-
دین وشریعت کی دعوت اور تفہیم کے لیے بلا مبالغہ لا کھوں کتابیں لکھی گئیں جن سے ہزاروں کتب خانے تیار ہوئے مگر قرآن مجید اور احادیث کے متون کے بعد جو قبولیت کتاب التوحید کو ملی ہے،وہ ایک مسلمہ تاریخی حقیقت بن چکی ہے یہ کتاب بارہویں صدی ہجری کے مجدد کامل امام الدعوۃ محمد بن عبدالوھاب رحمۃاللہ علیہ کے قلم کا شاہکار ہے –ان کی متعدد کتب ورسائل میں یہ ایک گل سرسبد کی حیثیت رکھتی ہے-اس کے مطالعہ سے حقیقت توحید واضح ہوتی ہے عمل کی راہیں کشادہ ہوتی ہیں اور شرک وبدعات کے جھاڑجھنکار ۔۔۔۔ توحید کیا ہے اور اس کے مطالبات کیا ہیں؟اس کتاب کا مطالعہ دینی زندگی کے اس سب سے بڑے اور سنجیدہ سوال کا جواب فراہم کرتا ہے-اس کے مطالعہ سے اس موضوع سے متعلق جملہ اشکالات کا ازالہ ہو جاتا ہے دارالسلام نے اپنے منہج تحقیق کے مطابق بہت سے متون سے ایک مستند متن تیار کرایا، اس کے حوالوں کی تخریج کی اور اردو زبان کے شستہ پرائے اور شگفتہ اسلوب میں اسے قلم بند کیا-اس کتاب اور موضوع کا یہ حق ہے کہ اِسے خود پڑھا جائے اور دوسروں کو مطالعے کے لیے پیش کیا جائے -
تمام انبیاء کرام ایک ہی پیغام اورایک ہی دعوت لےکر آئےکہ لوگو! صرف اللہ کی عبادت کرو او راس کےسوا تمام معبودوں سےبچو۔تمام انبیاء کرام سالہاسال تک مسلسل اس فریضہ کو سرانجام دیتے رہے انھوں نے اس پیغام کو پہنچانےکےلیے اس قدر تکالیف برداشت کیں کہ جسکا کوئی انسان تصور بھی نہیں کرسکتاہے ۔ حضرت نوح نے ساڑے نوسوسال کلمۂ توحید کی طرف لوگوں کودعوت دی ۔ اور اللہ کے آخری رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نےبھی عقید ۂ توحید کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس فریضہ کو سر انجام دیا کہ جس کے بدلے آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علمائے اسلام نےبھی دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ کتاب التوحید مترجم ‘‘ امام محمد بن سلیمان التمیمی کی عقیدہ توحید پر تصنیف شدہ کتاب التوحید کااردو ترجمہ ہےاردو ترجمہ کی سعاد ابو عبداللہ محمد سورتی نے حاصل کی ۔کتاب وسنت سائٹ پرشیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب کی عقیدہ توحید پر مشہور کتاب کتاب التوحیداور اس موضوع پر دیگر کئی کتب موجود ہیں لیکن کتاب ہذا موجود نہ تھی لہذا فادۂ عام او راسے محفوظ کرنے کی خاطر اسے بھی سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے۔
-
ہمارے مقدس پروردگار کو انسانوں کی باہمی محبت بڑی محبوب ہے۔ وہ تفرقے اور آپس کے لڑائی جھگڑے کبھی گورا را نہیں فرماتا۔ اللہ نے بے حد کرم فرمایا کہ سب انسانوں کی رہبری کے لیے اپنے آخری رسول حضرت محمد ﷺ کو معبوث فرمایا اور اُن کی معرفت قران کریم جیسی متاع بے بہا عطا کی۔ قران کریم نے سب انسانوں کو باہمی یگانگت کے رشتے میں جوڑنے کا گر بتا دیا کہ سب انسانوں کا ایک ہی پروردگار ہے۔ اسب کو اسی کی بندگی کرنی چاہیے، اس کی وحد و یکتائی میں کسی کو شریک نہیں ٹھہرانا چاہیے اور اچھے کام کرنے چاہیے۔ `قران کی عظمتیں اور اس کے معجزے` کے زیر عنوان یہ کتاب در حقیقت اسی نصب العین کی تشریح ہے۔ آج دنیا بھر میں جگہ جگہ تفرقے اور تہلکے برپا ہیں۔ دنیا امن اور عزت و راحت کی زندگی کے لیے ترس رہی ہے۔ اُسے یہ نعمت صرف قرانی تعلیمات کی چھاؤں ہی میں نصیب ہو سکتی ہے۔۔۔ یہ کتاب قران کی عظمت و جلالات اور اس کے علوم ومعارف کا جامع تعارف ہے۔ اسے خود بھی پڑھیے اور اپنے عزیز و اقارب اور دوست احباب کو بھی اس کے مطالعے کی دعوت دیجیے۔
-
رب ذوالجلال کا کلام دنیا کے تمام کلاموں سے افضل و اعلیٰ ہے۔ اس کے ماننے والوں کے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے عزت و سرفرازی کا وعدہ فرمایا ہے۔ جب تک مسلمانوں نے اللہ کی اس مضبوط رسی کو محکمی سے تھامے رکھا پوری کائنات پر ان کی فتح مندیوں کا پرچم لہراتا رہا اور جب اس مقدم کلام سے دوری بڑھی تو نہ صرف ان کا اوج ثریا پر پہنچا ہوا وقار خاک مین مل گیا بلکہ مسلمان معاشی لحاظ سے بھی انتہائی پسماندہ ہوگئے۔ جس کا دستِ بخشش رکوٰۃ لیے پھرتا تھا اور کوئی لینے کو تیار نہ ہوتا تھا آج وہی مسلمان قران سے بے رخی کے نتیجے میں دنیا بھر میں کشکول گدائی لیے پھر رہا ہے اور کوئی خیرات دینے کا روادار نہیں۔ مسلمانوں کی عظمتِ رفتہ کی بازیابی کا واحد طریقہ یہی ہے کہ جس کلام کے ذریعے سے عزت ملی تھی اسے مضبوطی سے تھام لیا جائے۔ زیرِ نظر کتاب قران سے دائمی تعلق جوڑنے کے لیے ہی مرتب کی گئی ہے۔ اس میں قران کریم کے تمام حقوق و فضائل پوری شرح و بسط سے بیان کردیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اس کتاب میں قران کریم سے متعلق وہ تمام ضروری فضائل و احکام وضاحت سے بتا دیے گئے ہیں جو آسمانی ادب کی اس آخری کتاب سے آپ کا تعلق مضبوط کر کے آپ کو دنیا و آخرت میں عزت کا تاج پہنا دیں گے۔ -
اس وقت آپ کےپیش نظر ’فتاوی ارکان اسلام‘ ہے۔ اس میں عقائد و عبادات کے بارے میں مخصوص سوالات اورمشکلات کے ایسے جوابات فراہم کیے گئے ہیں، جن سے کتاب و سنت اور ادلہ شرعیہ کا مؤقف واضح ہو کر سامنے آ جاتا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت شاندار ہے، اس کو پڑھنے اور سمجھنے والا ایک خاص علمی اور تحقیقی ذوق محسوس کرے گا۔ عالم اسلام کے ممتاز محقق اور مفتی علامہ محمد بن صالح العثیمین کو اللہ تعالیٰ نے علمی رسوخ اور زہد و تقویٰ کی جیسی خوبیوں سے نوازا تھا۔ انہوں نے فتاویٰ کی مختصر مگر جامع کتاب میں عقائد و عبادات پر عامۃ المسلمین کے اذہان میں پیدا ہونے والے تمام تر امکانی سوالوں کے ادلہ شرعیہ کی روشنی میں ایسے محکم، مدلل اور دلنشیں جوابات مرحمت فرمائےہیں کہ جن سے قلب ونظر کو طمانیت اور ذوق عمل میں یقین کا عنصر شامل ہو جاتا ہے۔ کتاب کا اردو ترجمہ مولانا محمد خالد سیف نے کیا ہے جو نہایت سلیس اور جاندار ہے اور کسی بھی موقع پر یہ احساس نہیں ہوتا کہ فتاوی جات اصل میں عربی میں تھے۔ -
قیامت کےمردوں کی طرح عورتیں بھی اپنے اعمال کے لیے جوابدہ ہوں گی اس لیے ہماری محترم ماوًں،بہنوں،اوربیٹیوں کو زندگی کےہرمرحلے میں اپنی ضروریات اور معاملات کی انجام دہی کے لیےدینی احکام اور ہدایات سے پوری طرح باخبر رہنا چاہیے یہ کتاب آگہی کا مقصد بخوبی پورا کرتی ہےاسی لیے یہ زیادہ توجہ اور تکریم کی مستحق ہے مختلف گھرانوں کی خواتین کوخانگی زندگی کےنشیب وفرازمیں بہت سی الجھنیں اورمسائل پیش آئے۔انھوں نےرہنمائی حاصل کرنے کے لیے سعودی عرب کے اجل علمائے کرام سے رجوع کیا تو ان رجال کبارنے قرآن و سنت کی روشنی میں فتوے جاری فرمائے – یہ کتاب انھی بیش بہا فتووں کا مجموعہ ہے اس میں ان تمام مشکلات اور مسائل کادینی حل آسان الفاظ میں بتا دیا گیا ہے جو ہماری محترم خواتین کو وقتاً فوقتاً پیش آتے رہتے ہیں اکثر خواتین حیا کے بوجھ سے دبی رہتی ہیں –دل کی بات زبان پر نہین لاتی –اس طرح ان کہے سوالات اور نازک مسائل ان کے دل ودماغ میں چکر کاٹتے رہتے ہیں ایسی خواتین اس کتاب کاخاص طور پر مطالعہ فرمائیں-انشاءاللہ! انھیں قرآن وحدیث کی روشنی میں اپنے تمام مسائل کا تسلی بخش حل اور ہر سوال کا شافی جواب مل جائے گا -
عیسائیت ،تجزیہ ومطالعہ اپنے موضوع پر ایک بہترین کتاب ہے جس میں عیسائیت کی تعلیمات کو بڑی تفصیل کے ساتھ پیش کرتے ہوئے اسلامی تعلیمات کے ساتھ موازنہ پیش کر کے عیسائیت کو دین اسلام کی دعوت دی گئی ہے اور کتاب کا ہر صفحہ دلائل کا انبار لگائے عیسائی دنیا کو راہ ہدایت کی طرف پکار رہاہے-مصنف نے اپنی کتاب میں عیسائیت کے سارے چنیدہ مسائل کو زیر بحث لاکر ان کی حقیقت کو واضح کیا ہے-جیساکہ عقیدہ ابنیت،عقیدہ تثلیث، عقیدہ کفارہ اور اس کے ساتھ ساتھ عیسی علیہ السلام کی پیش کردہ تعلیمات کی روشنی میں مذہب عیسائیت کی اصلاح کی کو شش کی گئی ہے اور یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کہ کوئی بھی انصاف پسند عیسائی اس کے مطالعے کے بعد اپنی اصلاح کیے بغیر نہیں رک سکتا-اسی طرح سے عیسائیت کو تقویت کس طرح دی گئی اور جدید عیسائیت کا بانی کون ہے ؟اور اسی طرح سے دنیا میں رائج مختلف اناجیل وغیرہ کی تاریخ اور تحقیقی حیثیت کیا ہے؟ایسے موضوعات پر مدلل اور مصلحانہ انداز سے روشنی ڈالی گئی ہے-مکتبہ دارالسلام نے اس کتاب کی اہمیت کے پیش نظر اسے عربی،اردو اور انگریزی زبانوں میں شائع کیا ہے اور دنیا میں پائی جانے والی دیگر زبانوں میں بھی اس کتاب کو شائع کرنے کی امید ہے- -
Sale!
