-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات میں جہاں روحانی اور باطنی بیماریوں کے حل تجویز فرمائے وہیں جسمانی اور ظاہری امراض کے لیے بھی اس قدر آسان اور نفع بخش ہدایات دیں کہ دنیا چاہے جتنی بھی ترقی کر لے لیکن ان سے سرمو انحراف نہیں کر سکتی۔ زیر نظر کتاب حافظ ابن قیم کی شہرہ آفاق تصنیف ’زاد المعاد فی ہدی خیر العباد‘ کے ایک باب ’الطب النبوی‘ کا علیحدہ حصہ ہے جسے ایک کتاب کی شکل میں الگ سے طبع کیا گیا ہے۔ مولانا کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ دعا اور دوا کے سلسلے میں افراط کا شکار ہیں لیکن یہ دونوں نقطہ ہائے نظر تعلیمات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے میل نہیں کھاتے بیماری کے علاج کے لیے دعا اور دوا دونوں از بس ضروی ہیں۔ -
کسی بھی انسان کی شخصیت ہی ہے جو کسی دوسرے انسان کو اُسکے اچھے یا بُرے ہونے کا پتا دیتی ہے۔ موجودہ دور میں شخصیت کو بطور مکمل موضوع کے پڑھا اور پڑھایا جاتا ہے۔ زیرِ نظر کتاب میں شخصیت سازی کے ان تمام سنہرے اصولوں سے قاری کو روشناس کراگیا ہے جنہیں اپنا کر وہ نہ صرف اپنی شخصیت کو خوشگوار بنائیگا بلکہ اپنی زندگی میں بھی خوبصورت تبدیلی کا تجربہ کر پائیگا۔ اس کتاب کا مطالعہ تمام عمر کے مسلمانوں اور بلخصوص نوجوان مسلماموں کے لیے بے حد مفید ہے۔ -
`شکر` صفات حسنہ میں بہت اہمیت کا حامل ہے اور `توبہ` مغفرت کے وسائل میں ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ شکر اور توبہ کی یہ دونوں کیفیات کسی بندہ مومن کو میسر آجائیں تو یہ ایک خوش نصیبی اور سعادت کی بات ہے۔ ہمیں اور بہت سی تعلیمات کی طرح ان دوبنیادی اوامر کی طرف کتاب و سنت میں جابجا توجہ دلائی گئی ہے۔ محترم بشیر احمد لودھی ایک نووارد مصنف ہیں، مگر ان کے قلم میں ایسی پختگی ہے جس کا تقاضا کتاب و سنت میں موجود ہے۔ انھوں نے اس مختصر مگر جامع کتاب کے ہر باب میں صرف اور صرف کتاب و سنت ہی کے چشمہ صافی سے رجوع کیا ہے، جس کے باعث ان کی یہ کتاب ایک طالب ہدایت کے لیے نسخہ شفا ہے۔ دارالسلام کے شعبئہ تحقیق نے اس کتاب کے حوالوں کی تخریج کر کے اسے چار چاند لگا دیے ہیں۔ اب یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک سادہ اسلوب اور پختہ فکر کی نمائندگی کرتی ہے۔ عامتہ المسلمین انشا ءاللہ اس کے مطالعے کو اپنے لیے نافع اور مفید محسوس کریں گے۔ -
Attainment of the Happiness is a most valuable book on the topic of Islamic Monotheism. The very accomplished author of this book was very well-known Islamic scholar and jurist of the present day. Shaykh Salaah Al-Budair has chosen the ahadeeth in this book with due care and diligence. In order to compile thses ahadeeth, he has very meticulously studied almost the entire stock of hadith literature available. Like an expert gems dealer, Shaykh Salaah has chosen only those hadith for the purpose of explaining a particular topic, which were the most relevant in terms of their meanings and context. For this purpose, on some occasions a single hadith has been taken from many different books of Hadith. -
کسی قوم، معاشرے یا فرد کی کامیابی اور ناکامی کا دارومدار اس کے عقائد و نظریات پر ہوتا ہےقطع نظر اس کے وہ عقائد و نظریات صحیح ہیں یا غلط، جو قوم اپنے نظریات و افکار میں پختہ ہو وہی کامیاب ہوتی ہے۔ اگر عقائد و نظریات مستحکم اور صحیح ہوں تو دین و دنیا دونوں کی کامیابی مقدر ٹھہرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام انبیائے کرام نے سب سے پہلے لوگوں کے عقائد و نظریات کی اصلاح کی اور اسلام نے بھی عقائد پر بہت زور دیا ہے اور پختہ عقائد کے بغیر اسلام کو نفاق کے درجے میں رکھاہے۔ عصرِ حاضر کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے علمائے ربانی نے اسلام کے بنیادی عقائد و نظریات کے حوالے سے بے شمار کتابیں تحریر کی ہیں۔ زیر نظر کتاب، عالم عرب کے معروف قلم کار فضیلۃ الشیخ عبداللہ بن عبدلحمید اثری کی تالیف `الوجیز فی عقیدۃ السلف الصالح` کا اردو ترجمہ ہے۔ اس کتاب میں عقیدے کی تعریف و توضیح کے علاوہ 11 بنیادی اصول ذکر کیے گئے ہیں جن کا جاننا اہل اسلام کے لیے نہایت ضروری ہے۔ عقیدہ توحید اور ایمانیات کے مسائل کو صحابہ کرام ، تابعین اور محدثین کے فہم کی روشنی میں واضح کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب سادہ اور عام فہم ہے جو علماء، طلبہ اور عوام الناس کے لیے یکساں مفید ہے۔ -
بانی مملکت سعودی شاہ عبد العزیز بن عبد الرحمن آل سعو د 1886ء میں پید اہوئے ۔والدین نے ان کی تعلیم وتربیت کا بہترین انتظام کیا قرآن پاک اور ابتدائی دینی تعلیم الشیخ قاضی عبد اللہ ا لخرجی او راصول فقہ اور توحید کی تعلیم الشیخ عبد اللہ بن عبدالطیف سے حاصل کی ۔ جب گیارہ برس کے ہوئے تو شرعی علوم پر بھی مکمل دسترس حاصل کرچکے تھے ۔ریاض پر الرشید کے غلبہ کی وجہ سے شاہ عبدالعزیز اپنے والد گرامی کے ہمرا کویت چلے گئے۔شاہ عبد العزیز وہاں اپنے خاندان پر گزرنے والی مشکلات کے بارے میں سوچا کرتے تھےکہ ان کے والد کس طرح کویت میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے ۔ وہ ہمیشہ اپنے ملک کے بارے میں پریشان رہتے۔اس کی تعمیر وترقی کا خواب دیکھتے رہتے تھے ۔شاہ عبدالعزیز کے والد نے ان کی سیاسی تربیت اسے انداز سے کی کہ وہ لوگوں سے کامیابی کے ساتھ مکالمہ کرسکیں۔شاہ عبد العزیز نے اپنے والد گرامی کےسائے میں کویت میں صبرو سکون کے بڑی منطم زندگی گزاری۔انہوں نے 1902 میں اپنے چالیس جانثار کو ساتھ لے کر ریاض پر حملہ کر کے ریاض کو الرشید کے قبضہ سے آزاد کروایا ۔ جس سے مملکت سعودی عرب کا آغاز ہوا اور پر تھوڑے عرصہ میں پورے سعودی عرب پر شاہ عبد العزیز نےعدل وانصاف پر مبنی حکومت قائم کی ۔شاہ عبدالعزیز نے تیس سال تک مسلسل جدوجہدکی اور اپنی مملکت کی سرحدوں کو وہاں تک پہنچایا جوان کے آباؤ اجداد کے وقت میں تھیں۔ان کی کوششوں سے سعودی عرب صحیح اسلامی مملکت کے طور پر نمایا ں ہوا۔جس کی وجہ سے اللہ تعالی نے ان کو تیل کےذریعے دولت کی فراوانی سے مالامال کیا۔ غلبۂ اسلام کے لیے شاہ عبدالعزیز کی خدمات قابل تحسین ہیں ۔73سال کی عمر میں 1953ءکو طائف میں وفات پائی ۔ زیر نظر کتاب بحر اللہ ہزاروی کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے شاہ عبد العزیزبن عبد الرحمن آل سعود کی بچپن سے جوانی اور سعودی عرب میں اسلامی حکومت قائم کرنے کے تفصیلی حالات کوبڑے احسن انداز میں تحریر کیا ہے ۔ کتاب کے مصنف نے طویل عرصہ سعودی عرب میں پاکستان کےسفارتی مشن میں خدمات انجام دیں اور 1993ء میں جامعہ کراچی سے ’’مملکت سعودی عرب میں اسلامی نظام اور عالم اسلام پر اس کے اثرات‘‘ کےعنوان پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔سعودی عرب کی تاریخ اور آل سعود کے حالات وواقعات جاننے کےلیے یہ ایک منفرد کتاب ہے ۔ اللہ تعالی حکام سعودیہ کو دین حنیف کی خدمت کرنے اور اس پر قائم رہنے کی توفیق دے -
دعوتِ حق کیا ہے؟ اس کی تفصیلا ت قران مجید کی آیات مقدسہ اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث مبارکہ میں موجود ہیں۔ ان کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ کتاب الہٰی کا مرکزی مضمون توحید اور دوعوت دین ہے جسے نبی کریم ﷺ نے اس قدر کاملیت اور جامعیت سے پیش کیا کہ آپ دین حق کے داعئ اعظم ہی کی حیثیت سے ہمارے سامنے آتے ہیں۔ حق یہ ہے کہ دعوت الی اللہ ہی وہ مقدس نصب العین ہے جسے آپ نے امت مسلمہ کے سپرد کیا ہے۔ امت مسلمہ اس دعوت حق کے تقاضوں کو کیسے جان سکتی ہے اور اس کے داعیوں میں وہ معیاری، داعیانہ صفات کیسے پیدا ہو سکتی ہیں؟ اس مختصر سی کتاب کا اصلی موضوع یہی ہے۔ دعوت دین اور داعیان حق کی صفات پر ہمارے اسلاف نے بہت عظیم الشان لٹریچر تیار کیا ہے۔ یہ مختصر او ر جامع کتاب اس پورے لٹریچر کا احاطہ کرتی ہے۔ اس کے مطالعے سے مقصد زندگی کا شعور اُبھرتا اور اس کے تقاضوں کو بروئے کار لانے کی بصیرت پیدا ہوتی ہے۔
