-
A renowned research scholar, the author has looked to hundreds of genealogical tables in order to elicit the actual names of prominent figures of Islam’s infancy who had previously lain unrecognized. Academic debate as to the dates of the Holy Prophet’s birth, death, arrival at Quba and migration to Madina has now been conclusively resolved with mathematical precision. The text contains copious references from the Old and New Testament and the Quran, and casts light on topics such as the appointment of the Caliphate and of the innumerable prophecies in the Jewish and Christian scriptures relating to the life of the Prophet. -
صحیح مسلم امام کی مرتب کردہ شہرہ آفاق مجموعہء احادیث ہے جو کہ صحاح ستہ کی چھ مشہور کتابوں میں سے ایک ہے۔ امام بخاری کی صحیح بخاری کے بعد دوسرے نمبر پر سب سے مستند کتاب ہے۔امام مسلم کا پورا نام ابوالحسین مسلم بن الحجاج بن مسلم القشیری ہے۔ 202ھ میں ایران کے شہر نیشاپور میں پیدا ہوئے اور 261ھ میں نیشاپور میں ہی وفات پائی۔ انہوں نے مستند احادیث جمع کرنے کے لئے عرب علاقوں بشمول عراق، شام اور مصر کا سفر کیا۔ انہوں نے تقریباًتین لاکھ احادیث اکٹھی کیں لیکن ان میں سے صرف7563 احادیث صحیح مسلم میں شامل کیں کیونکہ انہوں نے حدیث کے مستند ہونےکی بہت سخت شرائط رکھی ہوئی تھیں تا کہ کتاب میں صرف اور صرف مستند ترین احادیث جمع ہو سکیں۔ صحیح مسلم کی اہمیت کے پیش نظر صحیح بخاری کی طرح اس کی بہت زیادہ شروحات لکھی گئیں۔ عربی زبان میں لکھی گئی شروحات ِ صحیح مسلم میں امام نووی کی شرح نووی کو امتیازی مقام حاصل ہے۔ -
Sale!
اس وقت آپ کے سامنے صحاح ستہ کی آخری کتاب ’سنن ابن ماجہ‘ کا سلیس اور رواں اردو ترجمہ ہے۔ صحاح ستہ میں سے بخاری و مسلم کی تمام احادیث کی صحت پر محدثین متفق ہیں لیکن بقیہ چار کتب ایسی ہیں جن میں صحیح احادیث کے ساتھ ساتھ ضعیف احادیث بھی شامل ہیں۔سنن ابن ماجہ کو پانچویں صدی ہجری کے آخر میں کتب ستہ میں شمار کیا جانے لگا۔اس کے بعد ہر دور میں یہ کتاباپنی حیثیت منواتی گئی ۔ صحت و قوت کے لحاظ سے صحیح ابن حبان، سنن دار قطنی اور دوسری کئی کتب سنن ابن ماجہ سے برتر تھیں لیکن ان کتب کو وہ پذیرائی اور قبول عام حاصل نہ ہوسکا جو سنن ابن ماجہ کو حاصل ہوا۔’سنن ابن ماجہ‘ کا اسلوب نہایت شاندار ہے اور تراجم ابواب کی احادیث کی مطابقت نہایت واضح ہے۔ کتاب مختصر ہونے کے باوجود احکام و مسائل میں نہایت جامع ہے۔ امام ابن ماجہ نے اپنی سنن میں 482 ایسی صحیح احادیث کا اضافہ کیا ہے جو باقی کتب خمسہ میں نہیں ہیں۔ ’سنن ابن ماجہ‘ کی اسی اہمیت کے افادہ عام کے لیے اسے اردو میں منتقل کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ مولانا نے کتاب کا عمدہ ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہر حدیث سے ثابت ہونے والے فوائد کا بھی متصل تذکرہ کیا ہے۔ تخریج و تحقیق کے لیے حافظ زبیر علی زئی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں انہوں نے ہر حدیث پر اپنی تحقیق کے مطابق حکم لگایا ہے کہ وہ صحیح، حسن یا ضعیف ہے۔ -
ہر دور میں ائمہ دین نے کتاب اللہ کی تشریح وتوضیح کی خدمت سر انجام دی ہے تا کہ عوام الناس کے لیے اللہ کی کتاب کو سمجھنے میں کوئی مشکل اور رکاوٹ پیش نہ آئے۔ سلف صالحین ہی کے زمانہ ہی سے تفسیر قرآن، تفسیر بالماثور اور تفسیر بالرائے کے مناہج میں تقسیم ہو گئی تھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم ، تابعین عظام اور تبع تابعین رحمہم اللہ اجمعین کے زمانہ میں تفسیر بالماثور کو خوب اہمیت حاصل تھی اور تفسیر کی اصل قسم بھی اسے ہی شمار کیا جاتا تھا۔ تفسیر بالماثور کو تفسیر بالمنقول بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں کتاب اللہ کی تفسیر خود قرآن یا احادیث یا اقوال صحابہ یا اقوال تابعین و تبع تابعین سے کی جاتی ہے۔ بعض مفسرین اسرائیلیات کے ساتھ تفسیر کو بھی تفسیر بالماثور میں شامل کرتے ہیں کیونکہ یہ اہل کتاب سے نقل کی ایک صورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے قدیم تفسیری ذخیرہ میں اسرائیلیات بہت زیادہ پائی جاتی ہیں۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ متوفی ۷۷۴ھ کی اس تفسیر کا منہج بھی تفسیر بالماثور ہے۔
