• شرعی  احکام اور مسائل دینیہ سے آگاہی  ہر مسلمان مرد اور عورت کی ضرورت ہے اور اس روحانی تشنگی کی سیرابی کے لیے شروع اسلام سے عامۃ الناس کی راہنمائی کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  سائلین کا خود تشفی بخش جواب دیتے ۔بعض اوقات مسائل کی پیچیدگیوں کی عقدہ  کشائی کے لیے  وحی کا نزول ہوتا ۔پھر صحابہ کرام ،تابعین ،تبع تابعین اور علماء و محدثین نے اس ذمہ داری کو نہایت اچھے انداز سے نبھایا۔ اگرچہ قدیم علماء کے فتاویٰ کافی تعداد میں  موجود ہیں لیکن ہر دور میں فتویٰ طلبی  اور نت نئے مسائل جنم لینے کی وجہ سے ایسے مسائل کی وضاحت کی اہمیت برقرار رہی بلکہ فتویٰ طلبی کی ضرورت او رافتاء کی اہمیت میں اضافہ ہوتا رہا ہے ۔پاکستان  میں کئی جید علماء اپنے طور یاکسی جماعت کے پلیٹ فارم پر عوام الناس کے دینی مسائل کے جوابات قلمبند کر رہے ہیں اور کئی علماء کے فتاویٰ منصہ شہود پر آکر داد تحسین حاصل کر چکے ہیں۔لیکن زیر نظر فتاویٰ اسلامیہ کا اسلوب عام فتاویٰ سے جداگانہ ہے کیونکہ یہ فتاویٰ جات مختلف نامور عرب علماء کے ہیں کہ جن کی علمی حیثیت کو دنیا تسلیم کرتی ہے اور عرب علماء کے پینل کے فتاویٰ میں علمی رسوخ اور پختگی تنہا عالم سے کہیں زیادہ ہے۔ پھر عرب علماء کا  طریقہ استدلال انتہائی جانشین اور انداز بیان انتہائی شائستہ اور عام فہم ہے ایک عام قاری کو بھی ان فتاویٰ کے سمجھنے میں ذرا دقت نہیں ہوتی ۔پھر سونے پہ سہاگہ کہ  اس  کا ترجمہ نشرو اشاعت کے عالمی مسلمہ ادارے دارالسلام کی طرف سے کیاگیا ہے جس کی کتب کی طباعت و شستہ تحریر کے اپنے اور بے گانے سبھی معترف ہیں ۔ مترجم فتاویٰ چار جلدوں پر مشتمل ہے مترجم کی سلاست روانی قاری کو پریشان نہیں ہونے دیتی اور مترجم نے مفتیان کی تحریروں کی ایسی جاندار ترجمانی کی ہے کہ یہ ترجمہ محسوس ہی نہیں ہوتا۔یہ کتاب علمی ،فنی ،تکنیکی ہر اعتبار سے بے مثال ہے جو زندگی کے تمام مسائل،عقائد،نظریات،عبادات ،آداب و معاشرت الغرض زندگی  میں پیش آمدہ مسائل کے تمام پہلوؤں کو محیط ہے ۔لہذا صاحب استطاعت لوگوں اور علمی  ذوق کے حامل افراد کا اس کتاب کو خریدنا، گھر پر رکھنا اور زیر مطالعہ لانا از حد ضروری ہے ۔ اُمید ہے کہ فتاویٰ کے اس بہترین مجموعے سے علماء اور عوام دونوں کو رہنمائی حاصل ہوگی۔

  • انسان کی خصلت ہے کہ وہ نسیان سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کے تحت وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے۔ بہترین انسان وہ ہے جسے گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے ۔ اگر اس نے توبہ نہ کی تویہ غلطی اس کے خالق ومالک کو اس سے ناراض کردے گی۔ اس سےاپنے معبود ومالک کی ناراضگی کسی صورت بھی برداشت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ کریم کے دربار میں حاضر ہوکر گڑگڑاتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے کا پکا عزم کرتےہوئے توبہ کرتا ہے کہ اے مالک الملک اس مرتبہ معاف کردے آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔گناہ کے بعد ایسے احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ جب کہ اس جہاںمیں کئی ایسے بدنصیب سیاہ کار بھی ہیں جن کوزندگی بھر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا مالک ان سے ناراض ہوچکا ہے اور وہ ہیں کہ دن رات گناہ کرتے چلےجاتےہیں اور رات کوگہری نیند سوتے ہیں یا مزید گناہوں پر مبنی اعمال میں مصروف رہ کر گزار دیتے ہیں۔جبکہ اللہ کریم اس وقت پہلے آسمان پر آکر دنیا والوں کوآواز دیتا ہے کہ: اے دنیاوالو! ہےکوئی جو مجھ سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرے ... ہے کوئی توبہ کرنے والا میں اسے ا پنی رحمت سے بخش دوں. زیر تبصرہ کتاب ’’توبہ۔۔۔ فضائل و احکام اور سچے واقعات‘‘ پاکستان کے نامور دینی سکالر مولانا محمد خالد سیف﷾ کی تصنیف ہے ۔انہوں نے اس کتاب میں   عام فہم شگفتہ اسلوب میں توبہ کے معانی ومفاہیم اجاگر کیے ہیں ۔ توبہ کی ضرورت اوراہمیت کا احساس دلایا ہے توبہ کی شرائط بتلائی ہیں۔ توبہ کے تمام احکام اور مسائل نہایت تفصیل سے بتائے ہیں۔ قرآن کریم اور احادیث نبویہ ﷺ کے حوالوں سےثابت کیا ہے کہ توبہ ہی دین کی اصل حقیقت ،انبیائے کرام کا وظیفۂ خاص اور فوز وفلاح کا ابدی سرچشمہ ہے مصنف موصوف نے حضرت آدم ،حضرت نوح، حضرت موسیٰ اور حضرت یونس ﷩ کی توبہ کے واقعات کے علاوہ صحابۂ کرام کی توبہ کےاحوال نہایت اثر انگیز پیرائے میں بیان فرمائے ہیں ۔انہوں نے ہر صاحب ایمان کو ترغیب دی ہے کہ وہ توبہ استغفار کا خاص اہتمام اورالتزام کریں۔ اللہ رب العزت نہایت کریم اور رحیم ہے جو شخص گناہوں سےباز رہنےکا پکا ارادہ کرکے سچی توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے معاف فرمادیتا ہے ۔یہ کتاب اپنے موضوع پر منفرد اہمیت کی حامل ہے ہر مسلمان مرد اور عورت کو نہایت توجہ سے پڑھنی چاہیے ان شاء اللہ اس سے توبہ کی توفیق ملےگی دل کی دنیا بدلے گی ، قدم صراطِ مستقیم پر چل پڑیں گے۔ اوران تمام مصائب ومکروہات کا خاتمہ ہوجائے گا۔ جنہوں نے آج ہمیں اپنا ہدف بنا رکھا ہے

Title

Go to Top