-
زندگی کیا ہے؟ کیوں ہے؟ کس لیے ہے؟ اور اس کا انجام کیا ہے؟ آج کی دلکش مادی اور مصروف زندگی میں ان سوالات پر غور کرنے کی مہلت شاذ ہی نصیب ہوتی ہے۔ محترم ام منیب نے زیرِ نظر کتاب `دنیا کے اے مسافر!` میں انھی اہم ترین سوالوں کا ہمہ جہت جائزہ لیا ہے۔ موصوفہ نے قران کریم اور احادیث نبوی کی روشنی میں زندگی کا اصل مقصد بڑی خوبی سے اُجاگر کیا ہے۔ انھوں نے دعوت دی ہے کہ اے فانی لذ توں پر مرنے والے انسان! اپنا مرتبہ پہچان۔ تجھے اللہ تعالیٰ نے صرف اپنی بندگی کے لیے بنایا ہے، تو غیر کا متوالا نہ بن ، صرف اللہ رب العزت سے پیار کر۔ اُسی کا ہو جا۔ ہر آن، ہر گھڑی نیکی کی شمعیں روشن کرتا رہ تا کہ جب موت آئے تو تیرا دامن اعمال صالحہ سے مالا مال ہوا اور رب کریم تجھ سے خوش ہو کر تجھے اپنے جوار پاک میں جگہ دے۔ یہ کتاب ہر مسلمان کو پڑھنی چاہیے۔ اس کتاب کی پاکیزہ تعلیمات پر جو بھی اخلاص سے عمل کرے گا، اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے اسے ابدی عزت و عظمت کا تاج پہنا دے گا۔ -
خواب خصالِ انسانی کاحصہ ہیں ہر انسان زندگی میں اس سے دوچار ہوتا ہے کبھی اسے اچھے اور کبھی بڑے خوف ناک خواب دکھائی دیتے ہیں ۔ جب آدمی اچھے خواب دیکھتا ہے تو اس بات کی تڑپ ہوتی ہے کہ خواب میں اسے کیا اشارہ فرماتی ہیں کہ پہلے پہلے جس کے ساتھ رسول اللہ ﷺ پر وحی کی ابتدا کی گئی وہ نیند میں خواب تھے آپ جوبھی خواب دیکھتے اس کی تعبیر صج کے پھوٹنےکی مانند بالکل آشکارہوجاتی ‘‘اور نبی ﷺنے فرمایا ’’نیک آدمی کا اچھا خواب نبوت کے چھیالیسویں حصے میں سے ہے ‘‘ فرمان نبوی ﷺ کے مطابق جب قیامت قریب آجائےگی تو مسلمان کا کوئی خواب غلط ثابت نہیں ہوگا۔ ان میں سے سب سےسچے خواب دیکھنے والا وہ شخص ہوگا جو سب سےزیادہ سچ بولتا ہوگا۔ مسنداحمد میں ہے آپ ﷺ نےفرمایا کہ میرے بعدصرف مبشّرات باقی رہ جائیں گی۔صحابہ نےعرض کی: اے اللہ کے رسول ! مبشرات کیا ہیں تو آپﷺ نےفرمایا: اچھا خواب جومسلمان دیکھتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نماز فجر کےبعد صحابہ کرام کے خواب سنتے اوران کی تعبیر فرماتے۔ سیدنا یوسف کا خواب اوراس کی تعبیر اوران کی خوابوں کی تعبیر سیکھنے کےمتعلق دعا کا ذکر اللہ تعالیٰ نےقرآن مجیدمیں کیا ہے۔خوابوں کی تعبیر ،احکام او راقسام کے حوالوں سے احادیث میں تفصیل موجود ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ خوابوں کی تعبیریں‘‘ آٹھویں صدی ہجری کے مایۂ ناز عالم امام محمد بن عبد اللہ بن راشد کی شاہکار کتاب ’’المرتبۃ العلیا فی تعبیر الرؤیا‘‘ کا اردوترجمہ ہے۔ خواب کیا ہے؟ اس کی کتنی اقسام ہیں؟ خواب آئے تو کیاکرناچاہیے؟ اورعلم تعبیر کیا ہے؟ اوریہ کس قدر وسیع علم ہے ؟مذکورہ تما م بحثیں کتاب ہذا میں موجود ہیں۔ یہ کتاب جہاں خواب دیکھنے والوں کے لیے عمدہ کاوش ہے وہاں علم تعبیر کاشغف رکھنے والوں کےلیے بھی ایک گراں قدر تحفہ ہے۔ مصنف کتاب نے اسے 17 ابواب میں تقسیم کیا ہے اور پھران ابواب کی سیکڑوں ذیلی سرخیوں کے تحت ہزاروں خوابوں کی تعبیریں بیان کی گئی ہیں۔ اس کتاب کو عربی اردو قالب میں ڈھالنے کا کام محمد واصف مرحوم نے شروع کیا تھا اس کام کی تکمیل نہ ہوئی تھی کہ موصوف زندگی 37 بہاریں گزار کر اسی عارضی جہاں سے رخصت ہوگئے۔ان کی وفات کےبعد فاضل نوجوان قمر حسن نے ترجمےکی تکمیل بھی کی اورتسہیل و نظرثانی کا کام بھی بڑی خوش اسلوبی سے نبہایاترجمے کا اسلوب عام فہم ، سادہ، دلچسپ اور سلیس ہے۔ اللہ تعالی ٰ اس کتاب کو عوام وخواص کے لیے نفع مند بنائے ہوا ہے اور جب برے خواب ہوں تو خوف زادہ ہوجاتاہے ایسے میں انسان کی قرآن وسنت سے راہنمائی بہت ضروری ہے۔ حضرت عائشہ
