حافظ عبدالشکور نے سیرت کے ایک بالکل نئے موضوع کو متعارف کرانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ یہ کتاب رسول الله ﷺ کے آنسو کے عنوان سے ترتیب دی گئی ہے، اس کے لئے جو مواد اکٹھا کیا گیا ہے وہ مستند کتابوں کے صحیح حوالہ جات سے سامنے آیا ہے۔ رسول الله ﷺ کی حیات طیبہ کے تمام احوال پر نگاہ ڈالی جائے بالخوص مکی اور مدنی زندگی کے وقائع پر نظر دوڑائی جائے تو احساس ہوتا ہے که آپ ایک قلب گداز کے حامل تھے۔ زندگی کی سخت جانیوں اور مصائب و شد ائد پر آپ ﷺ نے تحمل، بردباری اور حوصلہ مندی کا اظہار فرمایا مگر غم و الم کے وہ فطری جذبات گاہے گاہے آنسوؤں کے ستارے بن کر مژگان رسول ﷺ پر چمک اٹھے اور کبھی رخ انور پر ڈھلک گئے۔ راتوں کی تنہائی میں اور شدائد کے مقابلے میں آپ اپنے مالک کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور دعاؤں کی صورت میں آنسوؤں کی برسات شروع ہو جاتی ہے مگر یہ کیفیت آہ و بکا اس نوعیت کی کسی دوسری منفی شکل کا رخ اختیار نہیں کرتی اور یہی آپ ﷺ کی سیرت کا اعجاز ہے۔
-
Sale!
سیرت نبوی ﷺ ایک سدا بہار موضوع ہے۔ ہر عہد میں اس موضوع پر سینکڑوں کتابیں اور رسائل تالیف و تصنیف ہوئے ہیں۔ ہر زبان و ادب میں اس موضوع پر ہر نوعیت کی کتابیں دکھائی دیتی ہیں۔ سیرت کو ابتداء میں مغازی، سیر، شمائل، دلائل معارج اور سوانح کی شکل میں لکھا گیا۔ نظم و نثر دونوں پیرائے اس کے لیے اختیار کئے گئے ہیں۔ نثر میں ناول، ڈرامہ اورفن سوانح کے تمام تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان اصناف ادب میں بھی سیرت نگاری کی کامیاب کوششیں کی گئی ہیں۔
پیش نظر کتاب رسول اکرم ﷺ کی مسکراہٹیں حافظ عبد الشکور صاحب کی سیرت کے موقع پر ایک نادر اور اچھوتی تصنیف ہے۔ سیرت طیبہ کا یہ پہلو عربی کتب میں تو موجود تھا مگر اردو ادب میں اس موضوع پر کوئی خاص تالیف و تصنیف ناپید تھی۔ فاضل مصنف نے ذخیرہ احادیث اور مصدقہ تاریخی واقعات کی قوی شہادتوں سے سیرت طیبہ کے اس موضوع کا کماحقہ ادا کیا ہے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ کسی نادر موضوع کی ضخامت کے پیش نظر غیر مصدقہ روایات اور ضعیف تاریخی واقعات کا سہارا لیا جاتا ے جس سے شاید موضوع میں مصنوعی چاشنی تو پیدا ہو جائے گی مگر احقاق حق اور ابطال باطل کا فریضہ انجام نہیں ہوتا۔ اگر کی اس معیار کو پیش نظر رکھ کر اس تصنیف لطیف کا جائزہ لیا جائے تو فاضل مصنف کی تحقیق کی داد دینا قرین انصاف ہوگا۔