ہمارے مقدس پروردگار کو انسانوں کی باہمی محبت بڑی محبوب ہے۔ وہ تفرقے اور آپس کے لڑائی جھگڑے کبھی گورا را نہیں فرماتا۔ اللہ نے بے حد کرم فرمایا کہ سب انسانوں کی رہبری کے لیے اپنے آخری رسول حضرت محمد ﷺ کو معبوث فرمایا اور اُن کی معرفت قران کریم جیسی متاع بے بہا عطا کی۔ قران کریم نے سب انسانوں کو باہمی یگانگت کے رشتے میں جوڑنے کا گر بتا دیا کہ سب انسانوں کا ایک ہی پروردگار ہے۔ اسب کو اسی کی بندگی کرنی چاہیے، اس کی وحد و یکتائی میں کسی کو شریک نہیں ٹھہرانا چاہیے اور اچھے کام کرنے چاہیے۔ `قران کی عظمتیں اور اس کے معجزے` کے زیر عنوان یہ کتاب در حقیقت اسی نصب العین کی تشریح ہے۔ آج دنیا بھر میں جگہ جگہ تفرقے اور تہلکے برپا ہیں۔ دنیا امن اور عزت و راحت کی زندگی کے لیے ترس رہی ہے۔ اُسے یہ نعمت صرف قرانی تعلیمات کی چھاؤں ہی میں نصیب ہو سکتی ہے۔۔۔ یہ کتاب قران کی عظمت و جلالات اور اس کے علوم ومعارف کا جامع تعارف ہے۔ اسے خود بھی پڑھیے اور اپنے عزیز و اقارب اور دوست احباب کو بھی اس کے مطالعے کی دعوت دیجیے۔
-
رب ذوالجلال کا کلام دنیا کے تمام کلاموں سے افضل و اعلیٰ ہے۔ اس کے ماننے والوں کے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے عزت و سرفرازی کا وعدہ فرمایا ہے۔ جب تک مسلمانوں نے اللہ کی اس مضبوط رسی کو محکمی سے تھامے رکھا پوری کائنات پر ان کی فتح مندیوں کا پرچم لہراتا رہا اور جب اس مقدم کلام سے دوری بڑھی تو نہ صرف ان کا اوج ثریا پر پہنچا ہوا وقار خاک مین مل گیا بلکہ مسلمان معاشی لحاظ سے بھی انتہائی پسماندہ ہوگئے۔ جس کا دستِ بخشش رکوٰۃ لیے پھرتا تھا اور کوئی لینے کو تیار نہ ہوتا تھا آج وہی مسلمان قران سے بے رخی کے نتیجے میں دنیا بھر میں کشکول گدائی لیے پھر رہا ہے اور کوئی خیرات دینے کا روادار نہیں۔ مسلمانوں کی عظمتِ رفتہ کی بازیابی کا واحد طریقہ یہی ہے کہ جس کلام کے ذریعے سے عزت ملی تھی اسے مضبوطی سے تھام لیا جائے۔ زیرِ نظر کتاب قران سے دائمی تعلق جوڑنے کے لیے ہی مرتب کی گئی ہے۔ اس میں قران کریم کے تمام حقوق و فضائل پوری شرح و بسط سے بیان کردیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اس کتاب میں قران کریم سے متعلق وہ تمام ضروری فضائل و احکام وضاحت سے بتا دیے گئے ہیں جو آسمانی ادب کی اس آخری کتاب سے آپ کا تعلق مضبوط کر کے آپ کو دنیا و آخرت میں عزت کا تاج پہنا دیں گے۔ -
اس وقت آپ کےپیش نظر ’فتاوی ارکان اسلام‘ ہے۔ اس میں عقائد و عبادات کے بارے میں مخصوص سوالات اورمشکلات کے ایسے جوابات فراہم کیے گئے ہیں، جن سے کتاب و سنت اور ادلہ شرعیہ کا مؤقف واضح ہو کر سامنے آ جاتا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت شاندار ہے، اس کو پڑھنے اور سمجھنے والا ایک خاص علمی اور تحقیقی ذوق محسوس کرے گا۔ عالم اسلام کے ممتاز محقق اور مفتی علامہ محمد بن صالح العثیمین کو اللہ تعالیٰ نے علمی رسوخ اور زہد و تقویٰ کی جیسی خوبیوں سے نوازا تھا۔ انہوں نے فتاویٰ کی مختصر مگر جامع کتاب میں عقائد و عبادات پر عامۃ المسلمین کے اذہان میں پیدا ہونے والے تمام تر امکانی سوالوں کے ادلہ شرعیہ کی روشنی میں ایسے محکم، مدلل اور دلنشیں جوابات مرحمت فرمائےہیں کہ جن سے قلب ونظر کو طمانیت اور ذوق عمل میں یقین کا عنصر شامل ہو جاتا ہے۔ کتاب کا اردو ترجمہ مولانا محمد خالد سیف نے کیا ہے جو نہایت سلیس اور جاندار ہے اور کسی بھی موقع پر یہ احساس نہیں ہوتا کہ فتاوی جات اصل میں عربی میں تھے۔ -
قیامت کےمردوں کی طرح عورتیں بھی اپنے اعمال کے لیے جوابدہ ہوں گی اس لیے ہماری محترم ماوًں،بہنوں،اوربیٹیوں کو زندگی کےہرمرحلے میں اپنی ضروریات اور معاملات کی انجام دہی کے لیےدینی احکام اور ہدایات سے پوری طرح باخبر رہنا چاہیے یہ کتاب آگہی کا مقصد بخوبی پورا کرتی ہےاسی لیے یہ زیادہ توجہ اور تکریم کی مستحق ہے مختلف گھرانوں کی خواتین کوخانگی زندگی کےنشیب وفرازمیں بہت سی الجھنیں اورمسائل پیش آئے۔انھوں نےرہنمائی حاصل کرنے کے لیے سعودی عرب کے اجل علمائے کرام سے رجوع کیا تو ان رجال کبارنے قرآن و سنت کی روشنی میں فتوے جاری فرمائے – یہ کتاب انھی بیش بہا فتووں کا مجموعہ ہے اس میں ان تمام مشکلات اور مسائل کادینی حل آسان الفاظ میں بتا دیا گیا ہے جو ہماری محترم خواتین کو وقتاً فوقتاً پیش آتے رہتے ہیں اکثر خواتین حیا کے بوجھ سے دبی رہتی ہیں –دل کی بات زبان پر نہین لاتی –اس طرح ان کہے سوالات اور نازک مسائل ان کے دل ودماغ میں چکر کاٹتے رہتے ہیں ایسی خواتین اس کتاب کاخاص طور پر مطالعہ فرمائیں-انشاءاللہ! انھیں قرآن وحدیث کی روشنی میں اپنے تمام مسائل کا تسلی بخش حل اور ہر سوال کا شافی جواب مل جائے گا -
عیسائیت ،تجزیہ ومطالعہ اپنے موضوع پر ایک بہترین کتاب ہے جس میں عیسائیت کی تعلیمات کو بڑی تفصیل کے ساتھ پیش کرتے ہوئے اسلامی تعلیمات کے ساتھ موازنہ پیش کر کے عیسائیت کو دین اسلام کی دعوت دی گئی ہے اور کتاب کا ہر صفحہ دلائل کا انبار لگائے عیسائی دنیا کو راہ ہدایت کی طرف پکار رہاہے-مصنف نے اپنی کتاب میں عیسائیت کے سارے چنیدہ مسائل کو زیر بحث لاکر ان کی حقیقت کو واضح کیا ہے-جیساکہ عقیدہ ابنیت،عقیدہ تثلیث، عقیدہ کفارہ اور اس کے ساتھ ساتھ عیسی علیہ السلام کی پیش کردہ تعلیمات کی روشنی میں مذہب عیسائیت کی اصلاح کی کو شش کی گئی ہے اور یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کہ کوئی بھی انصاف پسند عیسائی اس کے مطالعے کے بعد اپنی اصلاح کیے بغیر نہیں رک سکتا-اسی طرح سے عیسائیت کو تقویت کس طرح دی گئی اور جدید عیسائیت کا بانی کون ہے ؟اور اسی طرح سے دنیا میں رائج مختلف اناجیل وغیرہ کی تاریخ اور تحقیقی حیثیت کیا ہے؟ایسے موضوعات پر مدلل اور مصلحانہ انداز سے روشنی ڈالی گئی ہے-مکتبہ دارالسلام نے اس کتاب کی اہمیت کے پیش نظر اسے عربی،اردو اور انگریزی زبانوں میں شائع کیا ہے اور دنیا میں پائی جانے والی دیگر زبانوں میں بھی اس کتاب کو شائع کرنے کی امید ہے- -
Sale!
