یہ سیرت انسائیکلو پیڈیا اس میں آپ عرب بلخصوس مکہ و مدینہ کی مستند تاریخ اور جغرافیہ ملاحظہ کریں گے، اہل عرب کی بود و باش اور ثقافت و تہذیب سے آشنا ہوں گے۔ عاد، ثمود، جرہم، طسم و جدیس جیسی مبغوض قوموں کی تباہی میں ہمارے لیے کیسے کیسے اسباق اور عبرتیں موجود ہیں؟ ان کا کامل مشاہدہ پائیں گے۔ ۔۔۔۔ اسی طرح آپ پر یہ حقیقت روشن ہوگی کے سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ نے کفر، شرک، اصنام اور اوہام کے کس قدر تاریک ظلمت زار میں کتنی دانائی اور دلیری سے اسلام کی فطری اور عالم گیر صداقت پیش کی۔
-
In this book, the events of the Prophet`s life, from the day he (Peace and Blessings of Allah be upon him) was born and even before that day for background information-until the day he (Peace and Blessings of Allah be upon him) died, have been recorded. Beyond enumerating the events of the Prophet`s life, lessons and morals from those events have been drawn to point out the significance of an event and the wisdom behind the Prophet`s actions or deeds, the Islamic ruling that is derived from a particular incident, and the impact that a given event should have on our character or choice of deeds is indicated. -
آج کے اس پُر فتن دور میں جبکہ نوجوان نسل بتدریج اسلام سے دور ہو رہی ہے، اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو اپنے اسلاف کی سیرت پڑھائیں، نوجوان نسل کو بتائیں کہ ان کے اخلاق و کردار کیسے تھے اور انھوں نے اسلام کے لیے کتنی قربانیاں پیش کیں۔ `رجالِ قران` کے فاضل مؤلف ڈاکٹر عبدالرحمٰن عمیرہ کا اسلوب بیان بڑا عمدہ ہے۔ انھوں نے بلکل کہانی کے انداز مین ان صحابہ کرام کی سیرت اس کتاب میں بیان کی ہے جن کے بارے میں قران کریم میں آیات نازل ہوئی ہیں۔ انھوں نے اس کتاب میں صحابہ کرام ہی نہیں بلکہ ان کفار اور منافقین کے بارے میں بھی پوری تفصیل کے ساتھ لکھا ہے جن کے بارے میں قران نازل ہوا، کتاب میں موجود واقعات تاریخ کی مستند کتابوں سے نقل کیے گئے ہیں۔ ان واقعات اور صحابہ کرام کی مبارک زندگیوں میں ہمارے لیے دروس موجود ہیں۔
-
یہ کتاب حضرت محمد ﷺ کی سیرت مبارکہ کے ساتھ ساتھ اُن جگاؤن کا بھی احاطہ کرتی ہے جہاں آپ ﷺ نے اپنے قدم مبارک رکھے، جہاں آپ ﷺ نے جنگیں لڑیں اور جہاں آپ ﷺ نے احکامات جاری فرمائے۔ اس کتاب کے مطالعے سے قاری میں محبت رسول ﷺ کی سچی لگن پیدا ہوگی۔ This book rounds up a series of atlases, written and compiled by the author in the same pattern. It reviews the biography of the Prophet (PBUH) and tracks the places he honored by his visits, the battles he fought, and the expeditions and envoys he directed. The Book presents all the required maps, illustrations, drawings and pictures. B Briefings and Excerpts have been added to the pictures and drawings for better understanding, benefit, and satisfaction of the readers. -
This is the fourth book in studying the reign of the Rightly Guided Caliphs. It relates the life of the Leader of the Believers, `Ali, may Allah be pleased with him, from birth until his martyrdom. The book relates with detail how he came to Islam and his most important actions in Makkah, his migration to Madinah, his life in Madinah, his campaigns and battles alongside the Messenger of Allah, his life during the era of Rightly Guided Caliphs and his swearing of allegiance and his period of Caliphate. It also discusses the internal problems that `Ali faced during his reign. It goes on to mention the events that led to the Battle of the Camel, and how all the parties involved are free from any fault. Afterwards, the events of the Battle of Siffeen are mentioned, along with the relationship between `Ali and Mu`aawiyah. The book sheds light on the fallacies that are held by some deviant groups about these events and their distortion of historical truths. -