-
Sale!Fehmul Quran Assan Arbi Course Writeen By: Aurangzaib Harl Published By: Maktaba Islamia
-
Sahih Namaz e Nabvi Urdu Written by Zubair Ali Zai hafiz Zubair Ali Zai may Allah have mercy on him is one of the influential and influential personalities who influenced Raqim the most after becoming Ahlul-Hadeeth. Become an ideal person. Only those who do not compromise on their principles and stick to what they consider to be the right, regardless of the reproach, deserve to be loved by the people for the sake of Allah and their own. Create an ideal. On the contrary, those ulema who keep changing their thoughts due to expediency, soon lose their value and respect in the eyes of the people. -
Sale!Seerat Rehmatul Lil Alameen k drakhshan pehlu hafiz zubair ali zai available on balagh.pk 499 sale authentic translation and tafsir . Contact 03276333210 Weight :130g Pages:112
-
Sale!shafqaten mery hazoor ki شفقتیں میرے حضور کی by M.azeem hasilpuri now available on balagh.pk 650 SALE Best book of seerat also for kids Contact 03276333210 weight:284g Pages:160
-
Sale!Tafseer ibn e kaseer urdu 5 vol set is a renowned classical Islamic commentary on the Quran, compiled by the prominent medieval scholar Imam Hafiz Ibn Kathir (1301–1373 CE). It is highly respected for its scholarly approach and detailed explanations of the verses of the Quran. Ibn Kathir's tafsir draws on a wide range of sources including hadith (Prophet Muhammad's sayings), statements of early scholars, linguistic analysis, and historical context to elucidate the meanings of the Quranic verses. It remains one of the most widely read and studied commentaries on the Quran in the Islamic world. Ibn Kaseer, also known as Ibn Kathir (full name: Ismail ibn Umar ibn Kathir), was a renowned Islamic scholar and historian born in 1301 CE in Busra, Syria. He is most famous for his exegesis (tafsir) of the Quran, titled "Tafsir Ibn Kathir," which is highly regarded for its comprehensive explanations and interpretations of the Quranic verses. In addition to his tafsir, Ibn Kathir also wrote a significant historical work titled "Al-Bidayah wa'l-Nihayah" (The Beginning and the End), a detailed history of the world from the Islamic perspective, starting from the creation of the universe up to his time. This work covers the lives of prophets, the history of nations, and events in Islamic history up to the 14th century.
-
نبی کریم ﷺ نے اس نماز کو کے تصور نہیں کیا جو طریقت نبوی کے مطابق نہ ہو، لہذا معلوم ہوا کے عمل کی مقبولیت کے لیے اس کا سنت کے مطابق ہونا ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر مکتبہ اسلامیہ نماز مصطفی قارئین کی خدمت میں پیش کررہا ہے جسے نامور اسکالر پروفیسر حافظ عبدالستار حماد نے مرتب کیا ہے۔ اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ اس میں صحیح و حسن احادیث ہی سے استدلال کیا گیا ہے، مکمل تخریج اور ہر بات کا حوالہ منقول ہے۔
-
Sale!