مذہب، ادب، سیاست، عدالت، تجارت، معاشرت اور علم و ہنر غرضیکہ ہر شعبہ زندگی میں ہمارے رہنما صرف حضرت محمد ﷺ ہیں۔ آپ کی زندگی اللہ تعالیٰ کی والہانہ محبت، اطاعت اور استقامت کی نہایت ایمان پرور اور ولولہ انگیز داستان ہے۔ آپ ﷺ نے کفر و شرک اور ظلم و جفا کی صدیوں پرانی زندگی کا طلسم توڑا۔ رنگ، نسل ، ذات پات اور دولت و ثروت کے جھوٹے امتیازات ختم کیے۔ انسان کو اللہ رب العزت کی عظمت و کبریائی کا سبق سکھا کر اجتماعی زندگی کی بنیاد توحید ، اخوت اور مساوات پر رکھی اور بنی نوع انسان کو شرافت اور امن دوستی کی اعلیٰ اقدار کا پیغام دیا۔ آج کا انسان رحمت للعالمین ﷺ کی تعلیماتِ عالیہ کا پیاسا ہے۔ آیئے ہم خوب بھی اللہ کے آخری رسول حضرت محمد ﷺ کی پیروی کریں اور اپنے بچوں کو بھی اسوہ حسنہ کے اُجالوں سے روشناس کرائیں۔ یہ کتاب اسی مقصد سے شائع کی جا رہی ہے کہ ہمارے نونہال ابھی سے سیرتِ نبوی سے روشنی حاصل کریں اور دنیا کو معصیت، حرص و ہوس اور ظلم و جور کی آلودگی سے نجات دلانے کے لیے سرگرمِ عمل ہوجائیں۔ اس غایت سے ہر بچے اور بچی کے لیے اس کتاب کا مطالعہ آج کی اولین ضرورت ہے
-
کسی قوم، معاشرے یا فرد کی کامیابی اور ناکامی کا دارومدار اس کے عقائد و نظریات پر ہوتا ہےقطع نظر اس کے وہ عقائد و نظریات صحیح ہیں یا غلط، جو قوم اپنے نظریات و افکار میں پختہ ہو وہی کامیاب ہوتی ہے۔ اگر عقائد و نظریات مستحکم اور صحیح ہوں تو دین و دنیا دونوں کی کامیابی مقدر ٹھہرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام انبیائے کرام نے سب سے پہلے لوگوں کے عقائد و نظریات کی اصلاح کی اور اسلام نے بھی عقائد پر بہت زور دیا ہے اور پختہ عقائد کے بغیر اسلام کو نفاق کے درجے میں رکھاہے۔ عصرِ حاضر کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے علمائے ربانی نے اسلام کے بنیادی عقائد و نظریات کے حوالے سے بے شمار کتابیں تحریر کی ہیں۔ زیر نظر کتاب، عالم عرب کے معروف قلم کار فضیلۃ الشیخ عبداللہ بن عبدلحمید اثری کی تالیف `الوجیز فی عقیدۃ السلف الصالح` کا اردو ترجمہ ہے۔ اس کتاب میں عقیدے کی تعریف و توضیح کے علاوہ 11 بنیادی اصول ذکر کیے گئے ہیں جن کا جاننا اہل اسلام کے لیے نہایت ضروری ہے۔ عقیدہ توحید اور ایمانیات کے مسائل کو صحابہ کرام ، تابعین اور محدثین کے فہم کی روشنی میں واضح کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب سادہ اور عام فہم ہے جو علماء، طلبہ اور عوام الناس کے لیے یکساں مفید ہے۔ -
بانی مملکت سعودی شاہ عبد العزیز بن عبد الرحمن آل سعو د 1886ء میں پید اہوئے ۔والدین نے ان کی تعلیم وتربیت کا بہترین انتظام کیا قرآن پاک اور ابتدائی دینی تعلیم الشیخ قاضی عبد اللہ ا لخرجی او راصول فقہ اور توحید کی تعلیم الشیخ عبد اللہ بن عبدالطیف سے حاصل کی ۔ جب گیارہ برس کے ہوئے تو شرعی علوم پر بھی مکمل دسترس حاصل کرچکے تھے ۔ریاض پر الرشید کے غلبہ کی وجہ سے شاہ عبدالعزیز اپنے والد گرامی کے ہمرا کویت چلے گئے۔شاہ عبد العزیز وہاں اپنے خاندان پر گزرنے والی مشکلات کے بارے میں سوچا کرتے تھےکہ ان کے والد کس طرح کویت میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے ۔ وہ ہمیشہ اپنے ملک کے بارے میں پریشان رہتے۔اس کی تعمیر وترقی کا خواب دیکھتے رہتے تھے ۔شاہ عبدالعزیز کے والد نے ان کی سیاسی تربیت اسے انداز سے کی کہ وہ لوگوں سے کامیابی کے ساتھ مکالمہ کرسکیں۔شاہ عبد العزیز نے اپنے والد گرامی کےسائے میں کویت میں صبرو سکون کے بڑی منطم زندگی گزاری۔انہوں نے 1902 میں اپنے چالیس جانثار کو ساتھ لے کر ریاض پر حملہ کر کے ریاض کو الرشید کے قبضہ سے آزاد کروایا ۔ جس سے مملکت سعودی عرب کا آغاز ہوا اور پر تھوڑے عرصہ میں پورے سعودی عرب پر شاہ عبد العزیز نےعدل وانصاف پر مبنی حکومت قائم کی ۔شاہ عبدالعزیز نے تیس سال تک مسلسل جدوجہدکی اور اپنی مملکت کی سرحدوں کو وہاں تک پہنچایا جوان کے آباؤ اجداد کے وقت میں تھیں۔ان کی کوششوں سے سعودی عرب صحیح اسلامی مملکت کے طور پر نمایا ں ہوا۔جس کی وجہ سے اللہ تعالی نے ان کو تیل کےذریعے دولت کی فراوانی سے مالامال کیا۔ غلبۂ اسلام کے لیے شاہ عبدالعزیز کی خدمات قابل تحسین ہیں ۔73سال کی عمر میں 1953ءکو طائف میں وفات پائی ۔ زیر نظر کتاب بحر اللہ ہزاروی کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے شاہ عبد العزیزبن عبد الرحمن آل سعود کی بچپن سے جوانی اور سعودی عرب میں اسلامی حکومت قائم کرنے کے تفصیلی حالات کوبڑے احسن انداز میں تحریر کیا ہے ۔ کتاب کے مصنف نے طویل عرصہ سعودی عرب میں پاکستان کےسفارتی مشن میں خدمات انجام دیں اور 1993ء میں جامعہ کراچی سے ’’مملکت سعودی عرب میں اسلامی نظام اور عالم اسلام پر اس کے اثرات‘‘ کےعنوان پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔سعودی عرب کی تاریخ اور آل سعود کے حالات وواقعات جاننے کےلیے یہ ایک منفرد کتاب ہے ۔ اللہ تعالی حکام سعودیہ کو دین حنیف کی خدمت کرنے اور اس پر قائم رہنے کی توفیق دے -
آج کے اس پُر فتن دور میں جبکہ نوجوان نسل بتدریج اسلام سے دور ہو رہی ہے، اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو اپنے اسلاف کی سیرت پڑھائیں، نوجوان نسل کو بتائیں کہ ان کے اخلاق و کردار کیسے تھے اور انھوں نے اسلام کے لیے کتنی قربانیاں پیش کیں۔ `رجالِ قران` کے فاضل مؤلف ڈاکٹر عبدالرحمٰن عمیرہ کا اسلوب بیان بڑا عمدہ ہے۔ انھوں نے بلکل کہانی کے انداز مین ان صحابہ کرام کی سیرت اس کتاب میں بیان کی ہے جن کے بارے میں قران کریم میں آیات نازل ہوئی ہیں۔ انھوں نے اس کتاب میں صحابہ کرام ہی نہیں بلکہ ان کفار اور منافقین کے بارے میں بھی پوری تفصیل کے ساتھ لکھا ہے جن کے بارے میں قران نازل ہوا، کتاب میں موجود واقعات تاریخ کی مستند کتابوں سے نقل کیے گئے ہیں۔ ان واقعات اور صحابہ کرام کی مبارک زندگیوں میں ہمارے لیے دروس موجود ہیں۔
-
دعوتِ حق کیا ہے؟ اس کی تفصیلا ت قران مجید کی آیات مقدسہ اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث مبارکہ میں موجود ہیں۔ ان کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ کتاب الہٰی کا مرکزی مضمون توحید اور دوعوت دین ہے جسے نبی کریم ﷺ نے اس قدر کاملیت اور جامعیت سے پیش کیا کہ آپ دین حق کے داعئ اعظم ہی کی حیثیت سے ہمارے سامنے آتے ہیں۔ حق یہ ہے کہ دعوت الی اللہ ہی وہ مقدس نصب العین ہے جسے آپ نے امت مسلمہ کے سپرد کیا ہے۔ امت مسلمہ اس دعوت حق کے تقاضوں کو کیسے جان سکتی ہے اور اس کے داعیوں میں وہ معیاری، داعیانہ صفات کیسے پیدا ہو سکتی ہیں؟ اس مختصر سی کتاب کا اصلی موضوع یہی ہے۔ دعوت دین اور داعیان حق کی صفات پر ہمارے اسلاف نے بہت عظیم الشان لٹریچر تیار کیا ہے۔ یہ مختصر او ر جامع کتاب اس پورے لٹریچر کا احاطہ کرتی ہے۔ اس کے مطالعے سے مقصد زندگی کا شعور اُبھرتا اور اس کے تقاضوں کو بروئے کار لانے کی بصیرت پیدا ہوتی ہے۔
-
