-
مذہب، ادب، سیاست، عدالت، تجارت، معاشرت اور علم و ہنر غرضیکہ ہر شعبہ زندگی میں ہمارے رہنما صرف حضرت محمد ﷺ ہیں۔ آپ کی زندگی اللہ تعالیٰ کی والہانہ محبت، اطاعت اور استقامت کی نہایت ایمان پرور اور ولولہ انگیز داستان ہے۔ آپ ﷺ نے کفر و شرک اور ظلم و جفا کی صدیوں پرانی زندگی کا طلسم توڑا۔ رنگ، نسل ، ذات پات اور دولت و ثروت کے جھوٹے امتیازات ختم کیے۔ انسان کو اللہ رب العزت کی عظمت و کبریائی کا سبق سکھا کر اجتماعی زندگی کی بنیاد توحید ، اخوت اور مساوات پر رکھی اور بنی نوع انسان کو شرافت اور امن دوستی کی اعلیٰ اقدار کا پیغام دیا۔ آج کا انسان رحمت للعالمین ﷺ کی تعلیماتِ عالیہ کا پیاسا ہے۔ آیئے ہم خوب بھی اللہ کے آخری رسول حضرت محمد ﷺ کی پیروی کریں اور اپنے بچوں کو بھی اسوہ حسنہ کے اُجالوں سے رشناس کرائیں۔ یہ کتاب اسی مقصد سے شائع کی جا رہی ہے کہ ہمارے نونہال ابھی سے سیرتِ نبوی سے روشنی حاصل کریں اور دنیا کو معصیت، حرص و ہوس اور ظلم و جور کی آلودگی سے نجات دلانے کے لیے سرگرمِ عمل ہوجائیں۔ اس غایت سے ہر بچے اور بچی کے لیے اس کتاب کا مطالعہ آج کی اولین ضرورت ہے۔ -
امام بخاری ۱۳شوال ۱۹۴ھ، بروز جمعہ بخارا میں پیدا ہوئے۔ دس سال کی عمر ہوئی تو مکتب کا رخ کیا۔ بخارا کے کبار محدثین سے استفادہ کیا۔ جن میں امام محمد بن سلام بیکندی، امام عبداللہ بن محمد بن عبداللہ المسندی، امام محمد بن یوسف بیکندی زیادہ معروف ہیں۔ اسی دوران انہوں نے امام عبداللہ بن مبارک امام وکیع بن جراح کی کتابوں کو ازبر کیا اور فقہ اہل الرائے پر پوری دسترس حاصل کر لی۔ طلبِ حدیث کی خاطر حجاز، بصرہ،بغداد شام، مصر، خراسان، مرو بلخ،ہرات،نیشا پور کا سفر کیا ۔ ان کے حفظ و ضبط اور معرفت حدیث کا چرچا ہونے لگا۔ امام بخاری کے استاتذہ کرام بھی امام بخاری سے کسب فیض کرتے تھے ۔ آپ کے استاتذہ اور شیوخ کی تعداد کم وبیش ایک ہزار ہے۔ جن میں خیرون القرون کےاساطین علم کےاسمائے گرامی بھی آتے ہیں۔اور آپ کےتلامذہ کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ امام بخاری سے صحیح بخاری سماعت کرنےوالوں کی تعداد 90ہزار کےلگ بھگ تھی ۔امام بخاری کے علمی کارناموں میں سب سے بڑا کارنامہ صحیح بخاری کی تالیف ہے جس کے بارے میں علمائے اسلام کا متفقہ فیصلہ ہے کہ قرآن کریم کے بعد کتب ِحدیث میں صحیح ترین کتاب صحیح بخاری ہے ۔ فن ِحدیث میں اس کتاب کی نظیر نہیں پائی جاتی آپ نے سولہ سال کے طویل عرصہ میں 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔امام بخاری کی سیر ت پر متعدد اہل علم نے کتب تصنیف کی ہیں لیکن سب سے عمدہ کتاب مولانا عبد السلام مبارکپوری کی تصنیف ’’سیرۃ البخاری ‘‘ ہے جو کہ کتاب وسنت ویب سائٹ پر موجود ہے۔ اس کتاب کا عربی ترجمہ ڈاکٹر عبد العلیم بستوی کےقلم سے جامعہ سلفیہ بنارس سے شائع ہوچکا ہے۔ زیر نظرکتاب ’’سیرت امام بخاری‘‘ کو تالیف کرنے کی سعادت شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمٰن چیمہ﷾نے حاصل کی بعد ازاں دارالسلام ،لاہور کے شعبہ تحقیق وتصنیف کےسکالرزنے بھی اس میں بیش قیمت اضافے کیے ہیں۔ شیخ الحدیث مولاناحافظ عبدالعزیز علوی نے ترمیم واضافہ کے ساتھ ساتھ اس کی نظرثانی کی ہے اور اسی طرح محقق دوراں مولاناارشاد الحق اثری نےاس میں کچھ حک و اضافہ کےساتھ اس پر ایک جاندار مقدمہ تحریرکیا ہے جس سے اس کتاب اہمیت وافادیت دو چند ہوگئی ہے۔ اس کتاب میں امام بخاری کےاساتذہ کی سیرت، اساتذہ کرام، ان کے طبقات، وسعت علمی ، عقائد ونظریات، صحیح بخاری میں احادیث کو نقل وجمع کرنے کی شرائط، دیگر تصانیف اور ان کےاسلوب اور متعلقات وشروح صحیح بخاری کےساتھ ساتھ امام بخاری کی فقیہانہ بصیرت، محدثانہ صلاحیت ،امام موصوف کے معاصرین اور تلامذہ وغیرہ کا تذکرہ بڑے یگانہ اور جدید اسلوب میں پیش کیا گیا ہے۔ -
Sale!