مذہب، ادب، سیاست، عدالت، تجارت، معاشرت اور علم و ہنر غرضیکہ ہر شعبہ زندگی میں ہمارے رہنما صرف حضرت محمد ﷺ ہیں۔ آپ کی زندگی اللہ تعالیٰ کی والہانہ محبت، اطاعت اور استقامت کی نہایت ایمان پرور اور ولولہ انگیز داستان ہے۔ آپ ﷺ نے کفر و شرک اور ظلم و جفا کی صدیوں پرانی زندگی کا طلسم توڑا۔ رنگ، نسل ، ذات پات اور دولت و ثروت کے جھوٹے امتیازات ختم کیے۔ انسان کو اللہ رب العزت کی عظمت و کبریائی کا سبق سکھا کر اجتماعی زندگی کی بنیاد توحید ، اخوت اور مساوات پر رکھی اور بنی نوع انسان کو شرافت اور امن دوستی کی اعلیٰ اقدار کا پیغام دیا۔ آج کا انسان رحمت للعالمین ﷺ کی تعلیماتِ عالیہ کا پیاسا ہے۔ آیئے ہم خوب بھی اللہ کے آخری رسول حضرت محمد ﷺ کی پیروی کریں اور اپنے بچوں کو بھی اسوہ حسنہ کے اُجالوں سے روشناس کرائیں۔ یہ کتاب اسی مقصد سے شائع کی جا رہی ہے کہ ہمارے نونہال ابھی سے سیرتِ نبوی سے روشنی حاصل کریں اور دنیا کو معصیت، حرص و ہوس اور ظلم و جور کی آلودگی سے نجات دلانے کے لیے سرگرمِ عمل ہوجائیں۔ اس غایت سے ہر بچے اور بچی کے لیے اس کتاب کا مطالعہ آج کی اولین ضرورت ہے
-
کسی قوم، معاشرے یا فرد کی کامیابی اور ناکامی کا دارومدار اس کے عقائد و نظریات پر ہوتا ہےقطع نظر اس کے وہ عقائد و نظریات صحیح ہیں یا غلط، جو قوم اپنے نظریات و افکار میں پختہ ہو وہی کامیاب ہوتی ہے۔ اگر عقائد و نظریات مستحکم اور صحیح ہوں تو دین و دنیا دونوں کی کامیابی مقدر ٹھہرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام انبیائے کرام نے سب سے پہلے لوگوں کے عقائد و نظریات کی اصلاح کی اور اسلام نے بھی عقائد پر بہت زور دیا ہے اور پختہ عقائد کے بغیر اسلام کو نفاق کے درجے میں رکھاہے۔ عصرِ حاضر کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے علمائے ربانی نے اسلام کے بنیادی عقائد و نظریات کے حوالے سے بے شمار کتابیں تحریر کی ہیں۔ زیر نظر کتاب، عالم عرب کے معروف قلم کار فضیلۃ الشیخ عبداللہ بن عبدلحمید اثری کی تالیف `الوجیز فی عقیدۃ السلف الصالح` کا اردو ترجمہ ہے۔ اس کتاب میں عقیدے کی تعریف و توضیح کے علاوہ 11 بنیادی اصول ذکر کیے گئے ہیں جن کا جاننا اہل اسلام کے لیے نہایت ضروری ہے۔ عقیدہ توحید اور ایمانیات کے مسائل کو صحابہ کرام ، تابعین اور محدثین کے فہم کی روشنی میں واضح کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب سادہ اور عام فہم ہے جو علماء، طلبہ اور عوام الناس کے لیے یکساں مفید ہے۔ -
بانی مملکت سعودی شاہ عبد العزیز بن عبد الرحمن آل سعو د 1886ء میں پید اہوئے ۔والدین نے ان کی تعلیم وتربیت کا بہترین انتظام کیا قرآن پاک اور ابتدائی دینی تعلیم الشیخ قاضی عبد اللہ ا لخرجی او راصول فقہ اور توحید کی تعلیم الشیخ عبد اللہ بن عبدالطیف سے حاصل کی ۔ جب گیارہ برس کے ہوئے تو شرعی علوم پر بھی مکمل دسترس حاصل کرچکے تھے ۔ریاض پر الرشید کے غلبہ کی وجہ سے شاہ عبدالعزیز اپنے والد گرامی کے ہمرا کویت چلے گئے۔شاہ عبد العزیز وہاں اپنے خاندان پر گزرنے والی مشکلات کے بارے میں سوچا کرتے تھےکہ ان کے والد کس طرح کویت میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے ۔ وہ ہمیشہ اپنے ملک کے بارے میں پریشان رہتے۔اس کی تعمیر وترقی کا خواب دیکھتے رہتے تھے ۔شاہ عبدالعزیز کے والد نے ان کی سیاسی تربیت اسے انداز سے کی کہ وہ لوگوں سے کامیابی کے ساتھ مکالمہ کرسکیں۔شاہ عبد العزیز نے اپنے والد گرامی کےسائے میں کویت میں صبرو سکون کے بڑی منطم زندگی گزاری۔انہوں نے 1902 میں اپنے چالیس جانثار کو ساتھ لے کر ریاض پر حملہ کر کے ریاض کو الرشید کے قبضہ سے آزاد کروایا ۔ جس سے مملکت سعودی عرب کا آغاز ہوا اور پر تھوڑے عرصہ میں پورے سعودی عرب پر شاہ عبد العزیز نےعدل وانصاف پر مبنی حکومت قائم کی ۔شاہ عبدالعزیز نے تیس سال تک مسلسل جدوجہدکی اور اپنی مملکت کی سرحدوں کو وہاں تک پہنچایا جوان کے آباؤ اجداد کے وقت میں تھیں۔ان کی کوششوں سے سعودی عرب صحیح اسلامی مملکت کے طور پر نمایا ں ہوا۔جس کی وجہ سے اللہ تعالی نے ان کو تیل کےذریعے دولت کی فراوانی سے مالامال کیا۔ غلبۂ اسلام کے لیے شاہ عبدالعزیز کی خدمات قابل تحسین ہیں ۔