عملی زندگی میں شرعی احکام کی تعمیل ہی مسلمان کی اصلی پہچان ہے ۔ سو عقائد و نظریات ، عبادات و معاملات اور اخلاق و عادات میں شریعت اسلامیہ کی اتباع ہی ملحوظ ہونی چاہیے ۔ لہذا دیگر احکام و فرائض کی طرح شادی شدہ اسلامی جوڑے پر یہ اضافی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نیک اولاد کے حصول کا خواہش مند بھی اور طلب اولاد کا حریص بھی ۔ پھر اولاد طلبی کی شرعی حدود و قیود کی پابندی اختیار کرے اور حصول اولاد کی ناجائز صورتیں اور شرکیہ افعال سے بھی گریز کرے ۔ اور جب اللہ تعالی اس کی التجاؤں کو شرف قبولیت بخشے تو حمل ، وضع حمل کے احکام سے واقفیت حاصل کر کے ان پرعمل پیرا ہو اور گھر کے آنگن میں پھول کھلنے کی صورت میں نومولود کے نام رکھے ۔ عقیقہ کرنے ، بال مونڈنے ، ختنہ کروانے ، رضاعت کے مسائل اور تربیتی پہلوؤں سے آگاہی حاصل کر کے اپنی شرعی ذمہ داریوں سے عہدہ بر آں ہو۔ زیر تبصرہ کتاب بچوں کے احکام ومسائل، ولادت سے بلوغ تک اسلامی زندگی کے انہی پہلوؤں پر بطریق احسن روشنی ڈالتی ہے ۔
-
اسلام عفت و عصمت اور پاکیزگی قلب و نگاہ کا دین ہے۔ اسلام زمانہ جاہلیت کی غیر انسانی طفل کشی کی رسم کی پرزور مذمت کرتا ہے۔ اسلام ہی دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے عورتوں کو ان کے اصل مقام و مرتبے سے ہمکنار کیا۔ اس کی عزت و آبرو کے لیے جامع قوانین متعین کیے، عورت کو وراثت میں حقدار ٹھہرایا، اس کے عائلی نظام کو مضبوط کیا۔ اسلام سے پہلے دنیا نے جس قدر ترقی کی تھی، صرف ایک صنف واحد(مرد) کی اخلاقی اور دماغی قوتوں کا کرشمہ تھی۔ مصر، بابل، ایران، یونان اور ہندوستان مختلف تہذیب و تمدن کے چمن آراء تھے لیکن اس میں صنف نازک(عورت) کی آبیاری کا کچھ دخل نہ تھا۔ عورت کو دنیا میں جس نگاہ سے دیکھا جاتا ہے وہ ہر ممالک میں مختلف رہی ہے، مشرق میں عورت مرد کے دامن تقدس کا داغ ہے، اہل یونان اس کو شیطان کہتے ہیں، تورات اس کو لعنت ابدی کا مستحق قرار دیتی ہے، کلیسا اس کو باغ انسانیت کا کانٹا تصور کرتا ہے لیکن اسلام کا نقطہ نظر ان سب سے جدا گانہ ہے۔ اسلام میں عورت نسیم اخلاق کی نکہت اور چہرہ انسانیت کا غازہ سمجھی جاتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’بہنوں کے لیے تحفہ‘‘محترمہ امل بنت عبداللہ کی تصنیف کرداہے اور اس کا عربی نام ’’ھدیتی الیک ‘‘ہے اور اس کا اردو ترجمہ نعیم احمد بلوچ نے کیا ہے جس میں انہوں نے ایک عورت کی معاشرتی اور گھریلو ذمہ داریوں کو بیان کیا ہے۔اللہ رب العزت سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ فاضل مصنفہ اور فاضل مترجم نعیم احمد صاحب کو اس کار خیر پر اجرے عظیم سے نوازے۔آمین
-
Sale!
بچےہماری زندگی کےشگفتہ پھول ہے۔ہمارےمستقبل کی روشن ٱميداورہماری آنکھوں کی ٹھنڈک ہيں۔بچوں کےاندرذوق تجسس اورکسی بھی چيزکوجاننےاورپرکھنےکامادہ دوسرےکےمقابلےميں غيرمعمولی حدتک زيادہٰ ہوتاہے۔بچےاپنےاردگرد پھيلی ہوی اچھی يابری چيزوں کواپنےذہن ميں محفوظ کرليتے ہيں۔اسی احساس کےپيشں نظردارالسسلام نےبچوں کودينی تعليمات واصطلاحات سےروشناس کرانےکےليےيہانسائیکلوپیڈیا تيارکياہے۔ ”بچوںکااسلامی انسائیکلوپیڈیاميں آدم عيلہ اسلام آغازکياگياہے۔ اس کے بعد ایمان کیا ہے؟ احسان کیا ہے؟ وضو، اذان و اقامت، نماز، روزہ، حج، زکاۃ جیسے اہم اور ناگزیر مضامین پر روشنی ڈالنے کے ساتھ ساتھ دیگر بہت سے عنوانات کو بھی شا مل کیا گیا ہے۔ `بچوں کا اسلامی انسائیکلوپیڈیا` نہ صرف بچوں کی دینی معلومات میں اضافے کا ذریعہ بنے گا بلکہ ان کے اخلاق و کردار کو سنوارنے اور انھیں باعمل مسلمان بننے میں خوب مدد دے گا۔ ان شاء اللہ !
