پيغمبررحمت اللہ تعالی نےانسان کوعقل و شعور سے نوازا ہے۔عقل کو اگر شتر بے مہار کی طرح آزاد چھوڑ ديا جائے اوراسے خاص حدود وضوابط کا پابندنہ بنايا جا ئے تو وہ فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بنتی ہے۔اسی ليے نے بنی نوع انسان کی رہنمائی کے ليےانبياء ورسل کا سلسہ جاری فرمايا۔ہرعہداورہرعلاقےميں انبياٰءآتےاورفريضہ تبليغ ودعوت اداکرتےرہے تاآنکہ وحی ورسالت کا زريں سلسلہ نبی عربی محمدرسولﷺپرختم کرديا۔اب قيامت تک آنےوالےانسانوں کےليےآپ ہی اللہ کی طرف سے ہادی و رہنما ہيں۔آپ ہی کی بتلائ ہوئ تعليمات وہدايات انسانيت کی نجات اور ابدی سعادت وخوش بختی کا واحد ذريعہ ہيں۔ان سےاعراض وگريزکرتےہوۓ محض اپنی عقل پر انحصارکرکےانسانيت قعرمزلت ميں توگرسکتی ہےليکن امن وسکون،عافيت وراحت اورابدی نجات سے ہم کنارنہيں ہوسکتی
-
پُراَسرارحقائق تکلیف یادکھ سے دو چارانسان کی کبھی کبھی کوئی راستہ نہیں ملتا، کوئی علاج اس کی سمجھ میں نہیں آتا۔ مشورہ دینے والے اسے جادو، آسیب اورنظربد کا نام دیتے ہیں۔ پریشانی کے عالم میں وہ معاشرے میں ناسور کی طرح پھیلے ہوئے شعبدہ بازوں، بازی گروں اورنام نہادعاملوں کی چوکھٹ پہ اپنی مشکل کا حل ڈھونڈنے کے لیے جاپہنچتا ہے۔ جس کی جیب اجازت نہ دے، وہ بازار میں بکنے والےتعویذوں، مجربات اورپراسرارعلوم پرمبنی کتب میں اوٹ پٹانگ عملیات، مجرب نسخے اور نقیش آدمی کو سراسرگمراہی کی طرف لے جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کا ایمان بھی خطرے میں پڑجاتاہے۔ شایدہمیں یاد نہیں رہا کہ اسلام دین فطرت ہے۔ اس نے زندگی کے ہرمعاملے میں ہماری رہنمائی کی ہے۔ جنات اور جادو کے حوالے سے قرآن کریم اور احادیث مباکہ میں ہمارے لیے مکمل رہنمائی موجود ہے۔، بات صرف رجوع کرنے کی ہے۔ `پراسرارحقائق` قرآن و حدیث میں بتائے گئے طریق علاج پر مبنی ہے۔ بازاروں میں بکنے والی گمراہ کن کتب سے بچنے اور قرآن و حدیث کی روشنی میں صحیح علاج لے لیے یہ کتاب ازحدمفید ہے۔
-
`تقوتہ الایمان` کا موضوع توحید ہے، جو دین کی بنیاد ہے۔ اس موضوع پر بے شمار کتابیں اور رسالے لکھے جا چکے ہیں۔ شاہ اسمعیل شہید کا اندازِ بحث اور طرزِ استدلال سب سے نرالا اور سراسر مصلحانہ ہے۔ علمائے حق کی طرح اُنہوں نے صرف کتاب و سنت کو مدار بنایا۔ آیات و احادیث کے ذریعے وہ نہایت سادہ اور سلیس انداز میں انکی تشریح فرما دیتے ہیں اور توحید کے مخالف جتنی بھی غیر شرعی رسمیں معاشرے میں مروج تھیں، ان کی اصل حقیقت دل نشیں انداز میں آشکار کر دیتے ہیں۔ شاہ اسمعیل شہید نے عقیدہ و عمل کی اُن تمام خوفناک غلطیوں کو جو اسلام کی تعلیمِ توحید کے خلاف تھیں، مختلف عنوانات کے تحت جمع کردیا ہے، مثلاً شرک فی العلم، شرک فی التصرف، شرک فی العادت اور شرک فی العبادات۔ یوں تقویہ الایمان توحید کے موضوع پر ایک جامع اور یگانہ کتاب بن گئی۔ اگرچہ یہ کتاب نہایت اہم موضوع پر ہے لیکن شاہ اسمعیل شہید نے طریق استدلال ایسا اختیار کیا کہ معمولی پڑھا لکھا آدمی اور متجحر عالم دین بھی اس سے یکسان مستفید ہو سکتے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ -
انسان کی خصلت ہے کہ وہ نسیان سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کے تحت وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے۔ بہترین انسان وہ ہے جسے گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے ۔ اگر اس نے توبہ نہ کی تویہ غلطی اس کے خالق ومالک کو اس سے ناراض کردے گی۔ اس سےاپنے معبود ومالک کی ناراضگی کسی صورت بھی برداشت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ کریم کے دربار میں حاضر ہوکر گڑگڑاتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے کا پکا عزم کرتےہوئے توبہ کرتا ہے کہ اے مالک الملک اس مرتبہ معاف کردے آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔گناہ کے بعد ایسے احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ جب کہ اس جہاںمیں کئی ایسے بدنصیب سیاہ کار بھی ہیں جن کوزندگی بھر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا مالک ان سے ناراض ہوچکا ہے اور وہ ہیں کہ دن رات گناہ کرتے چلےجاتےہیں اور رات کوگہری نیند سوتے ہیں یا مزید گناہوں پر مبنی اعمال میں مصروف رہ کر گزار دیتے ہیں۔جبکہ اللہ کریم اس وقت پہلے آسمان پر آکر دنیا والوں کوآواز دیتا ہے کہ: اے دنیاوالو! ہےکوئی جو مجھ سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرے ... ہے کوئی توبہ کرنے والا میں اسے ا پنی رحمت سے بخش دوں. زیر تبصرہ کتاب ’’توبہ۔۔۔ فضائل و احکام اور سچے واقعات‘‘ پاکستان کے نامور دینی سکالر مولانا محمد خالد سیف﷾ کی تصنیف ہے ۔انہوں نے اس کتاب میں عام فہم شگفتہ اسلوب میں توبہ کے معانی ومفاہیم اجاگر کیے ہیں ۔ توبہ کی ضرورت اوراہمیت کا احساس دلایا ہے توبہ کی شرائط بتلائی ہیں۔ توبہ کے تمام احکام اور مسائل نہایت تفصیل سے بتائے ہیں۔ قرآن کریم اور احادیث نبویہ ﷺ کے حوالوں سےثابت کیا ہے کہ توبہ ہی دین کی اصل حقیقت ،انبیائے کرام کا وظیفۂ خاص اور فوز وفلاح کا ابدی سرچشمہ ہے مصنف موصوف نے حضرت آدم ،حضرت نوح، حضرت موسیٰ اور حضرت یونس کی توبہ کے واقعات کے علاوہ صحابۂ کرام کی توبہ کےاحوال نہایت اثر انگیز پیرائے میں بیان فرمائے ہیں ۔انہوں نے ہر صاحب ایمان کو ترغیب دی ہے کہ وہ توبہ استغفار کا خاص اہتمام اورالتزام کریں۔ اللہ رب العزت نہایت کریم اور رحیم ہے جو شخص گناہوں سےباز رہنےکا پکا ارادہ کرکے سچی توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے معاف فرمادیتا ہے ۔یہ کتاب اپنے موضوع پر منفرد اہمیت کی حامل ہے ہر مسلمان مرد اور عورت کو نہایت توجہ سے پڑھنی چاہیے ان شاء اللہ اس سے توبہ کی توفیق ملےگی دل کی دنیا بدلے گی ، قدم صراطِ مستقیم پر چل پڑیں گے۔ اوران تمام مصائب ومکروہات کا خاتمہ ہوجائے گا۔ جنہوں نے آج ہمیں اپنا ہدف بنا رکھا ہے -
اخروی نجات ہر مسلمان کا مقصد زندگی ہے جو صرف اور صرف توحید خالص پرعمل پیرا ہونے سے پورا ہوسکتا ہے۔ جبکہ مشرکانہ عقائد واعمال انسان کو تباہی کی راہ پر ڈالتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم نے مشرکوں کے لیے وعید سنائی ہے ’’ اللہ تعالیٰ شرک کو ہرگز معاف نہیں کرے گا او اس کے سوا جسے چاہے معاف کردے گا۔‘‘ (النساء:48) لہذا شرک کی الائشوں سے بچنا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے ۔اس کے بغیر آخرت کی نجات ممکن ہی نہیں ۔ حضرت نوح نے ساڑے نوسوسال کلمۂ توحید کی طرف لوگوں کودعوت دی ۔ اور اللہ کے آخری رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نےبھی عقید ۂ توحید کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس فریضہ کو سر انجام دیا کہ جس کے بدلے آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علمائے اسلام نےبھی عوام الناس کوتوحید اور شرک کی حقیقت سےآشنا کرنے کےلیے دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔اس کتاب میں مصنف نے توحید وشرک کی حقیقت کو سادہ اور دل نشیں الفاظ میں بیان کردیا ہے ۔ اوراللہ تعالیٰ کے بارے میں مذاہب باطلہ کا تصور پیش کرنے کےبعد سفارش کی حقیقت بیان کی ہے او راس ضمن میں قرآنی حقائق سے استشہاد کیا ہے ۔ حضرت نوح ، اصحاب کہف اور عزیر کے قصوں اور قرآنی آیات سے خالص توحید کو اجاگر کیا ہے ۔ انہوں نے وسیلے کی حقیقت اوراسے اختیار کرنےکا طریقہ انبیائے کرام کی پاکیزہ سیرت کی پیروی میں دکھایا ہے ، نیز قرآن کریم کی روشنی میں معجزہ اور کرامات کی حقیقت کھول کر بیان کردی ہے ۔اسے کھلے دل ودماغ سے پڑھنے والا شرک اوراس کے تمام مظاہر سے بچ کر خلوص دل سے توحید الٰہی کوحرزِ جاں بنائے گا تو دنیا اورآخرت میں یقیناً فوز وفلاح کا مستحق ٹھرے گا ۔ زیر نظر ایڈیشن کتاب ’’ توحید او رہم ‘‘ کا نیو ایڈیشن ہے اسے دورنگوں میں قرآنی آیات کی خوبصورت کتابت کےساتھ شائع کیاگیا ہے ۔نیز تخریج اور تنقیح کا اہتمام کرنےک ساتھ ساتھ چند ایک ضعیف احادیث خارج کر کے ان کی بجائے صحیح احادیث درج کی گئی ہیں ۔اللہ تعالیٰ مصنف وناشرین کی کاوش کو قبول فرمائے۔ (آمین)