73سال کی عمر میں 1953ءکو طائف میں وفات پائی ۔ زیر نظر کتاب بحر اللہ ہزاروی کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے شاہ عبد العزیزبن عبد الرحمن آل سعود کی بچپن سے جوانی اور سعودی عرب میں اسلامی حکومت قائم کرنے کے تفصیلی حالات کوبڑے احسن انداز میں تحریر کیا ہے ۔ کتاب کے مصنف نے طویل عرصہ سعودی عرب میں پاکستان کےسفارتی مشن میں خدمات انجام دیں اور 1993ء میں جامعہ کراچی سے ’’مملکت سعودی عرب میں اسلامی نظام اور عالم اسلام پر اس کے اثرات‘‘ کےعنوان پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔سعودی عرب کی تاریخ اور آل سعود کے حالات وواقعات جاننے کےلیے یہ ایک منفرد کتاب ہے ۔ اللہ تعالی حکام سعودیہ کو دین حنیف کی خدمت کرنے اور اس پر قائم رہنے کی توفیق دے -
آج کے اس پُر فتن دور میں جبکہ نوجوان نسل بتدریج اسلام سے دور ہو رہی ہے، اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو اپنے اسلاف کی سیرت پڑھائیں، نوجوان نسل کو بتائیں کہ ان کے اخلاق و کردار کیسے تھے اور انھوں نے اسلام کے لیے کتنی قربانیاں پیش کیں۔ `رجالِ قران` کے فاضل مؤلف ڈاکٹر عبدالرحمٰن عمیرہ کا اسلوب بیان بڑا عمدہ ہے۔ انھوں نے بلکل کہانی کے انداز مین ان صحابہ کرام کی سیرت اس کتاب میں بیان کی ہے جن کے بارے میں قران کریم میں آیات نازل ہوئی ہیں۔ انھوں نے اس کتاب میں صحابہ کرام ہی نہیں بلکہ ان کفار اور منافقین کے بارے میں بھی پوری تفصیل کے ساتھ لکھا ہے جن کے بارے میں قران نازل ہوا، کتاب میں موجود واقعات تاریخ کی مستند کتابوں سے نقل کیے گئے ہیں۔ ان واقعات اور صحابہ کرام کی مبارک زندگیوں میں ہمارے لیے دروس موجود ہیں۔
-
دعوتِ حق کیا ہے؟ اس کی تفصیلا ت قران مجید کی آیات مقدسہ اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث مبارکہ میں موجود ہیں۔ ان کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ کتاب الہٰی کا مرکزی مضمون توحید اور دوعوت دین ہے جسے نبی کریم ﷺ نے اس قدر کاملیت اور جامعیت سے پیش کیا کہ آپ دین حق کے داعئ اعظم ہی کی حیثیت سے ہمارے سامنے آتے ہیں۔ حق یہ ہے کہ دعوت الی اللہ ہی وہ مقدس نصب العین ہے جسے آپ نے امت مسلمہ کے سپرد کیا ہے۔ امت مسلمہ اس دعوت حق کے تقاضوں کو کیسے جان سکتی ہے اور اس کے داعیوں میں وہ معیاری، داعیانہ صفات کیسے پیدا ہو سکتی ہیں؟ اس مختصر سی کتاب کا اصلی موضوع یہی ہے۔ دعوت دین اور داعیان حق کی صفات پر ہمارے اسلاف نے بہت عظیم الشان لٹریچر تیار کیا ہے۔ یہ مختصر او ر جامع کتاب اس پورے لٹریچر کا احاطہ کرتی ہے۔ اس کے مطالعے سے مقصد زندگی کا شعور اُبھرتا اور اس کے تقاضوں کو بروئے کار لانے کی بصیرت پیدا ہوتی ہے۔
-
محسن انسانیت حضرت محمدﷺ نے خواتین پر عظیم احسان فرمایا۔ انھیں قعر مذلت سے نکال کر گھر کی ملکہ بنایا۔ ماں کی حیثیت سے عورت کو اتنی عظمت بخشی کہ اس کے قدموں تلے جنت کی بشارت دی۔ بہن کی دلجوئی اور قدر شناسی کا سبق دیا اور بیٹی کو شفقت و مرحمت کا مرجع بنا دیا۔ مسلمانوں کے زوال کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انھوں نے عورت کی عظیم اور اس کے حقوق کی پاسبانی کا وہ سبق بھلا دیا جس کی تعلیم اسلام نے التزام کے ساتھ دی ہے۔ یہ کتاب اسی سبق کی یاد دہانی کے لیے شائع کی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اسلامی معاشرے میں عورت کا کیا درجہ ہے۔ ایک مسلمان مرد کو کن اوصاف کی عورت سے شادی کرنی چاہیے۔ بیوی سے کتنی نرمی اور نوازش سے رہنا چاہیے۔ خدانخواستہ ناچاقی ہو جائے تو کیا کرنا چاہیے۔ نکاح، مہر، خلع، طلاق اور عدت کے احکام کیا ہیں۔ حلالہ کتنی گھناؤنی لعنت ہے۔ بیوائیں کیسے حسن سلوک کی مستحق ہیں اور خواتین کو وراثت میں کتنا حصہ ملنا چاہیے۔ فی الجملہ یہ کتاب ایک مسلمان خاتون کے حقوق و فرائض کی مکمل دستاویز ہے۔ معاشرے میں عصمت و طہارت کے تحفظ اور پاکیزگی کا نور پھیلانے کے لیے اسے خود بھی پڑھیے اور اپنے عزیز و اقارب کو بھی اس کے مطالعے کی دعوت دیجیے ۔
-