محسن انسانیت حضرت محمدﷺ نے خواتین پر عظیم احسان فرمایا۔ انھیں قعر مذلت سے نکال کر گھر کی ملکہ بنایا۔ ماں کی حیثیت سے عورت کو اتنی عظمت بخشی کہ اس کے قدموں تلے جنت کی بشارت دی۔ بہن کی دلجوئی اور قدر شناسی کا سبق دیا اور بیٹی کو شفقت و مرحمت کا مرجع بنا دیا۔ مسلمانوں کے زوال کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انھوں نے عورت کی عظیم اور اس کے حقوق کی پاسبانی کا وہ سبق بھلا دیا جس کی تعلیم اسلام نے التزام کے ساتھ دی ہے۔ یہ کتاب اسی سبق کی یاد دہانی کے لیے شائع کی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اسلامی معاشرے میں عورت کا کیا درجہ ہے۔ ایک مسلمان مرد کو کن اوصاف کی عورت سے شادی کرنی چاہیے۔ بیوی سے کتنی نرمی اور نوازش سے رہنا چاہیے۔ خدانخواستہ ناچاقی ہو جائے تو کیا کرنا چاہیے۔ نکاح، مہر، خلع، طلاق اور عدت کے احکام کیا ہیں۔ حلالہ کتنی گھناؤنی لعنت ہے۔ بیوائیں کیسے حسن سلوک کی مستحق ہیں اور خواتین کو وراثت میں کتنا حصہ ملنا چاہیے۔ فی الجملہ یہ کتاب ایک مسلمان خاتون کے حقوق و فرائض کی مکمل دستاویز ہے۔ معاشرے میں عصمت و طہارت کے تحفظ اور پاکیزگی کا نور پھیلانے کے لیے اسے خود بھی پڑھیے اور اپنے عزیز و اقارب کو بھی اس کے مطالعے کی دعوت دیجیے ۔
-
بچہ پیدا ہوتے ہی اپنے اردگرد کے انسانوں کی عادات و اطوار، زبان، سوچ اور عمل اپنانا شروع کردیتا ہے۔ کردار و عمل کے جیسے نمونے اس کے سامنے ہوتے ہیں، اس کی شخصیت ان کے مطابق ڈھلتی چلی جاتی ہے۔ عمر بڑھتی ہے تو وہ کسی نہ کسی کو مثالی شخصیت (ہیرو) قرار دے کر اس کے سانچے میں ڈھل جانا چاہتا ہے۔ اسلام یہ کہتا ہے کہ اپنا ہیرو عام آدمی کو نہ بناؤ بلکہ خوبی اور جمال کی تصوریں دیکھو۔ عظیم ترین خوبی، کامرانی، حسنِ اعتقاد اور حسنِ عمل کا سب سے زیادہ خوبصورت پیکر امام الانبیاء حضرت محمد ﷺ ہیں۔ بس انھی کو اپنا رہبر مانو، انھی کو دیکھو، انھی کی سیرت کا مطالعہ کرو اور انھی جیسے پیارے پیارے کام کرو۔۔۔ یہ کتاب اللہ کے برگزیدہ پیغمبروں، خاص طور پر حضرت محمد ﷺ کے فکر و عمل کے درخشاں نقوش سے مزین ہے۔ آسان، شگفتہ اور شستہ۔ خودبھی اس کا مطالعہ کریں اور اپنی نئی نسل کو بھی اس کی ترغیب دیں۔ امید ہے حسنِ فکر و عمل کا گلشن کِھلے گا۔ نئی نسل پاکیزہ ترین راستوں کو اپنا کر اپنی اور آپ کی زندگیوں کو سکون اور اطمینان سے معمور کر دے گی۔ -
اسلام کی اشاعت کے لیےعلماء کاکردار بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ جنہوں نے اپنی تحریر و تقریر سے عامۃ الناس میں علمِ دین کو پھیلایا اور علم و عرفان کی قندیلیں ابھی تک جلا رے ہیں۔ علماء ہی انبیاء کے وارث ہیں کہ جنہوں نے نبوی مشن سنبھالتے ہوئے شریعت کےعلم کو دوسرےلوگوں تک پہنچانا ہوتاہے۔ شرعی مسائل اور اخلاقی شرعی رہنمائی کے لیے علماء کے قرآن و سنت اور آثار صحابہ سے اخذ کردہ مسائل عامۃ الناس کے لیے انہیں دین کے فہم میں آسانی فراہم کرتے ہیں۔ اور خطبات کے ذریعے عوام الناس کی دینی رہنمائی کرتے ہیں۔ علمائے کرام کے مجموعہ خطبات کےحوالے سے کئی مجموعات شائع ہوچکے ہیں۔ ان میں سے اسلامی خطبات از مولانا عبدالسلام بستوی ، خطباتِ محمدی از مولانا محمد جونا گڑھی ،خطبات ِنبوی از مولانا محمد داؤد راز، خطاب سلفیہ، خطبات آزاد، خطبا ت بہاولپور ی خطبات علامہ احسان الٰہی ظہیر، خطبات یزدانی، خطبا حرم، مواعظ طارق ،زاد الخطیب، اور فاضل نوجوان مولانا عبد المنان راسخ کے خطبات وغیرہ، قابلِ ذکر ہیں۔ اور عربی زبان میں خطباء واعظین حضرات کے لیے 12 ضخیم مجلدات پر مشتمل ’’نضرۃ النعیم ‘‘انتہائی عمدہ کتاب ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ خطبات حرم ‘‘امام کعبہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمن السدیس کے بیت اللہ میں دیے گئے خطبات جمعہ میں سے منتخب خطبات ’’ کوکبۃ الکوکبۃ‘‘کا اردو ترجمہ ہے۔ ان منتخب خطبات کو نہایت خوبصورت سلیس اردو میں پیش کرنےکا اعزاز دار السلام نے حاصل کیا ہے۔ تعمیر سیرت کےلیےان پُر تاثیر خطبات کا مطالعہ ہر فرد وبشر کی ضرورت، مردوں او رعورتوں کے لیے ذریعہ ہدایت اورواعظین واساتذہ کرام کے لیے گنجینہ افادیت ہے۔ -
زندگی کی برف دم بدم پگھل رہی ہے۔ اجل ہر آن سر پر کھڑی ہے۔ مگر ہم اس اٹل حقیقت کو بھول کر دنیا کی فنا پذیر زندگی کے عشق میں گم ہیں۔ اللہ رب العزت اس دھوکے سے نکال کر ہمیں دوزخ سے بچانا اور جنت کے سدا بہار باغوں میں بھیجنا چاہتا ہے۔ اس غرض و غایت سے اللہ تعالیٰ نے زندگی کے ہر گوشے کے بارے میں واضح احکام دیے ہیں۔ بعض امور کی ترغیب دی ہے اور کچھ باتوں کی ممانعت فرمائی ہے۔ شرک سےبڑی سختی سے روکا ہے اور توحید کے تقاضوں پر ہر آن عمل کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔ جھوٹ، ظلم، سفاکی ، ناپاکی اور حق تلفی سے منع کیا ہے ۔ اور سخاوت، عدل اور انسانیت کی بھلائی کے کام کرنے کا حکم دیا ہے۔ زیرِ نظر کتاب انھی بیش قیمت باتوں کا دلکش مجموعہ ہے۔ نامور سعدی عالم شیخ عبداللہ بن جاراللہ نے قران کریم اور رسالت مآب ﷺ کی احادیث سے وہ تمام باتیں چن چن کر یک جا کردی ہیں جو دوزخ سے نجات اور جنت میں داخلے کی ضامن ہیں۔ دارالسلام یہ گرانمایہ کتاب ایمان کی مضبوطی اور حسن عمل کے فروغ کے لیے شائع کر رہا ہے۔ یہ کتاب جنت میں داخلے کی دستاویز ہے۔ اسے پڑھیے اور اپنی اخروی نجات کے لیے اس کی تعلیمات پر سچے دل سے عمل کیجیے ۔ -
اخروی نجات ہر مسلمان کا مقصد زندگی ہے جو صرف اور صرف توحید خالص پرعمل پیرا ہونے سے پورا ہوسکتا ہے۔ جبکہ مشرکانہ عقائد واعمال انسان کو تباہی کی راہ پر ڈالتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم نے مشرکوں کے لیے وعید سنائی ہے ’’ اللہ تعالیٰ شرک کو ہرگز معاف نہیں کرے گا او اس کے سوا جسے چاہے معاف کردے گا۔‘‘ (النساء:48) لہذا شرک کی الائشوں سے بچنا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے ۔اس کے بغیر آخرت کی نجات ممکن ہی نہیں ۔ حضرت نوح نے ساڑے نوسوسال کلمۂ توحید کی طرف لوگوں کودعوت دی ۔ اور اللہ کے آخری رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نےبھی عقید ۂ توحید کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس فریضہ کو سر انجام دیا کہ جس کے بدلے آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علمائے اسلام نےبھی عوام الناس کوتوحید اور شرک کی حقیقت سےآشنا کرنے کےلیے دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔اس کتاب میں مصنف نے توحید وشرک کی حقیقت کو سادہ اور دل نشیں الفاظ میں بیان کردیا ہے ۔ اوراللہ تعالیٰ کے بارے میں مذاہب باطلہ کا تصور پیش کرنے کےبعد سفارش کی حقیقت بیان کی ہے او راس ضمن میں قرآنی حقائق سے استشہاد کیا ہے ۔ حضرت نوح ، اصحاب کہف اور عزیر کے قصوں اور قرآنی آیات سے خالص توحید کو اجاگر کیا ہے ۔ انہوں نے وسیلے کی حقیقت اوراسے اختیار کرنےکا طریقہ انبیائے کرام کی پاکیزہ سیرت کی پیروی میں دکھایا ہے ، نیز قرآن کریم کی روشنی میں معجزہ اور کرامات کی حقیقت کھول کر بیان کردی ہے ۔اسے کھلے دل ودماغ سے پڑھنے والا شرک اوراس کے تمام مظاہر سے بچ کر خلوص دل سے توحید الٰہی کوحرزِ جاں بنائے گا تو دنیا اورآخرت میں یقیناً فوز وفلاح کا مستحق ٹھرے گا ۔ زیر نظر ایڈیشن کتاب ’’ توحید او رہم ‘‘ کا نیو ایڈیشن ہے اسے دورنگوں میں قرآنی آیات کی خوبصورت کتابت کےساتھ شائع کیاگیا ہے ۔نیز تخریج اور تنقیح کا اہتمام کرنےک ساتھ ساتھ چند ایک ضعیف احادیث خارج کر کے ان کی بجائے صحیح احادیث درج کی گئی ہیں ۔اللہ تعالیٰ مصنف وناشرین کی کاوش کو قبول فرمائے۔ (آمین)