پیغمبر آخرالزماں جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ورسالت تو قیامت تک کے تمام انسانوں کے لیے ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جزیرۃ العرب میں پیدا ہوئے۔مکہ مکرمہ میں پرورش پائی اور 53برس تک یہیں رہے بعد ازاں مدینہ منورہ کی جانب ہجرت فرمائی اور عمر عزیز کے 10 سال یہاں بسر کیے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عرصے میں سفر بھیکیے،صفر میں بھی رہے،حالت امن میں بھی دن گزارے اور حالت جنگ میں بھی شب وروز بسر ہوئے۔اس تمام شرگزشت اور ریکارڈ کو سیرت نبوی علی صاحبہا الصلوۃ والسلام کا نام دیا جاتا ہے۔مختلف زبانوں میں سیرت نبوی پر بے شمار کتابیں موجود ہیں جو قارئین کے مطالعے میں رہتی ہیں تاہم ان میں ایک تشنگی کا احساس رہتا ہے کہ مقامات واماکن کا نقشہ کتابوں میں نہیں ہوتا جس سے جگہوں کا صحیح تعارف نہیں ہو پاتا۔اس کو مد نظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر شوقی ابو خلیل نے زیر نظر اٹلس مرتب کی ہے جس میں سیرت کی وضاحت نقشوں سے کی گئی ہے ۔ان نقشوں میں تمام متعلقہ مقامات ،شہروں اور ان اطراف واکناف کی تفصیل سے جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تشریف فرمانی سے رونق بخشی یا جن کی طرف آپ نے قصدفرمایا۔اصل کتاب عربی میں تھی،جسے معروف اشاعتی ادارے دارالسلام نے اردو قالب میں ڈھال کر اردو دان طبقے کے لیے بھی اس سے استفادہ کو آسان کر دیا ہے۔امید قارئین کے لیے یہ کتاب دلچسپ معلومات کا ذریعہ ہو گی -
This book describes, among other things, the principles upon which `Umar ibn al-Khattaab (Radi Allah Anh) governed the Muslims during his caliphate; among those principles were mutual consultation, justice, equality among people, and honoring of freedoms. With the turn of every page, the reader will come to appreciate the fact that `Omar (R) was exceptional in his Faith, distinguished in his knowledge, profoundly wise in his thinking, remarkable in his eloquence, noble in his manners and great in the contributions he made to this Nation. We are living in tumultuous times, but they are no less tumultuous than the era of Khalifah `Omar Ibn al-Khatab (Umer/Omer bin Alkhataab), whose life began in Jahiliyah and ended in the Golden Age of Islam. We can learn much from the history of this second caliph of Islam, who was faced with unprecedented challenges but met them successfully within the framework of shari`ah and in accordance with the true spirit of Islam. For those who would be leaders, this book offers the model of an ideal Muslim leader, one who felt responsible before Allah for the well-being of all those under his rile, including his troops, women, infants, non-Muslims, and even animals. Caliph Omar was a `hands-on` leader who kept himself informed and consulted scholars and experts before every major decision. For the rest of us, this book offers a window into an exciting and important period of Islamic history, and it also reminds of an important lesson, that our strength comes not from wealth or money or status, but from our submission to Allah and our commitment to the path of Islam. -
اللہ تبارک وتعالیٰ نے مسلمانوں کو ایک بڑی دولت اور نعمت سے نوازا ہے، جو پورے دین کو جامع اور اس کی تبلیغ کا بہترین ذریعہ ہے۔ وہ نعمت اور دولت اخلاق ہے، ہمارے نبی حضرت محمد رسول اللہﷺ اخلاق کے اعلیٰ معیار پر تھے، چنانچہ آپﷺ کی راز دار زندگی اور آپﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں، ”آپﷺ کے اخلاق کا نمونہ قرآن کریم ہے۔ آپﷺ نے اپنے ہر قول وفعل سے ثابت کیا کہ آپﷺ دنیا میں اخلاقِ حسنہ کی تکمیل کے لیے تشریف لائے، چنانچہ ارشاد ہے: ”بعثت لاتتم مکارم الاخلاق“ یعنی ”میں (رسول اللہ ﷺ) اخلاق حسنہ کی تکمیل کے واسطے بھیجا گیا ہوں“۔ پس جس نے جس قدر آپﷺ کی تعلیمات سے فائدہ اٹھاکر اپنے اخلاق کو بہتر بنایا اسی قدر آپﷺ کے دربار میں اس کو بلند مرتبہ ملا، صحیح بخاری کتاب الادب میں ہے، ”ان خیارکم احسن منکم اخلاقا“ یعنی ”تم میں سب سے اچھا وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔ حضورﷺ کی ساری زندگی اخلاقِ حسنہ سے عبارت تھی، قرآن کریم نے خود گواہی دی ”انک لعلی خلق عظیم“ یعنی بلاشبہ آپﷺ اخلاق کے بڑے مرتبہ پر فائز ہیں۔ آپ ﷺ لوگوں کوبھی ہمیشہ اچھے اخلاق کی تلقین کرتے آپ کے اس اندازِ تربیت کےبارے میں حضرت انس کہتے ہیں۔ رایتہ یامر بمکارم الاخلاق(صحیح مسلم :6362) میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ لوگوں کو عمدہ اخلاق کی تعلیم دیتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتا ب ’’اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات‘‘ اشاعت کتب کے معروف انٹر نیشنل ادارے دار السلام کے ڈائریکٹر جناب مولانا عبد المالک مجاہد﷾ کی ایک منفر د کاوش ہے۔ موصوف نے مختلف کتب سیرت و تاریخ سے استفادہ کر کے ان واقعات کو ایک جگہ یکجا کردیا ہے۔ ان واقعات سے ہمیں آپﷺ کے اعلیٰ اخلاق کے بارے میں راہنمائی ملتی ہے۔ فاضل مصنف نے اس کتاب میں اخلاق نبویﷺ کے ایک سو سنہرے واقعات کو جمع کیا ہے اور پوری کوشش سے صرف ان واقعات کو شامل کیا ہے جو صحیح ہیں اور ان کاتذکرہ مستند کتابوں میں ہے۔ درالسلام لاہور برانچ کی ریسرچ ٹیم کی اس کتاب پر تحقیق وتخریج سے کتاب کی اہمیت وافادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے -
صحابئہ کرامؓ کی زندگی اوران کی سوانح ميں ہمارےليےروشن مثاليں ہيں۔وہ چمکتےدمکتےستارےہيں جنہوں نےبراہ راست اللہ کےرسولﷺکےرخ انوارکی زيارت کاثرف حاصل کيا۔اںہوں ںےاللہ کےرسولﷺکی مجالست وصحبت کےمزےاٹھاۓ اور براہ راست آپ سےفيوض وبرکات حاصل کيں۔ان کا تزکيہ نفس کا ئنات کےامامﷺنے بنفس نفيس فرمايا۔ان کی زندگی ہمارےليےمشعل راہ ہے۔ہرصحابي کی زندگی بہت خوبصورباعث اقتداءاورروشن مثال ہے۔ان تاريخ سازمقدس شخصيات کی علمی اخلاقی،فقہی اورعسکری بصيرت سےآگہی کانورحاصل کرنےکےليےيہ انسائیکلوپیڈیا دارالسلام کےقارئین خدمت ميں پيش کياجارہاہے۔ہماری خواہش ہےکہ اس نورکوزندگی کی گزرگاہوں کےان تاريک گوشوں تک پھيلادياجاۓجہاں اجالےکی اشدضرورت ہے۔ -
Sale!
نبی کریم ﷺ کے بعد امتِ مسلمہ کے سب سےبڑے قائد اور اسلامی معاشرے کا سب سے عظیم نمونہ اور نمائند ہ شخصیت ابو بکر صدیق ؒ ہی تھے۔ خلافتِ راشدہ کی ابتدائی فتوحات، کامیابیاں اور خوبیاں عہد صدیقی ہی کی رہینِ منت تھیں۔ سیدنا ابو بکر صدیق ؒ ایمان و یقین، اطاعت و غلامی، محبت و وارفتگی اور ہمت و حوصلہ جیسے بے مثل خوبیوں سے مالا مال تھے۔ آیئے، ہم بھی اُنکی سیرت کی مطالعہ کر کے اپنے اعمال کو نکھارنے کا سامان کریں۔ The life of Abu Bakr As Siddique (May Allah be pleased with him) offers a blueprint to successful life to those Muslims as well as non-muslims who are searching for the truth. This book provides detailed and insightful glimpses into the extraordinary life of the first Caliph of the Muslims Abu Bakr As-Siddeeq (May Allah be pleased with him) and his massive contribution to all of humanity. He was a truly a man for all ages. This compilation has specifically been made for the Muslim Youth, who need to learn about the sacred personalities and their success stories. Indeed, this is the best way to teach core values of an ideal Islamic life and help youth understand their religion. -
Sale!
عالم اسلام کے معروف اور مایہ ناز سیرت نگار دکتور علی محمد محمد الصلابی نے زیرِ نظر کتاب میں حضرت عمر فاروق ؒ کی سیرت کو نہایت ہی خوب سیرت پیرائے میں بیان کیا ہے اور ساتھ ہی اُس سنہرے دور کا نقشہ بھی کھینچہ ہے جس میں حضرت عمر نے اسلام کی بہترین خدمت کی۔ We are living in tumultuous times, but they are no less tumultuous than the era of Caliph `Omar Ibn al-Khattab (May Allah be pleased with him), whose life began in Jahiliyah and ended in the Golden Age of Islam. We can learn much from the history of this second caliph of Islam, who was faced with unprecedented challenges but met them successfully within the framework of shari`a and in accordance with the true spirit of Islam. For those who would be leaders, this book offers the model of an ideal Muslim leader, one who felt responsible before Allah for the well-being of all those under his rile, including his troops, women, infants, non-Muslims, and even animals. Caliph Omar was a `hands-on` leader who kept himself informed and consulted scholars and experts before every major decision. For the rest of us, this book offers a window into an exciting and important period of Islamic history, and it also reminds of an important lesson, that our strength comes not from wealth or money or status, but from our submission to Allah and our commitment to the path of Islam.