نبی کریم ﷺ کے بعد امتِ مسلمہ کے سب سےبڑے قائد اور اسلامی معاشرے کا سب سے عظیم نمونہ اور نمائند ہ شخصیت ابو بکر صدیق ؒ ہی تھے۔ خلافتِ راشدہ کی ابتدائی فتوحات، کامیابیاں اور خوبیاں عہد صدیقی ہی کی رہینِ منت تھیں۔ سیدنا ابو بکر صدیق ؒ ایمان و یقین، اطاعت و غلامی، محبت و وارفتگی اور ہمت و حوصلہ جیسے بے مثل خوبیوں سے مالا مال تھے۔ آیئے، ہم بھی اُنکی سیرت کی مطالعہ کر کے اپنے اعمال کو نکھارنے کا سامان کریں۔ The life of Abu Bakr As Siddique (May Allah be pleased with him) offers a blueprint to successful life to those Muslims as well as non-muslims who are searching for the truth. This book provides detailed and insightful glimpses into the extraordinary life of the first Caliph of the Muslims Abu Bakr As-Siddeeq (May Allah be pleased with him) and his massive contribution to all of humanity. He was a truly a man for all ages. This compilation has specifically been made for the Muslim Youth, who need to learn about the sacred personalities and their success stories. Indeed, this is the best way to teach core values of an ideal Islamic life and help youth understand their religion. -
زندگی کیا ہے؟ کیوں ہے؟ کس لیے ہے؟ اور اس کا انجام کیا ہے؟ آج کی دلکش مادی اور مصروف زندگی میں ان سوالات پر غور کرنے کی مہلت شاذ ہی نصیب ہوتی ہے۔ محترم ام منیب نے زیرِ نظر کتاب `دنیا کے اے مسافر!` میں انھی اہم ترین سوالوں کا ہمہ جہت جائزہ لیا ہے۔ موصوفہ نے قران کریم اور احادیث نبوی کی روشنی میں زندگی کا اصل مقصد بڑی خوبی سے اُجاگر کیا ہے۔ انھوں نے دعوت دی ہے کہ اے فانی لذ توں پر مرنے والے انسان! اپنا مرتبہ پہچان۔ تجھے اللہ تعالیٰ نے صرف اپنی بندگی کے لیے بنایا ہے، تو غیر کا متوالا نہ بن ، صرف اللہ رب العزت سے پیار کر۔ اُسی کا ہو جا۔ ہر آن، ہر گھڑی نیکی کی شمعیں روشن کرتا رہ تا کہ جب موت آئے تو تیرا دامن اعمال صالحہ سے مالا مال ہوا اور رب کریم تجھ سے خوش ہو کر تجھے اپنے جوار پاک میں جگہ دے۔ یہ کتاب ہر مسلمان کو پڑھنی چاہیے۔ اس کتاب کی پاکیزہ تعلیمات پر جو بھی اخلاص سے عمل کرے گا، اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے اسے ابدی عزت و عظمت کا تاج پہنا دے گا۔ -
ہمیں اپنے روشن ماضی میں ہر لحظ نئی آن اور نئی شان کی جو جلوہ گری ملتی ہے اس کا ایک اہم ترین سبب یہ ہے کہ ہماری عظیم ماؤں کی گود میں حسن، حسین، عبداللہ بن عمر، اور عمر بن ابدالعزیز ،عقبہ بن نافع، طارق بن زیاد اور محمد بن قاسم جیسے بچے پرورش پاتے تھے۔ آج کے دور میں ہماری محترم مائیں بہنیں بھی عزت و عظمت کا وہی درجہ حاصل کر سکتی ہیں جو قرون اولیٰ کی جلیل القدر خواتین کو نصیب ہوا تھا۔ اس کا واحد طریقہ یہ ہے کہ جس طرح اُن عظیم خواتین نے اللہ اور رسول ﷺ کے ارشادات پر عمل کیا تھا اُسی طرح آج کی خواتین بھی عمل کرنے کی کوشش کریں۔ یہ رہ نمائے عمل کتاب رسول اللہ ﷺ کی ایک سو احادیث اور ان کی شاندار تشریحات پر مشتمل ہے۔ اس میں خواتین کی کامیابی کے تمام طریقے بہت آسان اور دلکش پیرائے میں بتا دیے گئے ہیں، اسے پڑھیے، اس پر عمل کیجیے، اور اپنے مستقبل کو درخشاں بنائیے۔
-
دین اسلام اصلاً کتاب و سنت کی تعلیمات و فرمودات ہی کا دوسرا نام ہے۔ دین حق کے خلاف فتنے اٹھانے والوں میں سے ایک گروہ نے حدیث کے حجت ہونے ہی کا انکار کر ڈالا۔ جبکہ علماء و ائمہ کرام کے نزدیک مسلّم ہے کہ حدیث کے دامن میں جو استناد اور اسماء الرجال کا عظیم الشان سلسلہ موجود ہے، اس کی مثال دنیا بھر کے مذہبی یا تاریخی لٹریچر میں مفقود ہے۔ حدیث وہی ہے اور اس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے اُٹھایا ہے۔ حدیث کے بغیر اکمال دین کا تصور محال ہے، لہٰذا رسول اللہ ﷺ کی سنت کو حجت تسلیم کرنا ایمان کا اولین تقاضا ہے۔ `حجیت حدیث` کا فاضل مصنف مولانا عبدالستار حماد نے انکار حدیث کا فتنہ بے نقاب کرنے میں جو عظیم الشان تحقیقی خدمت انجام دی ہے، وہ منکرین حدیث کی فتنہ انگیزی کے خلاف برہان قاطع کی حیثیت رکتھی ہے۔ اس مختصر اور انتہائی جامع تالیف کا مطالعہ دین حق کےطلبہ و اساتذہ دونوں کے لیے بے حد مفید ثابت ہوگا۔ -