-
اسلام کی اشاعت کے لیےعلماء کاکردار بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ جنہوں نے اپنی تحریر و تقریر سے عامۃ الناس میں علمِ دین کو پھیلایا اور علم و عرفان کی قندیلیں ابھی تک جلا رے ہیں۔ علماء ہی انبیاء کے وارث ہیں کہ جنہوں نے نبوی مشن سنبھالتے ہوئے شریعت کےعلم کو دوسرےلوگوں تک پہنچانا ہوتاہے۔ شرعی مسائل اور اخلاقی شرعی رہنمائی کے لیے علماء کے قرآن و سنت اور آثار صحابہ سے اخذ کردہ مسائل عامۃ الناس کے لیے انہیں دین کے فہم میں آسانی فراہم کرتے ہیں۔ اور خطبات کے ذریعے عوام الناس کی دینی رہنمائی کرتے ہیں۔ علمائے کرام کے مجموعہ خطبات کےحوالے سے کئی مجموعات شائع ہوچکے ہیں۔ ان میں سے اسلامی خطبات از مولانا عبدالسلام بستوی ، خطباتِ محمدی از مولانا محمد جونا گڑھی ،خطبات ِنبوی از مولانا محمد داؤد راز، خطاب سلفیہ، خطبات آزاد، خطبا ت بہاولپور ی خطبات علامہ احسان الٰہی ظہیر، خطبات یزدانی، خطبا حرم، مواعظ طارق ،زاد الخطیب، اور فاضل نوجوان مولانا عبد المنان راسخ کے خطبات وغیرہ، قابلِ ذکر ہیں۔ اور عربی زبان میں خطباء واعظین حضرات کے لیے 12 ضخیم مجلدات پر مشتمل ’’نضرۃ النعیم ‘‘انتہائی عمدہ کتاب ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ خطبات حرم ‘‘امام کعبہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمن السدیس کے بیت اللہ میں دیے گئے خطبات جمعہ میں سے منتخب خطبات ’’ کوکبۃ الکوکبۃ‘‘کا اردو ترجمہ ہے۔ ان منتخب خطبات کو نہایت خوبصورت سلیس اردو میں پیش کرنےکا اعزاز دار السلام نے حاصل کیا ہے۔ تعمیر سیرت کےلیےان پُر تاثیر خطبات کا مطالعہ ہر فرد وبشر کی ضرورت، مردوں او رعورتوں کے لیے ذریعہ ہدایت اورواعظین واساتذہ کرام کے لیے گنجینہ افادیت ہے۔ -
زندگی کی برف دم بدم پگھل رہی ہے۔ اجل ہر آن سر پر کھڑی ہے۔ مگر ہم اس اٹل حقیقت کو بھول کر دنیا کی فنا پذیر زندگی کے عشق میں گم ہیں۔ اللہ رب العزت اس دھوکے سے نکال کر ہمیں دوزخ سے بچانا اور جنت کے سدا بہار باغوں میں بھیجنا چاہتا ہے۔ اس غرض و غایت سے اللہ تعالیٰ نے زندگی کے ہر گوشے کے بارے میں واضح احکام دیے ہیں۔ بعض امور کی ترغیب دی ہے اور کچھ باتوں کی ممانعت فرمائی ہے۔ شرک سےبڑی سختی سے روکا ہے اور توحید کے تقاضوں پر ہر آن عمل کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔ جھوٹ، ظلم، سفاکی ، ناپاکی اور حق تلفی سے منع کیا ہے ۔ اور سخاوت، عدل اور انسانیت کی بھلائی کے کام کرنے کا حکم دیا ہے۔ زیرِ نظر کتاب انھی بیش قیمت باتوں کا دلکش مجموعہ ہے۔ نامور سعدی عالم شیخ عبداللہ بن جاراللہ نے قران کریم اور رسالت مآب ﷺ کی احادیث سے وہ تمام باتیں چن چن کر یک جا کردی ہیں جو دوزخ سے نجات اور جنت میں داخلے کی ضامن ہیں۔ دارالسلام یہ گرانمایہ کتاب ایمان کی مضبوطی اور حسن عمل کے فروغ کے لیے شائع کر رہا ہے۔ یہ کتاب جنت میں داخلے کی دستاویز ہے۔ اسے پڑھیے اور اپنی اخروی نجات کے لیے اس کی تعلیمات پر سچے دل سے عمل کیجیے ۔ -
دین اسلام میں جادو کے حوالے سے جس قدر شدید وعید آئی ہے مسلم معاشرے میں اسی قدر شدو مد کے ساتھ یہ اپنے پنجے گاڑنے میں روبہ عمل ہے۔ بہت سے صحیح العقیدہ مسلمان جادوگروں اور شعبدہ بازوں کے ہاتھوں اپنی ایمانی دولت گنوانے میں لگے ہیں۔ یہ کتاب ہمیں بتائے گی کہ دین اسلام میں تمام ٹونوں ٹوٹکوں کا حل انتہائی آسان انداز میں دستیاب ہے ۔ کتاب میں جادوگروں کا تقرب حاصل کرنے کے لیے جادوگروں کے بعض وسائل، اور جادواور جنات کے وجود کو قرآن وسنت سے ثابت کرتے ہوئے جادو کی اقسام پر روشنی ڈالی گئی ہے۔اس کے علاوہ شریعت میں جادو کا حکم اور جادو کے اثر سے بچنے کے لیے چند احتیاطی تدابیر ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ نظر بد کی تاثیر اور علاج پر سیر حاصل اور علمی گفتگو کی گئی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اس کتاب کے مطالعے کے بعد ہر فرد اپنے عقیدہ وایمان کی حفاظت کرتے ہوئے جادو، نظر بد اور ان سے پیدا شدہ امراض کا علاج قرآن کریم اور ماثور دعاؤں کے ذریعے کر سکے گا۔