-
Sale!
This complete set of books is dedicated to the lives of the rightly guided caliphs. Each book is dedicated to the life, work, and teachings about one of the four caliphs. They are short, precise, to-the-point yet comprehensive in providing the authentic information and imparting the beautiful characters and personality of each caliph to the reader in a way that he/she will benefit a lot in his/her practical life. It is a beautiful gift to give anyone and also a must read for every one of us. حضرت محمد ﷺ کے تربیت یافتہ تمام صحابہ خصوصاً خلفائے راشدین ہمارے لیے ایک چمکتے ستارے کی مانند ہیں کہ اُنہوں مسلمانوں کے سنہرے دور کی بنیادیں ڈالیں اور یوں کڑوڑوں لوگوں تک اسلام کا پیغام پھیلایا۔ اسی لیے دارالسلام نے اللہ کے رسول ﷺ کے تمام صحابہ اور خصوصاً خلفائے راشدین کی سیرت عوام الناس تک پہنچانے کے لیے تگ و دو کی اور اُنکی زندگیوں پر مستند کتابیں شائع کیں۔ خلفائے راشدین کی سنہری زندگیوں پر مبنی کتابوں کا ایک بہترین مجموعہ سیرتِ خلفائے راشدین کے سیٹ کی صورت میں خصوصی قیمت پر آپکی خد مت میں پیش ہے تاکہ آپ با آسانی خلفائے راشدین کی تابندہ اور روشن زندگیوں سے اپنے ایمان کو روشن کریں اور اپنے عزیز و اقارب کو بھی تحفہ میں پیش کریں۔ -
Sale!
The Question & Answer form is the most effective and an objective method of teaching. For those who want to acquire the basic information of Islam or wish to check their knowledge about the religion without the labor of formal learning and any research, this series of Questions and Answers about the various aspects of Islam will prove much helpful. The Questions and Answers have been prepared on such basis that all irrespective of age and sex, should get benefited. It is hoped that readers would enjoy reading this collection and getting refreshed about this information presented to them. -
From the day he embraced Islam until the day he died, Abu Bakr As-Siddique (May Allah be pleased with him) was the ideal Muslim, surpassing all other Companions in every sphere of life. During the Prophet`s lifetime, Abu Bakr was an exemplary soldier on the battlefield; upon the Prophet`s death, Abu Bakr (May Allah be pleased with him) remained steadfast and, through the help of Allah, held this nation together. When others suggested keeping Usaamah`s army back, Abu Bakr insisted - and correctly so - that the army should continue the mission which the Prophet (Peace and Blessings of Allah be upon him) had in mind. When people refused to pay Zakaat, and when the apostates threatened the stability of the Muslim nation, Abu Bakr (May Allah be pleased with him) was the one who remained firm and took decisive action against them. These are just some of the examples of Abu Bakr`s many wonderful achievements throughout his life. I have endeavored to describe all of the above in a clear and organized manner. But more so than anything else, I have tried to show how Abu Bakr`s methodology as a Muslim and as a ruler helped establish the foundations of a strong, stable, and prosperous country - one that began in Al-Madeenah, extended throughout the Arabian Peninsula, and then reached far-off lands outside of Arabia. Throughout the brief period of his caliphate (about 2 years), Abu Bakr As-Siddiq (May Allah be pleased with him) faced both internal and external challenges; the former mainly involved quelling the apostate factions of Arabia and establishing justice and peace among the citizens of the Muslim nation; and the latter mainly involved expanding the borders of the Muslim nation by spreading the message of Islam