنی نوعيت کی پہلی اورمنفرکتاب ہےجس ميں روزمرہ زندگی ميں پيش آنےوالےبہت سےسوالات کاجواب موجودہے۔ -
Sale!
قران مجید میں انبیائے کرام کے واقعات کے ضمن میں انبیاء کی دعاؤں اور ان کے آداب کا تذکرہ ہوا ہے۔ ان قرانی دعاؤں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ کے سب سے برگزیدہ بندے کن الفاظ سے کیا کیا آداب بجا لا کر کیا کیا مانگا کرتے تھے۔ انبیاء کی دعاؤں کو جس خوبصورت انداز سے قران مجید نے پیش کیا ہے یہ اسلوب کسی دوسری آسمانی کتاب کے حصے مین بھی نہیں آتا۔ ان دعاؤں میں ندرت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہر قسم کی ضرورت کے بہترین عملی اور واقعاتی نمونے بھی ہماری رہنمائی کے لیے فراہم کر دیے گئے ہیں۔ قران مجید کی پیش کردہ یہ تمام دعائیں اپنے مکمل پس منظر کے ساتھ `قرانی دعائیں اور وظائف` میں پیش کردی گئی ہیں تا کہ ان دعاؤں کا مضمون سمجھ کر انسان دعا کرے اور ان کی شرفِ قبولیت کی سند حاصل کرے۔ افادیت کے پیشِ نظر جادو، آسیب اور جنات سے متعلقہ بیماریوں کا آسان قرانی علاج ذکر کرنے کے ساتھ `قرانی وظائف` کے عنوان سے اسلاف کے بعض آزمودہ وظائف بھی شامل کر دیے گئے ہیں۔ بارگاہِ رب العلمین سے امید ہے کہ اس کتاب سے آپ کے خوابیدہ ارمان جاگ جائیں گے۔ -
`اسلام کی نظر میں وضع کی درستی اصلاح قلب کا لازمی جزو ہے۔ یہ تو ہو سکتا ہے کہ وضع درست ہو اور دل درست نہ ہو لیکن یہ ممکن نہیں ہے کہ دل درست ہو اور وضع پر اس کا کچھ اثر نہ پڑے۔ اصلاحِ وضع میں داڑھی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ داڑھی کا رکھنا دل کی ایمانی قوت کا اظہار ہے اور داڑھی منڈوانا دل کی کراہت و نیت کی خرابی کی علامت ہے۔ جس کا دل پاک صاف ہو، وہ تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا فرماں بردار ہوتا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ گنا ہ پر اصرار کرتے رہیں اور دل بھی صاف ہو؟ رسول اللہ ﷺ کی صورت مبارکہ یعنی داڑھی سے نفرت ہو اور روح بھی پاک ہو، یہ کیسے ممکن ہے؟ داڑھی بڑھانے اور مونچھیں کٹانے کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے سخت تاکید فرمائی ہے اور اس کا حکم دیا ہے۔ پس کوئی مسلمان رسول اللہ ﷺ کی حکم عدولی اور نا فرمانی نہیں کر سکتا۔ اگر ہمیں اپنے آقا ﷺ سے محبت ہے تو ضروری ہے کہ ہم بھی اپنا چہرہ اس جیسا بنا لیں۔ -
دنیا کے کسی مذہب اور کسی نظریہ حیات نے عورت کو وہ عظمت نہیں بخشی جو اسلام نے عطا فرمائی ہے۔ اب تک کی معلومہ تاریخ میں کفر و شرک کی طاقتیں اتنی گمراہ کن تہذیب اور اس قدر مہلت اسلحہ سے کبھی مسلح نہیں ہوئیں جتنی آج ہیں۔ ان حالات میں مسلمان خواتین کا کردار ہمیشہ سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ یعنی وہ خود اسلامی تعلیمات کا عملی پیکر بنیں اور اپنے بچوں میں بھی مجاہد اسلام بننے کی تڑپ پیدا کریں۔ جب تک ہماری محترم خواتین اللہ رب العزت کی سچی بندگی کا نمونہ و نمائندہ نہیں بنیں گی، ہماری بستیاں جلتی رہیں گی، مسجدِ اقصیٰ فریاد کرتی رہے گی اور ہمارے ہاں کوئی محمد بن قاسم اور کوئی صلاح الدین ایوبی پیدا نہیں ہوگا۔ کامیاب مسلمان خاتون کی صفات کیا ہیں؟ اور ہماری محترم خواتین قرونِ اولیٰ کی عالی مقام خواتین جیسی ہستیاں کس طرح بن سکتی ہیں؟ یہ باتیں اس کتاب میں تفصیل کے ساتھ بتا دی گئی ہیں۔ در حقیقت یہ کتاب اعلیٰ سیرت سازی کا جامع منشور ہے۔ ان شا اللہ ! اس کی بدولت ایمان اور حسن عمل کے چراغ دور دور تک روشن ہوتے چلاے جائیں گے۔
-
سيرت دينی موضوعات ميں سے ايک اہم تر موضوع ہے جس ميں اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم کي ذاتی اور شرعی زندگی کامطالعہ کيا جاتا ہے۔ايک مسلمان ہونے کے ناطے ہماری يہ بنيادی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہميں اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم کي ذات، حالات، شمائل اور سيرت سے واقفيت ہونی چاہيے۔ ہر دور ميں اہل علم نے سيرت پر کتابيں لکھی ہيں۔امام محمد بن اسحاق (متوفی152ھ) کی کتاب سيرت ابن اسحاق اس موضوع پر پہلی جامع ترين کتاب شمار ہوتی ہے اگرچہ امام محمد بن اسحاق سے پہلے صحابہ وتابعين ميں سے 40 افراد کے نام ملتے ہيں جنہوں نے سيرت کے متفرق ومتنوع پہلوؤں پر جزوی بحثيں کي ہيں۔اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم کي سيرت پر مختلف اعتبارات سے کام ہوا ہے جن ميں ايک اہم پہلو سيرت کا فقہی اور حکيمانہ پہلو بھی ہے يعنی فقہی اعتبار سے سيرت کو مرتب کرنا اور اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم کے اعمال و افعال کی حکمتيں بيان کرنا۔ امام ابن القيم (متوفی 751ھ)کی کتاب ’زاد المعاد‘ سيرت کے انہی دو پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے مرتب کي گئی ہے۔بعض اہل علم نے ’زاد المعاد‘ کو فلسفہ سيرت کی کتاب بھی کہا ہے جبکہ بعض اہل علم کا کہنا يہ ہے کہ امام صاحب کي يہ کتاب ’عملی سيرت‘ کی ايک کتاب ہے۔ امام ابن القيم کی اس کتاب کا ايک خوبصورت اختصار شيخ محمد بن عبدا لوہاب رحمہ اللہ نے ’مختصر زاد المعاد‘ کے نام سے کيا ہے جسے سعيد احمد قمر الزمان ندوی نے اردو ترجمہ کی صورت دی ہے۔ امام ابن القيم رحمہ اللہ کی اس کتاب ميں بعض بہت ہی نادر اور قيمتی و علمی نکات بھی منقول ہو ئے ہيں جو ان کے روحانی مقام ومرتبہ پر شاہد ہيں خاص طور پر ص 350 پر نظر بد کے علاج کي بحث ارواح کی خصوصيات کے بارے عمدہ بحث کی گئی ہے۔ بلاشبہ امام صاحب کی يہ کتاب سيرت کے فقہی،علمی، حکيمانہ اور فلسفيانہ پہلوؤں کو محيط ہونے کے ساتھ ساتھ سيرت کا ايک مستند مصدر وماخذ بھی ہے جس کا اختصار افادہ عام کے ليے شيخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ نے کياہے -
