• Pardah

     250
      طاغوتی طاقتوں کو پکا یقین ہے کہ غلبہ اسلام کو مہلت ہتھیاروں کے وحشیانہ استعمال کے باوجود بھی نہیں روکا جا سکتا، اس لیے انھوں نے سازش کی راہ اختیار کی۔ اسلامی تہذیب و اقدار میں نقب لگانے کے لیے عورت کو وسیلہ بنا لیا۔ عورت کا تقدس پامال کیا۔ اسے خاتون خانہ کے مقدس مقام سے اُٹھایا اور شمع محفل بنا دیا۔ ملال یہ ہے کہ مغربی تہذیب کے دلدادہ بعض نام نہاد روشن خیال اور ترقی پسند مسلمانوں نے بھی عورت کی آزادی کا پرچار شروع کر دیا اس طرح حجاب اور نقاب کی بندشیں ٹوٹنے لگیں اور بے پردگی عام ہونے لگی۔ اس طرز عمل کے مہلت مضمرات کا ادراک کرتے ہوئے دارالسلام نے عورت کے اصل زیور `حیا` کے احیا و تحفط اور پردے کی اہمیت اُجاگر کرنے کے لیے فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین ؒ کی کتاب `پردہ` کی اشاعت کا اہتمام کیا ہے۔ اس کتاب کا ایک ایک حرف یہ حقیقت عیاں کرتا ہے کہ یہ صرف اسلام ہی ہے جو عورت کی عزت و حرمت کا سب سے بڑانگہبان ہے اور بے حجابی و بے حیائی کا قلع قمع کرتا ہے۔ یہ کتاب ہر مسلمان خاص طور پر ہماری محترم خواتین کو ضرور پڑھنی چاہیے۔ اس سے ان پر پردے کی ضرورت و اہمیت اور فضائل و برکات پوری طرح آشکار ہو جائیں گے۔
  •   آج کل بنیادی حقوق کا بڑا چرچا ہے اور شور ہے اور یہ شور زیادہ تر مغرب کے مادر پدر آزادمعاشرے کے فرزندوں کی طرف سے مچایا جا رہا ہے جو انسان اور حیوان کے درمیان فرق کرنے کے روادار ہیں نہ انھیں مرد اور عورت کے درمیان فطری امتیازات نظر آتے ہیں۔ اسی لیے وہ حیوانوں والے حقوق انسانوں کے لیے تسلیم کرانا اور مردوں کے فرائض عورتوں کو بھی تفویض کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ یہ دونوں باتیں فطرت کے خلاف ہیں اور فطرت کے خلاف جنگ کرنے سے دنیا میں کبھی امن اور سکون نہیں ہو سکتا اور بعض لوگ وہ ہیں جو کسی کے بھی بنیادی حقوق کے قائل نہیں۔ ان کے نزدیک حقوق ہیں تو طاقت وروں کے ، کمزوروں کے کوئی حقوق نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے  لوگ اقتدار و اختیار سے بہر ہ ور ہو کر عوام پر ہر قسم کا جبر و ظلم کرنا جائز سمجھتے ہیں۔ فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین ؒ نے اس کتابچے میں افراط و تفریط سے دامن بچاتے ہوئے اسلام کی اعتدال پر مبنی تعلیمات کی روشنی میں انسانوں کے وہ بنیادی حقوق واضح کیے ہیں جو دین متین نے تسلیم اور بیان کیے ہیں جن سے مرد اور عورت کے درمیان امتیاز قائم رہتا ہے جو فطرت کے عین مطابق ہے اور انسان اور حیوان کے درمیان فرق بھی قائم رہتا ہے۔ اور یہی وہ نقطہ اعتدال ہے جو امن وسکوں کا ضامن ہے۔
  •   جو قوم اپنی روایات اور خصوصیات کو بھلا کر غیروں کی نقالی کرتی ہے وہ صفحہ ء ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹ جاتی ہے۔ بدقسمتی سے مسلمانوں نے یہی مہلک طریقہ اختیار کرلیا، دو اڑھائی سو برس پہلے  یورپ کے صنعتی انقلاب کے بطن سے جو مادی تہذیب پیدا ہوئی، اس میں مذہب سے شدید بغاوت بھی کار فرما تھی۔ اس تہذیب نے اللہ تعالیٰ سے اہل یورپ کا رشتہ منقطع کردیا۔ یہی چمکیلی بھڑکیلی تہذیب جب انگریزوں ، فرانسیسیوں اور ولندیزیوں کی معرفت مشرقی ملکوں میں پہنچی تو مسلمانوں کے بالائی طبقات نے اسے گلے لگا لیا۔ یہ تاریکی بڑھتی اور پھیلتی چلی گئی اور ہم اپنی مایہ ناز روایات کو یکے بعد دیگرے فراموش کرتے چلے گئے۔ آج جسدِ ملت کے زخموں سے جو خون ٹپک رہا ہے وہ اسی مادر پدر آزاد مغربی تہذیب کی نقالی اور اپنی معظم روایات سے دستبرداری کا نتیجہ ہے۔ اب مسلمانوں کی بقا اور فلاح کا یک ہی طریقہ ہے کہ وہ مغربی تہذیب کی طنابیں توڑ دیں اور اسلامی تعلیمات کے دامن رحمت میں لوٹ آئیں۔ عالم اسلام کے نامور عالم دین فضیلتہ الشیخ محمد بن صالح العثیمین ؒ نے `اسلام کے بنیادی عقائد` کے زیر عنوان یہ گرانقدر کتاب لکھ کر وہ تعلیمات و مبادیات اجاگر کردیے ہیں جن پر عمل کر کے ہم اپنی گم شدہ عظمت دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کتاب کا سنجیدگی سے مطالعہ کیجیے۔ یہ کتاب قران و سنت کی تعلیمات کا عطر ہے۔