سیرت نبوی ﷺ ایک سدا بہار موضوع ہے۔ ہر عہد میں اس موضوع پر سینکڑوں کتابیں اور رسائل تالیف و تصنیف ہوئے ہیں۔ ہر زبان و ادب میں اس موضوع پر ہر نوعیت کی کتابیں دکھائی دیتی ہیں۔ سیرت کو ابتداء میں مغازی، سیر، شمائل، دلائل معارج اور سوانح کی شکل میں لکھا گیا۔ نظم و نثر دونوں پیرائے اس کے لیے اختیار کئے گئے ہیں۔ نثر میں ناول، ڈرامہ اورفن سوانح کے تمام تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان اصناف ادب میں بھی سیرت نگاری کی کامیاب کوششیں کی گئی ہیں۔
پیش نظر کتاب رسول اکرم ﷺ کی مسکراہٹیں حافظ عبد الشکور صاحب کی سیرت کے موقع پر ایک نادر اور اچھوتی تصنیف ہے۔ سیرت طیبہ کا یہ پہلو عربی کتب میں تو موجود تھا مگر اردو ادب میں اس موضوع پر کوئی خاص تالیف و تصنیف ناپید تھی۔ فاضل مصنف نے ذخیرہ احادیث اور مصدقہ تاریخی واقعات کی قوی شہادتوں سے سیرت طیبہ کے اس موضوع کا کماحقہ ادا کیا ہے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ کسی نادر موضوع کی ضخامت کے پیش نظر غیر مصدقہ روایات اور ضعیف تاریخی واقعات کا سہارا لیا جاتا ے جس سے شاید موضوع میں مصنوعی چاشنی تو پیدا ہو جائے گی مگر احقاق حق اور ابطال باطل کا فریضہ انجام نہیں ہوتا۔ اگر کی اس معیار کو پیش نظر رکھ کر اس تصنیف لطیف کا جائزہ لیا جائے تو فاضل مصنف کی تحقیق کی داد دینا قرین انصاف ہوگا۔
-
Sale!
حافظ عبدالشکور نے سیرت کے ایک بالکل نئے موضوع کو متعارف کرانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ یہ کتاب رسول الله ﷺ کے آنسو کے عنوان سے ترتیب دی گئی ہے، اس کے لئے جو مواد اکٹھا کیا گیا ہے وہ مستند کتابوں کے صحیح حوالہ جات سے سامنے آیا ہے۔ رسول الله ﷺ کی حیات طیبہ کے تمام احوال پر نگاہ ڈالی جائے بالخوص مکی اور مدنی زندگی کے وقائع پر نظر دوڑائی جائے تو احساس ہوتا ہے که آپ ایک قلب گداز کے حامل تھے۔ زندگی کی سخت جانیوں اور مصائب و شد ائد پر آپ ﷺ نے تحمل، بردباری اور حوصلہ مندی کا اظہار فرمایا مگر غم و الم کے وہ فطری جذبات گاہے گاہے آنسوؤں کے ستارے بن کر مژگان رسول ﷺ پر چمک اٹھے اور کبھی رخ انور پر ڈھلک گئے۔ راتوں کی تنہائی میں اور شدائد کے مقابلے میں آپ اپنے مالک کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور دعاؤں کی صورت میں آنسوؤں کی برسات شروع ہو جاتی ہے مگر یہ کیفیت آہ و بکا اس نوعیت کی کسی دوسری منفی شکل کا رخ اختیار نہیں کرتی اور یہی آپ ﷺ کی سیرت کا اعجاز ہے۔
-
Sale!
سیدنا ابراہیم عليه السلام اللہ کے جلیل القدر پیغمبر تھے۔ آپ عليه السلام کا ذکر کثرت سے قرآن کریم میں آیا ہے۔ یہ کتاب سیدنا ابراہیم عليه السلام کی مستند سیرت پر مشتمل ایک منفرد کاوش ہے۔
-
Sale!