اسلامی آداب واخلاقیات حسنِ معاشرت کی بنیاد ہیں،ان کے نہ پائے جانے سے انسانی زندگی اپنا حسن کھو دیتی ہے ۔ حسنِ اخلاق کی اہمیت اسی سے دوچند ہوجاتی ہے کہ ہمیں احادیث مبارکہ سے متعدد ایسے واقعات ملتے ہیں کہ جن میں عبادت وریاضت میں کمال رکھنے والوں کےاعمال کوصرف ان کی اخلاقی استواری نہ ہونے کی بنا پر رائیگاں قرار دے دیاگیا۔حسن ِاخلاق سے مراد گفتگو اور رہن سہن سے متعلقہ امور کوبہتر بنانا ہی نہیں ہے بلکہ اسلامی تہذیب کے تمام تر پہلوؤں کواپنانا اخلاق کی کامل ترین صورت ہے ۔ اور دین اسلام اللہ کا پسندیدہ دین ہے ،جسے اللہ عزوجل نے انسانوں کے لیے زندگی گزارنے کا ایک ضابطہ کے طور پر مقرر فرمایا ہے ۔اس میں دنیا وآخرت کی بھلائی اور کامیابی کے تمام اصول بیان کر دیئے گئے ہیں ۔دین اسلام کی یہ خوبی اسے دوسرے ادیان ومذاہب سے ممتاز کرتی ہے کہ اس میں دنیا وآخرت ہر دو کی رعایت رکھی گئی ہے اور زندگی کے ہر پہلو سے متعلق کامل رہنمائی دی گئی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’منہاج المسلم ‘‘ سعودی عرب کے نامور عالم دین علامہ ابوبکر جابر الجزائری کی تصنیف ہے ۔اس عظیم الشان کتاب کا اردو ترجمہ مولانا سلطان محمد جلالپور ی کے تلمیذ خاص شیخ الحدیث مولانامحمد رفیق الاثری نے کیا ۔اس کتاب میں کتاب وسنت کی روشنی میں تمام شعبہ ہائے زندگی کے بارے میں دلوں میں اترجانے والے بیش بہا اسباق چمک رہے ہیں ۔ زبان آسان ،عام فہم اور سادہ ہے ۔ عقائد ہوں یا عبادات کا بیان ، اخلاقیات کے مختلف پہلو ہوں یا اسلامی آداب وحقوق کا تذکرہ احکام ِتجارت ہوں یا معاشرتی معاملات، وراثت کے مسائل ہوں یا عائلی قوانین، قصاص ودیت کے اصول ہوں یا قضاء کےمسائل سبھی پر سیر جاصل بحث کی گئی ہے ۔ بلاشبہ یہ کتاب دین کی تعلیمات کا ایک عظیم الشان انسائیکلوپیڈیا ہے ۔ لہذا ہر گھر میں اس کتاب کا ہونا ضروری ہے تاکہ مسلمان اپنے شب وروز اسلامی تعلیمات کے مطابق بسر کر سکیں اور دنیا وآخرت کی بھلائیوں اور کامیابیوں سے بہرہ مند ہوسکیں ۔منہاج المسلم اگرچہ پہلے بھی ویب سائٹ پر موجود تھی لیکن موجود ہ ایڈیشن تحقیق وتخریج سے مزین ہے اس لیے اس ایڈیشن کوبھی پبلش کیا گیا ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم اور ناشرین کی اس عظیم کاوش کو قبول فرمائے -
`شیخ البانی ؒ اہلِ سنت میں سے ہیں، سنت کے داعیوں میں سے ہیں اور حفاظتِ سنت کے راستے پر گامزن مجاہدین میں سے ہیں۔۔۔ حدیث شریف کی صحیح ، ضعیف اور موضوع روایات کے امتیاز و بیان میں ان کی کاوشیں قابل قدر ہیں۔۔۔ آپ نے جو کچھ تحریر فر مایا اللہ رب العزت کے ذریعے سے بہت سے لوگوں کی علم حق، صحیح منہج اور علم حدیث کی طرف رہبری کی ہے اور بہت زیادہ نفع پہنچایا ہے۔ زیرِ نظر کتاب اُنکی سوانح حیات ہے جو کہ خاص و عام سب کے لیے بے حد مفید ہے۔ -
Sale!