to foreign nations and conquering those nations that stood in the way of the propagation of Islam. During the era of his caliphate, Khalifah Abu Bakr As Siddeeq (May Allah be pleased with him) sent out armies that achieved important conquests; for example, under the command of Khaalid ibn Al-Waleed (May Allah be pleased with him) the Muslim army gained an important victory in Iraq. And the Muslim army achieved other important victories under the commands of Al-Muthannah ibn Haarithah (May Allah be pleased with him) and Al-Qa`qaa ibn `Amr (May Allah be pleased with him). In short, the victories achieved during the era of Abu Bakr`s Caliphate paved the way for victories that later took place after Abu Bakr`s death. I have tried to analyze the above-mentioned conquests and to break down the reasons why they were such monumental successes. I particularly pointed out Abu Bakr`s contributions to those conquests: His military strategy, the leaders he chose, the letters through which he communicated with them, and so on. -
نبی کریم ﷺ کے بعد امتِ مسلمہ کے سب سےبڑے قائد اور اسلامی معاشرے کا سب سے عظیم نمونہ اور نمائند ہ شخصیت ابو بکر صدیق ؒ ہی تھے۔ خلافتِ راشدہ کی ابتدائی فتوحات، کامیابیاں اور خوبیاں عہد صدیقی ہی کی رہینِ منت تھیں۔ سیدنا ابو بکر صدیق ؒ ایمان و یقین، اطاعت و غلامی، محبت و وارفتگی اور ہمت و حوصلہ جیسے بے مثل خوبیوں سے مالا مال تھے۔ آیئے، ہم بھی اُنکی سیرت کی مطالعہ کر کے اپنے اعمال کو نکھارنے کا سامان کریں۔ This book relates the life of the Leader of the Believers, `Ali, may Allah be pleased with him, from birth until his martyrdom. The book relates also with detail how he came to Islam and his most important actions in Makkah, his migration to Madinah, his life in Madinah, his campaigns and battles alongside the Messenger of Allah, his life during the era of Rightly Guided Caliphs and his swearing of allegiance and his period of Caliphate. It also discusses the internal problems that `Ali faced during his reign. It goes on to mention the events that led to the Battle of the Camel, and how all the parties involved are free from any fault. Afterwards, the events of the Battle of Siffeen are mentioned, along with the relationship between `Ali and Mu`aawiyah. The book sheds light on the fallacies that are held by some deviant groups about these events and their distortion of historical truths. -
New Revised Edition with full color pictures and Lessons & Morals at end of each section. The biography of the Prophet is a very noble and exalted subject by which Muslims learn about the rise of Islam, and how the Prophet Muhammad (S) was chosen by Allah to receive the divine revelation. You also learn about the hardships the Prophet and his Companions faced, and how they eventually succeeded with Allah`s help. So, it is necessary to study the Prophet`s life and follow it in all manners. We hope this study will help you to get the better understanding of the religion. In this sense, this is one of the best books which are meant to be read and read again. -