-
صحابئہ کرامؓ کی زندگی اوران کی سوانح ميں ہمارےليےروشن مثاليں ہيں۔وہ چمکتےدمکتےستارےہيں جنہوں نےبراہ راست اللہ کےرسولﷺکےرخ انوارکی زيارت کاثرف حاصل کيا۔اںہوں ںےاللہ کےرسولﷺکی مجالست وصحبت کےمزےاٹھاۓ اور براہ راست آپ سےفيوض وبرکات حاصل کيں۔ان کا تزکيہ نفس کا ئنات کےامامﷺنے بنفس نفيس فرمايا۔ان کی زندگی ہمارےليےمشعل راہ ہے۔ہرصحابي کی زندگی بہت خوبصورباعث اقتداءاورروشن مثال ہے۔ان تاريخ سازمقدس شخصيات کی علمی اخلاقی،فقہی اورعسکری بصيرت سےآگہی کانورحاصل کرنےکےليےيہ انسائیکلوپیڈیا دارالسلام کےقارئین خدمت ميں پيش کياجارہاہے۔ہماری خواہش ہےکہ اس نورکوزندگی کی گزرگاہوں کےان تاريک گوشوں تک پھيلادياجاۓجہاں اجالےکی اشدضرورت ہے۔ -
بچوں کا ذہن سفید کاغذ کی طرح ہوتا ہے۔ اس پر جو لکھیں فوراً نقش ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بچپن میں یاد کی ہوئی باتیں بڑھاپے تک محفوظ رہتی ہیں۔ عربی کا مقولہ ہے کہ کمسنی کی یاد کی ہوئی بات پتھر پر لکیر کی مانند ہوتی ہے۔ اس لیے بچوں کی یہ عمر انتہائی قیمتی ہے۔ اس سے بھرپور فائدہ اُٹھانا چاہیے۔ اسلامی عقائد، عبادات، اخلاقیات اور آداب و معاملات سے انھیں آگاہ کریں تا کہ بچپن ہی میں یہ تعلیمات ان کے قلوب و اذہان میں راسخ ہو جائیں اور وہ بڑے ہو کر سکہ بند مسلمان بنیں جو تاریخ کا دھارا بدل دیں۔ یقیناً اس کے لیے ایسے لٹریچر کی ضرورت ہے جو بچوں کی ذہنی سطح کو ملحوظ رکھ کر عام فہم اسلوب میں تیار کیا گیا ہو۔ ارکان اسلام اس ضرورت کی تکمیل کی سعی جمیل ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ بچوں کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کرانے کے ساتھ سچا اور باکردار مسلمان بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
-
مصنف نے اپنی کتاب کو ارکان خمسہ کے اعتبار سے پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے اور ہر ایک حصے میں الگ الگ ایک ایک رکن اسلام پر مدلل او رتفصیلی گفتگو کی ہے-پہلے حصے میں حقیقت توحید کو بیان کرتے ہوئے ایمان اور عمل صالح کی یکجائی کو حسن کمال کے ساتھ بیان کیا گیا ہے-حقیقت التوحید میں خدا، کائنات اور فطرت کو موضوع بنایا گیا ہے جبکہ دوسرا حصہ حقیقت صلوۃ پر مشتمل ہے جس میں یہ واضح کیا ہے کہ اسلام کے نظام صلوۃ میں مرکزی حیثیت انسان کو حاصل ہے-حقیقت صلوۃ میں مولانا نے مسائل صلوۃ کی بجائے نماز جس جوہر بندگی اور حقیقت عبدیت کا مظہر ہے، اس کی طرف اس انداز سے توجہ دلائی ہے کہ مسلمان ہونے کا حقیقی مطلب لائق فہم ہوجاتا ہے-تیسرا حصہ حقیقت زکوۃ پر مشتمل ہے جس میں اسلام کے نظام زکوۃ کی افادیت پر زور دیا ہے-چوتھے حصے میں حقیقت صایم کی وضاحت کرتے ہوئے صیام کے بارے میں جو اسلامی تصور پیش کیا گیا ہے، کی مکمل وضاحت کرتے ہوئے زکوۃ کی قانونی ہیئت پر بھی عام اسلوب سے ہٹ کر مجتہدانہ انداز سے گفتگو کی ہے-پانچویں حصے میں حقیقت حج پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے جس میں حج کے موضوع پر لکھے جانے والے سارے لٹریچر سے نہ صرف یہ کہ منفرد ہے بلکہ اس میں حج کے عمل کو عظیم روحانی تناظر میں رکھ کر دیکھا گیا ہے -