اس وقت آپ کے سامنے صحاح ستہ کی آخری کتاب ’سنن ابن ماجہ‘ کا سلیس اور رواں اردو ترجمہ ہے۔ صحاح ستہ میں سے بخاری و مسلم کی تمام احادیث کی صحت پر محدثین متفق ہیں لیکن بقیہ چار کتب ایسی ہیں جن میں صحیح احادیث کے ساتھ ساتھ ضعیف احادیث بھی شامل ہیں۔سنن ابن ماجہ کو پانچویں صدی ہجری کے آخر میں کتب ستہ میں شمار کیا جانے لگا۔اس کے بعد ہر دور میں یہ کتاب اپنی حیثیت منواتی گئی ۔ صحت و قوت کے لحاظ سے صحیح ابن حبان، سنن دار قطنی اور دوسری کئی کتب سنن ابن ماجہ سے برتر تھیں لیکن ان کتب کو وہ پذیرائی اور قبول عام حاصل نہ ہوسکا جو سنن ابن ماجہ کو حاصل ہوا۔’سنن ابن ماجہ‘ کا اسلوب نہایت شاندار ہے اور تراجم ابواب کی احادیث کی مطابقت نہایت واضح ہے۔ کتاب مختصر ہونے کے باوجود احکام و مسائل میں نہایت جامع ہے۔ امام ابن ماجہ نے اپنی سنن میں 482 ایسی صحیح احادیث کا اضافہ کیا ہے جو باقی کتب خمسہ میں نہیں ہیں۔ ’سنن ابن ماجہ‘ کی اسی اہمیت کےپیش نظر مولانا عطاء اللہ ساجد نے افادہ عام کے لیے اسے اردو میں منتقل کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ مولانا نے کتاب کا عمدہ ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہر حدیث سے ثابت ہونے والے فوائد کا بھی متصل تذکرہ کیا ہے۔ حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کی نظر ثانی اور تصحیح و اضافات نے کتاب کی افادیت کو بڑھا دیا ہے۔ تخریج و تحقیق کے لیے حافظ زبیر علی زئی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں انہوں نے ہر حدیث پر اپنی تحقیق کے مطابق حکم لگایا ہے کہ وہ صحیح، حسن یا ضعیف ہے۔ -
Sale!
This Sunan is one of the six is al-Mujtaba or as-Sunan as-Sughara, which is a synopsis of a large collection of Ahadiths which he considered to be fairly reliable. In the smaller collection, only those Ahadiths which he considered to be reliable have been included. It was compiled by the great scholar of Ahadith’s, Abu Abdur-Rahman Ahmad bin Shu`aib bin An-Nasai. Imam An-Nasai, like other great scholars of Ahadith’s traveled to Baghdad, Ash-Sham, Egypt, Makkah, and many other cities to seek knowledge. He received the praises of many scholars including Ad-Daraqutni who said about him: `He is given preference over all others who are mentioned with this knowledge from the people of his time`. Some scholars consider his compilation to have the least number of defective or weak narrations among the four Sunans. This great book of his contains 5761 Ahadiths, making it as an invaluable addition to anyone`s library. -
Abū ʻAbdillāh Muḥammad ibn Yazīd Ibn Mājah al-Rabʻī al-Qazwīnī commonly known as Ibn Mājah R.A was a scholar of Hadith and the compiler of the authentic collection of Ahadith Sunan Ibn Majah. This books shares the authentic information on the life and work of Imam Ibn Majah R.A and provides a complete biography of him in simple and easy to understand language. -
One of the blessings of Allah upon this Ummah is that He appointed for it people who would undertake to preserve the Sunnah of their Prophet (S). They were the scholars who devoted their entire lives to this monumental task, foregoing physical pleasures and taking delight, instead, in spending the nights recording hadeeths and in undergoing hardships in order to convey even one hadeeth from the Prophet (S). One of those eminent scholars is the subject of this biography: Aboo Daud Sijistaanee -
یہ کتاب حضرت محمد ﷺ کی سیرت مبارکہ کے ساتھ ساتھ اُن جگاؤن کا بھی احاطہ کرتی ہے جہاں آپ ﷺ نے اپنے قدم مبارک رکھے، جہاں آپ ﷺ نے جنگیں لڑیں اور جہاں آپ ﷺ نے احکامات جاری فرمائے۔ اس کتاب کے مطالعے سے قاری میں محبت رسول ﷺ کی سچی لگن پیدا ہوگی۔ This book rounds up a series of atlases, written and compiled by the author in the same pattern. It reviews the biography of the Prophet (PBUH) and tracks the places he honored by his visits, the battles he fought, and the expeditions and envoys he directed. The Book presents all the required maps, illustrations, drawings and pictures. B Briefings and Excerpts have been added to the pictures and drawings for better understanding, benefit, and satisfaction of the readers.