۔ سیدنا عثمان غنی صرف کاتب وحی ہی نہیں تھے بلکہ قرآن مجید آپ کے سینے میں محفوظ تھا۔ آیات قرآنی کے شان نزول سے خوب واقف تھے ۔ بطور تاجر دیانت و امانت آپ کا طرۂ امتیاز تھا۔ نرم خو تھے اور فکر آخرت ہر دم پیش نظر رکھتے تھے ۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے عثمان کی حیا سے فرشتے بھی شرماتے ہیں ، تبلیغ و اشاعت اسلام کے ليے فراخ دلی سے دولت صرف فرماتے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ اے عثمان اللہ تعالٰی تجھے خلافت کی قمیص پہنائیں گے ، جب منافق اسے اتارنے کی کوشش کریں تو اسے مت اتارنا یہاں تک کہ تم مجھے آملو۔ چنانچہ جس روز آپ کا محاصرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھ سے حضور نے عہد لیا تھا ( کہ منافق خلافت کی قمیص اتارنے کی کوشش کریں گے تم نہ اتارنا ) اس ليے میں اس پر قائم ہوں اور صبر کر رہا ہوں ۔ 35ھ میں ذی قعدہ کے پہلے عشرہ میں باغیوں نے سیدنا عثمان ذوالنورین کے گھر کا محاصرہ کیا اور آپ نے صبر اوراستقامت کا دامن نہیں چھوڑا، محاصرہ کے دوران آپ کا کھانا اور پانی بند کردیاگیا تقریبا چالیس روز بھوکے پیاسے82سالہ مظلوم مدینہ سیدنا عثمان کو جمعة المبارک 18ذو الحجہ کو انتہائی بے دردی کے ساتھ روزہ کی حالت میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوے شہید کردیا گیا۔سیدنا عمر فاروق کے بعد امت کی زمامِ اقتدار سنبھالی اور خلیفۂ ثالث مقرر ہوئے ۔ ان کا دورِ حکومت تاریخ اسلام کا ایک تابناک اور روشن باب ہے ۔ ان کے عہد زریں میں عظیم الشان فتوحات کی بدولت اسلامی سلطنت کی حدود اطراف ِ عالم تک پھیل گئیں اور انہوں نے اس دور کی بڑی بڑی حکومتیں روم ، فارس ، مصر کےبیشتر علاقوں میں پرچم اسلام بلند کرتے ہوئے عہد فاروقی کی عظمت وہیبت اور رعب ودبدبے کو برقرار رکھا اور باطل نظاموں کو ختم کر کے ایک مضبوط مستحکم اورعظیم الشان اسلامی مملکت کواستوار کیا ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سیرت عثمان ذوالنورین ‘‘عرب کےمایہ ناز مؤلف ومحقق دکتور علی محمد محمد صلابی کی خلیفۂ ثالث ، داماد رسول ، جامع قرآن ، پیکر حیا، سیدنا عثمان بن عفان کی سیرت پر مستند تصنیف ہے۔دکتور صلابی نے اس کتاب میں عہد عثمانی کےتمام واقعات کومستند حوالوں سے بیان کیا ہے اور ان کےہر پہلو کانہایت احتیاط سےجائزہ لیا ہے۔اس کتاب کی ایک منفرد خصوصیت یہ ہےکہ اس میں عہد عثمانی کی نہایت اہم معلومات اجاگر کرنے والے 19 نادر نقشے شامل ہیں ۔اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم اور ناشرین کی اس عمدہ کاوش کو قبول فرمائے اور یہ کتا ب مسلمانوں میں سیدنا عثمان جیسی صفات جلیلہ پیدا کرنے کاباعث بنے -
ساری امت اس بات پر متفق ہے کہ کائنات کی افضل اور بزرگ ترین ہستیاں انبیاء ہیں ۔جن کا مقام عام انسانوں سے بلند ہے ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے دین کی تبلیغ کے لیے منتخب فرمایا لوگوں کی ہدایت ورہنمائی کےلیے انہیں مختلف علاقوں اورقوموں کی طرف مبعوث فرمایا۔اور انہوں نے بھی تبلیغ دین اوراشاعتِ توحید کےلیے اپنی زندگیاں وقف کردیں۔ اشاعت ِ حق کے لیے شب رروز انتھک محنت و کوشش کی اور عظیم قربانیاں پیش کر کے پرچمِ اسلام بلند کیا ۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جابجا ان پاکیزہ نفوس کا واقعاتی انداز میں ذکر فرمایا ہے ۔ جس کا مقصد محمد ﷺ کو سابقہ انبیاء واقوام کے حالات سے باخبر کرنا، آپ کو تسلی دینا اور لوگوں کو عبرت ونصیحت پکڑنے کی دعوت دینا ہے بہت سی احادیث میں بھی انبیاء ﷺ کےقصص وواقعات بیان کیے گئے ہیں۔انبیاء کے واقعات وقصص پر مشتمل مستقل کتب بھی موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ قصص الانبیاء ‘‘ میں انبیاء کرام کےحالات کے لیے سب سے قرآنی آیات کو سامنے رکھا ہے اور۔ہر پیغمبر کےاحوال واقعات سے عبرت وموعظت کے جو پہلو نکلتے ہیں انہیں بطور خاص جگہ دی گئی ہے -
امام بخاری ۱۳شوال ۱۹۴ھ، بروز جمعہ بخارا میں پیدا ہوئے۔ دس سال کی عمر ہوئی تو مکتب کا رخ کیا۔ بخارا کے کبار محدثین سے استفادہ کیا۔ جن میں امام محمد بن سلام بیکندی، امام عبداللہ بن محمد بن عبداللہ المسندی، امام محمد بن یوسف بیکندی زیادہ معروف ہیں۔ اسی دوران انہوں نے امام عبداللہ بن مبارک امام وکیع بن جراح کی کتابوں کو ازبر کیا اور فقہ اہل الرائے پر پوری دسترس حاصل کر لی۔ طلبِ حدیث کی خاطر حجاز، بصرہ،بغداد شام، مصر، خراسان، مرو بلخ،ہرات،نیشا پور کا سفر کیا ۔ ان کے حفظ و ضبط اور معرفت حدیث کا چرچا ہونے لگا۔ امام بخاری کے استاتذہ کرام بھی امام بخاری سے کسب فیض کرتے تھے ۔ آپ کے استاتذہ اور شیوخ کی تعداد کم وبیش ایک ہزار ہے۔ جن میں خیرون القرون کےاساطین علم کےاسمائے گرامی بھی آتے ہیں۔