صلاح الدین علی عبدالموجود ایک نامور عرب مصنف ہیں جنھوں نے مسلمانوں کی نئی نسل کے سامنے صحابہ، محدثین اور اجل علما کی سیرتیں نئے اسلوب سے پیش کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے تاکہ وہ ان کے اوصاف کو اپنے کردار و عمل میں اجاگر کر سکیں۔ ’سیرت سفیان بن عیینہ‘ اس سلسلے کی ایک اہم کتاب ہے جس میں علم حدیث کے امام، یگانہ روز گار اور اپنے دور کی بے مثال اور منفرد شخصیت سفیان بن عیینہ کی سیرت کا تذکرہ ہے، جن کاشمار تبع تابعین میں ہوتا ہے اور انھوں نے تابعین کرام اور اتباع تبع تابعین کے درمیان رابطے کا کام دیا۔ اس کتاب میں قارئین کو بیسیوں اسے راویان حدیث کے احوال، روشن واقعات اور اقوال پڑھنے کو ملیں گے جو یا تو ابن عیینہ کے شیوخ تھے یا ان کے شاگرد اور ہم عصر تھے یا ان کے خوشہ چین تھے۔ اس میں ابن عیینہ کی علمی مجلسوں کے دلچسپ احوال اور ان سے پوچھے گئے سوالات اور ان کے حکیمانہ جوابات بھی ہیں جو علم دین کی جستجو کرنے والوں کے دل و دماغ کو روشن کرتے ہیں۔ علم اور اہل علم سے آپ کی دلچسپی، آپ کے چند علمی مواخذات، تدلیس کے بارے میں آپ کانقطہ نظر اور حکمرانوں کے بارے میں آپ کی آراء بھی پیش کی گئی ہیں جبکہ آخر میں ابن عیینہ کے تفسیری اقوال، شروح احادیث اور دیگر فرموادات ہیں جو آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ کتاب کا سلیس اور عام فہم اردو ترجمہ پروفیسر حافظ عبدالرحمٰن ناصر کی محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کوئی بھی بات حوالہ کے بغیر نقل نہیں کی گئی اور کتابت کی غلطی تو پوری کتاب میں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی حتی کہ غلط العام الفاظ استعمال کرنے سے بھی اجتناب کیا گیا ہے -
Sale!
Just like a human being, the creation of a human being is also an extremely crucial period. This period takes many complicated phases to be completed. For married couples, it is extremely important to have all the necessary information related to prenatal period. The author has provided quite unique, interesting and ample information regarding this beautiful period. Not only that, the author has also provided tips to take care of the infant in the postpartum period and the growing up phase to follow. The book has a simple and easy to understand way of writing so that women from every field can read and benefit from it. It is our hope that the book provides guidance and help for every woman who is going through this beautiful phase. -
یہ مختصر سی کتاب شیخ محمد بن سلیمان رحمہ اللہ کی عربی کتاب``الأصول الثلاثۃ وأدلتہا`` کا اردو سلیس ترجمہ ہے –شیخ موصوف نے کتاب کی تین ابواب میں تقسیم کرتے ہوئے اسلام کے تمام اساسی اصولوں کی بڑی سادہ اور دلنشین تشریح کی ہے- ان اصولوں کے ذیلی عنوانات میں اللہ تعالی کی معرفت، اسلام، ایمان اور احسان کے مراتب، مراحل اور مدارج وضاحت سے بتائے گئے ہیں اور آخر میں حضرت محمد مصطفی ﷺکی صفات، جہات، حیثیات اور تعلیمات بیان کی گئی ہیں- دین اسلام کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے یہ ننھی سی کتاب بڑی بڑی ضخیم کتابوں پر بھاری ہے-
-
دین اسلام پر مخالفین اپنے اوچھے ہتھیاروں سے انتہائی رکیک حملے کر رہے ہیں۔ اس بنا پر آج اسلام کے امتیازی اوصاف سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو آگاہ کرنا بے حد ضروری ہوگیا ہے۔ اسلامی علوم کی معروف شخصیت شیخ عبداللہ بن محمد صالح المعتاز نے عصر حاضر کی اس اہم ضرورت کا ادراک و احساس کرتے ہوئے `اسلام کی امتیازی خوبیاں` تصنیف فرمائی۔ اس کتاب میں نہایت نفیس انداز میں دین حق کی منفرد خوبیاں بیان کی گئی ہیں تا کہ کتاب و سنت کی خالص تعلیمات کا حسن قاری کے دل میں اتر جائے۔ یہ کتاب عربی سے آسان ، سلیس اور دلکش اردو زبان میں ترجمہ کروا کے شائع کی گئی ہے۔ چونکہ صاحب کتاب اسلام کی دعوت کا درد دل میں رکھتے ہیں، اس لیے ان کا انداز بیان کتاب کے ایک ایک لفظ کو قاری کے دل میں اتارنے کا باعث بنے گا۔ دنیوی و اخروی نجات کا متمنی جو شخص خلوص دل سے یہ کتاب پڑھے گا، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس کی تمنا پوری ہوگی، مگر مطالعے کا مقصد محض مطالعہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ کتاب میں مندرج تعلیمات و ہدایات پر عمل کا بنیادی تقاضا پورا کرنا شرط لازم ہے۔ -
جو قوم اپنی روایات اور خصوصیات کو بھلا کر غیروں کی نقالی کرتی ہے وہ صفحہ ء ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹ جاتی ہے۔ بدقسمتی سے مسلمانوں نے یہی مہلک طریقہ اختیار کرلیا، دو اڑھائی سو برس پہلے یورپ کے صنعتی انقلاب کے بطن سے جو مادی تہذیب پیدا ہوئی، اس میں مذہب سے شدید بغاوت بھی کار فرما تھی۔ اس تہذیب نے اللہ تعالیٰ سے اہل یورپ کا رشتہ منقطع کردیا۔ یہی چمکیلی بھڑکیلی تہذیب جب انگریزوں ، فرانسیسیوں اور ولندیزیوں کی معرفت مشرقی ملکوں میں پہنچی تو مسلمانوں کے بالائی طبقات نے اسے گلے لگا لیا۔ یہ تاریکی بڑھتی اور پھیلتی چلی گئی اور ہم اپنی مایہ ناز روایات کو یکے بعد دیگرے فراموش کرتے چلے گئے۔ آج جسدِ ملت کے زخموں سے جو خون ٹپک رہا ہے وہ اسی مادر پدر آزاد مغربی تہذیب کی نقالی اور اپنی معظم روایات سے دستبرداری کا نتیجہ ہے۔ اب مسلمانوں کی بقا اور فلاح کا یک ہی طریقہ ہے کہ وہ مغربی تہذیب کی طنابیں توڑ دیں اور اسلامی تعلیمات کے دامن رحمت میں لوٹ آئیں۔ عالم اسلام کے نامور عالم دین فضیلتہ الشیخ محمد بن صالح العثیمین ؒ نے `اسلام کے بنیادی عقائد` کے زیر عنوان یہ گرانقدر کتاب لکھ کر وہ تعلیمات و مبادیات اجاگر کردیے ہیں جن پر عمل کر کے ہم اپنی گم شدہ عظمت دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کتاب کا سنجیدگی سے مطالعہ کیجیے۔ یہ کتاب قران و سنت کی تعلیمات کا عطر ہے۔
-
تقسیم وراثیت سے متعلقہ اسلام کی تعلیمات نہایت عادلانہ اور منصفانہ ہیں۔ تاکہ مرحومین کے پسماندگان کی مامون و محفوظ اور پر امن دنیوی زندگی کا اہتمام ہو سکے۔ لیکن نہ معلوم کس وجہ سے بہت سے علماے کرام اور اہل علم حضرات بھی تقسیم وراثت کے حوالے سے دینی احکامات سے پوری طرح آگاہ نہیں ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’اسلامی قانون وراثت‘ جہاں علمائے کرام کے لیے استفادے کا باعث بنے گی وہیں طلبا اور عامۃ المسلمین بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ فاضل مصنف ابونعمان بشیر نے وراثت کے مبادیات، موانع، ترکہ کے متعلق امور، مستحقین اور ان کے حصص، عصبات، حجب سے لےکر تقسیم ترکہ، تخارج، خنثیٰ، حمل سمیت تمام موضوعات نہایت جامعیت کے ساتھ روشنی ڈالی ہے۔ یوں سوالاً جواباً انداز میں لکھی گئی یہ کتاب طلبہ کے لیے بالخصوص مفید ثابت ہوگی، اسے مدارس کے نصاب میں شامل کیا جائے تو یہ ابتدائی کلاسوں کے لیے آسان جدید اسلوب میں نہایت مفید اضافہ ثابت ہوگی
-