-
انسانیت کو ہدایت کی روشنی دینےکےلیے اس دنیامیں بےشمار انبیاء آئےپہلے نبی ہونےکاشرف سیدنا آدم علیہ السلام کوحاصل ہے او رآخری نبی ہونےکااعزازمحمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے میں آیا۔انبیاء کی سیرت کامطالعہ کریں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہےکہ اللہ تعالی نےنبوت کی ذمہ داری کےلیے ایسے افراد کو چناجن کی زندگیاں ہر طرح کے عیب سے پاک تھیں۔سچائی ،پرہیزگاری اور نیکی ان کا وصف تھا۔نبئی مہرباں صلی اللہ علیہ وسلم خاتم المرسلین ہیں ۔آپ کےبعد کوئی نبی نہیں آئے گا یہ اللہ کافیصلہ ہے۔لیکن کچھ لوگ ذاتی مفادات کےلیے ،اپنی دوکانداری چمکانے کے لیے نبوت کے بند کیے ہوئے محل میں نقب لگانےسے باز نہ آئے ۔ان میں سےایک جھوٹا نبی انگریزوں کےہاتھ سے تراشا ہوا مرزا غلام احمد قادیانی ہے ۔اس جھوٹے نبی کی پرورش کس نے کی؟، اس خاردار پودے کی آبیاری کسے نےکی؟،اس کی جھوٹی شخصیت کو نبوت کا لباس کس نے پہنایا ؟،اس گھٹیا تحریرات اور خیالات کو الہام کیسے بنایا گیا ؟،یہ سب باتیں آپ کے سامنے’’تھالی کا بینگن ‘‘کی شکل میں پیش ہیں اس کتاب میں جعلی نبوت کے حقائق کو بڑے دلچسپ انداز میں بیان کیا گیاہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ مرزا کی اپنی ہی تحریروں کی مدد سے اس کی نبوت کے فتنے کو عیاں کیاگیاہے۔ -
موت وہ اٹل حقیقت ہے جو دنیوی زندگی کے عقائد و اعمال پر جزا و سزا کا نظام مرتب کرتی ہے۔ زندگی کی طرح موت بھی ایک امانت ہے جس میں غیر شرعی امور کو اختیار کر کے ہم اس میں خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ہر مرنے والا مسلمان اس بات کا شرعی حق رکھتاا ہے کہ اس کے پسماندگان اس کی تجہیز و تدفین کے عمل کو سنت کے مطابق ادا کریں۔ انسانی زندگی کا یہی وہ مرحلہ ہے جسے احکام شریعت ےسے بے خبر لوگ رسوم و رواجات اور شرک و بدعات کا مجموعہ بنا دیتے ہیں۔ اس مختصر کتاب میں بیما ر پرسی کے آداب، میت کے غسل کا طریقہ، تکفین کے احکام، جنازے کی نماز کا مسنون طریق اور قبروں کی زیارت کے شرعی اسلوب پر مستند حوالوں سے رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔ آج ملت اسلامیہ کا ایک بڑا حصہ ان تعلیمات سے بے خبر مرنے والوں کے غم میں سوگوار ہونے کے باوجود اس طریقہ کار سے بے خبر اور غافل ہے جو اس موقع کا شرعی تقاضا ہے۔ آئیے ہم اس معتبر کتاب کے مطالعہ سے اپنے بچھڑنے والوں کو شرعی آداب کے ساتھ رخصت کرسکیں۔
-
جادو اور جنات سے تعلق رکھنے والی بیماریوں کے علاج کےلیے کتاب وسنت کے بیان کردہ طریقوں سے ہٹ کر بے شمار لوگ شیطانی اور طلسماتی کرشموں کے ذریعے ایسے مریضوں کاعلاج کرتے نظر آتے ہیں جن کی اکثریت تو محض وہم وخیال کے زیر اثر خود کو مریض سمجھتی ہے ۔جادوکا موضوع ان اہم موضوعات میں سے ہے جن کا بحث وتحقیق اور تصنیف وتالیف کے ذریعے تعاقب کرنا علماء کےلیے ضروری ہے کیونکہ جادو عملی طور پر ہمارے معاشروں میں بھر پور انداز سے موجود ہے اور جادوگرچند روپوں کے بدلے دن رات فساد پھیلانے پر تلے ہوئے ہیں جنہیں وہ کمزور ایمان والے اور ان کینہ پرور لوگوں سے وصو ل کرتے ہیں جو اپنے مسلمان بھائیوں سے بغض رکھتے ہیں او رانہیں جادو کے عذاب میں مبتلا دیکھ کر خوشی محسوس کرتےہیں لہذا علماء کے لیے ضروری ہے کہ جادو کے خطرے او راس کے نقصانات کے متعلق لوگوں کوخبر دارکریں اور جادو کا شرعی طریقے سے علاج کریں تاکہ لوگ اس کے توڑ اور علاج کے لیے نام نہادجادوگروں عاملوں کی طرف رخ نہ کریں۔