دین اسلام میں جادو کے حوالے سے جس قدر شدید وعید آئی ہے مسلم معاشرے میں اسی قدر شدو مد کے ساتھ یہ اپنے پنجے گاڑنے میں روبہ عمل ہے۔ بہت سے صحیح العقیدہ مسلمان جادوگروں اور شعبدہ بازوں کے ہاتھوں اپنی ایمانی دولت گنوانے میں لگے ہیں۔ یہ کتاب ہمیں بتائے گی کہ دین اسلام میں تمام ٹونوں ٹوٹکوں کا حل انتہائی آسان انداز میں دستیاب ہے ۔ کتاب میں جادوگروں کا تقرب حاصل کرنے کے لیے جادوگروں کے بعض وسائل، اور جادواور جنات کے وجود کو قرآن وسنت سے ثابت کرتے ہوئے جادو کی اقسام پر روشنی ڈالی گئی ہے۔اس کے علاوہ شریعت میں جادو کا حکم اور جادو کے اثر سے بچنے کے لیے چند احتیاطی تدابیر ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ نظر بد کی تاثیر اور علاج پر سیر حاصل اور علمی گفتگو کی گئی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اس کتاب کے مطالعے کے بعد ہر فرد اپنے عقیدہ وایمان کی حفاظت کرتے ہوئے جادو، نظر بد اور ان سے پیدا شدہ امراض کا علاج قرآن کریم اور ماثور دعاؤں کے ذریعے کر سکے گا۔
-
جادو اور جنات سے تعلق رکھنے والی بیماریوں کے علاج کےلیے کتاب وسنت کے بیان کردہ طریقوں سے ہٹ کر بے شمار لوگ شیطانی اور طلسماتی کرشموں کے ذریعے ایسے مریضوں کاعلاج کرتے نظر آتے ہیں جن کی اکثریت تو محض وہم وخیال کے زیر اثر خود کو مریض سمجھتی ہے ۔جادوکا موضوع ان اہم موضوعات میں سے ہے جن کا بحث وتحقیق اور تصنیف وتالیف کے ذریعے تعاقب کرنا علماء کےلیے ضروری ہے کیونکہ جادو عملی طور پر ہمارے معاشروں میں بھر پور انداز سے موجود ہے اور جادوگرچند روپوں کے بدلے دن رات فساد پھیلانے پر تلے ہوئے ہیں جنہیں وہ کمزور ایمان والے اور ان کینہ پرور لوگوں سے وصو ل کرتے ہیں جو اپنے مسلمان بھائیوں سے بغض رکھتے ہیں او رانہیں جادو کے عذاب میں مبتلا دیکھ کر خوشی محسوس کرتےہیں لہذا علماء کے لیے ضروری ہے کہ جادو کے خطرے او راس کے نقصانات کے متعلق لوگوں کوخبر دارکریں اور جادو کا شرعی طریقے سے علاج کریں تاکہ لوگ اس کے توڑ اور علاج کے لیے نام نہادجادوگروں عاملوں کی طرف رخ نہ کریں۔زیرنظر کتاب ’’جادو اورآسیب کا کامیاب علاج‘‘ مصر کے ایک نوجوان عالم ابو منذر خلیل بن ابراہیم امین کی تالیف ہے۔ جس میں انہوں نے ایک جدید انداز میں جناتی بیماریوں کے لیے کتاب وسنت سے علاج کے مختلف طریقے نقل کیے ہیں ۔او ر شیاطین جن وانس کی فتنہ سامانیوں سے آگاہ رہنے کے لیے شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائی ہے ۔تاکہ علمائے سو ،جاہل صوفیاء ،کاہن ،نجو می اور مال ودولت کےپجاری پریشانیوں ومصائب میں مبتلاء لوگوں کی دولت اور عزت پر ڈاکہ نہ ڈال سکیں۔او ر وہ ان تمام شیطانی کارندوں سے محفوظ رہ سکیں جنہوں نے اپنا جال اس کرۂ ارضی میں ہر طرف پھیلا رکھا ہے ۔ اللہ تعالی اس کتاب کو لوگوں کے لیے باعث نفع بنائے -
عملی زندگی میں شرعی احکام کی تعمیل ہی مسلمان کی اصلی پہچان ہے ۔ سو عقائد و نظریات ، عبادات و معاملات اور اخلاق و عادات میں شریعت اسلامیہ کی اتباع ہی ملحوظ ہونی چاہیے ۔ لہذا دیگر احکام و فرائض کی طرح شادی شدہ اسلامی جوڑے پر یہ اضافی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نیک اولاد کے حصول کا خواہش مند بھی اور طلب اولاد کا حریص بھی ۔ پھر اولاد طلبی کی شرعی حدود و قیود کی پابندی اختیار کرے اور حصول اولاد کی ناجائز صورتیں اور شرکیہ افعال سے بھی گریز کرے ۔ اور جب اللہ تعالی اس کی التجاؤں کو شرف قبولیت بخشے تو حمل ، وضع حمل کے احکام سے واقفیت حاصل کر کے ان پرعمل پیرا ہو اور گھر کے آنگن میں پھول کھلنے کی صورت میں نومولود کے نام رکھے ۔ عقیقہ کرنے ، بال مونڈنے ، ختنہ کروانے ، رضاعت کے مسائل اور تربیتی پہلوؤں سے آگاہی حاصل کر کے اپنی شرعی ذمہ داریوں سے عہدہ بر آں ہو۔ زیر تبصرہ کتاب بچوں کے احکام ومسائل، ولادت سے بلوغ تک اسلامی زندگی کے انہی پہلوؤں پر بطریق احسن روشنی ڈالتی ہے ۔
-