بچہ پیدا ہوتے ہی اپنے اردگرد کے انسانوں کی عادات و اطوار، زبان، سوچ اور عمل اپنانا شروع کردیتا ہے۔ کردار و عمل کے جیسے نمونے اس کے سامنے ہوتے ہیں، اس کی شخصیت ان کے مطابق ڈھلتی چلی جاتی ہے۔ عمر بڑھتی ہے تو وہ کسی نہ کسی کو مثالی شخصیت (ہیرو) قرار دے کر اس کے سانچے میں ڈھل جانا چاہتا ہے۔ اسلام یہ کہتا ہے کہ اپنا ہیرو عام آدمی کو نہ بناؤ بلکہ خوبی اور جمال کی تصوریں دیکھو۔ عظیم ترین خوبی، کامرانی، حسنِ اعتقاد اور حسنِ عمل کا سب سے زیادہ خوبصورت پیکر امام الانبیاء حضرت محمد ﷺ ہیں۔ بس انھی کو اپنا رہبر مانو، انھی کو دیکھو، انھی کی سیرت کا مطالعہ کرو اور انھی جیسے پیارے پیارے کام کرو۔۔۔ یہ کتاب اللہ کے برگزیدہ پیغمبروں، خاص طور پر حضرت محمد ﷺ کے فکر و عمل کے درخشاں نقوش سے مزین ہے۔ آسان، شگفتہ اور شستہ۔ خودبھی اس کا مطالعہ کریں اور اپنی نئی نسل کو بھی اس کی ترغیب دیں۔ امید ہے حسنِ فکر و عمل کا گلشن کِھلے گا۔ نئی نسل پاکیزہ ترین راستوں کو اپنا کر اپنی اور آپ کی زندگیوں کو سکون اور اطمینان سے معمور کر دے گی۔ -
اسلام کی اشاعت کے لیےعلماء کاکردار بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ جنہوں نے اپنی تحریر و تقریر سے عامۃ الناس میں علمِ دین کو پھیلایا اور علم و عرفان کی قندیلیں ابھی تک جلا رے ہیں۔ علماء ہی انبیاء کے وارث ہیں کہ جنہوں نے نبوی مشن سنبھالتے ہوئے شریعت کےعلم کو دوسرےلوگوں تک پہنچانا ہوتاہے۔ شرعی مسائل اور اخلاقی شرعی رہنمائی کے لیے علماء کے قرآن و سنت اور آثار صحابہ سے اخذ کردہ مسائل عامۃ الناس کے لیے انہیں دین کے فہم میں آسانی فراہم کرتے ہیں۔ اور خطبات کے ذریعے عوام الناس کی دینی رہنمائی کرتے ہیں۔ علمائے کرام کے مجموعہ خطبات کےحوالے سے کئی مجموعات شائع ہوچکے ہیں۔ ان میں سے اسلامی خطبات از مولانا عبدالسلام بستوی ، خطباتِ محمدی از مولانا محمد جونا گڑھی ،خطبات ِنبوی از مولانا محمد داؤد راز، خطاب سلفیہ، خطبات آزاد، خطبا ت بہاولپور ی خطبات علامہ احسان الٰہی ظہیر، خطبات یزدانی، خطبا حرم، مواعظ طارق ،زاد الخطیب، اور فاضل نوجوان مولانا عبد المنان راسخ کے خطبات وغیرہ، قابلِ ذکر ہیں۔ اور عربی زبان میں خطباء واعظین حضرات کے لیے 12 ضخیم مجلدات پر مشتمل ’’نضرۃ النعیم ‘‘انتہائی عمدہ کتاب ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ خطبات حرم ‘‘امام کعبہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمن السدیس کے بیت اللہ میں دیے گئے خطبات جمعہ میں سے منتخب خطبات ’’ کوکبۃ الکوکبۃ‘‘کا اردو ترجمہ ہے۔ ان منتخب خطبات کو نہایت خوبصورت سلیس اردو میں پیش کرنےکا اعزاز دار السلام نے حاصل کیا ہے۔ تعمیر سیرت کےلیےان پُر تاثیر خطبات کا مطالعہ ہر فرد وبشر کی ضرورت، مردوں او رعورتوں کے لیے ذریعہ ہدایت اورواعظین واساتذہ کرام کے لیے گنجینہ افادیت ہے۔ -
زندگی کی برف دم بدم پگھل رہی ہے۔ اجل ہر آن سر پر کھڑی ہے۔ مگر ہم اس اٹل حقیقت کو بھول کر دنیا کی فنا پذیر زندگی کے عشق میں گم ہیں۔ اللہ رب العزت اس دھوکے سے نکال کر ہمیں دوزخ سے بچانا اور جنت کے سدا بہار باغوں میں بھیجنا چاہتا ہے۔ اس غرض و غایت سے اللہ تعالیٰ نے زندگی کے ہر گوشے کے بارے میں واضح احکام دیے ہیں۔ بعض امور کی ترغیب دی ہے اور کچھ باتوں کی ممانعت فرمائی ہے۔ شرک سےبڑی سختی سے روکا ہے اور توحید کے تقاضوں پر ہر آن عمل کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔ جھوٹ، ظلم، سفاکی ، ناپاکی اور حق تلفی سے منع کیا ہے ۔ اور سخاوت، عدل اور انسانیت کی بھلائی کے کام کرنے کا حکم دیا ہے۔ زیرِ نظر کتاب انھی بیش قیمت باتوں کا دلکش مجموعہ ہے۔ نامور سعدی عالم شیخ عبداللہ بن جاراللہ نے قران کریم اور رسالت مآب ﷺ کی احادیث سے وہ تمام باتیں چن چن کر یک جا کردی ہیں جو دوزخ سے نجات اور جنت میں داخلے کی ضامن ہیں۔ دارالسلام یہ گرانمایہ کتاب ایمان کی مضبوطی اور حسن عمل کے فروغ کے لیے شائع کر رہا ہے۔ یہ کتاب جنت میں داخلے کی دستاویز ہے۔ اسے پڑھیے اور اپنی اخروی نجات کے لیے اس کی تعلیمات پر سچے دل سے عمل کیجیے ۔ -