لعزت نے اسلام کی راہ روشن کردی ہے۔ پس تم اسلام کے سایہ رحمت میں آجاؤ۔ فی زمانہ اسلام کی تبلیغ و ترجمانی کی عزت جن علمائے حق کے حصے میں آئی ہے، ان میں بھارت کے نامور سکالر ڈاکٹرذاکر عبدالکریم نائیک کی شخصیت بہت نمایاں ہے۔ چاند پر خاک ڈالنے کی کوشش کی جائے تو وہ اپنے ہی منہ پر آ گرتی ہے۔ غیر مسلموں نے اسلام پر اعتراضات کی بوچھاڑ کی۔ڈاکٹر صاحب نے ان کے مدلل اور مسکت جوابات دیے ہیں اور انھیں اسی راہ پر چلنے کی دعوت دی ہے جس کی طرف قران کریم 14 صدیوں سے بلا رہا ہے۔ دارالسلام سوال و جواب کے یہ بے مثل مجموعہ کو دنیا بھر میں اسلام کی حقانیت عام کرنے کے لیے شائع کر رہا ہے۔ یہ کتاب خود بھی پڑھیے اور اسے زیادہ سے زیادہ تعداد میں غیر مسلموں تک بھی پہنچایئے۔ یہ کتاب پڑھ کر اگر ایک غیر مسلم کے قدم بھی اسلام کی راہ پر لگ گئے تو یہی ننھا سا عمل آپ کے لیے جنت کی ضمانت بن جائے گا۔
-
اسلام واحد سچا اور خالص دین ہے جو اللہ نے اپنے بندوں کے لیے چُنا ہے مگر اہلِ باطل کا وتیرہ ہے کہ وہ اپنے جھوٹے نظریات کو فروغ دینے کے لیے اسلام کے بارے میں مسلسل منفی پروپیگنڈہ کرتے چلے آرہے ہیں جس میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے کئی گنا تیزی آگئی ہے۔ ان حالات میں بہت ضروری ہوگیا ہے کہ اسلام کی ٹھیک ٹھیک تعلیمات جدید اسلوب اور جدید زبان میں دنیا کے سامنے پیش کی جائیں اور کتاب و سنت کے ان بیانات و مباحث کو دنیا کے سامنے رکھا جائے جن کی چودہ سو سال بعد سائنس من و عن تصدیق و توثیق کر رہی ہے۔ اس متنوع اور جامع علمی مواد کی حامل کتاب میں اسلام کے مختصر تعارف، سیرتِ رسول ﷺ کے چند پہلو، مسلماونوں کے علمی کارنامے اور بعض غیر مسلموں کے قبولِ اسلام کے ایمان افروز واقعات بیان کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کس طرح ایک غیر مسلم اسلام میں داخل ہو سکتا ہے۔ -
`اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں؟` ان خوش نصیب انسانوں کے تجربات و تاثرات اور قلبی واردات کا خوبصورت مرقّع ہے جنہوں نے عیسائیت، یہودیت یا ہندو مت کے باطل عقائد و افکار کو تج کر اسلام کے باعثِ تسکینِ جاں اور بہارِ قلب و نظر کے حامل سرمدی سائے میں پناہ لی۔ ان نو مسلموں کے اپنے سابق مذاہب کے حوالے سے اعتراضات اور اسلام کے بارے میں سرور انگیز والہانہ جذبات حقیقتاً ایمان افروز اور ایقان پرور ہیں جن سے اس دین حنیف کی ازلی و ابدی سچائی روزِ روشن کی طرح نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے۔ یہ بے مثال کتاب ہر مسلمان بلکہ ہر انسان کے پڑھنے کی چیز ہے، بلخصوص وعظ و تبلیغ کے فریضے کی ادائیگی میں مصروف لوگوں کے لیے سوغات ہے۔ اسے خود پڑھ کر اسلام پر اپنا ایمان و یقین تازہ کیجیے اور دوسروں کو پڑھائیے کہ اسلام، قران اور پیغمبر اسلام ﷺ سے نومسلموں کی وابستگی کا تقابلی مطالعہ دل و نگاہ کو رفعت و صلابت اور کشادگی عطا کرتا ہے۔
-
خانقاہی نظام سے مراد تصوف ہے۔تصوف کا لفظ اس طریقۂ کار یا اسلوب اس عمل کے لیے اختیار کیا جاتا ہے جس پر کوئی صوفی عمل پیرا ہو۔ اسلام سے قربت رکھنے والے صوفی، لفظ تصوف کی تعریف یوں کرتے ہیں کہ : تصوف کو قرآنی اصطلاح میں تزکیۂ نفس اور حدیث کی اصطلاح میں احسان کہتے ہیں۔ تصوف کی اس مذکوہ بالا تعریف بیان کرنے والے افراد تصوف کو قرآن و سنت کے عین مطابق قرار دیتے ہیں۔ اور ابتدائی ایام میں متعدد فقہی علماء کرام بھی یہی مراد مراد لیتے رہے۔ پھر بعد میں تصوف میں ایسے افکار ظاہر ہونا شروع ہوئے کہ جن پر شریعت و فقہ پر قائم علماء نے نہ صرف یہ کہ ناپسندیدگی کا اظہار کیا بلکہ ان کا رد بھی کیا۔امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم اوران کےبعد جید علمائے امت نے اپنی پوری قوت کے ساتھ غیراسلامی تصوف کےخلاف علم جہاد بلند کیا اورمسلمانوں کواس کےمفاسد سے آگاہ کر کے اپنا فرضِ منصبی انجام دیا۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نےبھی اپنے اردو فارسی کلام میں جگہ جگہ غیر اسلامی تصوف کی مذمت کی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اسلام اور خانقاہی نظام ایک تحقیقی وتاریخی جائزہ ‘‘ محترم جناب پروفیسر ڈاکٹر امان اللہ بھٹی کی تصنیف لطیف ہے اس کتاب میں انہوں نے تصوف اور خانقاہی نظام کی تعریف، تاریخ اور تصوف کےمختلف سلسلوں اور ان کےطریق کار کی مفصل اور چشم کشا دستاویز پیش کی ہیں۔نیز عہد بہ عہد صحابۂ کرام کے نام دے کر بتایا گیا ہے کہ انہوں نےکتنے کٹھن حالات میں دنیا کےدور دراز گوشوں میں پہنچ کر توحید کی اذان دی اور لوگوں تک اللہ کا دین پہنچایا۔ ان کی دعوت سیدھی سادی تھی۔ وہ غیر اللہ کی نفی کرتے تھے۔ دلوں میں اللہ کی یکتائی ،بڑائی کبریائی اور زیبائی کانقش جماتے تھے ، رسول اللہﷺ کی زندگی کے مبارک طریقے سکھاتے تھے ۔اس کتاب کے مطالعے سے یہ حقیقت بڑی نمایاں ہوجاتی ہے کہ اسلام جیسے جامع دین کے مقابلے میں تصوف اور خانقاہیت ایک ژولیدہ فلسفہ ہے ۔ فاضل مصنف نےخانقاہی نظام کا بڑا مفصل اور مدلل جائزہ پیش کیا ہے۔ انھوں نےاکابر علماء اور نامور صوفی بزرگوں ہی کےاقوال سے تصوف کی تعریف بیان کی ہے اور مختلف آراء کے اقتباسات درج کیے ہیں ۔ تصوف کے مختلف سلسلوں اور منازلِ سلوک کی بہت سی شاخوں کےتعارف کے علاوہ ان کےطریق عمل پر روشنی ڈالی ہے۔ فاضل مصنف نےحوالہ جات پیش کر کے بتایا ہے کہ تصوف کےنظریات کہاں کہاں پہنچ کر اسلامی تعلیمات سےبے آہنگ ہوگئے اورشرک کی آبیاری کاموجب بنے۔پھر اس کے نتیجے میں کیسے کیسے فاسد عقائد کے کانٹے اگتے اورپھیلتے چلے گئے -
خانگی اور معاشرتی زندگی کا حسن بڑی حد تک عورت کے کردار پر موقوف ہے۔ عورت شرک سے بیزار اور وحدہ لاشریک کی پرستار ہوگی تو اس کی گود میں پلنے والے بچے بھی اللہ کے شیدائی، رسول ﷺ کے فدائی اور اسلام کے سپاہی بنیں گے۔ اس لحاظ سے اس بات کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ عورت کی دینی تعلیم و تربیت کس قدر زبردست اہمیت کی حامل ہے۔ حقائق سے آگہی فوری اور ابدی خوشی کے حسول کا لازوال سر چشمہ ہے۔ یہ کتاب اُن اہم دینی </p>حقائق و معارف کا گلدستہ ہے جنھیں سیکھے بغیر کوئی خاتون اچھی سیرت سازی کے تقاضے پورے نہیں کر سکتی۔ یہ کتاب توہم پرستی سے بچنے اور عقل و بصیرت سے کام لینے کا سبق دیتی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ عورت کی شخصیت میں سچائی کی روح بولے گی تو اس کے سارے خاندان میں صداقت کا اُجالا پھیل جائے گا۔ یہ کتاب شوہر کے حقوق ومفادات کی نگہبانی اور اولاد کی تربیت کے گرُ سیکھاتی ہے۔اسے پڑھیے </p>اور اپنے خاندان کی محترم خواتین کی خدمت میں بطور تحفہ پیش کیجیے۔ ان شا ء اللہ ! اس کتاب کی تعلیمات سے آپ کا گھرانا گہواہ رحمت بن جائیگا۔
-
قران کریم اور احادیث مقدسہ اسلامی تعلیمات کا سر چشمہ ہیں۔ انگریزوں نے ہندوستان پر قبضہ جمایا تو انھوں نے اپنے سامراجی مقاصد کی تکمیل کے لیے مسلمانوں کے عقائد کو متزلزل کرنے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں انھوں نے جن نام نہاد سکالروں کی کاشت کی، انھوں نے فتنہ انکارِ حدیث برپا کرنے کی مہم شروع کردی۔ الحمدللہ ! علمائے حق آگے بڑھے۔ انھوں نے قران و سنت کے روشن دلائل و براہین سے انگریزوں اور ان کے لے پالک دانشوروں کے سارے حربے بیکار کردیے اور یوں مسلمانوں کی متاعِ ایمان کو تباہ ہونے سے بچایا۔ ایسے علمائے کبار کی کہکشاں میں فاضل اجل مولانا عبدالسلام رستمی کا نام ایک نادر اضافہ ہے۔ انھوں نے اس کتاب میں قران و حدیث اور تعامل صحابہ کی روشنی میں سر سید، اسلم جیراج پوری اور غلام احمد پرویز جیسے قلمکاروں کی گمراہ کن تحریروں اور دور ازکار تاویلوں کے بخیے اُدھیڑ دیے ہیں اور یہ حقیقت اچھی طرح اُجاگر کردی ہے کہ حدیث کا انکار در حقیقت قران کا انکار ہے۔ قران کے ساتھ ساتھ جب تک صحیح احادیث پرپوری طرح یقین اور عمل نہیں ہوگا، اس وقت تک ایمان کی لذت شناسی نصیب نہیں ہوگی۔ یہ کتاب اسی حقیقت کی ایمان افروز تفسیر اور حجیتِ حدیث کی دل آویز دستاویز ہے۔ -