زیرنظر کتاب ’’جادو اورآسیب کا کامیاب علاج‘‘ مصر کے ایک نوجوان عالم ابو منذر خلیل بن ابراہیم امین کی تالیف ہے۔ جس میں انہوں نے ایک جدید انداز میں جناتی بیماریوں کے لیے کتاب وسنت سے علاج کے مختلف طریقے نقل کیے ہیں ۔او ر شیاطین جن وانس کی فتنہ سامانیوں سے آگاہ رہنے کے لیے شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائی ہے ۔تاکہ علمائے سو ،جاہل صوفیاء ،کاہن ،نجو می اور مال ودولت کےپجاری پریشانیوں ومصائب میں مبتلاء لوگوں کی دولت اور عزت پر ڈاکہ نہ ڈال سکیں۔او ر وہ ان تمام شیطانی کارندوں سے محفوظ رہ سکیں جنہوں نے اپنا جال اس کرۂ ارضی میں ہر طرف پھیلا رکھا ہے ۔ اللہ تعالی اس کتاب کو لوگوں کے لیے باعث نفع بنائے -
دین اسلام میں جادو کے حوالے سے جس قدر شدید وعید آئی ہے مسلم معاشرے میں اسی قدر شدو مد کے ساتھ یہ اپنے پنجے گاڑنے میں روبہ عمل ہے۔ بہت سے صحیح العقیدہ مسلمان جادوگروں اور شعبدہ بازوں کے ہاتھوں اپنی ایمانی دولت گنوانے میں لگے ہیں۔ یہ کتاب ہمیں بتائے گی کہ دین اسلام میں تمام ٹونوں ٹوٹکوں کا حل انتہائی آسان انداز میں دستیاب ہے ۔ کتاب میں جادوگروں کا تقرب حاصل کرنے کے لیے جادوگروں کے بعض وسائل، اور جادواور جنات کے وجود کو قرآن وسنت سے ثابت کرتے ہوئے جادو کی اقسام پر روشنی ڈالی گئی ہے۔اس کے علاوہ شریعت میں جادو کا حکم اور جادو کے اثر سے بچنے کے لیے چند احتیاطی تدابیر ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ نظر بد کی تاثیر اور علاج پر سیر حاصل اور علمی گفتگو کی گئی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اس کتاب کے مطالعے کے بعد ہر فرد اپنے عقیدہ وایمان کی حفاظت کرتے ہوئے جادو، نظر بد اور ان سے پیدا شدہ امراض کا علاج قرآن کریم اور ماثور دعاؤں کے ذریعے کر سکے گا۔
-
زندگی کی برف دم بدم پگھل رہی ہے۔ اجل ہر آن سر پر کھڑی ہے۔ مگر ہم اس اٹل حقیقت کو بھول کر دنیا کی فنا پذیر زندگی کے عشق میں گم ہیں۔ اللہ رب العزت اس دھوکے سے نکال کر ہمیں دوزخ سے بچانا اور جنت کے سدا بہار باغوں میں بھیجنا چاہتا ہے۔ اس غرض و غایت سے اللہ تعالیٰ نے زندگی کے ہر گوشے کے بارے میں واضح احکام دیے ہیں۔ بعض امور کی ترغیب دی ہے اور کچھ باتوں کی ممانعت فرمائی ہے۔ شرک سےبڑی سختی سے روکا ہے اور توحید کے تقاضوں پر ہر آن عمل کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔ جھوٹ، ظلم، سفاکی ، ناپاکی اور حق تلفی سے منع کیا ہے ۔ اور سخاوت، عدل اور انسانیت کی بھلائی کے کام کرنے کا حکم دیا ہے۔ زیرِ نظر کتاب انھی بیش قیمت باتوں کا دلکش مجموعہ ہے۔ نامور سعدی عالم شیخ عبداللہ بن جاراللہ نے قران کریم اور رسالت مآب ﷺ کی احادیث سے وہ تمام باتیں چن چن کر یک جا کردی ہیں جو دوزخ سے نجات اور جنت میں داخلے کی ضامن ہیں۔ دارالسلام یہ گرانمایہ کتاب ایمان کی مضبوطی اور حسن عمل کے فروغ کے لیے شائع کر رہا ہے۔ یہ کتاب جنت میں داخلے کی دستاویز ہے۔ اسے پڑھیے اور اپنی اخروی نجات کے لیے اس کی تعلیمات پر سچے دل سے عمل کیجیے ۔ -