-
جادو اور جنات سے تعلق رکھنے والی بیماریوں کے علاج کےلیے کتاب وسنت کے بیان کردہ طریقوں سے ہٹ کر بے شمار لوگ شیطانی اور طلسماتی کرشموں کے ذریعے ایسے مریضوں کاعلاج کرتے نظر آتے ہیں جن کی اکثریت تو محض وہم وخیال کے زیر اثر خود کو مریض سمجھتی ہے ۔جادوکا موضوع ان اہم موضوعات میں سے ہے جن کا بحث وتحقیق اور تصنیف وتالیف کے ذریعے تعاقب کرنا علماء کےلیے ضروری ہے کیونکہ جادو عملی طور پر ہمارے معاشروں میں بھر پور انداز سے موجود ہے اور جادوگرچند روپوں کے بدلے دن رات فساد پھیلانے پر تلے ہوئے ہیں جنہیں وہ کمزور ایمان والے اور ان کینہ پرور لوگوں سے وصو ل کرتے ہیں جو اپنے مسلمان بھائیوں سے بغض رکھتے ہیں او رانہیں جادو کے عذاب میں مبتلا دیکھ کر خوشی محسوس کرتےہیں لہذا علماء کے لیے ضروری ہے کہ جادو کے خطرے او راس کے نقصانات کے متعلق لوگوں کوخبر دارکریں اور جادو کا شرعی طریقے سے علاج کریں تاکہ لوگ اس کے توڑ اور علاج کے لیے نام نہادجادوگروں عاملوں کی طرف رخ نہ کریں۔زیرنظر کتاب ’’جادو اورآسیب کا کامیاب علاج‘‘ مصر کے ایک نوجوان عالم ابو منذر خلیل بن ابراہیم امین کی تالیف ہے۔ جس میں انہوں نے ایک جدید انداز میں جناتی بیماریوں کے لیے کتاب وسنت سے علاج کے مختلف طریقے نقل کیے ہیں ۔او ر شیاطین جن وانس کی فتنہ سامانیوں سے آگاہ رہنے کے لیے شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائی ہے ۔تاکہ علمائے سو ،جاہل صوفیاء ،کاہن ،نجو می اور مال ودولت کےپجاری پریشانیوں ومصائب میں مبتلاء لوگوں کی دولت اور عزت پر ڈاکہ نہ ڈال سکیں۔او ر وہ ان تمام شیطانی کارندوں سے محفوظ رہ سکیں جنہوں نے اپنا جال اس کرۂ ارضی میں ہر طرف پھیلا رکھا ہے ۔ اللہ تعالی اس کتاب کو لوگوں کے لیے باعث نفع بنائے -
موت وہ اٹل حقیقت ہے جو دنیوی زندگی کے عقائد و اعمال پر جزا و سزا کا نظام مرتب کرتی ہے۔ زندگی کی طرح موت بھی ایک امانت ہے جس میں غیر شرعی امور کو اختیار کر کے ہم اس میں خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ہر مرنے والا مسلمان اس بات کا شرعی حق رکھتاا ہے کہ اس کے پسماندگان اس کی تجہیز و تدفین کے عمل کو سنت کے مطابق ادا کریں۔ انسانی زندگی کا یہی وہ مرحلہ ہے جسے احکام شریعت ےسے بے خبر لوگ رسوم و رواجات اور شرک و بدعات کا مجموعہ بنا دیتے ہیں۔ اس مختصر کتاب میں بیما ر پرسی کے آداب، میت کے غسل کا طریقہ، تکفین کے احکام، جنازے کی نماز کا مسنون طریق اور قبروں کی زیارت کے شرعی اسلوب پر مستند حوالوں سے رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔ آج ملت اسلامیہ کا ایک بڑا حصہ ان تعلیمات سے بے خبر مرنے والوں کے غم میں سوگوار ہونے کے باوجود اس طریقہ کار سے بے خبر اور غافل ہے جو اس موقع کا شرعی تقاضا ہے۔ آئیے ہم اس معتبر کتاب کے مطالعہ سے اپنے بچھڑنے والوں کو شرعی آداب کے ساتھ رخصت کرسکیں۔
-