  •    یہ کتاب عالمگیر سچائیوں کا سبق دیتی ہے، اس کا موضوع یہ ہے کہ انسان شعور و آگہی کی زندگی بسر کرے۔ اپنے مقدس پروردگار کو پہچانے۔ رسالت مآب حضرت محمد ﷺ کے منصب و منزلت کی معرفت حاصل کرے۔ آپ ﷺ کے فکر و عمل کی پیروی کرے۔ آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ کو ذہنی ارتقا کا ذریعہ اور عملی زندگی کا مرکز و محور بنائے۔ دن حنیف کی تعلیمات سے پوری طرح با خبر رہے۔ اور صبر و استقامت کی راہ پر گامزن رہے۔ یہ کتاب ایک دوست کی پکار، ایک داعی کی صدا اور ایک مجاہد کی آواز ہے جو زمانے اور زندگی کے ہر مرحلے پر صراطِ مستقیم دکھاتی ہے اور قران و سنت کی روشنی میں حسن عمل کی تعلیم دیتی ہے۔ عمل کا ارادہ کیجیے اور اس کتاب کا ایک ایک حرف احترام اور التزام سے پڑھیے۔ ان شا ء اللہ آپ کے عقائد و نظریات میں حقیقی نور پیدا ہوگا اور روشن روشن کرنیں جگمگا اُٹھیں گی۔ آپ حسن نیت اور اچھے کام کرنے کے خوگر بنیں گے۔ یوں آپ اس دنیا میں سر خرو اور آخرت میں سرفراز رہیں گے۔
  • ہمارے ہادی و مرشد، سید المرسلین حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:  `اللہ تعالیٰ کے نناوے، ایک کم سو نام ہیں، جو بھی ان کی حفاطت کرے گا جنت میں داخل ہوگا۔ وہ وتر یعنی طاق ہے اور وتر ہی کو پسند کرتا ہے` اللہ کے خوبصورت ناموں کو بہترین انداز میں پیش کرنے والی نایاب کتاب۔

Title

Go to Top