مصنف نے اپنی کتاب کو ارکان خمسہ کے اعتبار سے پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے اور ہر ایک حصے میں الگ الگ ایک ایک رکن اسلام پر مدلل او رتفصیلی گفتگو کی ہے-پہلے حصے میں حقیقت توحید کو بیان کرتے ہوئے ایمان اور عمل صالح کی یکجائی کو حسن کمال کے ساتھ بیان کیا گیا ہے-حقیقت التوحید میں خدا، کائنات اور فطرت کو موضوع بنایا گیا ہے جبکہ دوسرا حصہ حقیقت صلوۃ پر مشتمل ہے جس میں یہ واضح کیا ہے کہ اسلام کے نظام صلوۃ میں مرکزی حیثیت انسان کو حاصل ہے-حقیقت صلوۃ میں مولانا نے مسائل صلوۃ کی بجائے نماز جس جوہر بندگی اور حقیقت عبدیت کا مظہر ہے، اس کی طرف اس انداز سے توجہ دلائی ہے کہ مسلمان ہونے کا حقیقی مطلب لائق فہم ہوجاتا ہے-تیسرا حصہ حقیقت زکوۃ پر مشتمل ہے جس میں اسلام کے نظام زکوۃ کی افادیت پر زور دیا ہے-چوتھے حصے میں حقیقت صایم کی وضاحت کرتے ہوئے صیام کے بارے میں جو اسلامی تصور پیش کیا گیا ہے، کی مکمل وضاحت کرتے ہوئے زکوۃ کی قانونی ہیئت پر بھی عام اسلوب سے ہٹ کر مجتہدانہ انداز سے گفتگو کی ہے-پانچویں حصے میں حقیقت حج پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے جس میں حج کے موضوع پر لکھے جانے والے سارے لٹریچر سے نہ صرف یہ کہ منفرد ہے بلکہ اس میں حج کے عمل کو عظیم روحانی تناظر میں رکھ کر دیکھا گیا ہے -
یہ مختصر سی کتاب شیخ محمد بن سلیمان رحمہ اللہ کی عربی کتاب``الأصول الثلاثۃ وأدلتہا`` کا اردو سلیس ترجمہ ہے –شیخ موصوف نے کتاب کی تین ابواب میں تقسیم کرتے ہوئے اسلام کے تمام اساسی اصولوں کی بڑی سادہ اور دلنشین تشریح کی ہے- ان اصولوں کے ذیلی عنوانات میں اللہ تعالی کی معرفت، اسلام، ایمان اور احسان کے مراتب، مراحل اور مدارج وضاحت سے بتائے گئے ہیں اور آخر میں حضرت محمد مصطفی ﷺکی صفات، جہات، حیثیات اور تعلیمات بیان کی گئی ہیں- دین اسلام کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے یہ ننھی سی کتاب بڑی بڑی ضخیم کتابوں پر بھاری ہے-
-
جو قوم اپنی روایات اور خصوصیات کو بھلا کر غیروں کی نقالی کرتی ہے وہ صفحہ ء ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹ جاتی ہے۔ بدقسمتی سے مسلمانوں نے یہی مہلک طریقہ اختیار کرلیا، دو اڑھائی سو برس پہلے یورپ کے صنعتی انقلاب کے بطن سے جو مادی تہذیب پیدا ہوئی، اس میں مذہب سے شدید بغاوت بھی کار فرما تھی۔ اس تہذیب نے اللہ تعالیٰ سے اہل یورپ کا رشتہ منقطع کردیا۔ یہی چمکیلی بھڑکیلی تہذیب جب انگریزوں ، فرانسیسیوں اور ولندیزیوں کی معرفت مشرقی ملکوں میں پہنچی تو مسلمانوں کے بالائی طبقات نے اسے گلے لگا لیا۔ یہ تاریکی بڑھتی اور پھیلتی چلی گئی اور ہم اپنی مایہ ناز روایات کو یکے بعد دیگرے فراموش کرتے چلے گئے۔ آج جسدِ ملت کے زخموں سے جو خون ٹپک رہا ہے وہ اسی مادر پدر آزاد مغربی تہذیب کی نقالی اور اپنی معظم روایات سے دستبرداری کا نتیجہ ہے۔ اب مسلمانوں کی بقا اور فلاح کا یک ہی طریقہ ہے کہ وہ مغربی تہذیب کی طنابیں توڑ دیں اور اسلامی تعلیمات کے دامن رحمت میں لوٹ آئیں۔ عالم اسلام کے نامور عالم دین فضیلتہ الشیخ محمد بن صالح العثیمین ؒ نے `اسلام کے بنیادی عقائد` کے زیر عنوان یہ گرانقدر کتاب لکھ کر وہ تعلیمات و مبادیات اجاگر کردیے ہیں جن پر عمل کر کے ہم اپنی گم شدہ عظمت دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کتاب کا سنجیدگی سے مطالعہ کیجیے۔ یہ کتاب قران و سنت کی تعلیمات کا عطر ہے۔
-
خانقاہی نظام سے مراد تصوف ہے۔تصوف کا لفظ اس طریقۂ کار یا اسلوب اس عمل کے لیے اختیار کیا جاتا ہے جس پر کوئی صوفی عمل پیرا ہو۔ اسلام سے قربت رکھنے والے صوفی، لفظ تصوف کی تعریف یوں کرتے ہیں کہ : تصوف کو قرآنی اصطلاح میں تزکیۂ نفس اور حدیث کی اصطلاح میں احسان کہتے ہیں۔ تصوف کی اس مذکوہ بالا تعریف بیان کرنے والے افراد تصوف کو قرآن و سنت کے عین مطابق قرار دیتے ہیں۔ اور ابتدائی ایام میں متعدد فقہی علماء کرام بھی یہی مراد مراد لیتے رہے۔ پھر بعد میں تصوف میں ایسے افکار ظاہر ہونا شروع ہوئے کہ جن پر شریعت و فقہ پر قائم علماء نے نہ صرف یہ کہ ناپسندیدگی کا اظہار کیا بلکہ ان کا رد بھی کیا۔امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم اوران کےبعد جید علمائے امت نے اپنی پوری قوت کے ساتھ غیراسلامی تصوف کےخلاف علم جہاد بلند کیا اورمسلمانوں کواس کےمفاسد سے آگاہ کر کے اپنا فرضِ منصبی انجام دیا۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نےبھی اپنے اردو فارسی کلام میں جگہ جگہ غیر اسلامی تصوف کی مذمت کی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اسلام اور خانقاہی نظام ایک تحقیقی وتاریخی جائزہ ‘‘ محترم جناب پروفیسر ڈاکٹر امان اللہ بھٹی کی تصنیف لطیف ہے اس کتاب میں انہوں نے تصوف اور خانقاہی نظام کی تعریف، تاریخ اور تصوف کےمختلف سلسلوں اور ان کےطریق کار کی مفصل اور چشم کشا دستاویز پیش کی ہیں۔نیز عہد بہ عہد صحابۂ کرام کے نام دے کر بتایا گیا ہے کہ انہوں نےکتنے کٹھن حالات میں دنیا کےدور دراز گوشوں میں پہنچ کر توحید کی اذان دی اور لوگوں تک اللہ کا دین پہنچایا۔ ان کی دعوت سیدھی سادی تھی۔ وہ غیر اللہ کی نفی کرتے تھے۔ دلوں میں اللہ کی یکتائی ،بڑائی کبریائی اور زیبائی کانقش جماتے تھے ، رسول اللہﷺ کی زندگی کے مبارک طریقے سکھاتے تھے ۔اس کتاب کے مطالعے سے یہ حقیقت بڑی نمایاں ہوجاتی ہے کہ اسلام جیسے جامع دین کے مقابلے میں تصوف اور خانقاہیت ایک ژولیدہ فلسفہ ہے ۔ فاضل مصنف نےخانقاہی نظام کا بڑا مفصل اور مدلل جائزہ پیش کیا ہے۔ انھوں نےاکابر علماء اور نامور صوفی بزرگوں ہی کےاقوال سے تصوف کی تعریف بیان کی ہے اور مختلف آراء کے اقتباسات درج کیے ہیں ۔ تصوف کے مختلف سلسلوں اور منازلِ سلوک کی بہت سی شاخوں کےتعارف کے علاوہ ان کےطریق عمل پر روشنی ڈالی ہے۔ فاضل مصنف نےحوالہ جات پیش کر کے بتایا ہے کہ تصوف کےنظریات کہاں کہاں پہنچ کر اسلامی تعلیمات سےبے آہنگ ہوگئے اورشرک کی آبیاری کاموجب بنے۔پھر اس کے نتیجے میں کیسے کیسے فاسد عقائد کے کانٹے اگتے اورپھیلتے چلے گئے -
انسانی وجود کے دو حصّے ہیں۔۔۔ ایک روحانی، دوسرا مادی۔ مادیت پسندی کے اس دور میں انسان کے اس وجود پر بہت کام ہوا ہے مگر دوسرے اور اہم تر وجود پر جو کچھ لکھا اور کہا گیا ہے اس کی وقعت نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ضمن میں انسانی عقل کی رہنما۔۔۔۔ وحی۔۔۔ سے روشنی حاصل نہیں کی گئی۔ `انسان اپنی صفات کے آئینے میں` اس غلط روش کا خوب صورت ازالہ ہے۔۔۔ مصنف نے وحی االہٰی کی روشنی میں انسان کی مثبت اور منفی، تمام صفات کا خوب صورت تجزیہ کیا ہے اور انسان کو وہ آئینہ دکھایا ہے جس میں وہ اپنی سچی اور اصل تصویر دیکھ سکتا ہے۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ ان عوامل کی نشان دہی بھی کی گئی ہے جن سے انسان اپنی تصویر کی بد نمائی کو دور کر سکتا ہے۔۔ ان پہلوؤں نے اس کتاب کی افادیت میں اس قدر اضافہ کر دیا ہے کہ اس کا مطالعہ ہر سچے انسان کی ضرورت بن گئی ہے۔
-
نبی ﷺ پر درود و سلام ` اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جس کا انکار یا استخفاف کفر ہے اور اس کا اہتمام رسول اللہ ﷺ سے محبت اور والہانہ تعلق و وابستگی کا ذریعہ بھی ہے اور اس کی علامت اور دلیل بھی۔ لیکن وہ درود و سلام کون سا ہے اور اس کا طریقہ کیا ہے جس کا حکم مسلمانوں کو دیا گیا ہے اور جو محبت رسول ﷺ کا ذریعہ بھی ہے اور اس کی علامت بھی؟ زیرِ نظر کتاب اسی موضوع پر منفرد اور نہایت اہم کتاب ہے جو شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ؒ کی کتاب کا اردو ترجمہ ہے۔ اس میں صلوٰۃ و سلام کے تقریباً ہر موضوع پر تفصیلی، مدلل اور واضح گفتگو ہے۔ جیسا کہ امام ابن القیم ؒ کا اسلوب ہے جو اہلِ علم میں معروف ہے۔ -
زںدگی کےآخری لمحوں ميں اںسان جوطرزعمل اختيارکرتاہےوہ زندگی کا حاصل ہوتاہے۔ايک مسلمان کی زندگی ميں خاتمہ بالخيرکی بڑی اہميت حاصل ہے۔زيرنظرکتاب ميں چندا چھےاوربرےافرادکےآخری لمحوں کی تصویريں پيش کی گی ہيں۔يہ تصویريں افراد کےلاشعورکی عکاس ہيں،اس کتاب کامطالعہ زندگی کےمسافرکوراہ زيست کےمتعين کرنےميں مدددےگا۔
-