انسانیت کو ہدایت کی روشنی دینےکےلیے اس دنیامیں بےشمار انبیاء آئےپہلے نبی ہونےکاشرف سیدنا آدم علیہ السلام کوحاصل ہے او رآخری نبی ہونےکااعزازمحمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے میں آیا۔انبیاء کی سیرت کامطالعہ کریں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہےکہ اللہ تعالی نےنبوت کی ذمہ داری کےلیے ایسے افراد کو چناجن کی زندگیاں ہر طرح کے عیب سے پاک تھیں۔سچائی ،پرہیزگاری اور نیکی ان کا وصف تھا۔نبئی مہرباں صلی اللہ علیہ وسلم خاتم المرسلین ہیں ۔آپ کےبعد کوئی نبی نہیں آئے گا یہ اللہ کافیصلہ ہے۔لیکن کچھ لوگ ذاتی مفادات کےلیے ،اپنی دوکانداری چمکانے کے لیے نبوت کے بند کیے ہوئے محل میں نقب لگانےسے باز نہ آئے ۔ان میں سےایک جھوٹا نبی انگریزوں کےہاتھ سے تراشا ہوا مرزا غلام احمد قادیانی ہے ۔اس جھوٹے نبی کی پرورش کس نے کی؟، اس خاردار پودے کی آبیاری کسے نےکی؟،اس کی جھوٹی شخصیت کو نبوت کا لباس کس نے پہنایا ؟،اس گھٹیا تحریرات اور خیالات کو الہام کیسے بنایا گیا ؟،یہ سب باتیں آپ کے سامنے’’تھالی کا بینگن ‘‘کی شکل میں پیش ہیں اس کتاب میں جعلی نبوت کے حقائق کو بڑے دلچسپ انداز میں بیان کیا گیاہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ مرزا کی اپنی ہی تحریروں کی مدد سے اس کی نبوت کے فتنے کو عیاں کیاگیاہے۔ -
اخروی نجات ہر مسلمان کا مقصد زندگی ہے جو صرف اور صرف توحید خالص پرعمل پیرا ہونے سے پورا ہوسکتا ہے۔ جبکہ مشرکانہ عقائد واعمال انسان کو تباہی کی راہ پر ڈالتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم نے مشرکوں کے لیے وعید سنائی ہے ’’ اللہ تعالیٰ شرک کو ہرگز معاف نہیں کرے گا او اس کے سوا جسے چاہے معاف کردے گا۔‘‘ (النساء:48) لہذا شرک کی الائشوں سے بچنا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے ۔اس کے بغیر آخرت کی نجات ممکن ہی نہیں ۔ حضرت نوح نے ساڑے نوسوسال کلمۂ توحید کی طرف لوگوں کودعوت دی ۔ اور اللہ کے آخری رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نےبھی عقید ۂ توحید کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس فریضہ کو سر انجام دیا کہ جس کے بدلے آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علمائے اسلام نےبھی عوام الناس کوتوحید اور شرک کی حقیقت سےآشنا کرنے کےلیے دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔اس کتاب میں مصنف نے توحید وشرک کی حقیقت کو سادہ اور دل نشیں الفاظ میں بیان کردیا ہے ۔ اوراللہ تعالیٰ کے بارے میں مذاہب باطلہ کا تصور پیش کرنے کےبعد سفارش کی حقیقت بیان کی ہے او راس ضمن میں قرآنی حقائق سے استشہاد کیا ہے ۔ حضرت نوح ، اصحاب کہف اور عزیر کے قصوں اور قرآنی آیات سے خالص توحید کو اجاگر کیا ہے ۔ انہوں نے وسیلے کی حقیقت اوراسے اختیار کرنےکا طریقہ انبیائے کرام کی پاکیزہ سیرت کی پیروی میں دکھایا ہے ، نیز قرآن کریم کی روشنی میں معجزہ اور کرامات کی حقیقت کھول کر بیان کردی ہے ۔اسے کھلے دل ودماغ سے پڑھنے والا شرک اوراس کے تمام مظاہر سے بچ کر خلوص دل سے توحید الٰہی کوحرزِ جاں بنائے گا تو دنیا اورآخرت میں یقیناً فوز وفلاح کا مستحق ٹھرے گا ۔ زیر نظر ایڈیشن کتاب ’’ توحید او رہم ‘‘ کا نیو ایڈیشن ہے اسے دورنگوں میں قرآنی آیات کی خوبصورت کتابت کےساتھ شائع کیاگیا ہے ۔نیز تخریج اور تنقیح کا اہتمام کرنےک ساتھ ساتھ چند ایک ضعیف احادیث خارج کر کے ان کی بجائے صحیح احادیث درج کی گئی ہیں ۔اللہ تعالیٰ مصنف وناشرین کی کاوش کو قبول فرمائے۔ (آمین)
-
اولاد کی تربیت صالح ہوتو ایک نعمت ہے وگرنہ یہ ایک فتنہ اور وبال بن جاتی ہے ۔ دین وشریعت میں اولاد کی تربیت کے لیے ایک فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کیونکہ جس طرح والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے ایسے ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ ان کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔ کتاب وسنت کے دلائل میں اس بات کا واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا جائے۔ ان کی امانت کوادا کیا جائے، ان کوآزاد چھوڑنے اوران کےحقوق میں کتاہیوں سے بچا جائے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت اولاد بھی ہے۔ اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر اولاد کی صحیح تربیت کی جائے تو وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بھی ہوتی ہے ۔ لیکن اگر اولاد بگڑ جائے اور اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے تو وہی اولاد آزمائش بن جاتی ہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ’’تربیت اولاد‘‘سعودی عرب کے معروف عالم دین شیخ محمد بن جمیل زینو کاتربیت اولاد کے موضوع پر ایک عربی رسالے کا ترجمہ ہے۔ اس کتابچہ میں شیخ موصوف نے تقریباً ان تمام باتوں کا احاطہ کر نےکی کوشش کی ہے جن سے معلوم ہوسکے کہ مسلمان بچوں کی تربیت کےلیے کون سے امور ضروری ہیں اوران کی مکمل تہذیب کے لیے کن باتوں سے پرہیز لازم ہے۔ یہ کتاب اپنےبچوں کے مستقبل کوسنوارنے او راسلامی منہج پر صحیح تربیت کرنےکے لیےبہترین کتاب ہے۔ -
انسان کی خصلت ہے کہ وہ نسیان سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کے تحت وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے۔ بہترین انسان وہ ہے جسے گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے ۔ اگر اس نے توبہ نہ کی تویہ غلطی اس کے خالق ومالک کو اس سے ناراض کردے گی۔ اس سےاپنے معبود ومالک کی ناراضگی کسی صورت بھی برداشت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ کریم کے دربار میں حاضر ہوکر گڑگڑاتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے کا پکا عزم کرتےہوئے توبہ کرتا ہے کہ اے مالک الملک اس مرتبہ معاف کردے آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔گناہ کے بعد ایسے احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ جب کہ اس جہاںمیں کئی ایسے بدنصیب سیاہ کار بھی ہیں جن کوزندگی بھر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا مالک ان سے ناراض ہوچکا ہے اور وہ ہیں کہ دن رات گناہ کرتے چلےجاتےہیں اور رات کوگہری نیند سوتے ہیں یا مزید گناہوں پر مبنی اعمال میں مصروف رہ کر گزار دیتے ہیں۔جبکہ اللہ کریم اس وقت پہلے آسمان پر آکر دنیا والوں کوآواز دیتا ہے کہ: اے دنیاوالو! ہےکوئی جو مجھ سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرے ... ہے کوئی توبہ کرنے والا میں اسے ا پنی رحمت سے بخش دوں. زیر تبصرہ کتاب ’’توبہ۔۔۔ فضائل و احکام اور سچے واقعات‘‘ پاکستان کے نامور دینی سکالر مولانا محمد خالد سیف﷾ کی تصنیف ہے ۔انہوں نے اس کتاب میں عام فہم شگفتہ اسلوب میں توبہ کے معانی ومفاہیم اجاگر کیے ہیں ۔ توبہ کی ضرورت اوراہمیت کا احساس دلایا ہے توبہ کی شرائط بتلائی ہیں۔ توبہ کے تمام احکام اور مسائل نہایت تفصیل سے بتائے ہیں۔ قرآن کریم اور احادیث نبویہ ﷺ کے حوالوں سےثابت کیا ہے کہ توبہ ہی دین کی اصل حقیقت ،انبیائے کرام کا وظیفۂ خاص اور فوز وفلاح کا ابدی سرچشمہ ہے مصنف موصوف نے حضرت آدم ،حضرت نوح، حضرت موسیٰ اور حضرت یونس کی توبہ کے واقعات کے علاوہ صحابۂ کرام کی توبہ کےاحوال نہایت اثر انگیز پیرائے میں بیان فرمائے ہیں ۔انہوں نے ہر صاحب ایمان کو ترغیب دی ہے کہ وہ توبہ استغفار کا خاص اہتمام اورالتزام کریں۔ اللہ رب العزت نہایت کریم اور رحیم ہے جو شخص گناہوں سےباز رہنےکا پکا ارادہ کرکے سچی توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے معاف فرمادیتا ہے ۔یہ کتاب اپنے موضوع پر منفرد اہمیت کی حامل ہے ہر مسلمان مرد اور عورت کو نہایت توجہ سے پڑھنی چاہیے ان شاء اللہ اس سے توبہ کی توفیق ملےگی دل کی دنیا بدلے گی ، قدم صراطِ مستقیم پر چل پڑیں گے۔ اوران تمام مصائب ومکروہات کا خاتمہ ہوجائے گا۔ جنہوں نے آج ہمیں اپنا ہدف بنا رکھا ہے -