اور آپ کےتلامذہ کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ امام بخاری سے صحیح بخاری سماعت کرنےوالوں کی تعداد 90ہزار کےلگ بھگ تھی ۔امام بخاری کے علمی کارناموں میں سب سے بڑا کارنامہ صحیح بخاری کی تالیف ہے جس کے بارے میں علمائے اسلام کا متفقہ فیصلہ ہے کہ قرآن کریم کے بعد کتب ِحدیث میں صحیح ترین کتاب صحیح بخاری ہے ۔ فن ِحدیث میں اس کتاب کی نظیر نہیں پائی جاتی آپ نے سولہ سال کے طویل عرصہ میں 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔امام بخاری کی سیر ت پر متعدد اہل علم نے کتب تصنیف کی ہیں لیکن سب سے عمدہ کتاب مولانا عبد السلام مبارکپوری کی تصنیف ’’سیرۃ البخاری ‘‘ ہے جو کہ کتاب وسنت ویب سائٹ پر موجود ہے۔ اس کتاب کا عربی ترجمہ ڈاکٹر عبد العلیم بستوی کےقلم سے جامعہ سلفیہ بنارس سے شائع ہوچکا ہے۔ زیر نظرکتاب ’’سیرت امام بخاری‘‘ کو تالیف کرنے کی سعادت شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمٰن چیمہ﷾نے حاصل کی بعد ازاں دارالسلام ،لاہور کے شعبہ تحقیق وتصنیف کےسکالرزنے بھی اس میں بیش قیمت اضافے کیے ہیں۔ شیخ الحدیث مولاناحافظ عبدالعزیز علوی نے ترمیم واضافہ کے ساتھ ساتھ اس کی نظرثانی کی ہے اور اسی طرح محقق دوراں مولاناارشاد الحق اثری نےاس میں کچھ حک و اضافہ کےساتھ اس پر ایک جاندار مقدمہ تحریرکیا ہے جس سے اس کتاب اہمیت وافادیت دو چند ہوگئی ہے۔ اس کتاب میں امام بخاری کےاساتذہ کی سیرت، اساتذہ کرام، ان کے طبقات، وسعت علمی ، عقائد ونظریات، صحیح بخاری میں احادیث کو نقل وجمع کرنے کی شرائط، دیگر تصانیف اور ان کےاسلوب اور متعلقات وشروح صحیح بخاری کےساتھ ساتھ امام بخاری کی فقیہانہ بصیرت، محدثانہ صلاحیت ،امام موصوف کے معاصرین اور تلامذہ وغیرہ کا تذکرہ بڑے یگانہ اور جدید اسلوب میں پیش کیا گیا ہے۔ -
The biography of the Prophet Muhammad (Peace and Blessings of Allah be upon him) is a very noble and exalted subject by which Muslims learn about the rise of Islam, and how the Prophet Muhammad (Peace and Blessings of Allah be upon him) was chosen by Allah (SWT) to receive the divine revelation. You also learn about the hardships the Prophet (Peace and Blessings of Allah be upon him) and his Companions faced, and how they eventually succeeded with Allah`s help. So, it is necessary to study the Prophet`s life and follow it in all manners. We hope this study will help you to get the better understanding of the religion. In this sense, this is one of the best books which are meant to be read and read again. -
سیدنا فاروق اعظمؒ کی زندگی اسلامی تاریخ کا وہ روشن باب ہے جس نے ہر تاریخ کو پیچھے چھوڑ دیا۔ آپ نے حکومت کے انتظام و انصرام، بے مثال عدل و انصاف، عمال حکومت کی سخت نگرانی، رعایا کے حقوق کی پاسداری، اخلاص نیت و عمل، جہاد فی سبیل اللہ اور دعوت کے میدانوں میں ایسے ایسے کارہائے نمایاں انجام دئیے کہ انسانی تاریخ ان کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ سیدنا عمر فاروق کے بعد آنے والے حکمرانوں میں سے جس نے بھی کامیاب حکمران بننے کی خواہش کی، اسے فاروق اعظم کے قائم کردہ ان زریں اصولوں کو مشعل اہ بنانا پڑا، جنھوں نے اس عہد کے مسلمانوں کی تقدیر بدل کر رکھ دی۔ مولانا عبدالمالک مجاہد نے اپنے مخصوص انداز میں صحابہ کرام کی زندگی کے چنیدہ واقعات کو قلمبند کرنے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے زیر نظر کتاب اسی سلسلہ کی ایک اہم کڑی ہے۔ جس میں فاروق اعظم کی زندگی کے سنہری واقعات احاطہ تحریر میں لائے گئے ہیں۔ -