This is an exquisite collection of incidents from the life of the Prophet (Peace and Blessings of Allah be upon him), stories from our Islamic Heritage, and thought-provoking anecdotes from the life of the author. The aim of the book is to train the reader to enjoy living his life by practicing various self-development and inter-personal skills. What is so compelling and inspiring about this book is that, in order to highlight the benefit of using social skills, the author draws from the lives of the Prophet (Peace and Blessings of Allah be upon him) and his Companions (May Allah be pleased with them all). The techniques for living a happy and a leisured life are 100% applicable in every society. To meet the real goodness of life, manage and discipline ourselves well, our Prophet Muhammad (Peace and Blessings of Allah be upon him) always was and will always be our mentor. His great characters must be followed and applied to our way of living. `Zindagi Se Lutf Uthaye` is a must read book. Not only that, but it`s reader-friendly. It teaches you how to deal with people in different manners by containing most of our Prophet Muhammad (Peace and Blessings of Allah be upon him)`s lifestyle that can be benefited by Muslims and even the non-Muslim readers. The book is written by Dr. Muhammad Abdul Rahman Al Arfi (b 1970) who is a prominent scholar and orator from Saudi Arabia. Every reader mostly recommends this book to others with assurance that they`ll benefit from it much more than one expects. -
سیرت سرور کائنات وہ سدا بہار،پاکیزہ ،ہر دلعزیز موضوع ہے جسے شاعر اسلام سیدنا حسان بن ثابت سے لے کر آج تک پوری اسلامی تاریخ میں آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کے جملہ گوشوں پر مسلسل کہااور لکھا گیا ہے او رمستقبل میں لکھا جاتا رہے گااس کے باوجود یہ موضوع اتنا وسیع اور طویل ہے کہ اس پر مزید لکھنے کاتقاضا اور داعیہ موجود رہے گا۔ مطالعۂ سیرت کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے تاہم موجودہ حالات میں اس کی ضرورت ہمیشہ سے زیادہ ہے بالخصوص نوجوانانِ امت کو مطالعہ سیرت کی طرف راغب کرنا بہت ضروری ہوگیا ہے ۔لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب پیام سیرت دلچسپ پیرائے میں پیش کیا جائے گا۔ زیر نظر کتاب ``پیام سیرت`` ڈاکٹر محمد عبد الرحمن العریفی کتاب کا ترجمہ ہے جس میں انہوں نے نہایت دلنشیں او رمؤثر اسلوب نگارش کا انتخاب کیا ہے جو مطالعۂ سیرت میں دلچسپی رکھنے والے نوجوان طبقہ کی گہری دلچسپی کا باعث بن سکتا ہے ۔کتاب کے مصنف ڈاکٹر عبد الرحمن العریفی سعودی عرب کے جانے پہچانے مصنف ہیں۔ ریاض کی مقامی یونیورسٹی میں معلمی کے فرائض انجام دیتے ہیں ۔دعوتِ دین کےمیدان میں اُن کی مساعی جمیلہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اُن کا شمار علامہ ابن باز کے ممتاز شاگردوں میں ہوتا ہے ۔ دیار ِعرب میں ان کی خطابت کا بھی بہت شہرہ ہے ۔ اس سے قبل ان کی متعدد کتابیں خاصی پذیرائی حاصل کرچکی ہیں جن میں ان کی شہرۂ آفاق کتاب ``زندگی سے لطف اٹھائیے `` سرفہرست ہے ۔کتاب ہذا کے ترجمہ وتخریج کا کام ساجد الرحمن بہاولپوری نے کیا اور دار السلام نے اعلی معیار پر اسے طباعت سے آراستہ کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو گم کردہ راہ لوگوں کےلیے راہِ راست پر آنے کا سبب بنائے -
ہمارے معاشرے کے بگاڑ کا اصل سبب یہ ہے کہ ہر شخص صرف اپنے نفع و نقصان کا ترازو تھامے بیٹھا ہے جس کے نتیجے میں دوسروں کے حقوق پامال ہو رہے ہیں او راپنے فرائض سے غفلت برتی جارہی ہے ۔جب تک یہ صورت حال نہیں بدلتی اور تمام حقداروں کے حقوق بخیر و خوبی ادا کرنے کا احساس پیدا نہیں ہوتا ،معاشرے کی حالت اعتدال پر نہیں آئے گی۔مفسر قرآن حافظ صلاح الدین صاحب یوسف نے زیر نظر کتاب میں اسی بات کو اجاگر کیا ہے ۔حافظ صاحب موصوف نے حقوق اللہ ،حقوق الوالدین،حقوق الزوجین،حقوق الاولاد اور حقوق العباد کے زیر عنوان ہر فرد کے حقوق و فرائض کو کتاب وسنت کی روشنی میں بیان کیا ہے ۔اہل اسلام کو اس کتاب کا مطالعہ لازماً کرنا چاہیے تاکہ اپنے فرائض اور دوسروں کے حقوق سے آگاہی ہو سکے اور ایک خوبصورت اور پر امن معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکے -
Written by the celebrated Hafiz Salahuddin Yousuf, Haqooq Allah is an interesting book on the rights of Allah on all Human beings. This book is a part of a comprehensive Haqooq Series and speaks on prominent topics such as Tawhid (Unity and Oneness of Allah), Obligatory five prayers, Zakat (Charity in the way of Allah),Fasting in the Month of Ramadan and Hajj (Pilgrimage to the House of Allah). This book outlines the importance of each of the five pillars of Islam and the benefits one can achieve from correctly observing them. It sheds light on the current situation of our lives, the difficulties and uneasiness that we experience every day and offers solutions to all such matters in a concise way. Comprising of only 44 pages in total, the book answers pressing questions such as the true meaning or worshipping Allah, how associating partners with Allah is against the nature of human beings and what are its different forms, what are the fundamental perquisites of the acceptance of prayers, and many others. The answers of all these questions are supported by authentic references from Quran and Sunnah. The book is written in Urdu in an easy to understand format so that even a ten year old child can easily read and understand it. The preface of this book has been written by Darussalam founder Abdul Malik Mujahod. . اللہ نے ہمیں پیدا کیا ،بے شمار نعمتیں دیں ہمیں زندگی گزارنے کاسلیقہ سکھایا،احکام دیے تاکہ ہم زندگی کو صراط مستقیم پر چلاسکیں ان احکام پر عمل کرنا ہم پر اللہ کا حق ہے اورانہیں ہی حقوق اللہ کہا جاتا ہے۔ اللہ کے ان حکام کوصحیح طریقے سے اور بھرپور انداز میں ماننے کانام ہی بندگی ہے ۔ بندگی کاسلیقہ ہمیں تب ہی آسکتا ہےجب ہم یہ جانیں کے حقوق اللہ کیا ہیں اور ان کو کیسے پورا کیاجاسکتا ہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ’’حقوق اللہ ‘‘ مفسر قرآن جناب حافظ صلاح الدین یوسف کی مرتب شدہ ہے۔ ا س میں انہوں نے حقوق اللہ کو عام فہم آسان انداز میں مختصر پیش کیاہے۔ حقوق اللہ کی معرفت اور اس کے تقاضوں کوسمجھنے کے لیے اس کتاب میں مکمل رہنمائی موجود ہے -
کتاب وسنت کی اشاعت کے عالمی ادارے `مکتبہ دار السلام`کے ڈائریکٹر مولانا عبد المالک مجاہدصاحب طباعتی میدان کی ایک معروف عالمی شخصیت ہیں۔جنہیں اپنے ادارے کے فروغ کے لئے متعدد مشکلات اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا،اور وہ اللہ کی توفیق اور مدد سے ان تمام مشکلات وچیلنجزسے سرخرو ہو کر نکلے ہیں۔زیر تبصرہ کتاب` نوجوان نسل کی رہنمائی کے لئے سنہری یادیں` میں انہوں نے بذات خود اپنی سوانح حیات قلم بند کی ہے اور اپنی زندگی کے تجربات کو نوجوانان امت کے شیئر کئے ہیں۔اس کتاب میں انہوں نے اپنی پیدائش سے لیکر اس کتاب کی تصنیف تک اپنے حالات زندگی کو تحریر فرمایا ہے۔اس میں انہوں نے اپنا بچپن،اپنا گاؤں،والدہ محترمہ،اساتذہ کرام،سعودی عرب آمد،وزارۃ الدفاع میں ملازمت،شیخ محمد بن عبد اللہ المعتاز سے شناسائی،دار السلام کے قیام ،فروغ اور وسعت،سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ نائف بن عبد العزیز سے ملاقات،مسجد نبوی کی لائبریری میں دار السلام کی کتب ،امام کعبہ فضیلۃ الشیخ عبد الرحمن السدیس سے ملاقات،پیغام ٹی وی کی سالانہ میٹنگ میں حاضری،دار السلام ریسرچ سنٹر،دار السلام پرنٹنگ کمپلیکس لاہور،اور اپنی زندگی میں پیش آنے والی اس جیسی متعدد چیزیں بیان کی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ’’دارالسلام‘‘ میرا خواب تھا۔ ریاض میں اس کی تعبیر سامنے آئی۔ کتاب و سنت کی ترویج و اشاعت کے لیے دنیا کی سب سے بہترین طباعت و اشاعت کا ادارہ ، اللہ رب العزت نے اسباب ہی فراہم نہیں کیے عمدہ اور اعلیٰ درجے کی ٹیم بھی فراہم کر دی۔ آج دارالسلام عالم اسلام کا سب سے نمایاں ادارہ قرار دیا جا رہا ہے، ہم 1400 سے زائد ٹائٹل چھاپ چکے ہیں۔550 انگلش میں اور 330اُردو میں۔ باقی عربی میں۔30 ممالک میں ہماری فرنچائز کام کر رہی ہیں۔ 100 نئی کتابیں آنے والی ہیں۔ ہماری ہر کتاب کا ایڈیشن تین ہزار کا ہوتا ہے۔ یہ بھی ایک نئی روایت ہے کہ ہر کتاب کے کئی کئی ایڈیشن آ چکے ہیں۔بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ اللہ تعالی انہیں صحت اور نیکی والی لمبی زندگی سے نوازےاور ان کے لگائے گئے اس پودے کو ،جو اب ایک تناور درخت کی صورت اختیار کر چکا ہے،دن دگنی اور رات چگنی ترقی عطا فرمائے اور ان کی ان محنتوں اور کاوشوں کو شرف قبولیت سے نوازے۔ -