اسلام کی اشاعت کے لیےعلماء کاکردار بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ جنہوں نے اپنی تحریر و تقریر سے عامۃ الناس میں علمِ دین کو پھیلایا اور علم و عرفان کی قندیلیں ابھی تک جلا رے ہیں۔ علماء ہی انبیاء کے وارث ہیں کہ جنہوں نے نبوی مشن سنبھالتے ہوئے شریعت کےعلم کو دوسرےلوگوں تک پہنچانا ہوتاہے۔ شرعی مسائل اور اخلاقی شرعی رہنمائی کے لیے علماء کے قرآن و سنت اور آثار صحابہ سے اخذ کردہ مسائل عامۃ الناس کے لیے انہیں دین کے فہم میں آسانی فراہم کرتے ہیں۔ اور خطبات کے ذریعے عوام الناس کی دینی رہنمائی کرتے ہیں۔ علمائے کرام کے مجموعہ خطبات کےحوالے سے کئی مجموعات شائع ہوچکے ہیں۔ ان میں سے اسلامی خطبات از مولانا عبدالسلام بستوی ، خطباتِ محمدی از مولانا محمد جونا گڑھی ،خطبات ِنبوی از مولانا محمد داؤد راز، خطاب سلفیہ، خطبات آزاد، خطبا ت بہاولپور ی خطبات علامہ احسان الٰہی ظہیر، خطبات یزدانی، خطبا حرم، مواعظ طارق ،زاد الخطیب، اور فاضل نوجوان مولانا عبد المنان راسخ کے خطبات وغیرہ، قابلِ ذکر ہیں۔ اور عربی زبان میں خطباء واعظین حضرات کے لیے 12 ضخیم مجلدات پر مشتمل ’’نضرۃ النعیم ‘‘انتہائی عمدہ کتاب ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ خطبات حرم ‘‘امام کعبہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمن السدیس کے بیت اللہ میں دیے گئے خطبات جمعہ میں سے منتخب خطبات ’’ کوکبۃ الکوکبۃ‘‘کا اردو ترجمہ ہے۔ ان منتخب خطبات کو نہایت خوبصورت سلیس اردو میں پیش کرنےکا اعزاز دار السلام نے حاصل کیا ہے۔ تعمیر سیرت کےلیےان پُر تاثیر خطبات کا مطالعہ ہر فرد وبشر کی ضرورت، مردوں او رعورتوں کے لیے ذریعہ ہدایت اورواعظین واساتذہ کرام کے لیے گنجینہ افادیت ہے۔ -
دعوتِ حق کیا ہے؟ اس کی تفصیلا ت قران مجید کی آیات مقدسہ اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث مبارکہ میں موجود ہیں۔ ان کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ کتاب الہٰی کا مرکزی مضمون توحید اور دوعوت دین ہے جسے نبی کریم ﷺ نے اس قدر کاملیت اور جامعیت سے پیش کیا کہ آپ دین حق کے داعئ اعظم ہی کی حیثیت سے ہمارے سامنے آتے ہیں۔ حق یہ ہے کہ دعوت الی اللہ ہی وہ مقدس نصب العین ہے جسے آپ نے امت مسلمہ کے سپرد کیا ہے۔ امت مسلمہ اس دعوت حق کے تقاضوں کو کیسے جان سکتی ہے اور اس کے داعیوں میں وہ معیاری، داعیانہ صفات کیسے پیدا ہو سکتی ہیں؟ اس مختصر سی کتاب کا اصلی موضوع یہی ہے۔ دعوت دین اور داعیان حق کی صفات پر ہمارے اسلاف نے بہت عظیم الشان لٹریچر تیار کیا ہے۔ یہ مختصر او ر جامع کتاب اس پورے لٹریچر کا احاطہ کرتی ہے۔ اس کے مطالعے سے مقصد زندگی کا شعور اُبھرتا اور اس کے تقاضوں کو بروئے کار لانے کی بصیرت پیدا ہوتی ہے۔
-
بانی مملکت سعودی شاہ عبد العزیز بن عبد الرحمن آل سعو د 1886ء میں پید اہوئے ۔والدین نے ان کی تعلیم وتربیت کا بہترین انتظام کیا قرآن پاک اور ابتدائی دینی تعلیم الشیخ قاضی عبد اللہ ا لخرجی او راصول فقہ اور توحید کی تعلیم الشیخ عبد اللہ بن عبدالطیف سے حاصل کی ۔ جب گیارہ برس کے ہوئے تو شرعی علوم پر بھی مکمل دسترس حاصل کرچکے تھے ۔ریاض پر الرشید کے غلبہ کی وجہ سے شاہ عبدالعزیز اپنے والد گرامی کے ہمرا کویت چلے گئے۔شاہ عبد العزیز وہاں اپنے خاندان پر گزرنے والی مشکلات کے بارے میں سوچا کرتے تھےکہ ان کے والد کس طرح کویت میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے ۔ وہ ہمیشہ اپنے ملک کے بارے میں پریشان رہتے۔اس کی تعمیر وترقی کا خواب دیکھتے رہتے تھے ۔شاہ عبدالعزیز کے والد نے ان کی سیاسی تربیت اسے انداز سے کی کہ وہ لوگوں سے کامیابی کے ساتھ مکالمہ کرسکیں۔شاہ عبد العزیز نے اپنے والد گرامی کےسائے میں کویت میں صبرو سکون کے بڑی منطم زندگی گزاری۔انہوں نے 1902 میں اپنے چالیس جانثار کو ساتھ لے کر ریاض پر حملہ کر کے ریاض کو الرشید کے قبضہ سے آزاد کروایا ۔ جس سے مملکت سعودی عرب کا آغاز ہوا اور پر تھوڑے عرصہ میں پورے سعودی عرب پر شاہ عبد العزیز نےعدل وانصاف پر مبنی حکومت قائم کی ۔شاہ عبدالعزیز نے تیس سال تک مسلسل جدوجہدکی اور اپنی مملکت کی سرحدوں کو وہاں تک پہنچایا جوان کے آباؤ اجداد کے وقت میں تھیں۔