-
خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی دعوتِ توحید نے ایک دوسرے کے دشمن عرب قبائل کو متحد کر کے ساری دنیا کا امام بنا دیا تھا۔ پھر صدیوں کی گردشوں کے بعد ایسا زوال آیاکہ مسلمان دنیا طلب اور راحت کو ش بن گئے۔ قران و سنت کی صراطِ مستقیم سے دور جا پڑے۔ تاریخ کے جبر کا شکار ہوگئے ۔ شرک و بدعت کی خندق میں گر گئے۔ ان کی ملی وحدت پارہ پارہ ہوگئی ارو وہ وحدہ لا شریک کی بجائے قبروں اور آستانوں کو پوجنے لگے۔ رحمت پروردگار پھر جوش میں آئی۔ باروہیں صدی ہجری میں سرزمین عرب ہی میں رسول اللہ ﷺ کا ایک ایسا فدائی پیدا ہوا جس نے اپنے ایمان و یقین ، سوز باطن اور عمل پیہم سے قبروں اور آستانوں پر جھکی ہوئی پیشانیوں کو اٹھایا اور توحید ربانی کا درس دے کر ان کی مردہ رگوں میں زندگی کی نئی روح پھونک دی۔ توحید کے اس فدائی، رسول اللہ ﷺ کے شیدائی اور دین قیم کے اس سپاہی کو دنیا امام محمد بن عبدالوہاب کے نام نامی سے جانتی ہے۔ یہ کتاب اسی جلیل القدر ہستی کے سوزِ باطن، فکر و نظر اور دعوت و تبلیغ کی سر گزشت ہے۔ امام موصوف کی دعوتِ توحید کو قبول عامہ نصیب ہوا تو سامراجی طاقتیں اور ان کے پٹھو علمائے سو چراغ پا ہوگئے اور انھوں نے اس دعوت حق کو بدنام کرنے کے لیے اسے `تحریکِ وہابیت` کہنا شروع کردیا۔ فاضل مصنف نے مستند تاریخی حوالوںاور محکم دلائل و براہین سے اس تہمت کا پول کھول دیا ہے اور یہ حقیقت اجا گر کردی ہے کہ امام محمد بن عبدالوہاب کی تحریک کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ امت مسلمہ شرک و بدعت سے کٹ کر اور ہر طرف سے ہٹ کر صرف قران و سنت کی طرف پلٹ آئے۔ یہ کتاب توجہ سے پڑھیے۔ آپ کو یوں محسوس ہوگا جیسے تاریخ آپ کے روبرو سانس لے رہی ہے۔ -
پُراَسرارحقائق تکلیف یادکھ سے دو چارانسان کی کبھی کبھی کوئی راستہ نہیں ملتا، کوئی علاج اس کی سمجھ میں نہیں آتا۔ مشورہ دینے والے اسے جادو، آسیب اورنظربد کا نام دیتے ہیں۔ پریشانی کے عالم میں وہ معاشرے میں ناسور کی طرح پھیلے ہوئے شعبدہ بازوں، بازی گروں اورنام نہادعاملوں کی چوکھٹ پہ اپنی مشکل کا حل ڈھونڈنے کے لیے جاپہنچتا ہے۔ جس کی جیب اجازت نہ دے، وہ بازار میں بکنے والےتعویذوں، مجربات اورپراسرارعلوم پرمبنی کتب میں اوٹ پٹانگ عملیات، مجرب نسخے اور نقیش آدمی کو سراسرگمراہی کی طرف لے جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کا ایمان بھی خطرے میں پڑجاتاہے۔ شایدہمیں یاد نہیں رہا کہ اسلام دین فطرت ہے۔ اس نے زندگی کے ہرمعاملے میں ہماری رہنمائی کی ہے۔ جنات اور جادو کے حوالے سے قرآن کریم اور احادیث مباکہ میں ہمارے لیے مکمل رہنمائی موجود ہے۔، بات صرف رجوع کرنے کی ہے۔ `پراسرارحقائق` قرآن و حدیث میں بتائے گئے طریق علاج پر مبنی ہے۔ بازاروں میں بکنے والی گمراہ کن کتب سے بچنے اور قرآن و حدیث کی روشنی میں صحیح علاج لے لیے یہ کتاب ازحدمفید ہے۔
-
پيغمبررحمت اللہ تعالی نےانسان کوعقل و شعور سے نوازا ہے۔عقل کو اگر شتر بے مہار کی طرح آزاد چھوڑ ديا جائے اوراسے خاص حدود وضوابط کا پابندنہ بنايا جا ئے تو وہ فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بنتی ہے۔اسی ليے نے بنی نوع انسان کی رہنمائی کے ليےانبياء ورسل کا سلسہ جاری فرمايا۔ہرعہداورہرعلاقےميں انبياٰءآتےاورفريضہ تبليغ ودعوت اداکرتےرہے تاآنکہ وحی ورسالت کا زريں سلسلہ نبی عربی محمدرسولﷺپرختم کرديا۔اب قيامت تک آنےوالےانسانوں کےليےآپ ہی اللہ کی طرف سے ہادی و رہنما ہيں۔آپ ہی کی بتلائ ہوئ تعليمات وہدايات انسانيت کی نجات اور ابدی سعادت وخوش بختی کا واحد ذريعہ ہيں۔ان سےاعراض وگريزکرتےہوۓ محض اپنی عقل پر انحصارکرکےانسانيت قعرمزلت ميں توگرسکتی ہےليکن امن وسکون،عافيت وراحت اورابدی نجات سے ہم کنارنہيں ہوسکتی
-
طاغوتی طاقتوں کو پکا یقین ہے کہ غلبہ اسلام کو مہلت ہتھیاروں کے وحشیانہ استعمال کے باوجود بھی نہیں روکا جا سکتا، اس لیے انھوں نے سازش کی راہ اختیار کی۔ اسلامی تہذیب و اقدار میں نقب لگانے کے لیے عورت کو وسیلہ بنا لیا۔ عورت کا تقدس پامال کیا۔ اسے خاتون خانہ کے مقدس مقام سے اُٹھایا اور شمع محفل بنا دیا۔ ملال یہ ہے کہ مغربی تہذیب کے دلدادہ بعض نام نہاد روشن خیال اور ترقی پسند مسلمانوں نے بھی عورت کی آزادی کا پرچار شروع کر دیا اس طرح حجاب اور نقاب کی بندشیں ٹوٹنے لگیں اور بے پردگی عام ہونے لگی۔ اس طرز عمل کے مہلت مضمرات کا ادراک کرتے ہوئے دارالسلام نے عورت کے اصل زیور `حیا` کے احیا و تحفط اور پردے کی اہمیت اُجاگر کرنے کے لیے فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین ؒ کی کتاب `پردہ` کی اشاعت کا اہتمام کیا ہے۔ اس کتاب کا ایک ایک حرف یہ حقیقت عیاں کرتا ہے کہ یہ صرف اسلام ہی ہے جو عورت کی عزت و حرمت کا سب سے بڑانگہبان ہے اور بے حجابی و بے حیائی کا قلع قمع کرتا ہے۔ یہ کتاب ہر مسلمان خاص طور پر ہماری محترم خواتین کو ضرور پڑھنی چاہیے۔ اس سے ان پر پردے کی ضرورت و اہمیت اور فضائل و برکات پوری طرح آشکار ہو جائیں گے۔ -
صلاح الدین علی عبدالموجود ایک نامور عرب مصنف ہیں جنھوں نے مسلمانوں کی نئی نسل کے سامنے صحابہ، محدثین اور اجل علما کی سیرتیں نئے اسلوب سے پیش کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے تاکہ وہ ان کے اوصاف کو اپنے کردار و عمل میں اجاگر کر سکیں۔ ’سیرت سفیان بن عیینہ‘ اس سلسلے کی ایک اہم کتاب ہے جس میں علم حدیث کے امام، یگانہ روز گار اور اپنے دور کی بے مثال اور منفرد شخصیت سفیان بن عیینہ کی سیرت کا تذکرہ ہے، جن کاشمار تبع تابعین میں ہوتا ہے اور انھوں نے تابعین کرام اور اتباع تبع تابعین کے درمیان رابطے کا کام دیا۔ اس کتاب میں قارئین کو بیسیوں اسے راویان حدیث کے احوال، روشن واقعات اور اقوال پڑھنے کو ملیں گے جو یا تو ابن عیینہ کے شیوخ تھے یا ان کے شاگرد اور ہم عصر تھے یا ان کے خوشہ چین تھے۔ اس میں ابن عیینہ کی علمی مجلسوں کے دلچسپ احوال اور ان سے پوچھے گئے سوالات اور ان کے حکیمانہ جوابات بھی ہیں جو علم دین کی جستجو کرنے والوں کے دل و دماغ کو روشن کرتے ہیں۔ علم اور اہل علم سے آپ کی دلچسپی، آپ کے چند علمی مواخذات، تدلیس کے بارے میں آپ کانقطہ نظر اور حکمرانوں کے بارے میں آپ کی آراء بھی پیش کی گئی ہیں جبکہ آخر میں ابن عیینہ کے تفسیری اقوال، شروح احادیث اور دیگر فرموادات ہیں جو آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ کتاب کا سلیس اور عام فہم اردو ترجمہ پروفیسر حافظ عبدالرحمٰن ناصر کی محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کوئی بھی بات حوالہ کے بغیر نقل نہیں کی گئی اور کتابت کی غلطی تو پوری کتاب میں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی حتی کہ غلط العام الفاظ استعمال کرنے سے بھی اجتناب کیا گیا ہے -