زیر نظر کتاب میرے اسلاف مصنف کی وہ تصنیف لطیف ہے جس کی ہر ہر سطر میں اہل علم سے محبت جھلک اور چھلک رہی ہے۔ اس کتاب میں مولانا محمد بکنوی، مولانا عطاء اللہ شہید، علامہ احسان الہی ظہیر، پروفیسر حافظ محمد عبداللہ بہاول پوری، مولانا عبد اللہ گورداس پوری اور مولانا محمد اسحاق بھٹی کے حالات و واقعات قلم بند کیے گئے ہیں۔ یہ چھ وہ محترم شخصیات ہیں جنھوں نے زندگی بھر کتاب و سنت کا علم ہر سو لہرانے کی سعی فرمائی، ان میں سے بعض تو وہ ہیں جنھوں نے بانگ دہل کلمات کہنے کی وجہ سے اپنی جان کا نذرانہ بھی راہ خدا میں پیش کردیا۔ الله تعالی جمیع اسلاف کی تمام تر دینی کاوشوں کو شرف قبولیت بخش کر ان کی نجات کا زریعه بنائے۔
-
فرشتے اللہ کی پاکباز مخلوق ہیں، یہ اہل ایمان سے بڑی محبت رکھتے ہیں، خصوصا انبیاء، شہداء و صلحاء سے۔ فرشتے اذن الہی سے تمام انبیاء اور ان کے اصحاب پر نازل ہوتے رہے۔ جناب محمد ﷺ کے اصحاب سے فرشتوں کا خصوصی تعلق اور پیار تھا کہ ان کیلئے زمین پر آ کران سےسلام لینے، ملاقات و مصافحہ کرنے، خیر و بھلائی میں، جہاد و قتال میں ان کی معاونت کرنے میں فخر محسوس کرتے تھے۔ فرشتوں کا اہل ایمان اور صحابہ کرام سے یہ پیار اصل میں اللہ تعالی کے پیار کی دلیل اور حکم الہی ہوتا تھا۔
-
ایک خاتون کی اصلاح پورے خاندان کی اصلاح کے مترادف ہے کیونکہ عورت ماں، بہن، بیٹی اور بیوی جیسے مختلف روپ میں نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ خواتین کے لیے وعظ ونصیحت کا خاص اہتمام کیا کرتے تھے، اسی طرح متقدمین ومتاخرین محدثین اور علماء نے عورتوں کے احکام و مسائل کو بطور خاص موضوع بنایا، جیسا کہ امام احمد بن حنبل نے احكام النساء کے نام سے ایک جامع کتاب مرتب فرمائی۔ زیر نظر کتاب عورتوں کے دینی مسائل اور ان کا حل بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ نماز، روزہ، زکوة، حج اور ازدواجی زندگی سے متعلقہ مسائل کو آسان فہم انداز میں بیان کیا گیا ہے، جنہیں پڑھ کر ہرعورت بآسانی سمجھ سکتی ہے۔ فاضل مولف ڈاکٹر صالح بن فوزان الفوزان نے بڑے احسن انداز میں خواتین سے متعلق مسائل کو دس فصلوں میں ایک لڑی کی طرح پرو دیا ہے۔ کتاب کے آغاز میں عورتوں کا اسلام میں مقام ومرتبہ ایک اہم موضوع ہے، جو عورتیں احساس کمتری یا اغیار و کفار سے مرعوب ہیں یہ مضمون یقیناً ان کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
-
گزشتہ چند برسوں کے دوران وطن عزیز میں جس انداز سے مغربی تہواروں کو متعارف کرانے کی کوششیں ہورہی ہیں وہ جہاں ہر محب وطن کے لیے کرب ناک ہیں وہاں اسلامی معاشرتی اقدار کے لیے انتہائی خطرناک بھی ہیں۔ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت وطن عزیز کو تباہی کے غار میں دھکیلا جارہا ہے۔ ان تہواروں پر جو طریقہ کار اپنایا جاتا ہے اسے تو نہ ہی دین اسلام گوارہ کرتا ہے اور نہ ہی پاکستانی تہذیب وتمدن میں اس کی کوئی گنجائش ہے۔