ان کی کوششوں سے سعودی عرب صحیح اسلامی مملکت کے طور پر نمایا ں ہوا۔جس کی وجہ سے اللہ تعالی نے ان کو تیل کےذریعے دولت کی فراوانی سے مالامال کیا۔ غلبۂ اسلام کے لیے شاہ عبدالعزیز کی خدمات قابل تحسین ہیں ۔73سال کی عمر میں 1953ءکو طائف میں وفات پائی ۔ زیر نظر کتاب بحر اللہ ہزاروی کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے شاہ عبد العزیزبن عبد الرحمن آل سعود کی بچپن سے جوانی اور سعودی عرب میں اسلامی حکومت قائم کرنے کے تفصیلی حالات کوبڑے احسن انداز میں تحریر کیا ہے ۔ کتاب کے مصنف نے طویل عرصہ سعودی عرب میں پاکستان کےسفارتی مشن میں خدمات انجام دیں اور 1993ء میں جامعہ کراچی سے ’’مملکت سعودی عرب میں اسلامی نظام اور عالم اسلام پر اس کے اثرات‘‘ کےعنوان پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔سعودی عرب کی تاریخ اور آل سعود کے حالات وواقعات جاننے کےلیے یہ ایک منفرد کتاب ہے ۔ اللہ تعالی حکام سعودیہ کو دین حنیف کی خدمت کرنے اور اس پر قائم رہنے کی توفیق دے -
کسی قوم، معاشرے یا فرد کی کامیابی اور ناکامی کا دارومدار اس کے عقائد و نظریات پر ہوتا ہےقطع نظر اس کے وہ عقائد و نظریات صحیح ہیں یا غلط، جو قوم اپنے نظریات و افکار میں پختہ ہو وہی کامیاب ہوتی ہے۔ اگر عقائد و نظریات مستحکم اور صحیح ہوں تو دین و دنیا دونوں کی کامیابی مقدر ٹھہرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام انبیائے کرام نے سب سے پہلے لوگوں کے عقائد و نظریات کی اصلاح کی اور اسلام نے بھی عقائد پر بہت زور دیا ہے اور پختہ عقائد کے بغیر اسلام کو نفاق کے درجے میں رکھاہے۔ عصرِ حاضر کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے علمائے ربانی نے اسلام کے بنیادی عقائد و نظریات کے حوالے سے بے شمار کتابیں تحریر کی ہیں۔ زیر نظر کتاب، عالم عرب کے معروف قلم کار فضیلۃ الشیخ عبداللہ بن عبدلحمید اثری کی تالیف `الوجیز فی عقیدۃ السلف الصالح` کا اردو ترجمہ ہے۔ اس کتاب میں عقیدے کی تعریف و توضیح کے علاوہ 11 بنیادی اصول ذکر کیے گئے ہیں جن کا جاننا اہل اسلام کے لیے نہایت ضروری ہے۔ عقیدہ توحید اور ایمانیات کے مسائل کو صحابہ کرام ، تابعین اور محدثین کے فہم کی روشنی میں واضح کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب سادہ اور عام فہم ہے جو علماء، طلبہ اور عوام الناس کے لیے یکساں مفید ہے۔ -
Attainment of the Happiness is a most valuable book on the topic of Islamic Monotheism. The very accomplished author of this book was very well-known Islamic scholar and jurist of the present day. Shaykh Salaah Al-Budair has chosen the ahadeeth in this book with due care and diligence. In order to compile thses ahadeeth, he has very meticulously studied almost the entire stock of hadith literature available. Like an expert gems dealer, Shaykh Salaah has chosen only those hadith for the purpose of explaining a particular topic, which were the most relevant in terms of their meanings and context. For this purpose, on some occasions a single hadith has been taken from many different books of Hadith. -
`شکر` صفات حسنہ میں بہت اہمیت کا حامل ہے اور `توبہ` مغفرت کے وسائل میں ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ شکر اور توبہ کی یہ دونوں کیفیات کسی بندہ مومن کو میسر آجائیں تو یہ ایک خوش نصیبی اور سعادت کی بات ہے۔ ہمیں اور بہت سی تعلیمات کی طرح ان دوبنیادی اوامر کی طرف کتاب و سنت میں جابجا توجہ دلائی گئی ہے۔ محترم بشیر احمد لودھی ایک نووارد مصنف ہیں، مگر ان کے قلم میں ایسی پختگی ہے جس کا تقاضا کتاب و سنت میں موجود ہے۔ انھوں نے اس مختصر مگر جامع کتاب کے ہر باب میں صرف اور صرف کتاب و سنت ہی کے چشمہ صافی سے رجوع کیا ہے، جس کے باعث ان کی یہ کتاب ایک طالب ہدایت کے لیے نسخہ شفا ہے۔ دارالسلام کے شعبئہ تحقیق نے اس کتاب کے حوالوں کی تخریج کر کے اسے چار چاند لگا دیے ہیں۔ اب یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک سادہ اسلوب اور پختہ فکر کی نمائندگی کرتی ہے۔ عامتہ المسلمین انشا ءاللہ اس کے مطالعے کو اپنے لیے نافع اور مفید محسوس کریں گے۔ -