اس دنیا کی لگ بھگ نصف آبادی بناتِ حوا پر مشتمل ہے۔ انسانی معاشرے میں بنات حوا کی اہمیت کسی بھی طرح مردوں سے کم نہیں۔ اسلام نے عورت کو بہت سارے حقوق عطا فرمائے ہیں۔ اسلام سے قبل عورت کی کوئی حیثیت تھی نہ مقام۔ وہ پیدا ہوتی تو اسے باعث عار سمجھا جاتا بلکہ بعض بد بخت تو اسے زمین میں زندہ گاڑ دیتے۔ مگر اسلام نے اسے ایک ماں، بیٹی، بہن اور بیوی کی صورت میں نہایت مکرم اور معزز مقام عطا فرمایا۔ اسے حق وراثت اور حق ملکیت عطا فرمایا۔مصنف نے جب تاریخ کا مطالعہ کیا تو بعض واقعات اور کہانیاں جو بلکل سچی تھیں، اس قدر مؤثر اور سبق آموز تھیں کہ اُنکا جی چاہا کہ انکو اپنی بہنوں اور بیٹیوں تک پہنچا دیں۔ ان واقعات کو پڑھنے کے بعد خواتین میں ایک نیا شعور پیدا ہوگا، انھیں اپنی حیثیت اور ذمہ داریوں سے آگاہی حاصل ہوگی اور وہ مجرمانہ ذہنیت کے حامل چال باز لوگوں کی چکنی چپڑی باتوں میں آنے سے محفوظ رہیں گی۔
-
اسلامی نظام کے پانچ بنیادی ارکان ہیں۔ ایمان، نماز، زکاۃ، روزہ اور حج۔ نماز کے بعد زکاۃ دینِ اسلام کا انتہائی اہم رکن ہے۔ ہر قوم میں صدقہ و خیرات کو خدمتِ خلق، انسانی ہمدردی اور عزت و شرافت کا بہت بڑا نشان سمجھا جاتا ہے، لیکن اسلام میں صدقہ و خیرات صرف اخلاقی فضیلت نہیں بلکہ مالی عبادت، دین کا حصہ اور رکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قران مجید نے 37 آیات میں نماز اور زکاۃ کو ایک ساتھ ذکر کیا ہے اور 82 مقامات پر اس کا تاکیدی حکم آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو فرض قرار دیا ہے اور اس کے تمام پہلوؤں کو مختلف پیرایوں میں پوری تفصیل سے بیان کیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے قول و عمل سے قران مجید کی تشریح و تعبیر کا عملی نمونہ فراہم کیا ہے۔ زیرِ نظر کتاب `زکاۃ، عشر اور صدقۃ الفطر` اسی اہم اور عظیم الشان رکن اسلام کے احکام و مسائل کا خوبصورت اور جامع تذکرہ ہے۔ اس میں ایک طرف زکاۃ، عشر اور صدقۃ الفطر کے تمام ضروری مسائل کی وضاحت قران و حدیث کی روشنی میں کی گئی ہے۔ دوسری طرف زکاۃ و صدقات کے ان پہلوؤں کو نمایاں کیا گیا ہے جن کے ذریعے سے ان کے معاشرت اور معاشی فوائد سامنے آسکیں اور معاشرے کے ضرورت مند افراد کی فلاح و بہبود کے لیے ان سے زیادہ سے زیادہ کام لیا جا سکے۔ ہمارا یقین ہے کہ یہ کتاب زکاۃ و عشر کے متعلق شرعی رہنمائی کے حوالے سے بڑی مفید اور مشعل راہ ثابت ہوگی۔
-
اسلام نے غیروں کی مشابہت اور نقالی سے سختی کےساتھ منع فرمایا ہے ۔ مگر اب نقالی کی یہ عادت اتنی پختہ ہوگئی ہے کہ اسے غلط اور گناہ سمجھنا بھی چھوڑ دیا گیا ہے۔انہی امورِمتروکہ میں ایک مسئلہ لباس، پردہ ومعاشرت کا ہےحالانکہ انسانی معاشرت میں لباس کی بڑی اہمیت ہے ۔ اسی سے کسی قوم یا کسی مذہب کے ماننے والوں کا تشخص قائم ہوتا ہے اور برقرار رہتاہے ۔ زیر نظرکتاب’’ لباس اور پردہ‘‘ کا پہلا حصہ لباس ہی کےاحکام ومسائل اور آداب پر مشتمل ہے جو مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف کامرتب شدہ ہے ۔ اور دوسرا حصہ پردہ کےموضوع پر سعودی عرب کے جید عالم دین شیخ صالح العثیمین کا ہے اوراس سلیس ورواں اردو ترجمہ عالمِ اسلام کے ممتاز سکالر محترم جناب ڈاکٹر حافظ عبدالرشید اظہر نے کیا۔ جسے دار السلام نے یکجا شائع کیا ہے۔یہ کتاب اپنے موضوع پر نہایت مفید کاوش ہے اور ایک منفرد اندازکی حامل ہے۔اللہ تعالیٰ مؤلفین وناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوراسے عالمِ اسلام کی سیدات مومنات کےلیے فائدہ مند بنائے