اخروی نجات ہر مسلمان کا مقصد زندگی ہے جو صرف اور صرف توحید خالص پرعمل پیرا ہونے سے پورا ہوسکتا ہے۔ جبکہ مشرکانہ عقائد واعمال انسان کو تباہی کی راہ پر ڈالتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم نے مشرکوں کے لیے وعید سنائی ہے ’’ اللہ تعالیٰ شرک کو ہرگز معاف نہیں کرے گا او اس کے سوا جسے چاہے معاف کردے گا۔‘‘ (النساء:48) لہذا شرک کی الائشوں سے بچنا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے ۔اس کے بغیر آخرت کی نجات ممکن ہی نہیں ۔ حضرت نوح نے ساڑے نوسوسال کلمۂ توحید کی طرف لوگوں کودعوت دی ۔ اور اللہ کے آخری رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نےبھی عقید ۂ توحید کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس فریضہ کو سر انجام دیا کہ جس کے بدلے آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علمائے اسلام نےبھی عوام الناس کوتوحید اور شرک کی حقیقت سےآشنا کرنے کےلیے دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔اس کتاب میں مصنف نے توحید وشرک کی حقیقت کو سادہ اور دل نشیں الفاظ میں بیان کردیا ہے ۔ اوراللہ تعالیٰ کے بارے میں مذاہب باطلہ کا تصور پیش کرنے کےبعد سفارش کی حقیقت بیان کی ہے او راس ضمن میں قرآنی حقائق سے استشہاد کیا ہے ۔ حضرت نوح ، اصحاب کہف اور عزیر کے قصوں اور قرآنی آیات سے خالص توحید کو اجاگر کیا ہے ۔ انہوں نے وسیلے کی حقیقت اوراسے اختیار کرنےکا طریقہ انبیائے کرام کی پاکیزہ سیرت کی پیروی میں دکھایا ہے ، نیز قرآن کریم کی روشنی میں معجزہ اور کرامات کی حقیقت کھول کر بیان کردی ہے ۔اسے کھلے دل ودماغ سے پڑھنے والا شرک اوراس کے تمام مظاہر سے بچ کر خلوص دل سے توحید الٰہی کوحرزِ جاں بنائے گا تو دنیا اورآخرت میں یقیناً فوز وفلاح کا مستحق ٹھرے گا ۔ زیر نظر ایڈیشن کتاب ’’ توحید او رہم ‘‘ کا نیو ایڈیشن ہے اسے دورنگوں میں قرآنی آیات کی خوبصورت کتابت کےساتھ شائع کیاگیا ہے ۔نیز تخریج اور تنقیح کا اہتمام کرنےک ساتھ ساتھ چند ایک ضعیف احادیث خارج کر کے ان کی بجائے صحیح احادیث درج کی گئی ہیں ۔اللہ تعالیٰ مصنف وناشرین کی کاوش کو قبول فرمائے۔ (آمین)
-
خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی دعوتِ توحید نے ایک دوسرے کے دشمن عرب قبائل کو متحد کر کے ساری دنیا کا امام بنا دیا تھا۔ پھر صدیوں کی گردشوں کے بعد ایسا زوال آیاکہ مسلمان دنیا طلب اور راحت کو ش بن گئے۔ قران و سنت کی صراطِ مستقیم سے دور جا پڑے۔ تاریخ کے جبر کا شکار ہوگئے ۔ شرک و بدعت کی خندق میں گر گئے۔ ان کی ملی وحدت پارہ پارہ ہوگئی ارو وہ وحدہ لا شریک کی بجائے قبروں اور آستانوں کو پوجنے لگے۔ رحمت پروردگار پھر جوش میں آئی۔ باروہیں صدی ہجری میں سرزمین عرب ہی میں رسول اللہ ﷺ کا ایک ایسا فدائی پیدا ہوا جس نے اپنے ایمان و یقین ، سوز باطن اور عمل پیہم سے قبروں اور آستانوں پر جھکی ہوئی پیشانیوں کو اٹھایا اور توحید ربانی کا درس دے کر ان کی مردہ رگوں میں زندگی کی نئی روح پھونک دی۔ توحید کے اس فدائی، رسول اللہ ﷺ کے شیدائی اور دین قیم کے اس سپاہی کو دنیا امام محمد بن عبدالوہاب کے نام نامی سے جانتی ہے۔ یہ کتاب اسی جلیل القدر ہستی کے سوزِ باطن، فکر و نظر اور دعوت و تبلیغ کی سر گزشت ہے۔ امام موصوف کی دعوتِ توحید کو قبول عامہ نصیب ہوا تو سامراجی طاقتیں اور ان کے پٹھو علمائے سو چراغ پا ہوگئے اور انھوں نے اس دعوت حق کو بدنام کرنے کے لیے اسے `تحریکِ وہابیت` کہنا شروع کردیا۔ فاضل مصنف نے مستند تاریخی حوالوںاور محکم دلائل و براہین سے اس تہمت کا پول کھول دیا ہے اور یہ حقیقت اجا گر کردی ہے کہ امام محمد بن عبدالوہاب کی تحریک کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ امت مسلمہ شرک و بدعت سے کٹ کر اور ہر طرف سے ہٹ کر صرف قران و سنت کی طرف پلٹ آئے۔ یہ کتاب توجہ سے پڑھیے۔ آپ کو یوں محسوس ہوگا جیسے تاریخ آپ کے روبرو سانس لے رہی ہے۔ -