دین اسلام پر مخالفین اپنے اوچھے ہتھیاروں سے انتہائی رکیک حملے کر رہے ہیں۔ اس بنا پر آج اسلام کے امتیازی اوصاف سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو آگاہ کرنا بے حد ضروری ہوگیا ہے۔ اسلامی علوم کی معروف شخصیت شیخ عبداللہ بن محمد صالح المعتاز نے عصر حاضر کی اس اہم ضرورت کا ادراک و احساس کرتے ہوئے `اسلام کی امتیازی خوبیاں` تصنیف فرمائی۔ اس کتاب میں نہایت نفیس انداز میں دین حق کی منفرد خوبیاں بیان کی گئی ہیں تا کہ کتاب و سنت کی خالص تعلیمات کا حسن قاری کے دل میں اتر جائے۔ یہ کتاب عربی سے آسان ، سلیس اور دلکش اردو زبان میں ترجمہ کروا کے شائع کی گئی ہے۔ چونکہ صاحب کتاب اسلام کی دعوت کا درد دل میں رکھتے ہیں، اس لیے ان کا انداز بیان کتاب کے ایک ایک لفظ کو قاری کے دل میں اتارنے کا باعث بنے گا۔ دنیوی و اخروی نجات کا متمنی جو شخص خلوص دل سے یہ کتاب پڑھے گا، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس کی تمنا پوری ہوگی، مگر مطالعے کا مقصد محض مطالعہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ کتاب میں مندرج تعلیمات و ہدایات پر عمل کا بنیادی تقاضا پورا کرنا شرط لازم ہے۔ -
اسلام واحد سچا اور خالص دین ہے جو اللہ نے اپنے بندوں کے لیے چُنا ہے مگر اہلِ باطل کا وتیرہ ہے کہ وہ اپنے جھوٹے نظریات کو فروغ دینے کے لیے اسلام کے بارے میں مسلسل منفی پروپیگنڈہ کرتے چلے آرہے ہیں جس میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے کئی گنا تیزی آگئی ہے۔ ان حالات میں بہت ضروری ہوگیا ہے کہ اسلام کی ٹھیک ٹھیک تعلیمات جدید اسلوب اور جدید زبان میں دنیا کے سامنے پیش کی جائیں اور کتاب و سنت کے ان بیانات و مباحث کو دنیا کے سامنے رکھا جائے جن کی چودہ سو سال بعد سائنس من و عن تصدیق و توثیق کر رہی ہے۔ اس متنوع اور جامع علمی مواد کی حامل کتاب میں اسلام کے مختصر تعارف، سیرتِ رسول ﷺ کے چند پہلو، مسلماونوں کے علمی کارنامے اور بعض غیر مسلموں کے قبولِ اسلام کے ایمان افروز واقعات بیان کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کس طرح ایک غیر مسلم اسلام میں داخل ہو سکتا ہے۔ -
`اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں؟` ان خوش نصیب انسانوں کے تجربات و تاثرات اور قلبی واردات کا خوبصورت مرقّع ہے جنہوں نے عیسائیت، یہودیت یا ہندو مت کے باطل عقائد و افکار کو تج کر اسلام کے باعثِ تسکینِ جاں اور بہارِ قلب و نظر کے حامل سرمدی سائے میں پناہ لی۔ ان نو مسلموں کے اپنے سابق مذاہب کے حوالے سے اعتراضات اور اسلام کے بارے میں سرور انگیز والہانہ جذبات حقیقتاً ایمان افروز اور ایقان پرور ہیں جن سے اس دین حنیف کی ازلی و ابدی سچائی روزِ روشن کی طرح نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے۔ یہ بے مثال کتاب ہر مسلمان بلکہ ہر انسان کے پڑھنے کی چیز ہے، بلخصوص وعظ و تبلیغ کے فریضے کی ادائیگی میں مصروف لوگوں کے لیے سوغات ہے۔ اسے خود پڑھ کر اسلام پر اپنا ایمان و یقین تازہ کیجیے اور دوسروں کو پڑھائیے کہ اسلام، قران اور پیغمبر اسلام ﷺ سے نومسلموں کی وابستگی کا تقابلی مطالعہ دل و نگاہ کو رفعت و صلابت اور کشادگی عطا کرتا ہے۔
-
یہ کتاب عالمگیر سچائیوں کا سبق دیتی ہے، اس کا موضوع یہ ہے کہ انسان شعور و آگہی کی زندگی بسر کرے۔ اپنے مقدس پروردگار کو پہچانے۔ رسالت مآب حضرت محمد ﷺ کے منصب و منزلت کی معرفت حاصل کرے۔ آپ ﷺ کے فکر و عمل کی پیروی کرے۔ آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ کو ذہنی ارتقا کا ذریعہ اور عملی زندگی کا مرکز و محور بنائے۔ دن حنیف کی تعلیمات سے پوری طرح با خبر رہے۔ اور صبر و استقامت کی راہ پر گامزن رہے۔ یہ کتاب ایک دوست کی پکار، ایک داعی کی صدا اور ایک مجاہد کی آواز ہے جو زمانے اور زندگی کے ہر مرحلے پر صراطِ مستقیم دکھاتی ہے اور قران و سنت کی روشنی میں حسن عمل کی تعلیم دیتی ہے۔ عمل کا ارادہ کیجیے اور اس کتاب کا ایک ایک حرف احترام اور التزام سے پڑھیے۔ ان شا ء اللہ آپ کے عقائد و نظریات میں حقیقی نور پیدا ہوگا اور روشن روشن کرنیں جگمگا اُٹھیں گی۔ آپ حسن نیت اور اچھے کام کرنے کے خوگر بنیں گے۔ یوں آپ اس دنیا میں سر خرو اور آخرت میں سرفراز رہیں گے۔ -
پیغمبر آخرالزماں جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ورسالت تو قیامت تک کے تمام انسانوں کے لیے ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جزیرۃ العرب میں پیدا ہوئے۔مکہ مکرمہ میں پرورش پائی اور 53برس تک یہیں رہے بعد ازاں مدینہ منورہ کی جانب ہجرت فرمائی اور عمر عزیز کے 10 سال یہاں بسر کیے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عرصے میں سفر بھیکیے،صفر میں بھی رہے،حالت امن میں بھی دن گزارے اور حالت جنگ میں بھی شب وروز بسر ہوئے۔اس تمام شرگزشت اور ریکارڈ کو سیرت نبوی علی صاحبہا الصلوۃ والسلام کا نام دیا جاتا ہے۔مختلف زبانوں میں سیرت نبوی پر بے شمار کتابیں موجود ہیں جو قارئین کے مطالعے میں رہتی ہیں تاہم ان میں ایک تشنگی کا احساس رہتا ہے کہ مقامات واماکن کا نقشہ کتابوں میں نہیں ہوتا جس سے جگہوں کا صحیح تعارف نہیں ہو پاتا۔اس کو مد نظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر شوقی ابو خلیل نے زیر نظر اٹلس مرتب کی ہے جس میں سیرت کی وضاحت نقشوں سے کی گئی ہے ۔ان نقشوں میں تمام متعلقہ مقامات ،شہروں اور ان اطراف واکناف کی تفصیل سے جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تشریف فرمانی سے رونق بخشی یا جن کی طرف آپ نے قصدفرمایا۔اصل کتاب عربی میں تھی،جسے معروف اشاعتی ادارے دارالسلام نے اردو قالب میں ڈھال کر اردو دان طبقے کے لیے بھی اس سے استفادہ کو آسان کر دیا ہے۔امید قارئین کے لیے یہ کتاب دلچسپ معلومات کا ذریعہ ہو گی -
آج کل بنیادی حقوق کا بڑا چرچا ہے اور شور ہے اور یہ شور زیادہ تر مغرب کے مادر پدر آزادمعاشرے کے فرزندوں کی طرف سے مچایا جا رہا ہے جو انسان اور حیوان کے درمیان فرق کرنے کے روادار ہیں نہ انھیں مرد اور عورت کے درمیان فطری امتیازات نظر آتے ہیں۔ اسی لیے وہ حیوانوں والے حقوق انسانوں کے لیے تسلیم کرانا اور مردوں کے فرائض عورتوں کو بھی تفویض کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ یہ دونوں باتیں فطرت کے خلاف ہیں اور فطرت کے خلاف جنگ کرنے سے دنیا میں کبھی امن اور سکون نہیں ہو سکتا اور بعض لوگ وہ ہیں جو کسی کے بھی بنیادی حقوق کے قائل نہیں۔ ان کے نزدیک حقوق ہیں تو طاقت وروں کے ، کمزوروں کے کوئی حقوق نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگ اقتدار و اختیار سے بہر ہ ور ہو کر عوام پر ہر قسم کا جبر و ظلم کرنا جائز سمجھتے ہیں۔ فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین ؒ نے اس کتابچے میں افراط و تفریط سے دامن بچاتے ہوئے اسلام کی اعتدال پر مبنی تعلیمات کی روشنی میں انسانوں کے وہ بنیادی حقوق واضح کیے ہیں جو دین متین نے تسلیم اور بیان کیے ہیں جن سے مرد اور عورت کے درمیان امتیاز قائم رہتا ہے جو فطرت کے عین مطابق ہے اور انسان اور حیوان کے درمیان فرق بھی قائم رہتا ہے۔ اور یہی وہ نقطہ اعتدال ہے جو امن وسکوں کا ضامن ہے۔ -