آج ساری دنیا جس بے قراری سے امن و سلامتی کا راستہ ڈھونڈ رہی ہے، اس سے کوئی بے خبر نہیں۔ ملاال یہ ہے کہ جو افکار و اعمال انسان کے لیے ذلت اور ہلاکت کا سبب ہیں، آج کا ترقی یافتہ انسان انھی موہوم اور مسموم افکار و اعمال میں اپنے زخموں کا مرہم ٹٹول رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ انسان کے دکھوں میں آئے دن ہولناک اور ہلاکت بار اضافہ ہو رہا ہے۔ اس عالم گیر المیے کی اصل وجہ کیا ہے؟ یہ بھید جاننے کے لیے زیرِ نظر کتاب پڑھیے۔ اس کتاب کے مصنف فضیلتہ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز ؒ عہد حاضر کے سب سے بڑے سکالر تھے، ان کی بین نگاہوں نے انسان کے آلام و مصائب کے اصل سبب کا کھوج لگایا اور صاف صاف بتا دیا کہ جب تک انسان اپنے من گھڑت افکار و عقائد کی دلدل میں پھنسا رہے گا امن و سلامتی کا راستہ کبھی نا پا سکے گا۔ امن و سلامتی اور فلاح و کامیابی کا واحد طریقہ یہ ہے کہ جس قادر مطلق نے یہ دنیا بنائی ہے ہم اُسی کی بتائی ہوئی صراط مستقیم پر چل پڑیں۔ صراطِ مستقیم کیا ہے؟ یہ کتاب اسی سوال کا بڑا مستند ، منور، مفصل اور مدلل جواب ہے۔ اسے مرکز توجہات بنائیے۔ خود بھی پڑھیے اور عزیز و اقارب کو بھی پڑھنے کی دعوت دیجیے۔ -
پیش نظر کتاب دورہ تفسیر کے علمی نکات اور افادات پر مبنی خزینہ معلومات ہے جسے مدارس کے نصاب، فہم قران کورسز کی بنیادی ضرورت اور دورہ تفسیر کی روایت کے عین مطابق مرتب کی گیا ہے۔ یہ اپنے اسلوب کے لحاظ سے بہت اہم اور مفید علمی کاوش ہے جو طالبان قران کے لیے قرانی موضوعات اور اصول تفسیر کے لوازم کے تحت تحریر کی گئی ہے۔ اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ اس میں اصول تفسیر کے مشکل مراحل کو سوال و جواب کے اسلوب میں آسان اور زود و فہم بنا دیا گیا ہے۔ -
یہ کتاب عالمگیر سچائیوں کا سبق دیتی ہے، اس کا موضوع یہ ہے کہ انسان شعور و آگہی کی زندگی بسر کرے۔ اپنے مقدس پروردگار کو پہچانے۔ رسالت مآب حضرت محمد ﷺ کے منصب و منزلت کی معرفت حاصل کرے۔ آپ ﷺ کے فکر و عمل کی پیروی کرے۔ آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ کو ذہنی ارتقا کا ذریعہ اور عملی زندگی کا مرکز و محور بنائے۔ دن حنیف کی تعلیمات سے پوری طرح با خبر رہے۔ اور صبر و استقامت کی راہ پر گامزن رہے۔ یہ کتاب ایک دوست کی پکار، ایک داعی کی صدا اور ایک مجاہد کی آواز ہے جو زمانے اور زندگی کے ہر مرحلے پر صراطِ مستقیم دکھاتی ہے اور قران و سنت کی روشنی میں حسن عمل کی تعلیم دیتی ہے۔ عمل کا ارادہ کیجیے اور اس کتاب کا ایک ایک حرف احترام اور التزام سے پڑھیے۔ ان شا ء اللہ آپ کے عقائد و نظریات میں حقیقی نور پیدا ہوگا اور روشن روشن کرنیں جگمگا اُٹھیں گی۔ آپ حسن نیت اور اچھے کام کرنے کے خوگر بنیں گے۔ یوں آپ اس دنیا میں سر خرو اور آخرت میں سرفراز رہیں گے۔ -