کسی بھی انسان کی شخصیت ہی ہے جو کسی دوسرے انسان کو اُسکے اچھے یا بُرے ہونے کا پتا دیتی ہے۔ موجودہ دور میں شخصیت کو بطور مکمل موضوع کے پڑھا اور پڑھایا جاتا ہے۔ زیرِ نظر کتاب میں شخصیت سازی کے ان تمام سنہرے اصولوں سے قاری کو روشناس کراگیا ہے جنہیں اپنا کر وہ نہ صرف اپنی شخصیت کو خوشگوار بنائیگا بلکہ اپنی زندگی میں بھی خوبصورت تبدیلی کا تجربہ کر پائیگا۔ اس کتاب کا مطالعہ تمام عمر کے مسلمانوں اور بلخصوص نوجوان مسلماموں کے لیے بے حد مفید ہے۔ -
عیسائیت ،تجزیہ ومطالعہ اپنے موضوع پر ایک بہترین کتاب ہے جس میں عیسائیت کی تعلیمات کو بڑی تفصیل کے ساتھ پیش کرتے ہوئے اسلامی تعلیمات کے ساتھ موازنہ پیش کر کے عیسائیت کو دین اسلام کی دعوت دی گئی ہے اور کتاب کا ہر صفحہ دلائل کا انبار لگائے عیسائی دنیا کو راہ ہدایت کی طرف پکار رہاہے-مصنف نے اپنی کتاب میں عیسائیت کے سارے چنیدہ مسائل کو زیر بحث لاکر ان کی حقیقت کو واضح کیا ہے-جیساکہ عقیدہ ابنیت،عقیدہ تثلیث، عقیدہ کفارہ اور اس کے ساتھ ساتھ عیسی علیہ السلام کی پیش کردہ تعلیمات کی روشنی میں مذہب عیسائیت کی اصلاح کی کو شش کی گئی ہے اور یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کہ کوئی بھی انصاف پسند عیسائی اس کے مطالعے کے بعد اپنی اصلاح کیے بغیر نہیں رک سکتا-اسی طرح سے عیسائیت کو تقویت کس طرح دی گئی اور جدید عیسائیت کا بانی کون ہے ؟اور اسی طرح سے دنیا میں رائج مختلف اناجیل وغیرہ کی تاریخ اور تحقیقی حیثیت کیا ہے؟ایسے موضوعات پر مدلل اور مصلحانہ انداز سے روشنی ڈالی گئی ہے-مکتبہ دارالسلام نے اس کتاب کی اہمیت کے پیش نظر اسے عربی،اردو اور انگریزی زبانوں میں شائع کیا ہے اور دنیا میں پائی جانے والی دیگر زبانوں میں بھی اس کتاب کو شائع کرنے کی امید ہے- -
یقیناً قیامت بہت بڑی حقیقت ہے جو ارشاد ربانی کے مطابق واقع ہو کر رہے گی۔ اس دن سب انسان دوبارہ زندہ کردیئے جائیں گے۔ پھر سب کشاں کشاں آئیں گے اور حشر کے ہجوم و ہیجان میں اپنے اپنے اعمال کا حساب دیں گے۔ زیرِ نظر کتاب اسی حقیقت عظمیٰ کی یاد دہانی اور فکر آخرت کے لیے لکھی گئی ہے اس میں قران کریم اور احادیث رسول ﷺ کی روشنی میں بتایا گیا ہے کہ قیامت کا دن کیسا ہوگا؟ اس دن کتنی زبردست وحشت، گھبراہٹ اور ہولناکی چھائی ہوئی ہوگی؟ لوگ پلِ صراط سے کس طرح گزریں گے۔ جنتی لوگ کتنے خوش و خرم ہوں گے اور کافروں ، مشرکوں اور بدکاروں کا کیا انجام ہوگا۔ اس کتاب میں قیامت کے دن رسوائی سے بچنے اور جنت میں جانے کے آسان طریقے بتائے گئے ہیں۔ ہر مسلمان بہن بھائی کو اپنی آخرت سنوارنے کے لیے اس کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔
-
سلام مسلمانوں سے صرف دو باتوں کا مطالبہ کرتا ہے۔ پہلی یہ کہ اس کے دل کا یقین ٹھیک ہو، یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو اپنا معبود، مسجود، مقصود، مشکل کشا اور حاجت روا نہ مانے۔ اور دوسری بات یہ کہ اس کی پوری زندگی حسن عمل کی آئینہ دار ہو، یعنی وہ ہر قسم کے شرک و بدعت سے بلکل پاک ہو، اور اُس کے ہر کام اور اقدام میں سنت رسول اللہ ﷺ کا نو چمک رہا ہو۔ امام ابن تیمیہ اسلام کی ان مایہ ناز ہستیوں میں سے ایک ہیں جو ہمارے دین ، ہمارے علوم، ہماری تہذیب اور ہماری تاریخ کا وقار اور اعتبار تھے۔ انہوں نے ایک طرف تاتا ریوں کے خلاف علم جہاد بلند کیا اور دوسری طرف اپنے علوم عالیہ سے مسلمانوں کی فکری صحت و سلامتی کا عظیم الشان کام انجام دیا اور طرح طرح کی فکری گمراہیوں اور بدعتوں کا سدِ باب کیا۔ امام موصوف کی معروف کتاب `اقتضاع الصراط المستقیم` ان کی انھی نادر خوبیوں کا مرقع ہے۔ یہ کتاب ایک طرف اللہ کی ذات عالی پر ایمان کو مضبوط بناتی ہے اور دوسری طرف مسلمانوں کو ہر قسم کی فکری لغزشوں اور عملی گمراہیوں سے خبردار کر کے ان پر قران و سنت کی راہ روشن کردیتی ہے۔ اس کتاب کی اسی اہمیت کے پیش نظر `دارالسلام` اسے اُردو کے قالب میں `فکر و عقیدہ کی گمراہیاں اور صراط مستقیم کے تقاضے` کے عنوان سے پیش کر رہا ہے۔ زندگی کو صحیح معنوں میں اسلام کے مطابق بنانے کے لیے اس کتاب کا مطالعہ ضروری ہے۔
-
اس کتاب ميں عقيدہ،قربانی،تصويروں،مجسموںمنتراورتعويذ،وضو،غسل،طہارت،اذان،نماز،زکوٰۃ،روزے،حج اوراس سےمتعلقہ مسائل،سود، بينکوں کےمعاملات،وصيت،ميراث،نکاح،طلاق،پردہ،اطاعت والدين،غنا،موسيقی اورمعاشرتی زندگی سےمتعلق متفرق معاملات پر270سےزائدسوالوں کےجوابات قرآن وحديث کی ميں مفتی اعظم سعودی عرب ديئےہيں۔اُردوزبان ميں اپنی نوعيت کی پہلی اورمنفرکتاب ہےجس ميں روزمرہ زندگی ميں پيش آنےوالےبہت سےسوالات کاجواب موجودہے۔ -
تمام انبیاء کرام ایک ہی پیغام اورایک ہی دعوت لےکر آئےکہ لوگو! صرف اللہ کی عبادت کرو او راس کےسوا تمام معبودوں سےبچو۔تمام انبیاء کرام سالہاسال تک مسلسل اس فریضہ کو سرانجام دیتے رہے انھوں نے اس پیغام کو پہنچانےکےلیے اس قدر تکالیف برداشت کیں کہ جسکا کوئی انسان تصور بھی نہیں کرسکتاہے ۔ حضرت نوح نے ساڑے نوسوسال کلمۂ توحید کی طرف لوگوں کودعوت دی ۔ اور اللہ کے آخری رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نےبھی عقید ۂ توحید کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس فریضہ کو سر انجام دیا کہ جس کے بدلے آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علمائے اسلام نےبھی دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ کتاب التوحید مترجم ‘‘ امام محمد بن سلیمان التمیمی کی عقیدہ توحید پر تصنیف شدہ کتاب التوحید کااردو ترجمہ ہےاردو ترجمہ کی سعاد ابو عبداللہ محمد سورتی نے حاصل کی ۔کتاب وسنت سائٹ پرشیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب کی عقیدہ توحید پر مشہور کتاب کتاب التوحیداور اس موضوع پر دیگر کئی کتب موجود ہیں لیکن کتاب ہذا موجود نہ تھی لہذا فادۂ عام او راسے محفوظ کرنے کی خاطر اسے بھی سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے۔
-
دین وشریعت کی دعوت اور تفہیم کے لیے بلا مبالغہ لا کھوں کتابیں لکھی گئیں جن سے ہزاروں کتب خانے تیار ہوئے مگر قرآن مجید اور احادیث کے متون کے بعد جو قبولیت کتاب التوحید کو ملی ہے،وہ ایک مسلمہ تاریخی حقیقت بن چکی ہے یہ کتاب بارہویں صدی ہجری کے مجدد کامل امام الدعوۃ محمد بن عبدالوھاب رحمۃاللہ علیہ کے قلم کا شاہکار ہے –ان کی متعدد کتب ورسائل میں یہ ایک گل سرسبد کی حیثیت رکھتی ہے-اس کے مطالعہ سے حقیقت توحید واضح ہوتی ہے عمل کی راہیں کشادہ ہوتی ہیں اور شرک وبدعات کے جھاڑجھنکار ۔۔۔۔ توحید کیا ہے اور اس کے مطالبات کیا ہیں؟اس کتاب کا مطالعہ دینی زندگی کے اس سب سے بڑے اور سنجیدہ سوال کا جواب فراہم کرتا ہے-اس کے مطالعہ سے اس موضوع سے متعلق جملہ اشکالات کا ازالہ ہو جاتا ہے دارالسلام نے اپنے منہج تحقیق کے مطابق بہت سے متون سے ایک مستند متن تیار کرایا، اس کے حوالوں کی تخریج کی اور اردو زبان کے شستہ پرائے اور شگفتہ اسلوب میں اسے قلم بند کیا-اس کتاب اور موضوع کا یہ حق ہے کہ اِسے خود پڑھا جائے اور دوسروں کو مطالعے کے لیے پیش کیا جائے