دنیا میں انسان مختلف طبیعتوں کے مالک ہیں، اور ان کے پیشے ، کاروبار اور مصروفیات مختلف ہیں۔ہر انسان چاہتا ہے کہ کامیاب ہو، خوب ترقی کرلے، آگے بڑھے، اس کی دشواریاں دور ہوں، بھرپور عزت واحترام ملے، اس کے ساتھ بہترین سلوک اور نمایاں رویّے سے پیش آیا جائے، اس کی صحت اچھی رہے، اس کی ترقی کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو، اور یہ کہ ساری چیزیں اپنے آپ ہوجائیں اور خود اسے کچھ کرنا نہ پڑے۔کیا ایسی کامیابی اور ترقی کو جس کے لیے خود انسان کو اپنے لیے کچھ کرنا نہ پڑے، خواب کے سوا اور کوئی نام دیا جاسکتا ہے؟کامیابی کا راستہ بہت مشکل اور کٹھن ہوتا ہے۔ کامیابی کے سفر میں آپ کو پریشانیاں، دقتیں اور مشکلات برداشت کرناپڑتی ہیں۔ لیکن آخر میں ہرے بھرے باغ انہیں کو ملتے ہیں جو سچی لگن سے محنت کرتے ہیں اور تمام تر مشکلات کے باوجود اپنا راستہ بناتے ہیں۔ہر انسان اپنے معیار کے مطابق کامیابی کو دیکھتا اور سمجھتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب` آب حیات` کہنہ مشق صحافی محترم محمد یحیی خان صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اپنے مشاہدات، لوگوں سے ڈیلنگ اور اپنی زندگی کے تجربات کی روشنی میں نوجوان نسل کو کامیاب زندگی گزانے کے آفاقی اصول اور گر سکھلائے ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ تمام مسلمانوں کو تمام میدانوں میں کامیاب فرمائے اور ان کی دنیا وآخرت دونوں جہانوں کو بہترین بنا دے۔کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ انسان کے لئے سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اسے جہنم سے بچا لیا جائے اور اسے جنت میں داخل کر دیا جائے۔اللہ تعالی ہمیں صراط مستقیم پر چلائے اور ہم سب کی مغفرت فرمائے -
جو قوم اپنی خصوصیات اور روایات کو بھلا کر غیروں کی نقالی کرتی ہے وہ صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہے۔ مسلمان دنیا کی امامت و قیادت کے لیے پیدا ہوئے تھےمگر یہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ جو قوم انسانیت کی قیادت پر مامور کی گئی تھی، وہ خود ترغیبات نفس کے جال میں پھنس کر اپنی مایہ ناز روایات بھلا بیٹھی اور مغربی تہذیب کی نقالی میں ڈوب گئی۔ نتیجہ ظاہر کہ آج مسلمان دنیا کی تگ و دو میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں اور ہر جگہ اپنے زوال کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔ زیرِ نظر کتاب ارکان اسلام و ایمان میں دین قیم کا خلاصہ آسان اسلوب میں بیان کرتی ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی سچی بندگی کی دعوت دی ہے اور کفر، شرک اور بدعت کی ہلاتکوں اور نئی تہذیب کی قباحتوں سے خبردار کردیا گیا ہے۔ اس کتاب میں دین کی تما م بنیادی تعلیمات عام فہم اسلوب میں قلم بندد کر کے مسلمان کو دعوت عمل دی گئی ہے اور واضح کیاگیا ہے کہ دین کی تفہیم ،ایمان کی مضبوطی اور حسن عمل کے بغیر ہماری کامیابی کا کوئی امکان نہیں۔ یہ کتاب خوب بھی پڑھیے اور اپنے عزیز و اقارب اور دوست احباب کو بھی پڑھنے کی دعوت دیجیے۔
-
آج کے مغرب زدہ معاشرے میں اسلام کو ضابطہ حیات کی بجائے چند عبادات اور رسم و رواج کا دین سمجھ لیا گیا ہے اور باور بھی یہی کروایا جاتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور جدید میڈیکل سائنس سے متعلق اسلام خاموش ہے، اس کا مکمل کریڈٹ یورپ کو دیا جاتا ہے، حالانکہ یہ ظلم ہے۔ تعصب کی عینک اتار کر اگر اسلام کا مطالعہ کیا جائے تو آپ کو اس میں دین و دنیا کے ہر شعبہ سے متعلق راہنمائی ملے گی۔ مغربی معاشرے میں لا علاج مریضوں کو ایک ایسی دوا دی جاتی ہے جس میں زہر ہوتا ہے اور یہ زہر مریض کی اکھڑی ہوئی ناہموار زندگی کا خاتمہ کر دیتا ہے، جبکہ اسلام ایسی ادویات سے دور رہنے کا حکم دیتا ہے اور اسلامی تعلیمات سے یہ سبق ملتا ہے کہ بیماری تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نویدِ رحمت ہوتی ہے ۔ بیماری سے مومن کے گناہ معاف ہوتے ہیں اور مریض کی عاجزی اور تسبیح و تہلیل قبول فرما کر اللہ تعالیٰ اسے جنت عطا کرنے کا فیصلہ کر دیتا ہے۔ زیر نظر کتاب`ہسپتال میں طبیب اور مریض کے ساتھ` دکتور محمد عبد الرحمٰن العریفی کی عربی تصنیف ہے جس کو مولانا حافظ قمر حسن کے نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ اردو ترجمہ میں ڈھالا ہے۔موصوف نے کتاب ہذا میں مریض، طبیب اور علاج معالجہ سے متعلق دینی احکامات کو قلمبند کیا ہے اور مریض کے عیادت کے فضائل کے ساتھ ساتھ عیادت کے آداب وغیرہ کو بھی درج کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف و مترجم کے لیے بلندی درجات کو سبب بنائے اور اہل اسلام کو ان سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے -
انسانی تاریخ سامانِ تفریح نہیں ،سامانِ عبرت ہے۔ہر عقل مند آدمی ماضی سے سبق سیکھتا ہے اور اپنے حال ومستقبل کی اصلاح کرتا ہے۔گزشتہ نسلوں کے تجربات سے آئندہ نسلوں کو راہِ راست متعین کرنے میں مدد ملتی ہے۔قرآن مجید نے بھی سابقہ اقوام کے تذکرے اسی لئے بیان کئے ہیں ،تاکہ ان سے سبق حاصل کیا جائے اور ان سے سرزد ہونے والی غلطیوں کو دوبارہ نہ دہرایا جائے۔ زیرنظر کتاب ``نیکی کے سفیر`` سعودی عرب کے معروف عالم دین،واعظ اور مبلغ ڈاکٹر محمد بن عبد الرحمن عریفی کی تصنیف ہے۔آپ ایک درد دل رکھنے والی شخصیت ہیں اور دعوت وتبلیغ کے میدان میں بہت بلند مقام پر فائز ہیں۔اس کتاب میں انہوں نے تاریخ کے چند سبق آموز واقعات کو جمع فرما دیا ہے اور مسلمانوں کو ان واقعات سے سبق حاصل کرنے کی بڑی درد مندانہ اپیل کی ہے۔کتاب عربی میں ہے جسے اردو زبان میں ترجمہ کرنے کی سعادت معروف مکتبہ دار السلام کے ریسرچ فیلو مولانا تنویر احمد کے حصے میں آئی ہے۔اللہ تعالی ان کی اس محنت کو قبولیت سے نوازے اور ان کے میزانِ حسنات میں اضافے کا باعث بنائے -