انسانی وجود کے دو حصّے ہیں۔۔۔ ایک روحانی، دوسرا مادی۔ مادیت پسندی کے اس دور میں انسان کے اس وجود پر بہت کام ہوا ہے مگر دوسرے اور اہم تر وجود پر جو کچھ لکھا اور کہا گیا ہے اس کی وقعت نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ضمن میں انسانی عقل کی رہنما۔۔۔۔ وحی۔۔۔ سے روشنی حاصل نہیں کی گئی۔ `انسان اپنی صفات کے آئینے میں` اس غلط روش کا خوب صورت ازالہ ہے۔۔۔ مصنف نے وحی االہٰی کی روشنی میں انسان کی مثبت اور منفی، تمام صفات کا خوب صورت تجزیہ کیا ہے اور انسان کو وہ آئینہ دکھایا ہے جس میں وہ اپنی سچی اور اصل تصویر دیکھ سکتا ہے۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ ان عوامل کی نشان دہی بھی کی گئی ہے جن سے انسان اپنی تصویر کی بد نمائی کو دور کر سکتا ہے۔۔ ان پہلوؤں نے اس کتاب کی افادیت میں اس قدر اضافہ کر دیا ہے کہ اس کا مطالعہ ہر سچے انسان کی ضرورت بن گئی ہے۔
-
پیغمبر آخرالزماں جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ورسالت تو قیامت تک کے تمام انسانوں کے لیے ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جزیرۃ العرب میں پیدا ہوئے۔مکہ مکرمہ میں پرورش پائی اور 53برس تک یہیں رہے بعد ازاں مدینہ منورہ کی جانب ہجرت فرمائی اور عمر عزیز کے 10 سال یہاں بسر کیے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عرصے میں سفر بھیکیے،صفر میں بھی رہے،حالت امن میں بھی دن گزارے اور حالت جنگ میں بھی شب وروز بسر ہوئے۔اس تمام شرگزشت اور ریکارڈ کو سیرت نبوی علی صاحبہا الصلوۃ والسلام کا نام دیا جاتا ہے۔مختلف زبانوں میں سیرت نبوی پر بے شمار کتابیں موجود ہیں جو قارئین کے مطالعے میں رہتی ہیں تاہم ان میں ایک تشنگی کا احساس رہتا ہے کہ مقامات واماکن کا نقشہ کتابوں میں نہیں ہوتا جس سے جگہوں کا صحیح تعارف نہیں ہو پاتا۔اس کو مد نظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر شوقی ابو خلیل نے زیر نظر اٹلس مرتب کی ہے جس میں سیرت کی وضاحت نقشوں سے کی گئی ہے ۔ان نقشوں میں تمام متعلقہ مقامات ،شہروں اور ان اطراف واکناف کی تفصیل سے جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تشریف فرمانی سے رونق بخشی یا جن کی طرف آپ نے قصدفرمایا۔اصل کتاب عربی میں تھی،جسے معروف اشاعتی ادارے دارالسلام نے اردو قالب میں ڈھال کر اردو دان طبقے کے لیے بھی اس سے استفادہ کو آسان کر دیا ہے۔امید قارئین کے لیے یہ کتاب دلچسپ معلومات کا ذریعہ ہو گی -
This Atlas is new in its subject, a subject that has not been touched before. It helps whoever recites the Qur`Gn or studies it to specify the locations mentioned by the Noble Verses, and to mark those places of ancient people mentioned in the Qur`Gn. This is besides locating areas where the incidents of the prophetic Seerah occurred. Eventually the diligent reader will easily recognize those places, learn about them, and take heed of them while reciting. Eventually the diligent reader will easily recognize those places, learn about them, and take heed of them while reciting. The Atlas has also revealed obscure places we used to pass through inattentively, like the site where Nuh`s Ark settled, the site of the curved Sand-hills {Al Ahqah}, the cave of the young faithful men, the houses of median, the site of Sodom and other places determined by the Atlas depending on reliable sources. Thus the Atlas eliminates all the guessing and the fantasies we used to encounter when reciting the Noble Quran, and takes us to the specific place.