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے افضل ہیں ۔اور آپ کی تمام زندگی اسلام کی سربلندی کے لیے وقف تھی۔آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معتمد ترین رفیق اور اسلام کے عظیم داعی اور مبلغ تھے۔جنہوں نے اسلامی کرنوں کی ضیاع پاشیوں کے ساتھ ہی اسلام قبول کیا اور مردوں میں سے سب سے پہلے انہیں ہی اسلام قبول کرنے کا شرف حاصل ہوا۔اور تادم مرگ آپ کی اسلام سے شدید وابستگی رہی ۔حتی کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں یہ بات معروف تھی کہ امت کے افضل بزرگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔اور ان کی اسلامی خدمات کا اعتراف خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کیا۔ایسی عظیم شخصیت کی سیرت نگاری امتیوں کے لیے رشد وہدایت کا باعث ہے۔ان کی سیرت وکردار سے واقفیت حاصل کرنا اور ان جیسی خدمات انجام دینے کی کوشش کرنا ہر مسلمان کا حق ہے۔ان کی سیرت نگاری پر کئی کتب دستیاب ہیں اور اس کو مزید متعارف کروانے کے لیے مولانا عبدالمالک مجاہد ڈائریکٹر دارالسلام نے اپنا حصہ ڈال کر ایمانی محبت اور صحابہ کرام سے دلی وابستگی کا ثبوت دیا ہے۔کتاب طباعت کے تمام محاسن سے مزین ہے البتہ واقعات کی مکمل تحقیق میں تشنگی باقی ہے۔اس کتاب کا مطالعہ نہایت معلومات افزا اور ایمان میں اضافے کا باعث ہے۔
-
In this book, `Qasas-ul-Anbiya` the stories of the prophets have been compiled from `Al-Bidayah wan-Nihayah` (The Beginning and the End) which is a great work of the famous Muslim exegete and historian Ibn Kathir and has a prominent place in the Islamic literature. The stories of the prophets and all the events in their lives have been supported by the Qur`anic Verses and the Sunnah (traditions) of the Prophet (S). Wherever it was necessary, other sources have also been reported for the sake of historical accounts, but on such places a comparative study has been made to prove the authenticity of the sources. Ibn Kathir has reproduced the views and interpretations of all the great exegetes of the Qur`an of his time. The systemic narratives of the Stories of the Prophets have been written in chronological order which renders a historical style to the book. -
سيرت دينی موضوعات ميں سے ايک اہم تر موضوع ہے جس ميں اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم کي ذاتی اور شرعی زندگی کامطالعہ کيا جاتا ہے۔ايک مسلمان ہونے کے ناطے ہماری يہ بنيادی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہميں اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم کي ذات، حالات، شمائل اور سيرت سے واقفيت ہونی چاہيے۔ ہر دور ميں اہل علم نے سيرت پر کتابيں لکھی ہيں۔امام محمد بن اسحاق (متوفی152ھ) کی کتاب سيرت ابن اسحاق اس موضوع پر پہلی جامع ترين کتاب شمار ہوتی ہے اگرچہ امام محمد بن اسحاق سے پہلے صحابہ وتابعين ميں سے 40 افراد کے نام ملتے ہيں جنہوں نے سيرت کے متفرق ومتنوع پہلوؤں پر جزوی بحثيں کي ہيں۔اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم کي سيرت پر مختلف اعتبارات سے کام ہوا ہے جن ميں ايک اہم پہلو سيرت کا فقہی اور حکيمانہ پہلو بھی ہے يعنی فقہی اعتبار سے سيرت کو مرتب کرنا اور اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم کے اعمال و افعال کی حکمتيں بيان کرنا۔ امام ابن القيم (متوفی 751ھ)کی کتاب ’زاد المعاد‘ سيرت کے انہی دو پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے مرتب کي گئی ہے۔بعض اہل علم نے ’زاد المعاد‘ کو فلسفہ سيرت کی کتاب بھی کہا ہے جبکہ بعض اہل علم کا کہنا يہ ہے کہ امام صاحب کي يہ کتاب ’عملی سيرت‘ کی ايک کتاب ہے۔ امام ابن القيم کی اس کتاب کا ايک خوبصورت اختصار شيخ محمد بن عبدا لوہاب رحمہ اللہ نے ’مختصر زاد المعاد‘ کے نام سے کيا ہے جسے سعيد احمد قمر الزمان ندوی نے اردو ترجمہ کی صورت دی ہے۔ امام ابن القيم رحمہ اللہ کی اس کتاب ميں بعض بہت ہی نادر اور قيمتی و علمی نکات بھی منقول ہو ئے ہيں جو ان کے روحانی مقام ومرتبہ پر شاہد ہيں خاص طور پر ص 350 پر نظر بد کے علاج کي بحث ارواح کی خصوصيات کے بارے عمدہ بحث کی گئی ہے۔ بلاشبہ امام صاحب کی يہ کتاب سيرت کے فقہی،علمی، حکيمانہ اور فلسفيانہ پہلوؤں کو محيط ہونے کے ساتھ ساتھ سيرت کا ايک مستند مصدر وماخذ بھی ہے جس کا اختصار افادہ عام کے ليے شيخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ نے کياہے