انسانی زندگی میں عمل ِصالح کی بڑی اہمیت ہے ۔معاشرے میں کسی فرد کانیک کردار نہ صرف خود اسے فائدہ دیتا ہے بلکہ معاشرے کے دیگر افراد بھی اس کی خوش اطواری سےمستفید ہوئے بغیر نہیں رہتے۔عمل صالح کی توفیق اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ملتی ہے ۔یو ں عمل صالح گویا ربانی ملازمت ہے جو آدمی اعمال صالحہ پر کاربند ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے خادم کی حیثیت سے زندگی بسر کرتا ہے ۔ وہ دین کی بھی خدمت کرتا ہے اور لوگوں کو بھی نفع پہنچاتا ہے ۔آدمی کو دنیا میں رہتے ہوئے عمل صالح کی توفیق مل جائے تو اس سےبڑی خوشی نصیبی اور کوئی نہیں۔زیر نظر کتاب’’کیا آپ ملازمت کی تلاش میں ہیں ؟ ‘‘ ڈاکٹر محمد بن عبد الرحمن العریفی کی عربیتصنیف’’ هل تبحث عن وظيفة‘‘ کااردو ترجمہ ہے ۔جس میں انہوں نے روزہ مرہ اور تاریخی واقعات کے پس منظر میں یہی باور کرایا ہے کہ عملِ صالح ہی انسانی فلاح وبہبود کاضامن ہے۔امید ہے کہ یہ ایمان افروز کتاب قارئین کو عمل وکردار کے سنوارنے میں مدد دے گی ۔کتاب کے فاضل مصنف ڈاکٹر عبد الرحمن العریفی سعودی عرب کے جانے پہچانے مصنف ہیں۔ ریاض کی مقامی یونیورسٹی میں معلمی کے فرائض انجام دیتے ہیں ۔دعوتِ دین کےمیدان میں اُن کی مساعی جمیلہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اُن کا شمار علامہ ابن باز کے ممتاز شاگردوں میں ہوتا ہے ۔ دیار ِعرب میں ان کی خطابت کا بھی بہت شہرہ ہے ۔ ان کی متعدد کتابیں خاصی پذیرائی حاصل کرچکی ہیں جن میں ان کی شہرۂ آفاق کتاب ’’زندگی سے لطف اٹھائیے ‘‘ سرفہرست ہے۔زیر تبصرہ کتاب کی اردور ترجمانی کے فرائض دارالسلام کے ریسرچ سکالر حافظ قمر حسن نے سرانجام دئیے ہیں ۔ اللہ تعالی مصنف ومترجم کی اس کاوش کو شرف قبولیت سے نواز ے اور اس کتاب کو اہل ایمان کی اصلاح کاذریعہ بنائے -
شرک کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ کو اکیلا معبود مسجود خالق ومالک ،رازق نہ ماننا اور اس کی ذات وصفات میں کسی کو شریک ٹھہرانا گناہِ کبیرہ ہے۔قرآن مجید میں جابجا شرک کی سخت مذمت کی گئی اورتوحید پر زور دیا گیا ہے ۔حضرت آدم سے محمدﷺ تک جتنے انبیاء ورسل آئے،سب نے توحید ہی کی دعوت دی اور شرک کے نقصانات سے آگاہ کرتے ہوئے اس سے بچنے کی تلقین کی ۔ زیر نظر کتاب ’’سفینۂ نجات ‘‘ڈاکٹر محمد بن عبد الرحمن العریفی کی عربیتصنیف ’’ارکب معنا‘‘کااردو ترجمہ ہے جس میں شر ک کی تباہ کاریوں پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔اس سلسلے میں تاریخ اسلامی کے بصیرت افروز واقعات او رعصر حاضر کی معاشرتی مثالوں سے بھر پور مدد لی گئی۔شرک کے گرداب میں پھنسے ہوئے بدنصیبوں کےلیے اس کتاب کا مطالعہ انتہائی مفید ہے اوریہ کتاب شرک کی تباہ کاریوں کا عبرت ناک تذکرہ اور شرک میں پھنسے ہوئے لوگوں کےلیے سفینہ نجات ہے ۔ کتاب کے فاضل مصنف ڈاکٹر عبد الرحمن العریفی سعودی عرب کےدار الحکومت الریاض کے باشندے ہیں اور وہیں ایک معروف یونیورسٹی کےشعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔دعوت دین کے حلقوں میں ان کا نام جانا پہچانا ہے ۔ ۔دعوتِ دین کےمیدان میں اُن کی مساعی جمیلہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اُن کا شمار علامہ ابن باز کے ممتاز شاگردوں میں ہوتا ہے ۔ دیار ِعرب میں ان کی خطابت کا بھی بہت شہرہ ہے ۔ ان کی متعدد کتابیں خاصی پذیرائی حاصل کرچکی ہیں جن میں ان کی شہرۂ آفاق کتاب ’’زندگی سے لطف اٹھائیے ‘‘ سرفہرست ہے ۔ دار السلام کے ریسرچ سکالر حافظ اقبال صدیق مدنی نے زیر تبصرہ کتاب کے ترجمے او ر عبد الرحمن نے اس کتاب میں احادیث وروایات کی تخریج کا کام انجام دیا ہے ۔ اللہ اس کتاب کو عوام الناس کی اصلاح کا ذریعہ بنائے -
This is an exquisite collection of incidents from the life of the Prophet (Peace and Blessings of Allah be upon him), stories from our Islamic Heritage, and thought-provoking anecdotes from the life of the author. The aim of the book is to train the reader to enjoy living his life by practicing various self-development and inter-personal skills. What is so compelling and inspiring about this book is that, in order to highlight the benefit of using social skills, the author draws from the lives of the Prophet (Peace and Blessings of Allah be upon him) and his Companions (May Allah be pleased with them all). The techniques for living a happy and a leisured life are 100% applicable in every society. To meet the real goodness of life, manage and discipline ourselves well, our Prophet Muhammad (Peace and Blessings of Allah be upon him) always was and will always be our mentor. His great characters must be followed and applied to our way of living. `Zindagi Se Lutf Uthaye` is a must read book. Not only that, but it`s reader-friendly. It teaches you how to deal with people in different manners by containing most of our Prophet Muhammad (Peace and Blessings of Allah be upon him)`s lifestyle that can be benefited by Muslims and even the non-Muslim readers. The book is written by Dr. Muhammad Abdul Rahman Al Arfi (b 1970) who is a prominent scholar and orator from Saudi Arabia. Every reader mostly recommends this book to others with assurance that they`ll benefit from it much more than one expects. -
لڑکی کے نکاح کے لیے ولی کی اجازت او ررضامندی ضروری ہے قرآن وحدیث کی نصوص سے واضح ہے کہ کسی نوجوان لڑکی کو یہ اجازت حاصل نہیں ہے کہ وہ والدین کی اجازت اور رضامندی کے بغیر گھر سے راہ ِفرار اختیار کرکے کسی عدالت میں یا کسی اور جگہ جاکر از خود کسی سے نکاح رچالے ۔ایسا نکاح باطل ہوگا نکاح کی صحت کے لیے ولی کی اجازت ،رضامندی اور موجودگی ضروری ہے ۔ لیکن موجودہ دور میں مسلمانوں کے اسلام سے عملی انحراف نے جہاں شریعت کے بہت سے مسائل کوغیر اہم بنادیا ہے ،اس مسئلے سے بھی اغماض واعراض اختیار کیا جاتاہے علاوہ ازیں ایک فقہی مکتب فکر کے غیر واضح موقف کو بھی اپنی بے راہ روی کے جواز کےلیے بنیاد بنایا جاتاہے ۔زیر نظر کتابچہ ``مفرورلڑکیوں کا نکا ح او رہمار ی عدالتیں``(از معروف عالم دین ، مفسر قرآن،محقق شہیر ،مصنف کتب کثیرہ حافظ صلاح الدین یوسف ) گھر سے فرار ہوکر نوجوان لڑکیوں کے عدالتی نکاح اور مسئلہ ولایت نکاح کے حوالے سے ایک اہم کتاب ہے جس میں حافظ صاحب نے قرآن وحدیث کی روشنی میں اس مسئلے کی صحیح نوعیت وحقیقت کوواضح کرتے ہوئے اس کاتحقیقی جائزہ پیش کیا ہے -
سورۂ فاتحہ قرآن مجید کی پہلی اور مضامین کے اعتبار سے جامع ترین سورۃ ہے جو پورے قرآن مجید کا مقدمہ ،تمہید اور خلاصہ ہے ۔ اس سورت کی عربی اور اردو میں کئی ایک تفسیریں الگ سے شائع ہوچکی ہیں۔ زیر تبصرہ تفسیر سورۂ فاتحہ مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف﷾ کی اس سورت کی تفصیلی تفسیر ہے ۔ حافظ صاحب کی مرقوم جامع اور مختصر تفسیر ’’احسن البیان‘‘ کے قبول عام پر حافظ صاحب کے مقربین نے محسوس کیا کہ انہیں قرآن مجید کی ایک تفصیلی تفسیر بھی لکھنی چاہیے تو حافظ صاحب نے سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ بقرہ کی تفسیر شروع کی ہی تھی کہ یہ کام دیگر علمی مصروفیات کے باعث رک گیا۔اللہ تعالیٰ حافظ صاحب کواسے پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی توفیق واسباب عنایت کردے ۔(آمین)حافظ صاحب نے سورۃ الفاتحہ کے تفسیر ی نکات صحیح احادیث کی روشنی میں شرح وبسط کےساتھ بیان کیے ہیں۔ ان کا استدلال بہت دلنشیں ہے ۔یہ تفسیر اس تفسیر سورۃ الفاتحہ سے الگ ایک نئی تفسیر ہے جو تفسیر’’ احسن البیان ‘‘ میں شامل ہے یہ تفسیرخاص وعام بالخصوص طلبہ ،علماء اور واعظین کےلیے بے حد مفید ہے -