انسان کی خصلت ہے کہ وہ نسیان سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کے تحت وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے۔ بہترین انسان وہ ہے جسے گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے ۔ اگر اس نے توبہ نہ کی تویہ غلطی اس کے خالق ومالک کو اس سے ناراض کردے گی۔ اس سےاپنے معبود ومالک کی ناراضگی کسی صورت بھی برداشت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ کریم کے دربار میں حاضر ہوکر گڑگڑاتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے کا پکا عزم کرتےہوئے توبہ کرتا ہے کہ اے مالک الملک اس مرتبہ معاف کردے آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔گناہ کے بعد ایسے احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ جب کہ اس جہاںمیں کئی ایسے بدنصیب سیاہ کار بھی ہیں جن کوزندگی بھر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا مالک ان سے ناراض ہوچکا ہے اور وہ ہیں کہ دن رات گناہ کرتے چلےجاتےہیں اور رات کوگہری نیند سوتے ہیں یا مزید گناہوں پر مبنی اعمال میں مصروف رہ کر گزار دیتے ہیں۔جبکہ اللہ کریم اس وقت پہلے آسمان پر آکر دنیا والوں کوآواز دیتا ہے کہ: اے دنیاوالو! ہےکوئی جو مجھ سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرے ... ہے کوئی توبہ کرنے والا میں اسے ا پنی رحمت سے بخش دوں. زیر تبصرہ کتاب ’’توبہ۔۔۔ فضائل و احکام اور سچے واقعات‘‘ پاکستان کے نامور دینی سکالر مولانا محمد خالد سیف﷾ کی تصنیف ہے ۔انہوں نے اس کتاب میں عام فہم شگفتہ اسلوب میں توبہ کے معانی ومفاہیم اجاگر کیے ہیں ۔ توبہ کی ضرورت اوراہمیت کا احساس دلایا ہے توبہ کی شرائط بتلائی ہیں۔ توبہ کے تمام احکام اور مسائل نہایت تفصیل سے بتائے ہیں۔ قرآن کریم اور احادیث نبویہ ﷺ کے حوالوں سےثابت کیا ہے کہ توبہ ہی دین کی اصل حقیقت ،انبیائے کرام کا وظیفۂ خاص اور فوز وفلاح کا ابدی سرچشمہ ہے مصنف موصوف نے حضرت آدم ،حضرت نوح، حضرت موسیٰ اور حضرت یونس کی توبہ کے واقعات کے علاوہ صحابۂ کرام کی توبہ کےاحوال نہایت اثر انگیز پیرائے میں بیان فرمائے ہیں ۔انہوں نے ہر صاحب ایمان کو ترغیب دی ہے کہ وہ توبہ استغفار کا خاص اہتمام اورالتزام کریں۔ اللہ رب العزت نہایت کریم اور رحیم ہے جو شخص گناہوں سےباز رہنےکا پکا ارادہ کرکے سچی توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے معاف فرمادیتا ہے ۔یہ کتاب اپنے موضوع پر منفرد اہمیت کی حامل ہے ہر مسلمان مرد اور عورت کو نہایت توجہ سے پڑھنی چاہیے ان شاء اللہ اس سے توبہ کی توفیق ملےگی دل کی دنیا بدلے گی ، قدم صراطِ مستقیم پر چل پڑیں گے۔ اوران تمام مصائب ومکروہات کا خاتمہ ہوجائے گا۔ جنہوں نے آج ہمیں اپنا ہدف بنا رکھا ہے -
پُراَسرارحقائق تکلیف یادکھ سے دو چارانسان کی کبھی کبھی کوئی راستہ نہیں ملتا، کوئی علاج اس کی سمجھ میں نہیں آتا۔ مشورہ دینے والے اسے جادو، آسیب اورنظربد کا نام دیتے ہیں۔ پریشانی کے عالم میں وہ معاشرے میں ناسور کی طرح پھیلے ہوئے شعبدہ بازوں، بازی گروں اورنام نہادعاملوں کی چوکھٹ پہ اپنی مشکل کا حل ڈھونڈنے کے لیے جاپہنچتا ہے۔ جس کی جیب اجازت نہ دے، وہ بازار میں بکنے والےتعویذوں، مجربات اورپراسرارعلوم پرمبنی کتب میں اوٹ پٹانگ عملیات، مجرب نسخے اور نقیش آدمی کو سراسرگمراہی کی طرف لے جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کا ایمان بھی خطرے میں پڑجاتاہے۔ شایدہمیں یاد نہیں رہا کہ اسلام دین فطرت ہے۔ اس نے زندگی کے ہرمعاملے میں ہماری رہنمائی کی ہے۔ جنات اور جادو کے حوالے سے قرآن کریم اور احادیث مباکہ میں ہمارے لیے مکمل رہنمائی موجود ہے۔، بات صرف رجوع کرنے کی ہے۔ `پراسرارحقائق` قرآن و حدیث میں بتائے گئے طریق علاج پر مبنی ہے۔ بازاروں میں بکنے والی گمراہ کن کتب سے بچنے اور قرآن و حدیث کی روشنی میں صحیح علاج لے لیے یہ کتاب ازحدمفید ہے۔
-
پيغمبررحمت اللہ تعالی نےانسان کوعقل و شعور سے نوازا ہے۔عقل کو اگر شتر بے مہار کی طرح آزاد چھوڑ ديا جائے اوراسے خاص حدود وضوابط کا پابندنہ بنايا جا ئے تو وہ فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بنتی ہے۔اسی ليے نے بنی نوع انسان کی رہنمائی کے ليےانبياء ورسل کا سلسہ جاری فرمايا۔ہرعہداورہرعلاقےميں انبياٰءآتےاورفريضہ تبليغ ودعوت اداکرتےرہے تاآنکہ وحی ورسالت کا زريں سلسلہ نبی عربی محمدرسولﷺپرختم کرديا۔اب قيامت تک آنےوالےانسانوں کےليےآپ ہی اللہ کی طرف سے ہادی و رہنما ہيں۔آپ ہی کی بتلائ ہوئ تعليمات وہدايات انسانيت کی نجات اور ابدی سعادت وخوش بختی کا واحد ذريعہ ہيں۔ان سےاعراض وگريزکرتےہوۓ محض اپنی عقل پر انحصارکرکےانسانيت قعرمزلت ميں توگرسکتی ہےليکن امن وسکون،عافيت وراحت اورابدی نجات سے ہم کنارنہيں ہوسکتی