`تقوتہ الایمان` کا موضوع توحید ہے، جو دین کی بنیاد ہے۔ اس موضوع پر بے شمار کتابیں اور رسالے لکھے جا چکے ہیں۔ شاہ اسمعیل شہید کا اندازِ بحث اور طرزِ استدلال سب سے نرالا اور سراسر مصلحانہ ہے۔ علمائے حق کی طرح اُنہوں نے صرف کتاب و سنت کو مدار بنایا۔ آیات و احادیث کے ذریعے وہ نہایت سادہ اور سلیس انداز میں انکی تشریح فرما دیتے ہیں اور توحید کے مخالف جتنی بھی غیر شرعی رسمیں معاشرے میں مروج تھیں، ان کی اصل حقیقت دل نشیں انداز میں آشکار کر دیتے ہیں۔ شاہ اسمعیل شہید نے عقیدہ و عمل کی اُن تمام خوفناک غلطیوں کو جو اسلام کی تعلیمِ توحید کے خلاف تھیں، مختلف عنوانات کے تحت جمع کردیا ہے، مثلاً شرک فی العلم، شرک فی التصرف، شرک فی العادت اور شرک فی العبادات۔ یوں تقویہ الایمان توحید کے موضوع پر ایک جامع اور یگانہ کتاب بن گئی۔ اگرچہ یہ کتاب نہایت اہم موضوع پر ہے لیکن شاہ اسمعیل شہید نے طریق استدلال ایسا اختیار کیا کہ معمولی پڑھا لکھا آدمی اور متجحر عالم دین بھی اس سے یکسان مستفید ہو سکتے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ -
پُراَسرارحقائق تکلیف یادکھ سے دو چارانسان کی کبھی کبھی کوئی راستہ نہیں ملتا، کوئی علاج اس کی سمجھ میں نہیں آتا۔ مشورہ دینے والے اسے جادو، آسیب اورنظربد کا نام دیتے ہیں۔ پریشانی کے عالم میں وہ معاشرے میں ناسور کی طرح پھیلے ہوئے شعبدہ بازوں، بازی گروں اورنام نہادعاملوں کی چوکھٹ پہ اپنی مشکل کا حل ڈھونڈنے کے لیے جاپہنچتا ہے۔ جس کی جیب اجازت نہ دے، وہ بازار میں بکنے والےتعویذوں، مجربات اورپراسرارعلوم پرمبنی کتب میں اوٹ پٹانگ عملیات، مجرب نسخے اور نقیش آدمی کو سراسرگمراہی کی طرف لے جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کا ایمان بھی خطرے میں پڑجاتاہے۔ شایدہمیں یاد نہیں رہا کہ اسلام دین فطرت ہے۔ اس نے زندگی کے ہرمعاملے میں ہماری رہنمائی کی ہے۔ جنات اور جادو کے حوالے سے قرآن کریم اور احادیث مباکہ میں ہمارے لیے مکمل رہنمائی موجود ہے۔، بات صرف رجوع کرنے کی ہے۔ `پراسرارحقائق` قرآن و حدیث میں بتائے گئے طریق علاج پر مبنی ہے۔ بازاروں میں بکنے والی گمراہ کن کتب سے بچنے اور قرآن و حدیث کی روشنی میں صحیح علاج لے لیے یہ کتاب ازحدمفید ہے۔
-
پيغمبررحمت اللہ تعالی نےانسان کوعقل و شعور سے نوازا ہے۔عقل کو اگر شتر بے مہار کی طرح آزاد چھوڑ ديا جائے اوراسے خاص حدود وضوابط کا پابندنہ بنايا جا ئے تو وہ فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بنتی ہے۔اسی ليے نے بنی نوع انسان کی رہنمائی کے ليےانبياء ورسل کا سلسہ جاری فرمايا۔ہرعہداورہرعلاقےميں انبياٰءآتےاورفريضہ تبليغ ودعوت اداکرتےرہے تاآنکہ وحی ورسالت کا زريں سلسلہ نبی عربی محمدرسولﷺپرختم کرديا۔اب قيامت تک آنےوالےانسانوں کےليےآپ ہی اللہ کی طرف سے ہادی و رہنما ہيں۔آپ ہی کی بتلائ ہوئ تعليمات وہدايات انسانيت کی نجات اور ابدی سعادت وخوش بختی کا واحد ذريعہ ہيں۔ان سےاعراض وگريزکرتےہوۓ محض اپنی عقل پر انحصارکرکےانسانيت قعرمزلت ميں توگرسکتی ہےليکن امن وسکون،عافيت وراحت اورابدی نجات سے ہم کنارنہيں ہوسکتی
-
بچوں کا ذہن سفید کاغذ کی طرح ہوتا ہے۔ اس پر جو لکھیں فوراً نقش ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بچپن میں یاد کی ہوئی باتیں بڑھاپے تک محفوظ رہتی ہیں۔ عربی کا مقولہ ہے کہ کمسنی کی یاد کی ہوئی بات پتھر پر لکیر کی مانند ہوتی ہے۔ اس لیے بچوں کی یہ عمر انتہائی قیمتی ہے۔ اس سے بھرپور فائدہ اُٹھانا چاہیے۔ اسلامی عقائد، عبادات، اخلاقیات اور آداب و معاملات سے انھیں آگاہ کریں تا کہ بچپن ہی میں یہ تعلیمات ان کے قلوب و اذہان میں راسخ ہو جائیں اور وہ بڑے ہو کر سکہ بند مسلمان بنیں جو تاریخ کا دھارا بدل دیں۔ یقیناً اس کے لیے ایسے لٹریچر کی ضرورت ہے جو بچوں کی ذہنی سطح کو ملحوظ رکھ کر عام فہم اسلوب میں تیار کیا گیا ہو۔ ارکان اسلام اس ضرورت کی تکمیل کی سعی جمیل ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ بچوں کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کرانے کے ساتھ سچا اور باکردار مسلمان بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