صحابہ کرام رضی اللہ عنہُم میں بعض ایسی بھی شخصیات تھیں جو زمانہ کفر میں بھی بڑا نمایاں مقام رکھتی تھیں اور جب اسلام قبول کیا تو ان کی صلاحیتوں کو مزید جلا ملی اور انھوں نے کفر کی حالت میں اسلام کو جو نقصان پہنچایا تھا اس کی بھر پور تلافی کرنے کی کوشش کی-ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سیدنا سہیل بن عمر رضی اللہ عنہ کا نام بڑا نمایاں ہے- سید نا سہیل بن عمر رضی اللہ عنہ زمانہ کفر میں بھی بڑے دانا ،سمجھدار ،مدبر،خطیب،شاعراور کامیاب سفارت کار تھے- وہ گفتگو کرنے کا سلیقہ اور طریقہ خوب جانتے تھے –حدیبیہ کے مقام پر قریش کی طرف سے سفیر بن کر آتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صلح حدیبیہ کی شرائط پر قریش مکہ کی طرف سے دستخط کرتے ہیں – پھر ایک دن آیا ،ان کی قسمت نے پلٹا کھایااوروہ فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کر لیتے ہیں -
The victory of Qadisiyyah heralded the downfall of the Sasanian Dynasty, paved the way for the conquest of Iraq and quickened Islamic expansion into Persia (Iran) and beyond. The Iranians had 240,000 troops, but the Muslims with about 30,000 soldiers still drove the Iranian Empire, one of the superpowers of the day, into the ground. At Al-Qadisiyyah, the Muslims were able to break the Persian might, dealing them a blow from which they would never recover. The Battle of Al-Qadisiyyah is therefore one of the most decisive battles in the history of humanity. -
۔مختلف اوقات اور مہینوں کو منحوس قرار دینا تعلیمات اسلامیہ سے دوری کا نتیجہ اور باطل نظریات کا شاخسانہ ہے ۔کتاب وسنت میں مختلف مہینوں کے فضائل ومناقب بیان ہیں۔جو کتب احادیث میں منتشر تھے انہیں کسی دستاویزی شکل میں یک جا کرنے کی ضرورت تھی ۔پھر مختلف مہینوں میں مختلف بدعات مروج ہیں اور عامتہ الناس اسے دین سمجھ کر طلب ثواب کی نیت سے ان پر عمل پیرا ہیں۔زیر نظر کتاب میں فاضل مؤلف ماہر محقق ،معروف قلمقار اور جید عالم دین حافظ صلاح الدین یوسف صاحب نے اسلامی مہینوں کے فضائل ومسائل بیان کرنے کے بعد ان مہینوں کی مروجہ بدعات کا اچھے طریقے سے پوسٹ مارٹم کیا ہے ۔یہ کتاب خطبا ،علما اور عوام الناس کے لیے انتہائی مفید ہے اور اسلامی مہینوں کے حوالے سے عوام میں پھیلی مختلف بدعات کا تریاک بھی ہیں۔کتاب کی اشاعت وطباعت اور سرورق کا حسن دارالسلام ادارہ کے ذوق طباعت کا آئینہ دار ہے -
خدا تعالی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں کیلئے رحمت بناکر بھیجا اور پوری دنیا میں آپ کو منفرد او رمعزز مقام عطا کیا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کی ہمہ گیریت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتاہے کہ مسلمان تو مسلمان کفار بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اب تک بے شمار کتب منظر عام پر آچکی ہیں جن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کےکسی بھی پہلو کو تشنہ نہیں چھوڑا گیا۔زیر مطالعہ کتاب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے چند پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے ان کتب میں ایک شاندار اضافہ ہے کتاب میں جہاں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آباؤ اجداد ،آپ کی ولادت ،بچپن اور پہلی ہجرت کو حسین پہرائے میں بیان کرنے کا شرف حاصل کیا گیاہے وہاں آفتاب نبوت کی سنہری شعاعیں پڑنے پر خواب غفلت سے جاگ کر دشمنان دین کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنتے بھی دکھایا گیا ہے اس کے علاوہ آپ اس کتاب میں امت کے فرعونوں کے انجام کار کی تصویر کشی ملاحظہ کرنے کے ساتھ ساتھ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا جگر چبانے والی کو رحمت عالم کے روبروبھی دیکھیں گے کتاب کی خاصیت یہ ہے کہ مردوں ،عورتوں اور بچوں کیلئے یکساں مفید ہے اور انداز اس قدر سادہ اور دلکش ہے کہ ایک دفعہ شروع کردو تو ختم کرنےسے پہلے اس سے نظر ہٹانے کو جی نہ چاہے۔ -
تاریخ اسلامی دلچسپ اور سبق آموز واقعات سے بھری پڑی ہے- اس موضوع پر اب تک بہت سی کتب لکھی جا چکی ہیں لیکن وہ کافی تفصیلی اور ضخیم ہیں جن کا مطالعہ کھلے وقت کا متقاضی ہے- کتاب ہذا میں مصنف نے حقائق پر مبنی دلچسپ واقعات کو آسان اور سلیس زبان میں بیان کر دیا ہے- کتاب کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہماری تاریخ میں کس قدر عظیم لوگ پیدا ہوئے جن کے کارہائے نمایاں روز روشن کی طرح عیاں ہیں یہ ایسے سنہرے اوراق ہیں جو بچوں، بڑوں غرض ہر عمر کے لوگوں کے لیے یکساں دلچسپی کے حامل ہیں-مصنف نے حتی الامکان کوشش کی ہے کہ صرف وہی واقعات ذکر کئے جائیں جو تاریخی اعتبار سے درست ہیں اور جن کے حوالہ جات موجود ہیں -
Sale!Khawateen Aur Ramazan from balagh.pk accordingly for Muslims all over the world. For fasting, women have some additional rules that apply to them due to issues such as pregnancy, menstrual cycles, and breast feeding. This book provides guidance and Islamic rulings into those matters. Undeniably to see more products visit our Facebook balagh.pk or contact by clicking 03276333210
-
ایسے کتنے ہی لوگ ہیں جو پچھلے رمضان ہمارے ساتھ تھے لیکن اب وہ اس دنیا فانی سے جا چکے ہیں۔ رمضان کا ملنا اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے جس سے ہمیں بھرپور فائدہ حاصل کرنا چاہیے اور اس مہینۓ میں عبادت، تزکیہ اور فکر کے ذریعے اپنے رب سے اپنا رشتہ مضبوط بنانا چاہیے۔ یہ کتاب، آپکے رب سے آپکا رشتہ مضبوط بنانے میں آپکی رہنمائی کرتی ہے۔
O fasting men and women, how today resembles yesterday! The days pass so quickly as if they are mere moments. We just welcomed and said goodbye to last Ramadhan. Now only a few months later, which felt like a few hours, we are again welcoming a month of fasting. How many people do we know who were with us in Ramadan a number of years ago but today they abide in their graves awaiting their resurrection and meeting with their lord. This may perhaps be the last Ramadaan for some of us. The fact that we have reached Ramadhan is a favor and gift from our lord. It is a glad tiding and a blessing for which we should shed many tears. Find out how you can make the most of the blessed month of Ramadaan and connect with your lord.