-
طاغوتی طاقتوں کو پکا یقین ہے کہ غلبہ اسلام کو مہلت ہتھیاروں کے وحشیانہ استعمال کے باوجود بھی نہیں روکا جا سکتا، اس لیے انھوں نے سازش کی راہ اختیار کی۔ اسلامی تہذیب و اقدار میں نقب لگانے کے لیے عورت کو وسیلہ بنا لیا۔ عورت کا تقدس پامال کیا۔ اسے خاتون خانہ کے مقدس مقام سے اُٹھایا اور شمع محفل بنا دیا۔ ملال یہ ہے کہ مغربی تہذیب کے دلدادہ بعض نام نہاد روشن خیال اور ترقی پسند مسلمانوں نے بھی عورت کی آزادی کا پرچار شروع کر دیا اس طرح حجاب اور نقاب کی بندشیں ٹوٹنے لگیں اور بے پردگی عام ہونے لگی۔ اس طرز عمل کے مہلت مضمرات کا ادراک کرتے ہوئے دارالسلام نے عورت کے اصل زیور `حیا` کے احیا و تحفط اور پردے کی اہمیت اُجاگر کرنے کے لیے فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین ؒ کی کتاب `پردہ` کی اشاعت کا اہتمام کیا ہے۔ اس کتاب کا ایک ایک حرف یہ حقیقت عیاں کرتا ہے کہ یہ صرف اسلام ہی ہے جو عورت کی عزت و حرمت کا سب سے بڑانگہبان ہے اور بے حجابی و بے حیائی کا قلع قمع کرتا ہے۔ یہ کتاب ہر مسلمان خاص طور پر ہماری محترم خواتین کو ضرور پڑھنی چاہیے۔ اس سے ان پر پردے کی ضرورت و اہمیت اور فضائل و برکات پوری طرح آشکار ہو جائیں گے۔ -
صلاح الدین علی عبدالموجود ایک نامور عرب مصنف ہیں جنھوں نے مسلمانوں کی نئی نسل کے سامنے صحابہ، محدثین اور اجل علما کی سیرتیں نئے اسلوب سے پیش کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے تاکہ وہ ان کے اوصاف کو اپنے کردار و عمل میں اجاگر کر سکیں۔ ’سیرت سفیان بن عیینہ‘ اس سلسلے کی ایک اہم کتاب ہے جس میں علم حدیث کے امام، یگانہ روز گار اور اپنے دور کی بے مثال اور منفرد شخصیت سفیان بن عیینہ کی سیرت کا تذکرہ ہے، جن کاشمار تبع تابعین میں ہوتا ہے اور انھوں نے تابعین کرام اور اتباع تبع تابعین کے درمیان رابطے کا کام دیا۔ اس کتاب میں قارئین کو بیسیوں اسے راویان حدیث کے احوال، روشن واقعات اور اقوال پڑھنے کو ملیں گے جو یا تو ابن عیینہ کے شیوخ تھے یا ان کے شاگرد اور ہم عصر تھے یا ان کے خوشہ چین تھے۔ اس میں ابن عیینہ کی علمی مجلسوں کے دلچسپ احوال اور ان سے پوچھے گئے سوالات اور ان کے حکیمانہ جوابات بھی ہیں جو علم دین کی جستجو کرنے والوں کے دل و دماغ کو روشن کرتے ہیں۔ علم اور اہل علم سے آپ کی دلچسپی، آپ کے چند علمی مواخذات، تدلیس کے بارے میں آپ کانقطہ نظر اور حکمرانوں کے بارے میں آپ کی آراء بھی پیش کی گئی ہیں جبکہ آخر میں ابن عیینہ کے تفسیری اقوال، شروح احادیث اور دیگر فرموادات ہیں جو آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ کتاب کا سلیس اور عام فہم اردو ترجمہ پروفیسر حافظ عبدالرحمٰن ناصر کی محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کوئی بھی بات حوالہ کے بغیر نقل نہیں کی گئی اور کتابت کی غلطی تو پوری کتاب میں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی حتی کہ غلط العام الفاظ استعمال کرنے سے بھی اجتناب کیا گیا ہے -
دین اسلام پر مخالفین اپنے اوچھے ہتھیاروں سے انتہائی رکیک حملے کر رہے ہیں۔ اس بنا پر آج اسلام کے امتیازی اوصاف سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو آگاہ کرنا بے حد ضروری ہوگیا ہے۔ اسلامی علوم کی معروف شخصیت شیخ عبداللہ بن محمد صالح المعتاز نے عصر حاضر کی اس اہم ضرورت کا ادراک و احساس کرتے ہوئے `اسلام کی امتیازی خوبیاں` تصنیف فرمائی۔ اس کتاب میں نہایت نفیس انداز میں دین حق کی منفرد خوبیاں بیان کی گئی ہیں تا کہ کتاب و سنت کی خالص تعلیمات کا حسن قاری کے دل میں اتر جائے۔ یہ کتاب عربی سے آسان ، سلیس اور دلکش اردو زبان میں ترجمہ کروا کے شائع کی گئی ہے۔ چونکہ صاحب کتاب اسلام کی دعوت کا درد دل میں رکھتے ہیں، اس لیے ان کا انداز بیان کتاب کے ایک ایک لفظ کو قاری کے دل میں اتارنے کا باعث بنے گا۔ دنیوی و اخروی نجات کا متمنی جو شخص خلوص دل سے یہ کتاب پڑھے گا، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس کی تمنا پوری ہوگی، مگر مطالعے کا مقصد محض مطالعہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ کتاب میں مندرج تعلیمات و ہدایات پر عمل کا بنیادی تقاضا پورا کرنا شرط لازم ہے۔